وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

دائرے

جمعه 02 ستمبر 2016 دائرے

demo-against-corruption

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔ جسے نسیان کی نذر کردیا جائے یا وزیراطلاعات کے پرویز رشید کے ہذیان میں نظرانداز کردیا جائے۔

حکومت اور حزب اختلاف اس پر اپنا ’’پینگ پنگ ‘‘ کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاناما لیکس پر ضوابط کار کی تشکیل کے لیے حکومت اور حزب اختلاف میں ’’اجلاس اجلاس‘‘ کے کھیل کے بعد اب دونوں اپنے اپنے مسودہ قوانین کی بحث میں وقت ضائع کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت ایک ’’انکوئرای کمیشن ایکٹ ‘‘ کو منظور کرانے کے بعد اب یہ باور کرارہی ہے کہ ملک میں شفافیت لانے کے لیے کبھی ایسا کوئی قانون سوچا تک نہیں گیا جو اُس نے منظور بھی کرا دیا۔ اور اب ملک میں یہ معجزہ ہونے والا ہے کہ گھوڑا کھا س کھائے بغیر زندگی جیے گا۔ یوں لگتا ہے کہ وقت گزاری کے اس مشغلے میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک گہری مفاہمت ہوئی ہے جو اتفاق نہ کرنے پر اتفاق کرنے کی ہے۔ تاکہ دونوں لڑ کر مملکت کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہوئے احتساب کے اُس دباؤ کو تحلیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو کچھ خاکی پوشوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ باہمی لڑائی کا یہ طوفان احتساب کے دباؤ کو کم اور خاکی پوشوں کی میعادِ ملازمت کے وقتِ اختتام کو قریب لانے میں زیادہ معاونت کررہا ہے۔

پاکستان کبھی بھی حقیقی ترقی کا سفر شروع نہیں کرسکتا اگر یہاں انصاف اور جوابدہی کا نظام مستحکم نہ کیا گیا۔ عربی محاورہ یہ ہے کہ مچھلی ہمیشہ سر کی جانب سے سڑتی ہے۔ سماجی علوم کے وفورِشعور سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں خیر ہمیشہ نیچے سے اوپر جاتا ہے۔ مگر شر ہمیشہ اوپر سے نیچے آتا ہے۔ ملک کی اشرافیہ نے پورے سماج کو بدعنوانی کی آکاس بیل میں لپیٹ لیا ہے۔ اور بدعنوانی کی یہ طینیت نیچے تک اپنی چَھب دکھلانے لگی ہے۔ ملک میں کوئی شعبہ اور اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں بدعنوانیوں نے گھر نہ کر لیا ہو۔ دیانت داری کی اِکا دُ کا آوازیں اب اجنبی سی لگتی ہے۔ ایسے عَالم میں اگر ملک کے اندر احتساب کے بلاامتیاز اور ہمہ گیر عمل کو فروغ نہ دیا گیا تو پاکستان کو بیرونی قوتوں سے زیادہ نقصان ان اندرونی قوتوں سے پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

دسترخوانی قبیلے اور موٹے پیٹوں کے لشکر نے بدقسمتی سے پاکستان میں دانش کا ایک ایسا طوفان اُٹھا یا ہے جو یہ باور کرارہا ہے کہ جمہوریت میں اہمیت تسلسل کی ہے اور تسلسل کے ساتھ ہونے والے انتخابات میں معاشرہ خود بخود بدعنوانوں کو پرچی کی طاقت سے نکال باہر کرتا ہے۔ یہ ایک ناقص تصور ہے، جو خود جمہوریت کے اپنے بنیادی تصور سے یا تو لاعلمی پر مبنی ہے یا پھر فکری بددیانتی کا نتیجہ ہے۔ جمہوریت دراصل احتساب کے ایک نظام کے ساتھ وابستہ تصور ہے جس میں انتخاب کے بعد منتخب افراد کی نگرانی مختلف آئینی اداروں کے ذریعے ہوتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں یہ تما م آئینی ادارے بھی بدعنوانوں کے تحفظ کا آلہ کار بن چکے ہیں۔ بدعنوانوں کے محاسبے کا سب سے بڑا ادارہ ایک ایسے سربراہ کی نگرانی میں ہے جس پر الزامات کی ایک پوری فہرست زیر گردش ہے۔ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ روز ایک مقدمے کی سماعت میں اس پر اظہار ناراضی کیا ہے کہ ڈی جی نیب سندھ بڑوں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے چھوٹوں کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ یہ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کی روش ہے۔ایسے ہی ماحول کے متعلق ایک پیغمبرنے اپنی امت کو بتایا تھا کہ وہ چیونٹیوں کو تو چھانتی ہے مگر سالم اونٹ نگل لیتی ہے۔

پاکستانی جمہوریت دراصل اشرافیہ کی جمہوریت ہے۔ جس میں ریاستی ادارے اشرافیہ کی ماتحتی اور اطاعت گزاری میں مصروف رہتے ہیں۔ اس نوع کی جمہوریت کے متعلق دستر خوانی قبیلہ مُصر ہے کہ اس کی تکریم کی جائے۔ اور اس کی تقدیس کے گیت گائے جائیں۔یہ وہ جمہوریت ہے جو سرمائے کے منتر سے حرکت کرتی ہے۔ اور اس کی تکریم و تقدیس کے لیے لکھے گیے الفاظ اور بولے گیے بول سب کے سب سرمائے سے جنبش کرتے ہیں۔ ایسی جمہوریت کو بچانے کی جدوجہد بجائے خود عام لوگوں کے استحصال کی حمایت ہے۔ یاد رہے کہ جمہوریت کی اس شکل پر گفتگو کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسانی شعور سے بغاوت کے مرتکب اور انسانی تکریم کے مخالف آمرانہ نظام کی کوئی گنجائش نکالی جائے جیسا کہ دستر خوانی قبیلہ عام طور پر اس نوع کی حقیقی بحث کو آمریت سے تقابل میں بدلنے کی مکارانہ کوشش کرتا ہے۔ کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے بھارت کی مثال لے لیتے ہیں۔ جہاں جمہوریت ایک تسلسل کے ساتھ اپنے قیام کے اول روز سے جاری ہے۔ بھارتی جمہوریت جرائم اور بے پناہ سرمائے کے اکٹھ سے وجود میں آنے والا ایک نظام ہے۔ بھارت کے آخری انتخابات کے متعلق بھارتی تھنک ٹینک ’’ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ اس میں حصہ لینے والے تیس فیصدا میدوار جرائم پیشہ تھے۔ جن پر باقاعدہ قتل ، اقدام قتل، زیادتی ،بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کے مقدمات قائم ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں انتخابات میں حصہ لینے والے 150 امیدواروں میں سے 23 امیدواروں کے خلاف تو باقاعدہ جرائم کے مقدمات قائم تھے۔ بھارت میں بی جے پی نے جس انتخابی اتحاد یعنی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے ماتحت انتخابات میں حصہ لیا ،اُ س کے 430 امیدواروں میں سے 189 کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج ہیں۔ جن میں سے اکثر کامیاب بھی ہوگیے۔ یہ پہلو اس اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ پاکستان یا بھارت میں مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کا ہر نیے انتخابات میں زیادہ بڑی تعداد میں سامنے آنے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔

سرمائے کے تناظر میں اس جمہوریت کا جائزہ لیا جائے تو بھارتی الیکشن کمیشن نے فی امیدوار 70لاکھ روپے اخراجات کی منظوری دی تھی۔ جو بی جے پی کے صرف 543 امیدواروں کے لیے تین ارب اسی کروڑ روپے بنتے تھے۔ مگر بی جے پی نے اس انتخابی مہم میں پندرہ ہزار کروڑ روپے خرچے تھے۔ بی جے پی نے صرف پرنٹ میڈیا میں ایک سو اخبارات اور جرائد میں سے صرف 55 اخبارات وجرائد کو 650 کروڑ روپے کے اشتہارات دیئے تھے۔ اِسے بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی طرف سے عوام پر کاپوریٹ بمباری کہا گیا تھا۔ پاکستان کا معاملہ اس سے قطعاً مختلف نہیں۔ اگلی کئی صدیوں تک بھی انتخابی عمل کو ایک تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تب بھی اس میں کوئی جوہری بدلاؤ نہیں آسکے گا۔ یہ ایک طے شدہ امر ہے۔ اس میں توانائیاں ضائع کرنے والے افراد اورجماعتیں اپنی بے بسی کی تاریخ میں اضافہ کررہی ہیں۔ ایسی جمہوریت سے ہمیں ہمیشہ صدر کی صورت میں آصف زرداری ، ممنون حسین اور وزرائے اعظم کی صورت میں راجہ پرویز اشرف اور گیلانی یا نوازشریف ہی ملیں گے۔ جس کے نتیجے میں پاناما لیکس ایسے بھدنامے پینے پڑیں گے۔ اور احتساب کے لیے قانون سازی کے نام پرسیاست دانوں کی باہمی تکرار کے ڈرامے برداشت کرنے پڑیں گے اور پرویز رشید کی گفتگو سننے کے جاں گسل لمحات گزارنے پڑیں گے۔ پھر بھی صدیاں بیت جائیں گی کوئی بدلاؤ نہیں آئے گا۔ یہ دائروں کا سفر ہے جس میں دائرے کبھی ختم نہیں ہوتے، بس مسافر مرجاتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ ایسے ہی رہے گا؟ تاریخ کی بے رحم قوتیں جب بروئے کار آتی ہے تو وہ افراد ہی نہیں دائرے بھی توڑ دیتی ہے۔ پاکستان اپنے لمحہ برحق کے سنگم پر کھڑا ہے۔


متعلقہ خبریں


خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت محمد طاہر - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

مسخرے محمد طاہر - بدھ 22 جون 2016

یہ ہونا تھا! پاکستان کو اس کی تاریخ اور تہذیب سے کاٹنے کے ایک طویل اور مسلسل چلے آتے منصوبے میں ذرائع ابلاغ کا کردار کلیدی ہے۔ اس لیے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ پیمرا حمزہ علی عباسی پر پابندی کو مستقل برقرار رکھ پاتا۔ درحقیقت اس نوع کے اقدامات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اقدام عوامی دباؤ کو وقتی طور پر کافور کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ پیمرا کی طرف سے حمزہ علی عباسی پرعائد وقتی پابندی نے اُس دباؤ کو خاصی حد تک کم کر دیا ، جو عوام میں حمزہ علی عباسی کے خ...

مسخرے

سوال! محمد طاہر - اتوار 19 جون 2016

سوال اُٹھانا جرم نہیں مگر یاوہ گوئی!سوال علم کی کلید ہے۔ انسانی علوم کی تمام گرہیں سوال کی انگلیوں سے کُھلتی ہیں۔ مگر سوال اُٹھانے والے کے لیے ایک میرٹ بھی مقرر ہے۔ سوال جاہل کا نہیں عالم کا ہوتا ہے۔ استاد نے فرمایا کہ سوال پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح ہوتے ہیں اور جواب پہاڑ کے دامنوں کی طرح۔ اور پہاڑوں میں اختلاف اُس کے دامنوں کا اختلا ف ہے اُس کی چوٹیوں کا نہیں ۔ تمام پہاڑوں کی چوٹیاں یکساں ہوتی ہیں۔ سوال بھی انسانی ذہنوں میں چوٹیوں کی طرح یکساں چلے آتے ہیں۔ مگر اس کے الگ الگ زمان...

سوال!