وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مورچہ

اتوار 06 ستمبر 2015 مورچہ

Urdu

زبان کسی بھی تہذیب کا پہلا مورچہ ہے۔اردو محض زبان نہیں۔ اسی کے دم سے برصغیر میں مسلمانوں کے نظریاتی اور ثقافتی وجود کی ترتیب وتہذیب ہوئی۔یہ ہماری قومی خودی کا ایک قلعہ ہی نہیں ہماری اجتماعیت کو باندھے رکھنے کی ایک رسّی بھی ہے۔

تحریک ِ پاکستان میں اردو زبان کے مسئلے کو ایک بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ’’اردو ہندی تنازع‘‘ نے برصغیر کے مسلمانوں میں سب سے پہلے شکوک پیدا کئے تھے۔ یہ بات کسی اور نے نہیں تقسیم کے سب سے بڑے مخالف گاندھی نے کہی تھی کہ ’’یہ زبان صرف مسلمانوں کی ہے کیونکہ یہ قرآن کے حرفوں میں لکھی جاتی ہے۔‘‘اس سے قبل یوپی اور بعض دیگر علاقوں میں ہندی کے فروغ کی تحریک اُٹھائی گئی۔ یہ ۱۸۵۷کے فوراً بعد کا زمانہ تھا۔انگریز حوصلہ افزائی کررہے تھے جب پنجاب میں اردو کے اثرات کم کرنے کے لئے آریا سماج تحریک اُٹھی۔انگریز کی سیاسی حکمتِ عملی کا ایک اثر یہ پڑا کہ خود ہندوؤں کا وہ طبقہ جو اردو سے محبت کرتا تھااچانک ہندی کی حمایت میں کھڑا ہوگیا۔سر سید احمد خان جب اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندو مسلم کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے اور یہ دو قومیں ہیں تو اس کے پیچھے اس لسانی اختلاف کا پس منظر بھی تھا۔

تقسیم سے قبل مسلمانوں کایہ خوف غلط نہیں تھا کہ انگریزوں کی سیاسی حکمتِ عملی کے تحت اور ہندو تعصب میں اُن پر ہندی زبان مسلط کردی جائیگی۔چنانچہ مسلم وفد نے شملہ میں وائسراے ہند ارل آف منٹو(۱۹۰۵ تا ۱۹۱۰)سے ۱۹۰۶ میں ملاقات کرتے ہوئے جب اپنے مطالبات کی فہرست پیش کی تو اس میں سب سے پہلا مطالبہ اردو کے تحفظ کا تھا۔ اردو زبان پر ایک ایسا وقت بھی آیا جب ہندوؤں نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ہندو ادیبوں کی ایسی مہم ۱۹۳۵ میں ناکام ہوئی۔بعد ازاں واردھا اسکیم بھی اِسی تاثر سے آلودہ تھی۔تب بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق خود اگلے مورچے پر کھڑے ہوگئے۔رفتہ رفتہ اردو کا تحفظ مسلمانوں کا ایک قومی مطالبہ بن گیا تھا بآلاخر اِسے مسلم لیگ نے اپنے مطالبات کی فہرست میں بھی شامل کرلیا۔تاریخ کا یہ سفر طے کرتے ہوئے اردو نے آزادمملکت پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان کا درجہ حاصل کیا۔ اپنے تاریخی تناظر میں اردو ایک پاکستانی ذہن کی آئینہ دار زبا ن ہے ۔ اس زبان کی حفاظت پاکستانیت کی حفاظت کے مترادف ہے۔ اردو نے قیام ِ پاکستان کے بعد کسی بھی سرکاری حمایت کے بغیر اپنے دامن کو وسیع کیا اور فروغ پزیر رہی۔ یہ اس زبان کے اندر موجود وسیع تر امکانات کا ایک بیّن ثبوت ہے۔

اردو زبان کو آج بھی ایک طبقہ قومی زبان کے طور پر پھلتا پھولتا دیکھنا نہیں چاہتا۔ اُن کے پاس جدیدیت اور ترقی کے نام پر نہایت دقیانوسی قسم کی کج بحثیں ہیں۔ وہ انگریزی کو ترقی کی زبان اور معلومات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایسا سوچتے ہوئے وہ صرف اردو اور انگریزی کے تعلق کے قیدی بن جاتے ہیں۔ اور زبانوں کی تاریخ ونفسیات میں جھانکنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔اُن کے تمام دلائل کی نہاد میں بات صرف اتنی ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے اور اب ساری دنیا انگریزی بولتی ہے۔ اور بس یہی علم کی زبان ہے۔یہ اوپر سے نیچے تک ایک باطل تصور ہے ۔برسبیلِ تذکرہ!اس طبقے کو ذرا تولا اور ٹٹولا جائے تو یہ تاریخ ونظریۂ پاکستان کے حوالے سے بھی ایک مختلف الرائے جتھہ نظر آتا ہے۔یہ ان میں کوئی حادثاتی اتفاق نہیں ہے۔

پہلے اس عمومی دعوے کاایک جائزہ لے لیجئے کہ ساری دنیا انگریزی بولتی ہے۔سیموئیل پی ہنٹنگٹن کا ایک مضمون ’’تہذیبوں کا تصادم ‘‘ ۱۹۹۳ کے موسمِ گرما میں شائع ہوا۔ بعدا زاں یہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ایک کتابی شکل میں چھپا اورعالمی سطح پر ایک بحث کا عنوان بن گیا ۔ مصنف نے تین عشروں سے زائد عرصے پر محیط یعنی ۱۹۵۸ سے ۱۹۹۲ تک کی دستیاب معلومات کے حیرت انگیز نتائج کو مرتب کرکے اُن تمام تصورات کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے جو’’ انگریزی‘‘زبان کے حوالے سے چند طفیلی دانشوروں میں پائے جاتے ہیں۔مصنف کے مطابق اس عرصے میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، روسی اور جاپانی بولنے والوں کے تناسب میں نمایاں کمی آئی۔ ان تمام زبانوں کی بہ نسبت چینی زبان مینڈارین بولنے والوں میں کمی نسبتاً کم دیکھنے میں آئی۔ اس کے برعکس ملائی، انڈونیشیائی، عربی،بنگالی، اسپینی، پرتگالی اور دیگر زبانیں بولنے والوں کی تعداد بڑھ گئی۔ہنٹنگٹن نے ایک دنیا کو اعدادوشمار سے حیران کیا کہ دنیا میں انگریزی بولنے والوں کی تعداد ۱۹۵۸تک کچھ یوں تھی کہ دس لاکھ افراد کے مجموعے میں انگریزی بولنے والے ۸ء۹ فیصد تھے جو ۱۹۹۲ تک گر کر ۶ء۷ فیصد رہ گئے۔ہنٹنگٹن کے اعداد وشمار کے مطابق انگریزی فرانسیسی، جرمن، پرتگالی اور اسپینی بولنے والوں کی تعداد ۱۹۵۸ میں دنیا کی کل آبادی کا ۱ء۲۴ فیصد تھی جو ۱۹۹۲ میں کم ہوکر ۸ء۲۰ فیصد رہ گئی۔۱۹۹۲ میں انگریزی بولنے والوں کے مقابلے میں تقریباً دُگنی آبادی، یعنی عالمی آبادی کا ۲ء۱۵ فیصد، مینڈارین بولتی تھی۔ان کے علاوہ مزید ۶ء۳ فیصد چینی زبان کی دوسری شکلیں استعمال کرتے تھے۔ہنٹنگٹن یہاں آکر اتنا تو تسلیم کرتا ہے کہ

’’ایک مفہوم میں جو زبان (مراد انگریزی) دنیا کے بانوے (۹۲) فیصد لوگوں کے لئے اجنبی ہو وہ عالمی زبان نہیں ہو سکتی۔‘‘

مصنف آگے جاکر اپنی مرضی کا کلہاڑا چلاتا ہے اور پھر اس صورتِ حال میں بھی انگریزی کی برتری کے ناقابلِ قیاس تصورات باندھتاہے جو مختلف لسانی گروہوں اور ثقافتوں سے منسلک افراد کے تال میل میں بطور رابطہ انگریزی زبان کے استعمال کی صورتوں سے متعلق ہیں۔ یہاں امر واقعہ کے طور پر صورتِ حال یہ ہوچکی ہے کہ مختلف لسانی گروہ یا ثقافتیں ایک دوسرے کے ساتھ متوازی طور پر رہنے کے بجائے ایک دوسرے کے مقابل پنپ رہی ہیں۔دنیا کی بناؤٹ ہی کچھ ایسی ہوگئی ہے کہ یہاں چیزیں حریفانہ اور رقیبانہ روابط میں آباد یا برباد ہوتی ہیں۔ اس صورت میں انگریزی زبان غیر جانبدار رہ کر مختلف لسانی گروہوں اور ثقافتوں کے مابین رابطے کے فرائض بجالانے کے بھی قابل نہیں رہ گئی اور اس کا یہ کردار بتدریج سکڑ رہا ہے۔مثلاً ۱۹۹۲ کے بعد مینڈارین زبان کی طرف متوجہ ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد غیر چینیوں کی بھی ہے۔ پھر معاشی طور پر چین کے مسلسل مائل بہ عروج ہونے کے بعد یہ ایک ایسے ملک کا نمونہ بن چکا ہے جس کے معاشی مقاصد اب اُس کے موجودہ سیاسی کردار کے برتن سے چھلکتے جارہے ہیں ۔ لہذا بہت تیزی سے چین کا سیاسی کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے۔جس سے اُس کی زبان کا اُفق بھی حیرت انگیز طور پر وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔

اس کے برعکس انگریزی زبان کے ساتھ استعمار کی نفرت بھی شامل ہورہی ہے اور بہت سی قوموں میں یہ شعور بیدار ہوا ہے کہ زبانوں کا کوئی ’’غیر نسلی ‘‘مزاج نہیں ہوتا۔یہ اینٹ یا پتھر کی طرح نہیں ہوتی، جو مختلف قوموں کی تعمیرات میں جاکر کسی دیوار سے چپک جائے تو کوئی فرق نہ پڑے۔ زبانیں دراصل ایک نسلی یا تہذیبی مزاج رکھتی ہیں اور کسی قوم کی بڑھتی ہوئی طاقت اُس کے اہلِ زبان میں ایک لسانی جارحیت پیدا کردیتی ہے۔اس کا سب سے شاندار اعتراف بھی ہنٹنگٹن کے ہاں ملتا ہے، وہ جو کچھ کہتا ہے، اس کا لطف لیجئے!
’’دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں مغرب کی طاقت کے بتدریج زوال کے ساتھ انگریزی اور دوسری مغربی زبانوں کا دوسرے معاشروں میں اور مختلف معاشروں کے مابین رابطے کے لئے استعمال بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا جائے گا۔ اگر مستقبل بعید میں کبھی چین مغرب کی جگہ دنیا کی غالب تہذیب بن گیا تو انگریزی کی جگہ مینڈارین عالمی لنگوا فرینکا بن جائے گی۔‘‘

درحقیقت انگریزی کے ایک بالادست زبان کا گیت خلافِ حقائق ہے۔ یہ زبان کی برتری سے کہیں زیادہ چند طفیلیوں کے احساسِ کمتری کا غمازروّیہ ہے۔انگریزی کو علم کی زبان باور کرانا بھی ایک کج فہمی ہے جس میں تصورِعلم سے لے کر منہجِ علم تک اور محورِعلم سے لے کر مقصودِعلم تک ہر چیز میں ایک خلقی خلل ہے، مگر یہاں تحریر کا دامن تنگ پڑتا ہے، سو اِسے کسی اور وقت کے لئے اُٹھا رکھتے ہیں۔ سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ زبان کسی بھی تہذیب کا پہلا مورچہ ہے اور کسی بھی تہذیب کا سپاہی اپنے مورچے کو چھوڑ کر دشمن کے مورچے میں خود اپنے ہی دشمن کا تحفظ کرنے نہیں چلا جاتا۔


متعلقہ خبریں


خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں خطاب کرتے ہیں ،یہ معاملہ صرف بڑی طاقتوں کا ہی نہیں ہے ایران کی رہنما بھی عالمی فورمز پر اظہار خیالات کیلئے فارسی کا ہی سہارا لیتے ہیں، جبکہ عرب لیڈر بالعموم عربی میں ہی خطاب کرتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت محمد طاہر - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار