وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

پیر 25 جولائی 2016 ترکی کی قبل از وقت بغاوت

turkey-coup

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔

مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است

(ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے)

پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جسے ترکی کی حکومت سے اس لیے کو ئی محبت نہیں کیونکہ وہ اسلامی شناخت کی حامل جماعت کی حکومت ہے۔ پھر چاہے وہ منتخب ہی کیوں نہ ہو؟ مگر وہ نوازشریف کی حکومت سے بہت محبت رکھتے ہیں۔ اس لیے اُنہیں بغاوت کی ناکامی پر جمہوریت کی کامیابی کے گیت گانے پڑے۔ اُن کے الفاظ میں مگر یہ احتیاط پنہاں تھی کہ مبادا جمہوریت کا ڈھول پیٹتے پیٹتے کہیں اسلامی سُر نہ نکل پڑیں۔ ایک دوسرا طبقہ وہ بھی تھا جو نوازشریف حکومت کا شدید مخالف ہے اور وہ زبان سے اُس کے خاتمے کے غیر جمہوری اُسلوب کو اختیار کرنے کا اعلان تو کرنے کو تیار نہیں مگر دل میں اس خواہش کو پال پوس کر بیٹھا ہے۔ اس ضمن میں اُن کے دلائل نواز حکومت کے خلاف کالموں کی زینت بنتے رہتے ہیں جس میں بنیادی حقوق کا ذرا سا احساس اور آئینی تقاضوں کا کوئی ادنیٰ گمان بھی نہیں گزرتا۔ مگر اُن میں اچانک ترکی کے اندر اردوان حکومت کی طرف سے ناکام بغاوت کے بعد باغیوں کے حامیوں کے لیے بنیادی حقوق کا خیال اُٹھا ہے۔یہ طبقات مغربی ذرائع ابلاغ اور گولن کے متاثرہ افراد کے زیراثر ذرائع ابلاغ کے پیش کردہ غلط اعدادوشمار کی گوٹاکناری کرکے باغیوں کے حق میں ایک فضا استوار کرنے میں لگے ہیں، اور اردوان کو ایک ظالمانہ ( اور وہ بھی بنگلہ دیشی حکومت کی مانند )اور جابرانہ طرزِ حکومت شعار کرنے پر مطعون کررہے ہیں۔شاہ جی کب یاد آئے! حرم پاک میں خون بہانا جائز نہیں۔ مگر ایک واقعہ پیش آیا، ایک بدو نے سلطان عبدالعزیز ابن سعود کو بیت اللہ میں خنجر مار کر قتل کرنا چاہا۔محافظ دستے نے آڑے آکر جان بچائی۔ برصغیر میں واقعے کا چرچا ہواتو لوگوں نے قرآن پاک سے نور پانے والے برصغیر کے بے مثل خطیب عطاء اللہ شاہ بخاری کو شرمندہ کرنا چاہا۔

شاہ جی!کیا حرم میں گولی چلانا جائز ہے؟

شاہ جی نے مختصر جواب دیا: نہیں بھائی خنجر چلانا جائز ہے۔

برصغیر کی یہ ذہنیت آج بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ عام آدمی تو دور کی بات ہے ، انتہائی قابل قدر دانشور بھی واقعات کو پورے بہاؤ اور تاریخ کے جدلیاتی جبر میں دیکھنے کے بجائے بس ایک جزوی حصے کو لے کر مکمل نتائج پیدا کرنے کی علت میں مبتلا ہیں۔ان مختلف ذہنوں اور طبقوں کی بھانت بھانت کی بولیوں کو سنا جائے تو لگتا ہے کہ ترکی میں خود اُس بغاوت کو سمجھنے والے اتنے موجود نہیں جتنے یہ علامہ فہامہ ہیں۔ چند دن ترکی میں گزارنے والے اور بغاوت کے روح رواں کے پاکستانی حامیوں کے ساتھ سفر کی لذتیں کشید کرنے والے اب یہ سمجھا رہے ہیں کہ ترکی میں فوجی بغاوت کی حقیقت کیا تھی اور کیانہیں اور فتح اللہ گولن کودراصل سمجھا غلط گیا۔ ان قابل رحم طبقات کو اُن کے حال پر چھوڑتے ہوئے ترکی کو پاکستان کے تناظر سے مکمل نکال کر اُس کے اپنے داخلی حالات سے جڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

جو تجزیہ کار اور قلم کار ترکی کی حکومت کے بعدازبغاوت اقدامات پر تبصرے کررہے ہیں ، وہ شاید معتدل تو کہلالیں مگر تیزفہم اور اور حقیقت پسند کبھی نہ کہلا سکیں گے

اگر کسی کو شک ہے تو وہ دور کرلیں ! ترکی بغاوت مکمل طور پر امریکا کی حمایت یافتہ تھی۔ وہ لوگ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ بغاوت کے فوری بعدرجب طیب اردوان کے پاس مختلف شعبوں کے لوگوں کی فہرستیں اور معلومات کیسے میسر آگئیں۔ اس قدر قلیل مدت میں تو خفیہ اداروں سے بھی معلومات اکٹھی نہیں کی جاسکتیں۔ اس طرز فکر کے حامی دراصل ترکی کے حالات کو بغاوت کے بعد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ وہ بغاوت سے پہلے کے حالات سے خود کو مربوط نہیں کر پارہے۔ یعنی اُنہوں نے حرم میں گولی چلنے کا قصہ یاد رکھا ہے، قبل ازیں خنجر چلنے کا واقعہ طاقِ نسیاں پر دھر دیاہے۔ کیوں نہ شوقِ خنجر آزمائی کی پوری حقیقت کو جان لیں، جسے دانستہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں نظر انداز کیا جارہا ہے۔

ترکی میں فوجی بغاوت دراصل جولائی میں نہیں بلکہ ماہِ اگست میں ہونی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب یونانی حکومت ایک نئے بحران میں داخل ہونے والی تھی۔ ترکی میں بغاوت اور یونان میں بحران کا مقصد پورے بلقان کو ایک نئے خطرناک دور کی طرف دھکیلنا تھا۔ جس کے تحت یہاں امریکا کی حاشیہ بردار حکومتوں کو قائم کرکے اس پورے خطے کو امریکا کے زیر قابو یورپ کی حفاظت کے لیے روس کے خلاف ایک آہنی پردے میں تبدیل کرنا تھا۔(یہاں ایک بات حاشیہ خیال میں محفوظ رکھنے کے لیے ہے کہ روس اور امریکا میں سرد جنگ ہی شروع نہیں ہو چکی۔ بلکہ مغربی ماہرین کے مطابق ایک تیسری عالمگیر جنگ بھی جاری ہے۔ جس کے مظاہر گزشتہ دو عالمگیر جنگوں سے ذرا مختلف ہیں۔)الغرض ترکی میں بغاوت کوئی ہوائی منصوبہ نہیں تھا۔ بلکہ اس سے پوری طرح روس، ایران اور شام واقف تھے۔

روس نے اس بغاوت کے پس پردہ محرکات کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد ترکی سے حالیہ دنوں میں ہونے والی کشیدگی کو نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا اور نہایت خاموشی سے اپنا ایک نمائندہ ’’Aleksandar Dugin‘‘ کو ترکی روانہ کیا۔ پیوٹن کے اس قابل اعتبار نمائندے کے ترکی میں خفیہ دورے سے صرف تہران اور دمشق ہی بے خبر نہیں تھے بلکہ خود ماسکو بھی بے خبر تھا۔الیکسنڈر ڈیوگِن کے پاس ترک صدر کو آگاہ کرنے کے لیے بغاوت کا منصوبہ ہی نہیں تھا بلکہ اُن باغیوں کی فہرست بھی تھی جو بغاوت کی حمایت کررہے تھے۔ دراصل امریکا کو یہ بغاوت اس لئے ایک ماہ قبل بعجلت شروع کرانی پڑی ، کیونکہ روس کی طرف سے مہیا کردہ فہرست کو جب ترک حکومت نے جانچنا شروع کیا تو حقائق نے تصدیق کی کہ واقعتا ترکی میں بغاوت کا ایک امریکی ساختہ منصوبہ زیر گردش ہے۔ ترکی کی طرف سے بغاوت کے کھلاڑیوں کو تیزی سے دریافت کرنے کے عمل نے اس بغاوت کو ایک ماہ قبل جولائی میں ہی انجام دینے پر امریکا اور اُس کے حامیوں کو مجبور کردیا۔ اردوان ہی نہیں شاید پیوٹن بھی یہ نہیں جانتے تھے کہ قبل از وقت باغیوں کو کچلے جانے کے خوف سے یہ منصوبہ ایک ماہ قبل بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔

قبل ازوقت بغاوت کی پہلی علامت ہی یہ تھی کہ سی این این کی نمائندہ کرسٹینا امان پور بغاوت سے دو دن قبل ترکی پہنچ گئی تھیں ۔اور اُس نے انقرہ اور استنبول میں آکر خود غیر معمولی انتظامات قائم کیے تھے، جو کسی بھی ذی ہوش شخص کو چونکا سکتے تھے۔ یہاں ایک لمحے کو ٹہر کر اپنے ذہنوں میں سی این این اور امریکی حکومت کے مابین اُس رشتے کو ٹٹول لیجئے جو پوری دنیا میں امریکی مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ ادارہ پینٹاگون کے مقاصد سے خود کو وابستہ رکھ کر سرانجام دیتا ہے۔

عراق پر پہلے امریکی حملے نے امریکا اور سی این این کے اس رشتے کو پوری طرح بے نقاب کردیا تھا۔ ترکی میں قبل ازوقت بغاوت کے لیے کرسٹینا امان پور دودن قبل ترکی بھیجی گئی تھیں۔ یہی ماجرا عراق جنگ میں بھی پیش آیا تھا۔ عراق پر فضائی بمباری سے تین دن قبل سی این این کے تل ابیب کے لیے نامہ نگار کو بغداد بھیج دیا گیا تھا، جہاں پہلے سے دو نامہ نگار جان ہولیمن اور برنارڈ شا اُن کا انتظار کررہے تھے۔ سی این این نے بغداد پر 17جنوری 1991 کے حملوں کی وقائع نگاری ان تینوں نامہ نگاروں کی مدد سے صحافیانہ انداز میں نہیں بلکہ عسکری مقاصد کے تحت پینٹاگون کی مرضی سے کی۔ جس کااعتراف امریکی صدر بش نے اس طرح کیا تھا کہ ہمیں سی آئی اے سے زیادہ بہتر معلومات سی این این سے مل رہی تھیں۔سی آئی اے نے خود یہ تسلیم کیا تھا کہ سی این این اور پینٹاگون کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور تعاون تھا۔یہاں تک کہ امریکی حکومت نے جنگ کے بعد جان ہولیمن اور برنارڈ شا کو پینٹاگون میں اعلیٰ مناصب بھی دے دیئے۔ کرسٹینا امان پور بھی امریکا کے اسی نوع کے مقاصد کے تحت دودن قبل ترکی میں بھیجی گئی تھیں۔

ترک بغاوت کے اسباب اور محرکات کو تاریخی تناظر میں جانچے اور پرکھے بغیر اور بغاوت سے قبل ترکی میں جو پس پردہ حالات رونما ہوئے ،اُسے پوری طرح تولے اور ٹٹولے بغیر جو تجزیہ کار اور قلم کار ترکی کی حکومت کے بعدازبغاوت اقدامات پر تبصرے کررہے ہیں ، وہ شاید معتدل تو کہلالیں مگر تیزفہم اور اور حقیقت پسند کبھی نہ کہلا سکیں گے۔ ترکی میں قبل ازبغاوت حالات کے کچھ رخ ابھی باقی ہیں جسے اگلی تحریر میں زیر بحث لائیں گے۔

turkey-coup2


متعلقہ خبریں


خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

امریکا مجھے بے دخل نہیں کرے گا! فتح اللہ گولن کا امریکا پر اظہاراعتماد وجود - پیر 22 اگست 2016

ترکی میں فوج کی ناکام بغاوت کے بعد اب یہ بات ہرگزرتے دن پایہ ثبوت کو پہنچ رہی ہے کہ اس کی پشت پر فتح اللہ گولن اور امریکا کی مشترکہ منصوبہ بندی موجود تھی۔ اس تاثر کو مضبوط کرنے میں خود فتح اللہ گولن کے بیانات نے بھی خاصا کردار ادا کیا ہے۔ اب فتح اللہ گولن نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا اُنہیں ہرگز ترکی کے حوالے نہیں کرے گا۔اُن کے اپنے الفاظ اس ضمن میں یہ تھے کہ "امریکا ترکی کی جانب سے باضابطہ درخواست کے باوجود اُنہیں بے دخل نہیں کرے گ...

امریکا مجھے بے دخل نہیں کرے گا! فتح اللہ گولن کا امریکا پر اظہاراعتماد

ترکی میں ناکام انقلاب : امریکا اور روس میں براہ راست ٹکراؤ کے امکانات محمد انیس الرحمٰن - منگل 16 اگست 2016

ترکی کے صدر طیب اردگان نے گزشتہ دنوں امریکی سینٹرل کمانڈ کے چیف جنرل جوزف ووٹیل پر ناکام بغاوت میں ملوث افراد کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو اپنی اوقات میں رہنا چاہئے۔ اس سے پہلے جنرل جوزف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی میں بغاوت میں ملوث سینکڑوں ترک فوجی افسروں کی گرفتاری سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ترکی میں بغاوت کی ناکامی کے بعد اسے امریکا کی جانب سے دھمکی قرار دیا جاسکتاہے جبکہ ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے ہی اس ...

ترکی میں ناکام انقلاب : امریکا اور روس میں براہ راست ٹکراؤ کے امکانات

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

تمہارے جوان، اب کے نہ جیت پائے! محمد دین جوہر - جمعرات 11 اگست 2016

مروہ شبنم اروش ترجمہ: محمد دین جوہر تمہید [ترکی کی ناکام فوجی بغاوت پر ہمارے ہاں تبصرے اور اظہار خیال ابھی جاری ہے۔ ہم نے وجود ڈاٹ کام پر شائع ہونے والے اپنے ایک گزشتہ مضمون میں قومی میڈیا کے ”تجزیاتی رویوں“ کا ایک مختصر جائزہ لینے کی کوشش کی تھی۔ لبرل، سیکولر اور مارکسی تجزیوں کی شورہ پشتی متوقع تھی، لیکن استعماری متجددین اور جدیدیت پرست مذہبی حلقوں کے تجزیے تو بددیانتی کے ”شاہکار“ بن گئے۔ یہ کئی اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ ان تجزیوں میں بھرپور کوشش کی گئی کہ امریکااور یور...

تمہارے جوان، اب کے نہ جیت پائے!

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

ترکی بغاوت امریکا اور سعودی عرب کی ملی بھگت سے ہوئی: جولین اسانج وجود - منگل 09 اگست 2016

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے امریکی سابق وزیر خارجہ اور موجودہ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن پر الزام لگایا ہے کہ وہ سعودی عرب کی ملی بھگت کے ساتھ ترکی میں میں بغاوت کی کوشش کر رہی تھیں، جو ناکام بنا دی گئی۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کے امریکا میں مقیم ترک رہنما فتح اللہ گولن کے ساتھ خفیہ و خصوصی تعلقات ہیں، جن کے بارے میں اسانج کا کہنا ہے کہ وہ ثابت کرتے ہیں کہ ہلیری نے گولن کے حامیوں کی حمایت کی اور یہ حرکت ترکی کے مستقبل کی ممکنہ امریکی صدر کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے خدشا...

ترکی بغاوت امریکا اور سعودی عرب کی ملی بھگت سے ہوئی: جولین اسانج

جمہور کی طاقت کا عظیم مظاہرہ، استنبول میں 10 لاکھ افراد کا سمندر وجود - پیر 08 اگست 2016

ترکی میں 15 جولائی کی فوجی بغاوت سے لے کر اب تک ہر رات عوام سڑکوں پر بیٹھ کر جمہوریت کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اب 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے طاقت کے ایک عظیم الشان مظاہرے کے ساتھ اپنا فرض مکمل کردیا ہے۔ 15 جولائی کی شب ہونے والی بغاوت کے دوران 270 لوگ مارے گئے تھے لیکن عوام کی بھرپور مداخلت کی وجہ سے حکومت بغاوت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ شہدائے جمہوریت کی یاد میں حکومت نے طاقت کا ایک عظیم الشان مظاہرہ کیا۔ بحیرۂ مرمرہ کے کنارے پر ینی قاپی کے علاقے میں دنیا...

جمہور کی طاقت کا عظیم مظاہرہ، استنبول میں 10 لاکھ افراد کا سمندر

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا