وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ظفر یاب

جمعرات 20 اگست 2015 ظفر یاب

روایت کے مطابق کسی کتاب پر تبصرے کے لئے کتاب پڑھنا ضروری نہیں ۔مگر ایس ایم ظفر کی کتاب کے لئے یہ ممکن نہیں ۔ اگر چہ کتاب اُن کی کہانی خود اُن کی اپنی زبانی ہے ۔ مگر یہ کہانی کچھ اتنی بھی اُن کی نہیں ۔ یہ پورے ملک کی کہانی ہے۔ یہ اقتدارکی راہداریوں میں ہونے والی ’’شر‘‘گوشیوں کی سماعت ہے۔ یہ ایک ایسے سینیٹر کی کہانی ہے جو ملک کے نہایت ہی نازک ایّام میں مقتدر ایوانوں کے رازداں بنے اور پھر اُن ’’رازونیاز‘‘ کو قومی مسائل حل کرنے کی بنیادی جستجو میں بدلتے رہے ۔کہیں وہ کامیاب ہوئے اور کہیں ناکام۔ مگر کہیں بھی وہ پست حوصلہ نہیں دکھائی دیتے۔ الغرض کتاب کیا ہے؟ حکایتوں کی حقیقت اور حقیقتوں کا سُراغ ہے۔تہ بہ تہ تاریخ میں واقعات کا ایک زنجیری سلسلہ۔کچھ ایک دوسرے سے موافق اور کچھ مختلف ، کچھ چَھپے چَھپے اور کچھ چُھپے چُھپے ،کچھ دیکھے ان دیکھے اور کچھ کہے ان کہے۔

یوں تو ریٹائرڈ جرنیلوں اور نوکر شاہی کی طرف سے کتابیں لکھنے اور لکھوانے کا رجحان خاصا پُرانا ہے ۔ مگر سیاست دانوں کی طرف سے یہ کوششیں قدرے کم کم اور ذاتی ذوق کا نتیجہ رہی ہیں ۔یہ ایک قومی ذمہ داری کے احساس سے آراستہ ایسا ’’فرض‘‘ تاحال نہیں بن سکا جس میں سیاست دان اپنے عہد کے واقعات کو بے کم و کاست بیان کرنے اور اِسے آئندہ نسلوں کی رہنمائی کے لئے مہیا کرسکیں ۔اکثر کتابیں محض اس خیال سے لکھی گئیں کہ مصنّفین (خواہ سیا ست دان ہو یا پھر جرنیل اور بیورو کریٹ ) خود کو تاریخ کے بوجھ سے بچاناا ور واقعات کی ذمہ داری سے نجات پاناچاہتے تھے۔یہ کوششیں کم ہی دیکھی گئیں کہ لکھنے والے اپنا آپ بھی واقعات کے آئینے میں پیش کر دیں ۔ ایس ایم ظفر کی کتاب اِسی محدود فہرست میں شمار کئے جانے کے قابل ہے جس میں مصنّف اپنے عہدِ بے جمال کی بدصورتیوں کے ذکر سے پہلو نہیں بچاتا ۔ اور اپنی ناکامیوں اور نارسائیوں کی لیپاپوتی نہیں کرتا۔ایس ایم ظفر کی یہ کتاب اُس تاریخی سلسلے کی لڑی میں پروئی ہوئی ایک کڑی ہے جو سیاست دانوں کی سطح پر تاریخ کا قرض اُتارنے کی کوششوں سے بندھی ہے۔ وہ سیاست دان مصنّفین جنہوں نے اپنے اپنے دور کے واقعات کو کتاب کا موضوع بنایا اُن میں چوہدری خلیق الزماں ، چوہدی محمد علی، شیخ مجیب الرحمان ، ذوالفقار علی بھٹو، اصغر خان، شیر باز مزاری ، پروفیسر غفور احمد، سرتاج عزیز اور گوہر ایوب شامل ہیں ۔ لیکن حالیہ دنوں کے تازہ ترین واقعات جوبے خودجنرل مشرف کے دم بخود عہد ِ خجل میں موضوعِ بحث بنائے گئے اُس میں تازہ کوششیں یوسف رضاگیلانی ،جاوید ہاشمی اور بے نظیر بھٹو کی کتابیں ہیں۔ایس ایم ظفر کی کتاب اِسی ذمرے میں آتی ہے۔

ایس ایم ظفر کی کتاب اُن واقعات کا احاطہ کرتی ہے جن میں سے بیشتر کے بہاؤ میں ہم اپنی قومی اور سیاسی زندگی جی رہے ہیں ۔احتیاط پسند طبعیتیں عام طور پر ان منطقوں میں قدم نہیں رکھتیں کہ اس طرح کے حالات میں خود بے نقاب ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔مگر مصنف نے اِس کو پرِکاہ اہمیت نہیں دی۔ یوں کتاب کے اکثر واقعات کو ’’تاریخ‘‘ سے زیادہ ’’خبریں‘‘ کہا جاسکتا ہے۔جسے بہرحال ’’تاریخ‘‘ کے قالب میں از خود ڈھل جانا ہے۔لیکن اِن واقعاتی تاریخ یا خبروں میں یک نوعی انفرادیت پائی جاتی ہے۔ مصنّف نے کسی موضوع کو محض اپنے ذاتی مشاہدات سے بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جہاں موضوع تاریخی معلومات کا متقاضی ہے وہاں یہ ضرورت پوری کردی ہے۔ یوں صحافت اور سیاست کے طالبعلموں کو ایک ہی موضوع پر تفصیلی پسِ منظر مل جاتا ہے۔مثلاً جب ایس ایم ظفر جنرل مشرف کے ریفرنڈم کاذکر کرتے ہیں تو ملک میں ریفرنڈم کی پوری تاریخ کا بھی سرسری ذکر کردیتے ہیں۔ یوں موضوع سے متعلق اُن کی ذاتی معلومات اور تاریخی حوالے سب ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں ۔ایسے موضوعات کی ایک پوری فہرست مرتب کی جاسکتی ہے۔مثلااسٹیبلشمنٹ ، وفاقیت کی بحث،جمہوریت ،بنیادی حقوق،صدر اور وزیرِ اعظم کے درمیان اختیارات کا تنازع،سیاسی ڈرامے،اور اٹھارویں آئینی ترمیم وغیرہ۔یہ پہلو بھی خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ کتاب کے حاشیوں اور متن میں چھوٹے چھوٹے سیا سی واقعات کا ذکر نہایت دلچسپ بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔ایس ایم ظفر کی کتاب میں اسٹیبلشمنٹ کے عفریت کاذکر بار بارآتا ہے ۔اُن کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کا تعارف اور اُس کے کردار کے حوالے سے رائے بحث کا دلچسپ موضوع بن سکتی ہے جو نئے زاویوں کو منکشف کرے گی۔خود ایس ایم ظفر اِسے ایک نئی کتاب کا موضوع بنا سکتے ہیں ۔

ایس ایم ظفر اگرچہ مسلم لیگ ق کی طرف سے سینیٹر بنے تھے اور بطور سینیٹر وہ مارچ ۲۰۰۳ سے ۲۰۱۲ تک اپنے فرائض ادا کرتے رہے ۔ یہ کتاب اُن نو برسوں پر محیط تقریباً تمام اہم واقعات کا احاطہ کر تی ہے ۔یہی نو برس پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ اُتھل پتھل کا عرصہ ہے ۔اِن ہی برسوں میں پاکستانی اپنے رومانوی تصورات کی دنیا سے باہر آئے ۔ جمہوریت پر اُن کے یقین میں اضافہ ہو ا۔ عسکری اشرافیہ کے کردار سے تنّفر بڑھا۔ غیر سیاسی طبقات کی طرف سے قومی مسائل پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔ علمِ سیاست کی اصطلاح میں فشاری گروہوں کی فعالیت بڑھی ۔ سیاستدانوں اور عسکری اداروں پر تنقید میں تیزی آئی۔عوام نے تاریخ کے تمام بوجھ کو اپنے کاندھوں سے اُتارے کی کوشش کی ۔اور حکومت اور عسکری اداروں پر ایک موثر عدلیہ کی کڑی نگرانی کا خیر مقدم کیا۔ یہ سب کچھ مشرف کے دوعہدو ں کی بحث،عدلیہ پر دست درازی،عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے معاملے میں متوازی لہروں کے آس پاس وقوع پذیر ہورہا تھا۔یہ سارے کام اِس طرح ہورہے تھے کہ عوام اور فعال طبقات نے اپنے طور پر محسوس کیا کہ قوم کے سیاسی شب وروز حکمرانوں کے حوالے کر کے اطمینان کے ساتھ نہیں سویا جاسکتا۔ یہ ایک ہمہ گیر بداعتمادی کے دلدلی دور کی خوف ناک شروعات تھیں۔ بدقسمتی سے یہ تمام واقعات ایسے ہی ثابت ہوئے جس نے حکمرانوں پر عدم اعتماد کے رویئے کو باجواز ثابت کیا ۔ اِسی تناظر میں کتاب آئی ایس آئی کے کردار کو کس طرح موضوعِ بحث بناتی ہے اِس کی ایک جھلک دیکھئے:

’’ ۲۰۰۲ کے انتخابات کے بعد ۱۲ ِ مارچ ۲۰۰۳ کوآئی ایس آئی نے خفیہ اادارہ ہونے اور پسِ پردہ مداخلت کا بھی بھرم توڑ دیا ۔اور نومنتخب سینیٹرز کو دعوت دے کر یہ اعلان کردیا گیا کہ آنے والے سالوں میں پارلیمان کی کارروائیوں میں اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر کی پذیرائی کے لئے آئی ایس آئی کا سیاسی سیل فعال رہے گا۔‘‘

ایس ایم ظفر نے اس الزام کو بھی کہیں رد نہیں کیا کہ مسلم لیگ ق کی تشکیل یا اُس کی صفوں میں اضافہ بھی اِسی آئی ایس آئی کی بدولت تھا ۔ اِسی طرح سترہویں آئینی ترمیم اور ایل ایف اوسے نجات کے لئے ایس ایم ظفر کی کوششوں کادرست اندازا بھی کتاب پڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔جس میں جنرل مشرف کے وردی اُتارنے کی وعدہ خلافی کی تفصیلات بھی شامل ہے ۔ ایس ایم ظفر نے اُس کے بعد ہر موقع پر مشرف کو اپنی ملاقاتوں میں وردی اُتارنے پر اصرار جاری رکھا ۔جس کی تفصیلات پڑھ کر خوشگوار حیر ت ہوتی ہے۔ کتاب کے دو اور ابواب خاص طور پر نشاندہی کئے جانے کے قابل ہے۔ایک قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی اور ایک قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے متعلق ہے۔نومسلم ایون (مریم) ریڈلے کے بگرام جیل میں قیدی نمبر ۶۵۰ کے ایک پاکستانی خاتون ہونے کے انکشاف کے بعد ایس ایم ظفر نے کس طرح ذاتی دلچسپی لی اور بآلاخر وہ امریکا جاکر عافیہ صدیقی سے ملاقات کرنے میں کا میاب ہوئے ۔ اُس کی تفصیلات بے حد ولولہ انگیز ہے۔اِسی طرح عبدالقدیر خان میں جنرل مشرف اور اُن کی ٹیم کس غلط طریقے سے بروئے کا ر آئی اور مشرف کس طرح بیرونی دباؤ کے آگے ڈھ پڑے ۔ یہاں تک کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احسان الحق بھی اِس پورے کھیل کا شرم ناک حصہ بنے رہے ،اور بآلاخر ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ قوم کے سامنے ٹیلی ویژن پر آکر معافی مانگیں۔ ایس ایم ظفر کے نزدیک یہ مسئلے کا حل نہیں تھا ۔ اور اُنہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اِس سے منع کر دیا تھا ۔ ایس ایم ظفر کے اس کردارپر جنرل مشرف خاصے ناراض ہوئے اور اُنہوں نے ایک سخت فون بھی اُنہیں کیا ۔ ساتھ ہی چوہدری شجاعت کے ساتھ اُن کی ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کو روک دیا گیا ۔ اور پھر اُنہیں ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک رسواکن منظر کا حصہ بنا دیا گیا۔ یہ تمام تکلیف دہ تفصیلات بھی کتاب کا حصہ ہیں ۔ کتاب میں مشرف کے استعفیٰ کی داستان اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے ابواب بھی لائقِ مطالعہ ہیں۔ یہ کتاب سیاست اور صحافت کے طلباء کے لئے یکساں طور پر ایک حوالے کی کتاب بن سکتی ہے۔

ایس ایم ظفر کی حالیہ واقعات پر تاریخی حوالوں سے مزّین ۸۵۵ صفحات پر محیط یہ کتاب صرف ذاتی مطالعے پر ہی نہیں بلکہ قومی جائزے پر بھی اُکساتی ہے۔ اتنی عمدہ کتاب میں پروف کی غلطیاں درست کرنے اور اکثر جگہوں پر ازسرنو گراف بندی (paragraphing) کی ضرورت ہے ۔تاکہ اتنی معلومات افزا کتاب کا پُر لطف مطالعہ ناہموار نہ ہو۔


متعلقہ خبریں


خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت محمد طاہر - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

مسخرے محمد طاہر - بدھ 22 جون 2016

یہ ہونا تھا! پاکستان کو اس کی تاریخ اور تہذیب سے کاٹنے کے ایک طویل اور مسلسل چلے آتے منصوبے میں ذرائع ابلاغ کا کردار کلیدی ہے۔ اس لیے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ پیمرا حمزہ علی عباسی پر پابندی کو مستقل برقرار رکھ پاتا۔ درحقیقت اس نوع کے اقدامات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اقدام عوامی دباؤ کو وقتی طور پر کافور کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ پیمرا کی طرف سے حمزہ علی عباسی پرعائد وقتی پابندی نے اُس دباؤ کو خاصی حد تک کم کر دیا ، جو عوام میں حمزہ علی عباسی کے خ...

مسخرے

سوال! محمد طاہر - اتوار 19 جون 2016

سوال اُٹھانا جرم نہیں مگر یاوہ گوئی!سوال علم کی کلید ہے۔ انسانی علوم کی تمام گرہیں سوال کی انگلیوں سے کُھلتی ہیں۔ مگر سوال اُٹھانے والے کے لیے ایک میرٹ بھی مقرر ہے۔ سوال جاہل کا نہیں عالم کا ہوتا ہے۔ استاد نے فرمایا کہ سوال پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح ہوتے ہیں اور جواب پہاڑ کے دامنوں کی طرح۔ اور پہاڑوں میں اختلاف اُس کے دامنوں کا اختلا ف ہے اُس کی چوٹیوں کا نہیں ۔ تمام پہاڑوں کی چوٹیاں یکساں ہوتی ہیں۔ سوال بھی انسانی ذہنوں میں چوٹیوں کی طرح یکساں چلے آتے ہیں۔ مگر اس کے الگ الگ زمان...

سوال!