وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جوتے کا سائز

منگل 13 ستمبر 2016 جوتے کا سائز

robert-walpole

رابرٹ والپول


وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ توڑ دیں گے جو برطانیا میں 1722 سے 1742ء تک اکیس سال تک وزیراعظم رہا۔ اور آج تک اس کا یہ محفوظہ (ریکارڈ) توڑا نہیں جاسکا۔ اگرچہ والپول کے لیے کہا جاتا تھا کہ ’’وہ تو بنا ہی حکمرانی کے لیے تھا‘‘۔ مگر شاید یہ بات اب غلط ہو، ہمارے وزیراعظم نوازشریف پر یہ جملہ زیادہ پھبتا ہے۔ مگر ہم گئے زمانوں کی عمیق یادوں سے گونجتی آوازوں کا خوف کیوں پالیں، والپول کو چھوڑیں۔

ابھی ابھی رخصت ہونے والے ایک اور وزیراعظم کو یاد کریں۔

ڈیوڈ کیمرون نے 11مئی 2010ء کو برطانوی وزیراعظم کا منصب سنبھالا۔ اور اپنی پہلی میعاد8؍مئی 2015ء کو بطریق احسن مکمل کرتے ہوئے دوسری مرتبہ بھی اس منصب سے سرفراز ہوئے۔ ڈیوڈ کیمرون نے اپنی دوسری میعاد کا ابھی ایک سال ہی مکمل کیا تھا کہ برطانیا کو ا س مسئلے کا سامنا کرنا پڑا کہ اُسے یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہیے یا نہیں؟ ڈیوڈ کیمرون یورپی یونین میں اپنے ملک کو رکھنے کے حامی تھے۔ اس سوال پر جب برطانیا میں 23جون 2016ء کو ریفرنڈم کرایا گیا تو نتیجہ ڈیوڈ کیمرون کی رائے کے برخلاف آیا۔ یہ محض ایک مسئلے پر برطانوی عوام کی رائے تھی۔ جسے ڈیوڈ کیمرون پر عدم اعتماد قرار دینے کی ابھی کوئی پھلجڑی بھی کسی نے نہیں چھوڑی تھی۔ مگر اگلے روز یعنی 24 جون کو ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا کہ وہ استعفیٰ دے دیں گے اور کنزویٹو جماعت کے اگلے قائد کے انتخاب کے ساتھ ہی 13؍ جولائی کو اُنہوں نے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ ڈیوڈ کیمرون نے 10ڈاوننگ اسٹریٹ سے جب اپنا سامان نکالا تو اُن کے چہرے پر ملال کا ذرا سا شائبہ تک نہیں تھا۔ ڈیوڈ کیمرون کو برطانوی وزیراعظم کا دفتر اور جمہوریت کی ماں کہلانے والی برطانوی پارلیمنٹ کے قائد ایوان کا منصب چھوڑنے کا ذرا بھی ملال کیوں نہیں تھا؟ اس لیے کہ برطانوی جمہوریت ذمہ داری کے ایک تصور اور جواب دہی کے ایک احساس کے ساتھ عبارت ہے۔ یہاں سب سے بڑے منصب کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اب سب سے زیادہ امیر بننے کی دوڑ میں بھی شامل ہوگئے۔ اسی لیے ڈیوڈ کیمرون برطانوی وزیراعظم کا دفتر چھوڑتے ہی اپنے ایک دوست کے گھر منتقل ہوگئے۔

اُدھر اوباما کو دیکھیں!جس کے ملک کے پیسوں نے تیسری دنیا کے کتنے ہی ملکوں کو بدعنوان بنایا اور جس نے پاکستان کے اندر کسی بااثر آدمی کو اپنے چنگل میں لانے کے لیے دولت سے ڈھیر نہیں کردیا۔ مگر خود اُس کا اپنا صدر کیا رویہ رکھتا ہے۔ دنیا پر حکمران ملک کا صدر اب

قصرابیض(وائٹ ہاؤس) چھوڑنے والا ہے۔ اور ان دنوں اپنے لیے کرائے کے مکان کی تلاش میں ہے۔ دنیا کے سب سے طاقت ور صدر نے اب تک نو مکان محض اسے لئے مسترد کردیے کیونکہ اُس کاکرایہ اُن کے اخراجات کی حد سے باہر تھا۔ آدمی حیران رہ جاتا ہے کیا واقعی یہ لوگ دنیا کے سب سے طاقت ور مراکز اور دولت کے سب سے زیادہ بہاؤ کے اختیارات برتنے کے بعد اپنی نجی زندگی میں واپس اس قدرآسانی سے جاسکتے ہیں؟

جینیفر براؤن نے 10ڈاوننگ اسٹریٹ کے باسیوں کی زندگی اور دلچسپ واقعات کا ایک زبردست احوال لکھا ہے۔ وہ اس سوال کو جواب دیتا ہے کہ ’’وزیراعظم کسی چیتے کی مانند ہوتا ہے جو اپنی زمین کبھی نہیں چھوڑتا۔ وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے سے پہلے، جیسا ہو، اس دوران میں بھی ویسا ہی رہتا ہے۔ اور پھر جب اُس کے اقتدار کا عرصہ ختم ہوتا ہے تو اُسے اپنے پرانے طرزِ زندگی کو اپنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ (اکا دکا مثالوں کو چھوڑ کر)۔ اس کی وجہ پھر وہی جمہوریت کا کردار ہے کہ جو اسے یہ سمجھ لینے میں آسانی مہیا کرتا ہے کہ اُس کے جوتے کا سائز اُس کے 10۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں قیام کے دوران میں ذرا سا بھی تبدیل نہیں ہوا۔ ‘‘ہمارے وزرائے اعظم کا ماجرا مختلف ہے۔ اُن کے جوتوں، پیٹوں، بیٹوں اور چہیتوں کا سائز ہی نہی اُن سب کے جیبوں کا وزن تک تبدیل ہوجاتا ہے۔ مگروہ ہم سے ایسی عزت اور تکریم کا مطالبہ کرتے ہیں جو جمہوریت نے ڈیوڈ کیمرون کو دی ہے۔ وہ جمہوریت کو اور نہ ہی ڈیوڈ کیمرون کی مثالوں کو اپناتے ہیں مگر اُن سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ اِسے جمہوریت کے خلاف سازش باور کرادیتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف تو پاناما لیکس کے معاملے میں حساس ترین اور ٹھوس الزامات کے باوجود خود اپنے وعدے کے مطابق بھی جوابدہ ہونے کو تیار نہیں، چہ جائیکہ وہ ڈیوڈ کیمرون کی طرح کسی اخلاقی احساس کے ساتھ رخصتی کے دروازے پر نگاہِ غلط انداز بھی ڈالنا گوارا کریں۔ پاکستان میں ایسی جذباتی آسودگیاں کبھی میسر نہیں آتیں جو مغرب کی کارپوریٹ جمہوریت اپنی مثالوں کے ساتھ گاہے مہیا کرتی ہیں تاکہ مغرب کے عوام کا اس نظام پر سے اعتماد نہ اُٹھے۔ مگر پاکستان کے تو زمین وآسمان ہی الگ ہیں۔ یہاں ایسی مثالوں کو قائم کیے بغیر ہی جمہوریت پر ایمان کو اس طرح مستحکم کیا جارہا ہے کہ بس ذرا سا اس پر سے اعتماد ڈگمگایا تو آپ کی عاقبت خراب ہوئی۔

اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے سیاست دان جب وزرائے اعظم کی کینچلی بدلتے ہیں تو اُن کے خریدے گئے جوتے، بدلے گئے لباس اور ہاتھ میں تبدیل ہوتی گھڑیاں موضوع بحث بنتی ہیں، جبکہ اوباما اور ڈیوڈ کیمرون کے علاوہ دیگر وزرائے اعظم کی جو سرگرمیاں سامنے آتی ہیں وہ کتابوں کی خریداری، بوڑھے اور بچوں کے ساتھ گزارا گیا وقت، بلٹ ٹرین میں اپنے ٹکٹ سے نشست کے بغیر سواری، اکثر پروٹوکول سے عاری سفر اور سماجی مسائل پر غوروفکر جیسے موضوعات ہوتے ہیں۔ اس سے ذہنوں کا فرق ہی واضح نہیں ہوتا بلکہ ترقی کے تناظر بھی نکلتے ہیں۔ پہلی قسم کے وزرائے اعظم اپنے ملک کی ترقی تارکول کی سڑکوں کی لمبائی چوڑائی اور لپائی پُتائی میں دُھونڈتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کے سربراہانی یہی ترقی تعلیم و صحت کے متعلق مہیا کی گئی سہولتوں میں دیکھتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگوں کی بَک بَک میں دولت، خزانہ، اتنے ارب اور اتنے کھرب سے زبانیں الجھی رہتی ہیں۔ جبکہ دوسرے کی لَپ جَھپ میں انسانی وسائل اور ذرائع کی ترقی کا گیان جھلکتا ہے۔ فرق تو صاف ظاہر ہے، پہلی قسم کے سربراہان انسانوں پر سواری کااپنا محبوب مشغلہ بنائے رکھتے ہیں۔ اور دوسری قسم کے سربراہاں اپنے منصب چھوڑتے ہوئے بسا اوقات خوشی محسوس کرتے ہیں۔ لارڈ گرینول بھی اُن میں سے ایک تھا۔ اُس نے 1807ء میں برطانوی وزیراعظم کا منصب چھوڑتے ہوئے اپنے بھائی لارڈ بکنگھم کو لکھا کہ

’’میں اب پھر سے ایک آزاد انسان ہوں۔ اور اپنی اس نجات سے میں جتنی خوشی محسوس کررہا ہوں سوائے تمہارے میں اور لوگوں سے اس کا اظہار بھی نہیں کرسکتا۔ ‘‘

ہمارے ’’لارڈ گرینول‘‘ کا بھائی جانتا ہے کہ پاناما لیکس کے باوجود بھی اُس کا بھائی ایسی ’’نجات‘‘ کی خوشی پانے کا آرزومند نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ہمارے ’’لارڈ گرینول‘‘ بھی جانتے ہیں کہ اُن کے بھائی ایسی تحریر سے کتنی خوشی محسوس کریں گے۔ پھر مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارا ’’لارڈ گرینول‘‘اپنے جوتے کا سائز بھی بڑھا چکا ہے۔ مناصب جن کے جوتے کا سائز بڑھادیتے ہوں تو وہ متوازی طور پر اُن کے دماغ کا سائز گھٹا بھی دیتے ہیں۔ اور کردار کاتو کوئی سائز ہی نہیں رہنے دیتے۔


متعلقہ خبریں


خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت محمد طاہر - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

مسخرے محمد طاہر - بدھ 22 جون 2016

یہ ہونا تھا! پاکستان کو اس کی تاریخ اور تہذیب سے کاٹنے کے ایک طویل اور مسلسل چلے آتے منصوبے میں ذرائع ابلاغ کا کردار کلیدی ہے۔ اس لیے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ پیمرا حمزہ علی عباسی پر پابندی کو مستقل برقرار رکھ پاتا۔ درحقیقت اس نوع کے اقدامات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اقدام عوامی دباؤ کو وقتی طور پر کافور کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ پیمرا کی طرف سے حمزہ علی عباسی پرعائد وقتی پابندی نے اُس دباؤ کو خاصی حد تک کم کر دیا ، جو عوام میں حمزہ علی عباسی کے خ...

مسخرے

سوال! محمد طاہر - اتوار 19 جون 2016

سوال اُٹھانا جرم نہیں مگر یاوہ گوئی!سوال علم کی کلید ہے۔ انسانی علوم کی تمام گرہیں سوال کی انگلیوں سے کُھلتی ہیں۔ مگر سوال اُٹھانے والے کے لیے ایک میرٹ بھی مقرر ہے۔ سوال جاہل کا نہیں عالم کا ہوتا ہے۔ استاد نے فرمایا کہ سوال پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح ہوتے ہیں اور جواب پہاڑ کے دامنوں کی طرح۔ اور پہاڑوں میں اختلاف اُس کے دامنوں کا اختلا ف ہے اُس کی چوٹیوں کا نہیں ۔ تمام پہاڑوں کی چوٹیاں یکساں ہوتی ہیں۔ سوال بھی انسانی ذہنوں میں چوٹیوں کی طرح یکساں چلے آتے ہیں۔ مگر اس کے الگ الگ زمان...

سوال!

موٹے پیٹوں کا لشکر محمد طاہر - منگل 03 مئی 2016

نوازشریف سے گورنر ہاؤس پنجاب میں ملنے والے صحافیوں اور اینکرز کے رشحات ہائے قلم اور تڑاق پڑاق زبانوں سے جو کچھ برآمد ہوا ہے ، اس کا جائزہ لیا جائے تو بآسانی اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں حکمران برباد کیوں ہوتے ہیں؟ اور وہ کیوں امید ِ لطف پہ ایوان کجکلاہ میں بیٹھی مخلوق پر انحصار کرتے ہیں؟ کیوں اُنہیں مثال سائل مبر م نشستہ راہ دکھائی دینے والے سازگارہیں؟ جن کی آنکھوں میں صدیوں کی حرص جھانکتی اور جن کے معدوں میں نسلوں کی بھوک گڑگڑاتی ہے، وہی مخلوقِ گدا اُن کے لیے نوائے ...

موٹے پیٹوں کا لشکر