وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خاتمہ

جمعرات 29 ستمبر 2016 خاتمہ

end-of-india

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔

’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘

بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھارت کے پہلے صدر تھے۔ سومنات کے نوتعمیر شدہ مندر کے افتتاح کے لیے ڈاکٹر راجندر پرشاد راضی ہوئے تو نہرو نے اُنہیں شدید ناراضی کے ساتھ خط لکھاتھاکہ ایک سیکولر ریاست کے سربراہ کو مذہبی معاملات سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہئے۔ چالاک وزیراعظم کو کم ازکم ظاہری حد تک بھارت کے سیکولر چہرے کی پروا تھی۔ زیادہ گہرے تجزیئے میں ہندو ذہن تب زیادہ سمجھدار تھا اور اپنے حیات بخش عوامل کی حفاظت کے طریقہ ٔ کار سے آگاہ بھی تھا۔ بعد میں ہندو ذہنیت نے یہ تکلفات ختم کردیے۔ یہاں تک کہ نچلی ذات کے ہندوؤں کو بھی اپنی وحشت کا نشانا بنانا شروع کردیا۔ اب بھار ت میں ہر جگہ آرایس ایس کا راج ہے۔ وہی آر ایس ایس جن میں اٹل بہار واجپائی، ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور نریندر مودی بھی شامل ہیں۔ نریندر مودی نے گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کرکے انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر اپنے کوائف ثابت کیے تھے۔ اب وہی ہاتھ ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر پاکستان کو دھمکیاں د یتے نظر آتے ہیں۔

خوشونت سنگھ نے کمال کا نکتہ اپنی کتاب میں سپرد قلم کیا تھا۔ بھارت نے 1947ء میں آزادی کے بعد ’’ہندو انتہاپسندی ‘‘ کے خطرے کا ادارک سرے سے کیا ہی نہیں تھا۔ وہ تو بائیں بازو اور کمیونسٹ افکار سے پریشان تھا۔ مگر اُنہیں معلوم ہی نہ تھا کہ برصغیر کے مزاج میں انتہاپسندی کی زمین کس فکر سے زرخیز ہوتی ہے۔ انتہاپسند ہندو ذہنیت کا احیاء سب سے بڑا خطرہ تھا جسے بھارت کو نگل لینا تھا۔ تبدیلی کا مخالف اور ماضی کا پرستار ہندو ذہن دراصل برہمن غلبے کا دوسرا نام ہے۔ اور وہ اپنے راستے کی ہررکاوٹ سے نبرد آزما ہے۔ سکھ، عیسائی، بدھ اور مسلمان ہی کیا، وہ تو اپنے ہی دھرم کی نچلی ذاتوں کو بھی پامال کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ کوئی غور کیوں نہیں کرتا کہ برصغیر کا بہترین قانونی دماغ ڈاکٹر امبیدکر اپنا ہندو مذہب ترک کرنے پر کیوں تیار ہوا؟ ہندو مسلم سفیر کہلانے والے محمد علی جناح کیوں مسلمانوں کے متفقہ قائداعظم اور کانگریس یا ہندوؤں سے مذاکرات تک سے بیزار ہو گئے؟

دنیا میں صرف دوریاستیں ایسی ہیں جہاں انتہاپسندمذہبی نظریات کے باعث ووٹ کے ذریعے جماعتیں کامیابی حاصل کر لیتی ہیں۔ مگر ان کا ذکر دنیا کے پردے پر کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ایک اسرائیل اور دوسری بھارت۔ کسی بھی مسلم ریاست میں کوئی مذہبی جماعت بھی ٹھیٹھ اسلامی نظریئے پر اس طرح ووٹ بٹورکر کامیابی حاصل نہیں کرپاتی جو اسرائیل میں یہودی انتہاپسند نظریات اور بھارت میں ہندوانتہاپسند نظریات کی بناء پر وہاں کی جماعتیں کامیاب ہوتی ہیں۔

کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ آج کا بھارت دراصل کیا ہے؟ بھارت بدترین ہندو قوم پرستی کا ایک انتہاپسند چہرہ مکمل طور پر اختیار کرچکا ہے۔ برطانوی دورِ حکومت میں اس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جنم لیا تھا۔ سوامی دیانند سرسوتی کی رہنمائی میں قائم آریہ سماج تحریک نے ’’ویدوں کی طرف واپسی‘‘ کا نعرہ دیا تھا۔ اسی تحریک سے وابستہ کٹر ہندو پنجابی لالہ لاجپت رائے دراصل بھارتی کانگریس کا بھی رکن تھا۔ گن پتی مسلک کا احیاء کرنے والا بال گنگا دھر تلک دراصل مہاراشٹر سے تعلق رکھتا تھا۔ ان تحریکوں کے بطن سے ہندوؤں کی مسلح تنظیمیں نکلیں۔ جن میں سب سے موثر راشٹریہ سیوک سنگھ یعنی آرایس ایس تھی۔ جس کی بنیاد 1925 میں ناگپور میں رکھی گئی۔ اس کے بانی کیشو بلی رام ہجوار نے ہی ہندو راشٹر یعنی ہندو ریاست کے نظریئے کا پرچار کیا۔ یہ مسلمانوں کا شدید دشمن اور گاندھی کا بھی شدید مخالف تھا۔ کیشو بلی رام، ایم ایس گول واکراور بالاصاحب دیوراس نے مل کر ایک فاشست پروپیگنڈے کے ساتھ آرایس ایس کو مضبوط کیا۔ یہی وہ لوگ تھے جو تقسیم ہند کے وقت بے بس مسلمان بچوں، بوڑھوں، عورتوں اورنہتے لوگوں کو قتل کرنے کے مرتکب تھے۔ یہ جماعت بتدریج بھارت میں مرکزی حیثیت اختیار کرتی چلی گئی۔ اسی آرایس ایس کی بغل بچہ تنظیم بھارتیہ جن سنگھ تھی جسے دنیا اب ’’بھارتیہ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ بھارت میں آج یہی جماعت برسراقتدار ہے۔ ذرا ہندو انتہاپسندی کی بھارت کے ہندو معاشرے میں قبولیت کا اندازا کیجیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی لوک سبھا میں 1984ء میں صرف دونشستیں تھیں جو 1991ء کے انتخابات میں بڑھ کر 117 ہو گئیں۔ اور آج وہ دوسری مرتبہ برسراقتدار ہے۔ ذرا جمہوریت میں بتدریج آنے والی بہتری کے باطل تصور کا بھی مشاہدہ کرلیجیے کہ بھارت کا پہلا وزیراعظم جواہر لال نہرو تھا اور اب اس کا وزیراعظم جمہوریت کی بتدریج بہتری کے ساتھ نریندر مودی ہے۔ خود بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی اسی اُصول پر پرکھ لیجیے! اس نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں اٹل بہاری واجپائی کو وزیراعظم بنا یا۔ مگر دوسری بار اقتدار ملنے پر شاعر واجپائی کے مقابلے میں گجرات کا قصائی اور ہزاروں انسانوں کے خون میں براہ راست ملوث نریندر مودی کو آگے لے کر آیا۔

بھارت میں انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے ہندو جنون نے مزید جماعتوں کی گنجائش کو مسلسل بڑھایا ہے۔ بال ٹھاکرے کی سربراہی میں شیوسیناقائم ہوئی۔ جو ہٹلر کا مداح تھا۔ یہ تحریک ابتدا میں بمبئی سے جنوبی ہندوستانیوں کو نکالنے کی بات کرتی تھی، پھر اس نے مزید آگے بڑھ کر مسلمانوں کو پورے ہندوستان سے نکالنے کا نظریہ اپنا لیا۔ بجرنگ دَل اور وشوہندوپریشد کی تنظیموں کو پہلی جماعتوں سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ یہ انتہا پسند جماعتیں اور جتھے بھارت میں مکمل مسلح ہیں۔ اور مل جل کر بھارت کوایک ہندوراشٹر (ہندوریاست) میں تبدیل کرچکی ہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں آپ اس نوع کے مشاہدے نہیں کرسکتے جو بھارت میں مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں پر ناپسندیدہ کتابوں کو جلایا جاتا ہے۔ ناپسندیدہ فلموں کوسنیما میں چلنے نہیں دیا جاتا۔ مخالف صحافیوں کوکھلے عام مارا پیٹا جاتا ہے۔ اُن کے چہروں پر کالک ملی جاتی ہے۔ تاریخی کتابوں کے متن کو اپنے نظریات میں ڈھالنے کے لیے تحریف آشنا کیا جاتا ہے۔ اور اب عالم یہ ہے کہ بھارت میں لوگ اس وجہ سے ذبح کیے جارہے ہیں کہ وہ ہندوؤں کے عقائد کے برخلاف ایک مختلف خدا کو کیوں مانتے ہیں؟

یہ وہ بھارت ہیں جہاں آج کل پاکستان کے خلاف جنگی جنون پھیلانے کی باتیں ہورہی ہیں اور جسے آرایس ایس کے بطن سے جنمے نریندرمودی تقویت پہنچا رہے ہیں۔ ان تصورات سے یقینا خطے کو بہت سے خطرات لاحق ہیں مگر اس نے خطرے کی پہلی گھنٹی خود بھارت کی دہلیز پر بجادی ہے۔ خود شکنی پر آمادہ بھارت اب اپنی تقسیم کے خطرے سے دوچار ہے۔ خوشونت سنگھ نے اِسے ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ کہا تھا۔ کشمیر ی اسے ’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘کہتے ہیں۔ شکریہ آر ایس ایس، شکریہ نریندرمودی!!!!!


متعلقہ خبریں


خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت محمد طاہر - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

مسخرے محمد طاہر - بدھ 22 جون 2016

یہ ہونا تھا! پاکستان کو اس کی تاریخ اور تہذیب سے کاٹنے کے ایک طویل اور مسلسل چلے آتے منصوبے میں ذرائع ابلاغ کا کردار کلیدی ہے۔ اس لیے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ پیمرا حمزہ علی عباسی پر پابندی کو مستقل برقرار رکھ پاتا۔ درحقیقت اس نوع کے اقدامات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اقدام عوامی دباؤ کو وقتی طور پر کافور کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ پیمرا کی طرف سے حمزہ علی عباسی پرعائد وقتی پابندی نے اُس دباؤ کو خاصی حد تک کم کر دیا ، جو عوام میں حمزہ علی عباسی کے خ...

مسخرے

سوال! محمد طاہر - اتوار 19 جون 2016

سوال اُٹھانا جرم نہیں مگر یاوہ گوئی!سوال علم کی کلید ہے۔ انسانی علوم کی تمام گرہیں سوال کی انگلیوں سے کُھلتی ہیں۔ مگر سوال اُٹھانے والے کے لیے ایک میرٹ بھی مقرر ہے۔ سوال جاہل کا نہیں عالم کا ہوتا ہے۔ استاد نے فرمایا کہ سوال پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح ہوتے ہیں اور جواب پہاڑ کے دامنوں کی طرح۔ اور پہاڑوں میں اختلاف اُس کے دامنوں کا اختلا ف ہے اُس کی چوٹیوں کا نہیں ۔ تمام پہاڑوں کی چوٹیاں یکساں ہوتی ہیں۔ سوال بھی انسانی ذہنوں میں چوٹیوں کی طرح یکساں چلے آتے ہیں۔ مگر اس کے الگ الگ زمان...

سوال!