وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چمگادڑ راج

جمعرات 24 ستمبر 2015 چمگادڑ راج

bat

بھارت میں آج بھی کچھ نہیں بدلا۔ اکیسویں صدی میں اُبھرنے والے متوسط طبقے سے یہ اُمید کی جارہی تھی کہ وہ فرسودہ اور کہنہ روایتوں کو دانشمندانہ طریقے سے موضوعِ بحث بنا کر نئی روشنی سے بغلگیر ہو گا۔ مگر یہ اُمید خاک میں ملتی جارہی ہے۔ بھارت میں بڑے کے گوشت پر پابندی کا مسئلہ بھی ایک ایسا ہی واقعہ بن کر سامنے آیا ہے۔

حالیہ دنوں میں گوشت پر پابندی کا معاملہ بھارتی مسلمان پہلے سے موجود “گئوماتا” کے اس تصور کے ساتھ باندھ کر نہیں دیکھ رہے بلکہ اِسے نریندر مودی کی جانب سے ہندو تعصب میں گندھے اقدامات کی ایک قطار میں دیکھ رہے ہیں جو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مرکزی حکومت کی حمایت کے ساتھ مسلسل جاری ہیں۔ گھر واپسی، اردو زبان سے تعصب اور نئی مساجد پر کچھ نئے بھارتی دعوے نریندر مودی کی” شاندار”حکومت میں تعصب کی نئی مہمات میں شامل ہیں۔ اب گوشت پر پابندی کا معاملہ اس میں نیا اضافہ ہے۔ یہ غلط سمجھا جارہا ہے کہ گائے کا گوشت صرف کشمیر میں جنگ کا موضوع ہے۔ جہاں گائے کو ذبح کرنے پر تو پابندی کا سوسالہ ایک دقیانوسی قانون ہے مگر مسلمان کو ذبح کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔

دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کی نو صوبائی حکومتوں نے نو دن تک گوشت کھانے اور اس کی فروخت پر ٌپابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ نو دن بعد “گئوماتا “کو اس پر کوئی اعتراض کیوں نہیں ہوگا؟کوئی بھی ذی شعور شخص بآسانی اندازا لگا سکتا ہے کہ کسی ریاست کی روزافزوں معاشی ترقی اورتعمیر بھی اُس کے فرسودہ تصورات کو اتنی جلدی تحلیل نہیں کر پاتی۔ مہاراشٹر کی مثال سامنے ہے۔ جسے بھارت کی سب سے ترقی یافتہ ریاست سمجھا جاتا ہے۔ ممبئی جس کا دارالحکومت ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں فی کس آمدنی پورے بھارت کی تمام ریاستوں سے 40 فیصد زیادہ ہے۔ یہ فلم نگری ہے۔ اسی زمین پر بھارت کی ہوائی و خلائی صنعت بھی کھڑی ہے، ٹیکنالوجی کی جدید دیوی بھی یہیں اِٹھلاتی ہے۔ سیاحت کے سارے راستے یہیں مڑتے ہیں۔ تن پوشی کی صنعت یہاں لوگوں کو کپڑے پہناتی ہے اور فیشن کی دنیا یہیں وہ کپڑے اُتروا بھی دیتی ہیں۔ یہیں پر پٹرولیم کا کاروبار ہوتا ہے جسے دنیا کالا سونا کہتی ہے۔ الغرض ایک صنعتی ریاست کے طور پر مہاراشٹر بھارت میں ایک قائدانہ حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اسی ریاست میں بڑے جانور کے ذبیحہ اور اس کے گوشت کی فروخت پر مکمل پابندی بھی عائد ہے۔ انتہا پسند ہندو ایک خاص منصوبے کے تحت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو دیوار سے لگا رہے ہیں اور اُنہیں ریاست کے مرکزی دھارے سے نوچ کر پھینک رہے ہیں۔ وہ نریندر مودی کی حکومت میں اس تیزرفتاری سے فعال ہوئے ہیں جیسے یہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو دبانے کا کوئی آخری موقع ہو۔ چنانچہ اسی عجلت نے اُنہیں مقبوضہ کشمیر میں بھی اسی اقدام کو غیر منطقی بنیادوں پر اُٹھانے پر اُکسایا۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ کشمیر میں پہلے سے ہی بڑے گوشت کا استعمال نہایت کم ہوتا ہے اور وہاں گوشت کے لیے بھیڑ کے گوشت کی رغبت زیادہ ہے۔ پھر کشمیر میں بڑے کے گوشت پر پابندی عائد کرنے کا تازہ حکم ایک بالکل غیر ضروری مشق تھی کیونکہ یہاں پہلے سے ہی 1932ء کا ایک قانون نافذتھا جس کے تحت بڑے کے گوشت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ابھی اس قانون کی قانونی حیثیت کو ایک طرف رکھیے، مقبوضہ کشمیر میں تازہ معاملہ کیا ہوا ہے ؟ دراصل ایک ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل کی طرف سے مفادِ عامہ کے نام پر ایک عرضی عدالتِ عالیہ جموں و کشمیر کے سامنے رکھی گئی۔ اور عدالت ِ عالیہ نے ایک عبوری حکم نامہ جاری کردیا۔ جس کے تحت پولیس کو ہدایت کی گئی کہ وہ ریاست میں بڑے کے گوشت پر پابندی کو نہ صرف یقینی بنائے بلکہ بڑے کے گوشت کے کاروبار میں ہی نہیں اس کے استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی قانون حرکت میں لائے۔ اس طرح عدالت نے پہلے سے موجود قانون کو دوبارہ لاگو کیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک ملبوس شخص کو اس کے اوپر دوبارہ کپڑے پہنائے جائیں۔ عدالت تو پہلے سے موجود قانون کی خلاف ورزی کے بعد دخیل ہوتی مگر یہاں معاملہ اوپر سے نیچے تک صرف ومحض مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا ہے۔ چنانچہ مسلمان بھی اشتعال کا شکار ہوئے اور وہ اس قانون کی خلاف ورزی پر تُل گئے، جس کی عام حالات میں شاید اتنی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اس کی تفصیلات سے اندازا ہوگا کہ بھارت کس طرح اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔

کشمیری کبھی بڑے کا گوشت کھانے کے حوالے سے معروف نہیں رہے۔ اُن کا مرغوب گوشت بھیڑ اوربکری کا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق وہ بھیڑ بکری کا ایک ہزار لاکھ کلو گرام گوشت سالانہ استعمال کرتے ہیں۔ کشمیر میں بھیڑ بکریوں کے گوشت کی یہ ضرورت عام طور پر راجستھان اور پنجاب سے پوری ہوتی ہے۔ اس میں بڑے کا گوشت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر مودی حکومت نے ایک سوئے ہوئے مسئلے کو جگا دیا۔ اب حال یہ ہے کہ کشمیر میں اس سال بھیڑ اور بکریوں کو کچھ سکون لینے کا موقع دیا جارہا ہے اور گائے کی قربانی کا بڑے پیمانے پر ماحول بن رہا ہے۔ کشمیریوں کی جانب سے سماجی رابطوں کے برقی مقامات (ویب سائٹس) پر اب یہ پیغامات پڑھنے کو مل رہے ہیں۔

” عدالت نے عید کے موقع پر ہمارے جانور کے حق ِ اختیار کو “قربان “کر دیا ہے، اس لیے اب ہم قربانی کے دن بھیڑ اور بکرے کی جگہ پر گائے کی قربانی ہی دیں گے۔ ”

اس موقع پر ایک بار پھر کشمیر میں قاضی نثار کو یاد کیا جارہا ہے جس نے اننت ناگ کے لال چوک میں 1984ءمیں کھلے عام گائے کی قربانی کر کے گائے کے گوشت پر پابندی کے قانون کے خلاف اپنا احتجاج محفوظ کرایا تھا۔ یہ تب کے پسندیدہ گورنر جموں وکشمیر کے طور پر جگموہن ملہوترہ کادور تھا۔صرف پابندی کے باوجود پابندی کی آڑ میں ایک فساد پیدا کرنے کے باعث کشمیر میں اس مرتبہ بہت سے قاضی نثار کھڑے ہورہے ہیں۔ جو اس قانون پر بھی مختلف سوال اُٹھا رہے ہیں۔

تاریخی حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ 83 برس قبل ایک مطلق العنان ہری سنگھ کے دور میں بنایا گیا قانون تھا۔ یہ کوئی جمہوری دور کی قانون سازی نہیں تھی۔ بلکہ ایک مطلق العنانیت کے عہد کی آمرانہ روش تھی۔ 1846ء سے 1949ءتک ڈوگرہ راج کے عہد ِ تاریک میں کشمیریوں پر قوانین سے نہیں احکامات سے حکومت کی جاتی تھی۔ گلاب سنگھ کے بعد دوسرے مہاراجہ رنبیر سنگھ کے عہد میں ایک خاتون کسی گائے کو مارکے بھگا رہی تھی کیونکہ وہ گائے دھوپ میں خشک ہونے والوں کپڑوں کو مسلسل چبائے جارہی تھی۔ اس پر رنبیر سنگھ نے گائے کو بھگانے کے بجائے اُس خاتون کی زبان کاٹ دی تھی۔ ظاہرہے ایسے ماحول میں گائے کے ذبیحہ پر سزاؤں اور عمر قید کے قوانین ہی بن سکتے ہیں۔ چنانچہ 298 اے دراصل رنبیر پینل کوڈ(آر پی سی) کے تحت دس برس قید اور جرمانے کی سزا کا قانون ہے۔ یہ ایک قانون تھا مگر اِس کی کبھی بھی کوئی پروا نہیں کی گئی۔ اِسے قوانین کی کتاب کا ایک دفن مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ اب عدالت کے ذریعے اِس مسئلے کو زندہ کیا گیا ہے تو اُس دور کے دیگر قوانین کی بابت بھی سوال اُٹھ رہے ہیں۔ مثلاً اُسی سال یعنی 1932ء میں ایک قانون یہ بھی منظور کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر میں مہاراجہ کے علاوہ کوئی بھی شخص کسی نوع کی بجلی پیدا نہیں کر سکتا۔ اس طرح ایک معمولی دُکاندار بھی جنریٹر کے ذریعے بجلی پیدا کرنے میں دھرا جاسکتا ہے۔ ایسی احمقانہ تاریخ میں بھارت خود اپنے مستقبل سے کھیل رہا ہے۔ جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو اب عدالت، اسمبلی اور عوام کی سطح پرگائے کے ذبیحے کا مسئلہ ایک زندہ مسئلہ بن چکا ہے۔ بھارت میں کچھ بھی نہیں بدلا۔ یہاں عہدِ عمیق کی تاریکیوں کے چمگادڑ وں کا راج ہے اور اُن کو الٹا لٹکا دینے والی نئی روشنی کا کوئی استقبال نہیں کرنا چاہتا۔


متعلقہ خبریں


مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت جلد بحال ہوجائے گی، کشمیری رہنما کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی کے رکن اور نیشنل کانفرنس کے رہنما جسٹس ریٹائرڈ حسنین مسعودی نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ جلد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کردے گی۔مقامی ویب سائٹ کو دیئے گے انٹرویو میں جسٹس حسنین مسعودی نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کشمیریوں کی آسانی کے لیے کوئی راستہ نکالتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے صدارتی آرڈیننس کو منسوخ کرنے کا حکم دیگی۔نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ بھارتی حکومت، پارلیمنٹ، یہاں تک کہ صدر بھی آئین ...

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت جلد بحال ہوجائے گی، کشمیری رہنما کا دعویٰ

مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ترک اسپیکر وجود - جمعرات 03 اکتوبر 2019

ترک پارلیمنٹ کے اسپیکرمصطفی سینٹوپ نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینا ترکی کی ذمہ داری ہے ۔ ترک پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر مصطفی سینٹوپ نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ترکی اس مسئلے پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترک قوم جنگ آزادی کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کی مدد کو نہیں بھول سکی اور نہ ہم نے اس دوستی کو بھلایا ہے ۔ترک اسپیکر کا کہنا تھا کہ بھارت نے 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر میں کرفی...

مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ترک اسپیکر

صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر پر ثالثی بیان قابل اعتبار نہیں، نیویارک ٹائمز وجود - جمعرات 03 اکتوبر 2019

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو مزید نظرانداز نہیں کر سکتا۔ مودی کے اقدامات نے کشمیریوں کی زندگی مزید اجیرن کر دی ہے ۔ اخبار نے پاکستان کی امن پسند کوششوں کو بھی سراہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹوریل بورڈ کا واضح موقف، اداریے میں لکھا گیا ہے کہ دوجوہری طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو مزید نظرانداز نہیں کرسکتا۔اخبار نے لکھا کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کا مثب...

صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر پر ثالثی بیان قابل اعتبار نہیں، نیویارک ٹائمز

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال:ایمنسٹی انٹرنیشنل کی چشم کشا رپورٹ شہلا حیات نقوی - اتوار 30 جولائی 2017

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی پوری طرح عکاسی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین دشمنی کی مثال قائم کررہا ہے،رپورٹ میں یہ چشم کشا انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ بھارتی فوجی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کی مدد سے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے اور بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاراستعمال کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمی...

مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال:ایمنسٹی انٹرنیشنل کی چشم کشا رپورٹ

کشمیر کی زمین پر تو بھارت کا قبضہ ہے ‘کشمیریوں پر نہیں،بھارتی صحافی وجود - منگل 25 اکتوبر 2016

کشمیر کے بارے میں معلومات اور خبریں حکومتی عہدیداران مسخ کردیتے ہیں،بھارتی نظام کے خلاف 80 سالہ شخص سے 6 سالہ بچے تک کے سینے میں تکلیف دہ جارحیت موجود ہے کچھ صحافی اراکین پارلیمان کی پٹی آنکھوں پر چڑھا کر صحافی کا حقیقی کردار فراموش کردیتے ہیں اوربھارت کی سالمیت اورقومی یکجہتی سے کھیلنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ،بھارتی وزیر اعظم کیلیے کھلا خط بھارتی صحافی ستوش بھاٹیہ نے مقبوضہ کشمیر کے 4روزہ دورے کے بعد بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کے نام ایک کھلا خط روزنامہ'رائزنگ کشمیر' می...

کشمیر کی زمین پر تو بھارت کا قبضہ ہے ‘کشمیریوں پر نہیں،بھارتی صحافی

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر ایچ اے نقوی - بدھ 05 اکتوبر 2016

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے گزشتہ روز وزیراعظم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور بھارت کے جنگی جنون سے نمٹنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کرنے کے حوالے سے کوششوں کیلیے وزیر اعظم کابھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس نازک وقت میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کابھرپور ساتھ دینے کااعلان کرکے نہ صرف بالغ نظری کاثبوت دیاہے بلکہ پاکستان کو ایک منقسم قوم تصور کرنے و...

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

آبی جارحیت کی دھمکی، بھارتی اقدام پر سندھ بنجر ہو جائیگا انوار حسین حقی - بدھ 28 ستمبر 2016

’’آب اور لہو ایک ساتھ نہیں بہ سکتے ‘‘ یہ نئی بڑھک جنگی جنون میں مبتلا بھارت کے انتہا پسند ہندو وزیر اعظم نریندر مودی نے لگائی ہے ۔ کشمیری حریت پسندوں کے جذبہ حُریت سے خوفزدہ بھارتی قیادت نے بین الاقوامی سفارتی سطح پر پاکستان کے خلاف ناکامی کے بعد سندھ طاس کمیشن کے مذکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ مذاکرات کے التواء کا اقدام دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید کشیدہ صورتحال کے حوالے سے بھارت کی جانب سے اُٹھایا جانے والا سب سے ٹھوس قدم ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی م...

آبی جارحیت کی دھمکی، بھارتی اقدام پر سندھ بنجر ہو جائیگا

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟ محمد اقبال دیوان - پیر 26 ستمبر 2016

پچھلے دنوں وہاں دہلی میں بڑی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے Security Apparatus اور’’ را‘‘ کے نئے پرانے کرتا دھرتا سب کے سب نریندر مودی جی کو سجھاؤنیاں دینے جمع ہوئے۔ ان سب محافل شبینہ کے روح رواں ہمارے جاتی امراء کے مہمان اجیت دوال جی تھے۔ وہ آٹھ سال لاہور میں داتا دربار کے پاس ایک کھولی میں ground -spy کے طور پر رہتے رہے تھے۔ اُنہوں نے کراچی، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور کابل میں اپنے عرصۂ قیام میں کئی سلیپر سیلز بھی قائم کیے جو اب بھی چھپ چھپا کر اپنی تخریب کاری کی کاروائیاں دکھاتے رہت...

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟

بھارت کا جنگی جنون‘ خطے کا امن تہہ و بالا کردے گا ابو محمد نعیم - پیر 26 ستمبر 2016

بھارت خطے میں اپنی بالادستی کے لئے پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے‘ وہ دنیا کی نظروں سے مقبوضہ کشمیر میں اپنے ظالمانہ اقدامات کو چھپانا چاہتا ہے‘ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کیرالہ میں ہفتے کے روز کی گئی اشتعال انگیز تقریر درحقیقت اعلان جنگ ہے‘ اس سے پہلے بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دی گئی۔ یہ بات کرنے کا کون سا انداز ہے مودی ایک طرف کہتے ہیں ہم پاکستان سے ہزار سال جنگ لڑنے کا چیلنج قبول کرتے ہیں، جبکہ اگلے ہی سانس میں وہ کہتے ہیں پاکستان کے عوام سے بات کر...

بھارت کا جنگی جنون‘ خطے کا امن تہہ و بالا کردے گا

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز