وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مسخرے

بدھ 22 جون 2016 مسخرے

mirza

یہ ہونا تھا! پاکستان کو اس کی تاریخ اور تہذیب سے کاٹنے کے ایک طویل اور مسلسل چلے آتے منصوبے میں ذرائع ابلاغ کا کردار کلیدی ہے۔ اس لیے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ پیمرا حمزہ علی عباسی پر پابندی کو مستقل برقرار رکھ پاتا۔ درحقیقت اس نوع کے اقدامات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اقدام عوامی دباؤ کو وقتی طور پر کافور کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ پیمرا کی طرف سے حمزہ علی عباسی پرعائد وقتی پابندی نے اُس دباؤ کو خاصی حد تک کم کر دیا ، جو عوام میں حمزہ علی عباسی کے خلاف پیدا ہوا تھا۔ اب پیمر انے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے آج ٹیلی ویژن کو معذرت کی ہدایت کے ساتھ ٹی وی میزبانوں پر سے پابندی ہٹانے کی نوید بھی دے دی ہے۔ بنیادی مسئلہ معذرت کا نہیں ایک خاص طرح کی تربیت کا ہے۔ مسخرے جب سماج، تاریخ ، مذہب اور تہذیب سے ہاتھ صاف کرنے لگیں تو وہ اپنے ساتھ معاشرے کو بھی ہیجان میں مبتلا کرتے ہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ پیمرا تمام ٹیلی ویژن کے مالکان کو موضوعات کے اعتبار سے ماہرین کی طرف رجوع کرنے کا پابند بناتا۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ ٹیلی ویژن کی دنیا سے پاکستانی سماج کو مذہب کے حوالے سے جس ژولیدہ فکری کی طرف دھکیلنا ہے ، اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ٹی وی کی دنیا پر مسخرے حکمرانی کریں۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم نوجوان اپنی تاریخ کے ساتھ مکمل مناسبت پیدا کریں۔ اور وہ اپنی فکر کو جذبات کے بجائے جذبے سے پیش کریں۔ مرزائیوں کے خلاف مسلمانوں کا مقدمہ قیام پاکستان سے پہلے کا ہے۔ اور تاریخ کے دوام میں صداقت کی پوری آب وتاب کے ساتھ کامیاب ہے۔ اِسے کسی حمزہ علی عباسی کے سوال یا لبرل اور سیکولر فکر کے نام پر انتہا پسند مسلم مخالف دانشوروں کی متعصبانہ یلغار سے کوئی خطرہ نہیں۔

مذہبی ذہنوں کو پراگندہ کرنے کرنے کے لیے الزام ودشنام کا مزاج بھی اسی مرزا کے ذریعے پیدا کیا گیا تھا۔ جو آریہ سماجیوں سے مناظروں میں اُبھارا گیا۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ ان مناظروں نے ہی اُس راج پال جیسے لوگ پیدا کیے تھے جو بعد میں شاتم رسولﷺ بن کر سامنے آئے۔

مرزا غلام احمد نے 1880ء میں اپنے غیر معمولی ہونے کا اعلان خود کو ’’ملہم من اﷲ‘‘ قرار دے کر کیا تھا۔ پھر اُس کی کتاب براہینِ احمدیہ میں مجدد ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔ اگلے گیارہ برسوں تک وہ مختلف دعوؤں کی قے کرتا رہا۔ اور برصغیر میں خود کو منوانے کے لیے ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا۔ اُس کا مسئلہ بھی کچھ ٹی وی اینکرز کی طرح تھا جن کے پروگرام کی ریٹنگ نہیں آتی۔ مرزائیت کی ریٹنگ برصغیر کے مسلمانوں میں صفر تھی۔ اس عالم میں مرزا غلام احمد نے 1891ء میں اپنے لیے مسیح موعود کا دعویٰ کیا۔ اور’’ظل نبی‘‘ کی اصطلاع استعمال کی۔ تب مسلمان اُسے حقارت سے دیکھنے لگے۔ مرزا غلام احمد نے امکانات کی دنیا کو مزید وسیع کرنے کے لیے ایک اور دعویٰ بھی کیا۔ اُس نے سیالکوٹ میں نومبر 1904ء میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے خود کو کرشن کی مانند قراردیااور کہا کہ وہ ہر مذہب کے اوتار ہیں۔ دعوؤں کی دنیا میں یہ ایک انوکھا دعویٰ تھا۔

مسلمانوں کے اجتماعی شعور نے تب انگڑائی لے لی تھی۔ وہ علمائے کرام ہمارے سروں کے تاج ہیں جنہوں نے ابتدائی دور میں ہی مرزائیت میں موجود ،ردِ اسلام کی بو محسوس کرلی تھی۔ علمائے کرام نے مرزا غلام احمد کے متعفن خیالات پر اپنی فقہی آراء 1890ء میں دینا شروع کردی تھی۔ تب شاید حمزہ علی عباسی کے ابا میاں کے ابامیاں بھی پیدا نہ ہوئے ہوں گے۔ حمزہ علی عباسی کون سا انوکھا سوال اُٹھا رہے ہیں۔ سارے سوالوں کے جواب تب دے دیئے گیے تھے۔ ریاست کے قیام سے پہلے اور بعد میں اس پر ایک مسلسل بحث رہی ہے۔ مرزائیوں کے متعلق تمام فیصلے مسلمانوں کے اجتماعی شعور سے اُٹھے ہیں اور متفقہ رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہ مسئلہ صرف قومی اسمبلی میں نہیں گیا بلکہ یہ مختلف عدالتوں میں مختلف عنوانات سے زیربحث آتا رہا ہے۔ منہ میں مستقل قے رکھنے والے چند بدبودار لوگوں کی نئی آزادر وی اور بہکی بہکی زندگی کا بوجھ مسلمانوں کا اجتماعی شعور کیوں اُٹھائے۔وہ اپنی جدیدیت اور اپنی آزادروی کے بوجھ میں خود ڈبیں ڈوبیں۔

اگر بیدار مسلم ذہنوں کو سازشوں کے تانوں بانوں کو سمجھنے کی فعال کوشش کرنی ہو تو اُنہیں مرزا غلام احمد کی زندگی کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا ہوگا۔ انگریز کے اس کاشتہ پودے کے بیج کیسے ڈالے گیے؟ مختلف عیسائی مشنریز سے اولاً مناظرے بازی کا آغاز اسی شخص نے کیا تھا۔ کسی کو حیرت نہ ہونی چاہئے کہ یہ جن انگریزوں کا ایجنٹ تھا وہ سب عیسائی تھے۔ مگر اُسے اُن ہی عیسائی مشنریز سے مناظروں میں اُبھارا

گیا۔ سادہ مسلم ذہن اس مناظرے کی لت میں ایک لذت کشید کرنے لگے۔ اور اِس ماحول میں مرزا غلام احمد کے لیے قبولیت کے راستے پیدا کیے گیے۔ مذہبی ذہنوں کو پراگندہ کرنے کرنے کے لیے الزام ودشنام کا مزاج بھی اسی مرزا کے ذریعے پیدا کیا گیا تھا۔ جو آریہ سماجیوں سے مناظروں میں اُبھارا گیا۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ ان مناظروں نے ہی اُس راج پال جیسے لوگ پیدا کیے تھے جو بعد میں شاتم رسولﷺ بن کر سامنے آئے۔ ان مناظروں کے ذریعے انگریز دراصل خاتم النبی حضرت محمد مصطفیﷺ کے حوالے سے بدگوئی کی ایک ایسی مہم پیدا کرنا چاہتے تھے جو ’’جواب آں غزل‘‘ کے طور پر دکھائی دے، اور مناظرے بازی کے باعث قابل برداشت بن جائے۔ اس طرح انگریز مسلمانوں کی سرکاردوعالم ﷺ سے اٹوٹ محبت کو پگھلانا چاہتے تھے۔ ایک صدی بیت گئی، مگر مسلمانوں کے ذہنوں سے تصور مصطفیﷺ ، دلوں سے حب مصطفیﷺ ،لبوں سے ذکر مصطفیﷺ ، ہاتھوں سے عَلم مصطفیﷺ، اور مقاصد سے اتباع مصطفی ﷺ کو ایک درجے بھی کم نہ کیا جاسکا۔ اس کے لیے ہر نوع کی تحریک کو اُبھارا گیا۔ یہاں تک کہ جد ید قومی ریاستوں کو مذہب سے بڑھ کر عقیدہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ جس میں جدید قومی ریاستوں کو اسلام سے اوپر اور اُس کے عقائد کو ریاست کے لیے قابل تنسیخ حالت میں حکمرانوں کے ہاتھ میں تھمانا شامل رہا۔حکمران بھی وہ جو پہلے سے عالمی فرمان میں مغربی حکمرانوں کے حاشیہ برادر ہیں۔ (حضرت علامہ جاوید غامدی کی پوری فکر اسی نکتے کے گرد گھومتی ہے۔ جس پر عالم اسلام کے درد مند مفکرین زبردست محاکمے کا کام کر رہے ہیں ۔ )

ایسی تمام تحریکیں جو مسلمانوں میں پیداکی گئی اُس کا اوّلین مقصد مسلمانوں کے سیاسی آرڈر کو غیر متوازن کرنا رہا ہے۔ آج قادیانیوں کے حق میں سوال اُٹھائے جانے کے مقاصد بھی یہی ہیں۔ آج کے مسلم نوجوانوں کو معلوم نہیں کہ کس طرح مرزائیوں نے پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کی فتح پر شادیانے بجائے تھے اور سقوط خلافت عثمانیہ پر جب حضرت علامہ اقبالؒ آنسو بہا رہے تھے ، تو یہ جشن مسرت منا رہے تھے۔ مرزائیوں کے خلاف اولین مزاحمت کرنے والے مولانا ظفر علی خان اب کسی کو یاد نہیں رہے۔ مرزائیت کے فکری محاکمے کے لیے اُن کے گراں قدر مقالے،اور فکاہیہ نظموں پر مشتمل ارمغان قادیان کہیں گم ہے۔بعد ازاں جماعت احرار نے مرزائیت کے خلاف ایک زبردست محاذ بنایا۔ اور مسلمانوں کا اجتماعی کفارہ اداکیا۔ اس تحریک کی خاطر جماعت احرار نے برصغیر میں بے اندازہ سیاسی نقصان اُٹھایا مگر سرکار دوعالمﷺکی ختم نبوت کا مقصد اوڑھے رکھا۔عطااﷲ شاہ بخاریؒ کے الفاظ کے جادو نے مرزائیت کا جادو توڑا۔وہ اس فتنے کے خلاف خاتم النبی حضرت محمدﷺ سے وفا کی تصویر بن گیے۔ شورش کاشمیری کی قبر کو اﷲ نور سے بھردے، اُنہوں نے اس تاریخ کو مختلف حوالوں سے محفوظ کیا۔ اور اپنے آپ کو اس مقصد سے والہانہ پیوستہ رکھا۔ مولانامودودی ؒکے بے مثل قلم نے اس مسئلے کو قادیانی مسئلہ کے نام سے ایک کتاب میں پوری طرح بے نقاب کیا۔جدید مسلم ذہنوں کو دلیل کی جو آنچ درکار تھی، وہ آپ کے معجز بیاں قلم نے مہیا کی۔

مرزائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینے کا سہر ا دراصل علامہ اقبالؒ کے سر ہے ۔وہ اُنہیں یہودیوں کا مثنیٰ(فوٹوکاپی) کہتے تھے۔ انہوں نے 10جون 1935ء کو اسٹیٹسمین میں ایک بیان کے ذریعے مرزائیت کے متعلق اپنی فکر کا خلاصہ پیش کرکے اُنہیں مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت باور کرادیا تھا۔اس سے ذرا قبل حضرت علامہ اقبالؒ نے 21جون 1932ء کو پنڈٹ جواہر لال نہرو کے نام ایک خط لکھا، جس میں اُن کے مقالات سے مرزائیوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے ہمدردی کے تاثر کے رفع ہونے پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔ علامہ اقبالؒ نے اس خط میں دوٹوک طور پر لکھا کہ

’’میں اس باب میں کوئی شک وشبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا کہ احمدی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔‘‘

میرزائیوں اور مسلمانوں کے مابین فکری مجادلے کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اس تاریخ کے درمیان علمائے حق اور مصور پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کھڑے ہیں جو یقینا حمزہ علی عباسی سے ذرا زیادہ ہی پڑھے لکھے ہوں گے۔ تاریخ کے اس ورق کو پوری طرح کھولنا ضروری ہے جو حضرت علامہ اقبالؒ کی ہم آہنگی میں عدالت عالیہ لاہور کے ایک ریٹائرڈ منصف مرزا سر ظفر علی نے دلائل کی گوٹاکناری کرکے تاریخ کے سپرد کردیا۔ جس میں واضح کیا گیا تھا کہ قومیں نبوتوں کی بناء پر وجود پاتی ہیں۔ اس دلیل سے مرزائیوں کو مسلم قوم سے پرے دھکیل دیا گیا تھا۔ تب پاکستان معرض وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔ ریاست کی طرف سے کسی کو کافر کہنے کا سوال بھی کھڑا نہیں ہواتھاجب مسلمانوں کے اجتماعی شعور نے اُنہیں کھڑے کھڑے خود سے دور دھکیلا تھا۔ ان کے مکروہ چہروں پر پڑا نقاب نوچ لیاتھا۔ مرزائیت کے حوالے سے مسلمانوں کا یہ شعور اپنے پورے شرح صدرکے ساتھ تب بھی پوری طرح راسخ تھا جب اُن کی سیاسی وحدت روبہ زوال تھی۔ مگر اُن کی دینی وحدت نے اُنہیں بچائے رکھا۔ جدیدیت پسندوں کے نام پر سامنے آنے والی ناپختہ مگر مفاد آشنا مخلوق کو ابھی یہ باور کرانا مشکل ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے جب کبھی سیاسی وحدت پائی ہے تو اُس کی محرک دینی وحدت رہی ہے۔ اور انگریزوں نے جب بھی دینی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی ہے تو اُس کا مقصد سیاسی وحدت کا خاتمہ رہا ہے۔ آج کا ماجرا بھی مختلف نہیں۔

جہاں تک اُس ریٹنگ کے مارے مسخرے کے سوال کا معاملہ ہے ، توہر سوال کا جواب رکھنے والی اس قدر عظیم تاریخ وتحریک کے سامنے پہلے وہ لڑکا اپنے سوال کے حق کو تو ثابت کرے!!!!!


متعلقہ خبریں


خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت محمد طاہر - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

سوال! محمد طاہر - اتوار 19 جون 2016

سوال اُٹھانا جرم نہیں مگر یاوہ گوئی!سوال علم کی کلید ہے۔ انسانی علوم کی تمام گرہیں سوال کی انگلیوں سے کُھلتی ہیں۔ مگر سوال اُٹھانے والے کے لیے ایک میرٹ بھی مقرر ہے۔ سوال جاہل کا نہیں عالم کا ہوتا ہے۔ استاد نے فرمایا کہ سوال پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح ہوتے ہیں اور جواب پہاڑ کے دامنوں کی طرح۔ اور پہاڑوں میں اختلاف اُس کے دامنوں کا اختلا ف ہے اُس کی چوٹیوں کا نہیں ۔ تمام پہاڑوں کی چوٹیاں یکساں ہوتی ہیں۔ سوال بھی انسانی ذہنوں میں چوٹیوں کی طرح یکساں چلے آتے ہیں۔ مگر اس کے الگ الگ زمان...

سوال!