وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

دہشت ناک رویے

بدھ 10 اگست 2016 دہشت ناک رویے

terrorism-in-pakistan

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔

پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا رجحان ہرگزرتے دن تقویت پکڑتا گیا۔ یہ لڑائی اب تقریباً نصف صدی پر محیط ہوچکی ہے اور اس نے اپنی تاریخ ، نفرت اور جڑیں بنا لی ہیں۔ یہاں تک کہ اس لڑائی میں دونوں طرف استعمال ہونے والے غیر ریاستی جتھے اور گروہ خود بھی اتنی مہارت اور طاقت حاصل کرچکے ہیں کہ وہ ہاتھ سے بڑھ کر اب اپنی ہی جنگ کا دماغ بن چکے ہیں اور اپنے پالنے والوں سے بے نیاز رہ کربھی بقا کی لڑائی لڑنے کی سکت رکھتے ہیں۔مگر عملاً ان گروہوں کو اُن کی پالنے والی ریاستوں سے الگ کرنے اور خود اُن کے ہی خلاف استعمال کرنے کا کامیاب راستا امریکا نے نوگیارہ کے بعد پاکستان کے خلاف ڈھونڈا۔ امریکا افغانستان کی جنگ تو نہیں جیت سکا، مگر اُس نے پاکستان کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں اس طرح مبتلا کردیا ہے کہ پاکستان میں استعما ل ہونے والے مختلف گروہوں کو اُن کے اصل پالنے والوں سے چھین لیا۔ اور اُنہیں ردِ عمل کی نفسیات سے دوچار کرنے کے لئے عسکری اداروں کو اُن کے خلاف بتدریج اور آہستہ آہستہ ایسے اقدامات پر مجبور کیا کہ وہ گروہ اُن سے نفرت کرنے لگیں۔ کسی بھی لڑائی میں نفرت سے بڑھ کر اثاثہ اور اسلحہ کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ اب یہ نفرت اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے کھلے دشمنوں سے بھی ساز باز اور گانٹھ سانتھ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ اس خوف ناک رجحان کے لیے ہمارے پاس کسی بھی سطح پر کوئی تجزیہ موجود نہیں۔ یہی نہیں اس رجحان کے معمولی ادراک کی بھی صلاحیت کا بھی ہم کوئی مظاہرہ نہیں کرسکے۔ چہ چائیکہ اس حوالے سے کوئی دورس اور کثیر الجہتی حکمت عملی بنائی جاتی۔

آگے بڑھیں! چلیں ہم قومی ریاست پر صحیح اور غلط کے معروف معیارات کو تج دیتے ہیں اور اس پر ایمان لے آتے ہیں کہ جب بھی ریاست جو کچھ کرتی ہے، درست کرتی ہے۔نشاۃ ثانیہ اور نام نہاد تحریک اصلاح کے بطن سے برآمد ہونے والی بتدریج قومی ریاستوں کی موجودہ شکل وصورت 1919ء میں لیگ آف نیشن اور بعد ازاں اقوام متحدہ کی تشریحات نے بنائی ہے، پھر بھی اس سے قبل کی دنیائے انسانیت کو جہالت کی مخلوق مانتے ہوئے ایک ڈیڑھ صدی کی قومی ریاست کے اس تصور پر مکمل ایمان ہی لے آتے ہیں۔ اب کیا ایسی ریاست اپنے گزشتہ کل سے نجات پانے کی جدوجہد میں ہو، اور ایسے کل سے جس نے ایمان، عقیدہ اور نظریئے کے امتزاج سے کچھ جھوٹی سچی تشریحات پر گزارہ کیا ہو، تو ایسا فیصلہ قوم پر کیا وقت لائے گا؟ اس کا کوئی درست جائزہ لیا گیا تھا۔ اس کے لیے ریاست کو کس کس سطح پر کہاں کہاں بروئے کارآنا پڑے گا، کیا اس پر کوئی غورکیا گیا تھا؟مسئلہ یہ ہے کہ جدید ریاستوں میں فوج ملکوں کا ہاتھ ہوتی ہے، دماغ نہیں۔ اور پاکستان میں دماغ کا کام بھی ہاتھوں کے سپرد کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہاں دماغوں نے کبھی بھی کسی اعلیٰ درجے کی ذہانت کا مظاہرہ ہی نہیں کیا۔ اب ہاتھ جسم میں سوچنے کا کام کتنا کرسکتے ہیں ، بس اُتنا ہی ریاست میں عسکری ادارے بھی کررہے ہیں۔اس ’’بندر کی بلاطویلے کے سر ‘‘ والی ناموزوں مشقت نے پاکستان کو ایک ایسی صورتِ حال میں دھکیل دیا ہے کہ یہاں ہر نیا دن پہلے سے زیادہ پُرخطر بن کر سامنے آتا ہے۔

ریاست کو خطرات تو نظری ، فکری اور وجودی سطح کے ہیں مگر ریاست تو اس سکت کا بھی مظاہرہ نہیں کرپارہی کہ وہ روزمرہ کے عملی مسائل سے ہی نبر د آزما ہولے۔ اگر دہشت گرد ہمارے لیے روز ایک نئی طرز کی موت ایجاد کریں تو اُن کے اس طرزِعمل پر تو ادارے اور حکومت گنجائش کی ڈھال استعما ل کرسکتی ہے۔ مگر دہشت گرد اگر ایک ہی طرح سے بروئے کار آتے ہو، اور اُن کے اندازواطوار میں ایک’’ پیٹرن ‘‘ یا نمونہ موجود ہو، اور ہم پھر بھی اپنی قوم اور اداروں کو اس سے نبرد آزما ہونے میں ناکام پائیں ۔ تو اس کی کوئی معافی نہیں ہو سکتی۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں ایک خاص طرح کی ذہنیت کارفرما ہوتی ہیں۔ دہشت گردی کے لیے استعما ل ہونے والے ہاتھ تو اہداف پورے کرنے میں لگے رہتے ہیں مگر اس کے دماغ خاص طرح سے حرکت میں آتے ہیں ۔ مثلاً عام طور پر دہشت گردی کے لیے دسمبر اور اگست کی تاریخوں کا انتخاب سقوط ڈھاکا اور ماہ آزادی کی مناسبت سے کیا جاتا ہے۔ ان مہینوں میں اداروں کو زیادہ مستعد اور چوکس ہونا چاہئے، مگر افسوس ناک طور پر ہمارا طرزِ عمل حفظ ماتقدم یا پھر اقدامی نہیں بلکہ بعد از اقدام ردِ عمل سے عبارت ہوتا ہے۔سانحہ کوئٹہ کے ہی تناظر میں اس کا جائزہ لے لیں۔ ایساہی ایک واقعہ بالکل اسی انداز میں ٹھیک اسی تاریخ کو اسی شہر میں رونما ہو چکاہے۔ کوئٹہ میں ہی ایس ایچ او محب اللہ داؤی کو 8 اگست 2013ء کو نشانا بنایا گیا۔ جب اُن کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے لوگ جمع ہوئے تو اس پر خودکش حملہ کردیا گیا، جس کے نتیجے میں تیس افراد لقمہ اجل بن گیے۔ اسی طرح ایک بینک مینجر کے اہدافی قتل( ٹارگٹ کلنگ) کے بعد جب ہزارہ کمیونٹی کے لوگ اسی سول اسپتال کوئٹہ میں جمع ہوئے تو اُنہیں ماضی میں اسی طرح نشانا بنایا گیا۔ اس طریقہ واردات کو’’ بوبی ٹریپ‘‘(Booby trap)کہتے ہیں، جس میں پہلے ایک چھوٹا واقعہ کرکے لوگوں کو اُس کی طرف دھکیلا جاتا ہے ، اور پھر ایک زیادہ بڑی کارروائی میں اُنہیں نشانا بنا لیا جاتا ہے۔ نوگیارہ کے بعد کراچی میں ہونے والے ابتدائی دھماکوں میں اس طرز کو متعدد مرتبہ استعمال کیا گیا۔ میٹروول کے علاقے میں ایک امریکن کلچر سینٹر کے قریب اس نوع کی کامیاب واردات ہوئی تھی۔ جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکنا ہو کر واردات کے بعد ردِ عمل کے طریقے وضع کر لینے چاہئے تھے۔ یہ بات تو مانی جاسکتی ہے کہ پہلی کارروائی اچانک ہوتی ہے ،مگراس کے بعد ہونے والی کارروائی کے لیے کوئی حیلہ اور جواز نہیں مانا جاسکتا۔ کوئی کچھ بھی کہے ، سانحہ کوئٹہ میں اسپتال میں ہونے والا دھماکا دراصل قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کی نااہلی ہے۔

حیرت انگیز طور پرسرکاری ادارے اپنی ہر ناکامی کو زیادہ اختیارات کے مطالبے میں چھپالیتے ہیں۔ اور ہر حادثے کے بعد جواب دہی کے بجائے زیادہ طاقت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ایسی اُلٹی خوراک سے صرف پاکستان ہی چل سکتا ہے۔ دنیا کا کوئی دوسرا ملک نہیں ۔

اس رویئے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں ہر حادثے کو زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی جنگ میں کیوں تبدیل کردیا جاتا ہے؟ آخر کیوں ہم دہشت گردی کے متعلق اپنے فرسودہ رویوں پر غور نہیں کرتے؟اور کیوں ہر دہشت گردی کے بعد ہمارا ردِ عمل نہایت پست سطح کی گروہی تعبیرات کا آئینہ دار ہوتا ہے؟ ان سوالات پر غور اگلی تحریر پر اُٹھا رکھتے ہیں۔ابھی تو صرف اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ رویہ ہی فرق ڈالتا ہے۔ مگرہمارا رویہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کا فرق ڈالنے والا ہرگز نہیں۔


متعلقہ خبریں


خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

ترکی: شادی کی تقریب میں دھماکے سے 51 افراد جاں بحق، 94 زخمی وجود - اتوار 21 اگست 2016

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت سے پہلے دہشت گردی کی منظم وارداتوں کا جو سلسلہ دیکھا گیا تھا وہ بغاوت کے بعد پھر شروع کر دیا گیا ہے۔ اب دہشت گردی کی وارداتوں میں کچھ نئے رجحانات بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔ جس کا تازہ اظہار شام کی سرحد کے قریب ترکی کے شہر غازی عنتب میں ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے دھماکے سے ہوا ۔ جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 51 افراد جاں بحق اور 94 زخمی ہو گئے ہیں۔ غازی عنتب کے گورنر علی یرلی کایا کے مطابق ہفتے کی شب شاہین بے ضلع میں ہونے والی ایک شادی کی ای...

ترکی: شادی کی تقریب میں دھماکے سے 51 افراد جاں بحق، 94 زخمی

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت محمد طاہر - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

فرانس: قومی دن کی تقریب پر حملہ، 80 افراد ہلاک وجود - جمعه 15 جولائی 2016

فرانس کے جنوبی شہر نیس میں قومی دن کا جشن منانے کی تقریب میں شریک بڑی تعداد میں لوگوں پر ٹرک میں سوار حملہ آور نے گاڑی چڑھا دی، حملہ آور پہلے لوگوں کو سو میٹر تک کچلتا ہوا گیا پھر اس نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کم از کم 80 افراد ہلاک جب کہ اٹھارہ بُری طرح زخمی ہو گئے، ہلاک اور زخمیوں میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیاجب کہ نیس کے میئر نے پورے شہر کے اسپت...

فرانس: قومی دن کی تقریب پر حملہ، 80 افراد ہلاک