وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

پیر 30 نومبر 2015 ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

urdu words

عزیزم آفتاب اقبال، نامور شاعر ظفر اقبال کے ماہتاب ہیں۔ اردو سے خاص شغف ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام مزاحیہ ہے، چنانچہ ان کی اصلاح بھی کبھی کبھی مزاح کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ اتوار کو ان کا پروگرام دیکھا جس میں انہوں نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا کہ جس کو شہر یعنی City کہا جاتا ہے، یہ دراصل عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘ جیسے شہرِ رمضان۔ پہلے تو ہمیں گمان ہوا کہ وہ شاید اپنے پروگرام کی نسبت سے مزاح فرما رہے ہیں، لیکن پھر انہوں نے بڑی سنجیدگی سے شہر (مہینہ) اور شہر بمعنیٰ آبادی میں معنوی تعلق پر دلیلیں پیش کرنا شروع کردیں۔ ان کی ایک دلیل یہ تھی کہ ایک شخص ایک ماہ کا سفر کرکے بغداد پہنچا۔ اُس نے جگہ کا نام پوچھا اور بتایا کہ وہ ایک شہر (مہینہ) کا سفر کرکے پہنچا ہے۔ وہاں ایک تیسرا شخص کھڑا تھا (خدا جانے وہ کون تھا)، وہ سمجھا کہ اس جگہ کو شہر کہتے ہیں۔ بڑی عجیب سی دلیل تھی جس کو شاید وہ خود ہی سمجھے ہوں۔ یہ تیسرا شخص کون تھا اور اسے یہ غلط فہمی کیوں ہوئی؟ کیا وہ بغداد کا تھا یا مسافر کے ساتھ آیا تھا اور عربی سے واقف تھا جسے شہر (مہینہ) کا مطلب معلوم تھا۔

آفتاب اقبال کی اس ’’آفتابی‘‘ پر اُن کے تین ساتھی ہی لطف اندوز اور ہم حیران ہوتے رہے کہ کہاں کا لفظ کہاں ملا دیا!

آفتاب اقبال اپنی اس تحقیق کے بارے میں اپنے والد ہی سے مشورہ کرلیتے۔ ٹی وی چینل کے بزرجمہروں کے پاس بھی تحقیق، تصحیح اور ردوقبول کا خاصا وقت ہوتا ہے کیونکہ یہ پروگرام براہِ راست نشر نہیں ہوتے بلکہ پہلے سے ریکارڈ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ چینل کے سارے ہی چھوٹے بڑے یا تو اس آفتابی سے متفق تھے یا مرعوب تھے۔

برخوردار کو اتنا نہیں معلوم کہ شھر بمعنیٰ مہینہ اور شہر بمعنیٰ آبادی نہ صرف یہ کہ دو الگ الگ الفاظ ہیں بلکہ ان کا تلفظ بھی مختلف ہے۔ ایک عربی کا ہے اور دوسرا فارسی کا۔ شہر رمضان یا الف شہر میں ’ش‘ پر زبر ہے، اور ’ہ‘ یا ’ھ‘ پر جزم ہے، اور یہ ساکن ہے۔ یعنی ’’شھْر‘‘ یا ’’شَہْر‘‘۔ اور فارسی کے شہر (City) میں ’ہ‘ متحرک ہے، ساکن نہیں۔ فارسی اور اردو میں شہر کے تلفظ میں ’ش‘ زبر اور زیر کے درمیان نکلتا ہے جیسے نہر، لہر وغیرہ۔ اور عربی کے شھرْ کا تلفظ نحر ہوگا۔ بنیادی فرق تو یہی ہے کہ ایک لفظ عربی کا اور دوسرا فارسی کا ہے۔ فارسی کے شہر کا مطلب سبھی کو معلوم ہے یعنی بڑی آبادی، وہ جگہ جہاں بہت سے آدمی مکانات میں رہتے ہوں اور بلدیہ کے ذریعے انتظام ہوتا ہو۔ اس شہر کے لیے عربی میں ’بلد‘ کا لفظ موجود ہے۔ قرآنِ کریم میں مکہ مکرمہ کو ’’بلدالامین‘‘ یعنی امن کا شہر قرار دیا گیا ہے۔ اس لفظ کے ہوتے ہوئے عربوں کو فارسی کے ’شہر‘ پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ فارسی میں شہر کے متعدد مشتقات ہیں مثلاً شہر آشوب، شہر بدر، شہر پناہ، شہر خموشاں (قبرستان)، شہر دار، شہر یار (بادشاہ، حکمران) اور بے شمار۔ یہ محاورہ تو سنا ہی ہو گا ’’شہر میں اونٹ بدنام‘‘۔ ایک مزے کی اصطلاح ہے ’’شہر شَملہ‘‘ یعنی اندھیر نگری ، ایسا شہر جہاں انصاف کی توقع نہ ہو، اس حوالے سے ایک شعر:

دوسرا تیسرا یہ حملہ ہے
ایسا کیا سمجھے شہر شَملہ ہے

واضح رہے کہ مشرقی پنجاب کے پُرفضا پہاڑی شہر شملہ میں ’ش‘ کے نیچے زیر ہے۔ حالانکہ شہر زبردست اور بلند ہے۔ برطانوی دورِ تسلط میں یہ انگریز حکمرانوں کا گرمائی صدر مقام تھا، جس طرح مغربی پنجاب کے حکمران گرمیوں میں مری کی طرف دوڑتے ہیں۔

شہر کے ضمن میں ایک ذکر ’’شہر آشوب‘‘ کا آیا ہے۔ جاننے والے تو اس آشوب سے بخوبی واقف ہیں، لیکن ممکن ہے ہمارے نوواردانِ صحافت بلکہ خود ہمارے بچے بھی اس اصطلاح سے واقف نہ ہوں، ویسے یہ ایک کالم نگار کے کالموں کا عنوان بھی ہے۔ شہر آشوب ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی شہر کی بربادی کا حال بیان کیا گیا ہو، یا شہر کے باشندوں کی ہجو یا تعریف، شہریوں کی پریشانی اور زمانے کی ناقدری کا ذکر ہو۔

آشوب کے لفظی معنی ہیں: فساد، فتنہ، شورغوغا، آنکھ کا درد اور سرخی، جسے آشوبِ چشم کہتے ہیں۔ ایک اور چیز ہوتی ہے ’’آشوبِ آگہی‘‘ یعنی عقل کا فساد، عقل کا پیدا کردہ فتور، فتنۂ عقل۔ آشوب فارسی کا لفظ اور مذکر ہے۔ آشوبِ آگہی کی ایک مثال پیش کی جاچکی ہے۔ عزیزم آفتاب اقبال کی اس آگہی پر اس لیے توجہ دلائی ہے کہ وہ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کررہے ہیں جس سے نجانے کتنے ناظرین و سامعین متاثر ہوں گے۔ مناسب تو یہ ہو گا کہ وہ خود اپنے پروگرام میں تصحیح کرلیں اور شہر کے حوالے سے جو انکشاف کیا ہے اس سے رجوع کرلیں۔

اسی پروگرام میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’غلیظ‘‘ کا مطلب مضبوط، صحت مند اور طاقت ور ہے۔ بے شک یہ لفظ کثیرالمعنیٰ ہے اور یہ عموماً گندہ، میلا، پلید، کثیف، گہرا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس کا ایک مطلب مضبوط، موٹا، دبیز بھی ہے۔ کسی گندے، سندے شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے: کتنا غلیظ ہے۔ البتہ مضبوط، موٹا، دبیزکے معنوں میں اس کا استعمال عام نہیں ہے۔ اس کا دوسرا مطلب جو عام ہے، وہ ہے ’’گاڑھا‘‘۔ ان معنوں میں یہ حکیموں کے ہاں زیادہ مستعمل ہے جو مختلف غذاؤں کے خواص کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ’’بھنڈی‘‘ غلیظ ہے ۔ یعنی اس سے بننے والا خون غلیظ یا گاڑھا ہوگا۔ غلیظ سے مغلظ اور مغلظات ہے، یعنی بڑی گاڑھی قسم کی گالیاں۔ مغلَّظ میں اگر ’ل‘ پر زبر ہو تو مطلب ہے گاڑھا…… اور زیر یعنی مغلِّظ ہو تو مطلب ہوگا: گاڑھا کرنا۔

چلتے چلتے شعروں میں محاوروں کے استعمال کی بات…… محترم ملک نواز احمد اعوان نے بھارت کے ایک ادیب ضیاء احمد بدایونی کا ایک موقر مضمون ’’محاوراتِ غالب‘‘ بھجوایا ہے۔ چنانچہ تحدیث کے طور پرچند نمونے:

دانت میں تنکا لینا، خس بدنداں گرفتن کا ترجمہ ہے اور فارسی دانان ہند کی ایجاد ہے۔ ہندوستان میں قاعدہ تھا کہ جو شخص مغلوب ہوتا وہ غالب کے سامنے دانت میں تنکا دباکر حاضر ہوتا، یعنی ہم تمہاری گائے ہیں (کیا گائے دانت میں تنکا لیے رہتی ہے؟) یہ اظہارِ عجز کا طریقہ تھا۔

نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا


متعلقہ خبریں


املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ کا بگاڑ اطہر علی ہاشمی - جمعه 05 اگست 2016

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا ...

تلفظ کا بگاڑ

تلفظ میں زیر و زبر اطہر علی ہاشمی - پیر 01 اگست 2016

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم ن...

تلفظ میں زیر و زبر

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘ اطہر علی ہاشمی - هفته 04 جون 2016

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔ کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔...

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

اعلیٰ یا اعلا اطہر علی ہاشمی - اتوار 03 اپریل 2016

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ ...

اعلیٰ یا اعلا

فِحش یا فحش؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 22 فروری 2016

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی ا...

فِحش یا فحش؟

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

’’معاملات ٹھن گئے‘‘ اطہر علی ہاشمی - منگل 08 دسمبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعظم جناب انور ظہیر جمالی نے گزشتہ منگل کو ایوانِ بالا سے بڑی رواں اور شستہ اردو میں خطاب کرکے نہ صرف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی لاج رکھی بلکہ یہ بڑا ’’جمالی‘‘ خطاب تھا اور اُن حکمرانوں کے لیے آئینہ جو انگریزی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ حالانکہ عدالتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والوں کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی انگریزی ہوتا ہے۔ قانون کی تعلیم، وکالت اور پھر عدالتوں میں دائر درخواستیں پڑھنا، جو عموماً انگریزی میں ہوتی ہیں۔ ایک عام جج بھی میاں نوازشریف سے ...

’’معاملات ٹھن گئے‘‘

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ اطہر علی ہاشمی - منگل 24 نومبر 2015

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن ...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ

اردو میں لٹھ بازی اطہر علی ہاشمی - بدھ 11 نومبر 2015

چلیے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ سنڈے میگزین (4 تا 10 اکتوبر) میں صفحہ 6 پر ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے لیکن اس میں زبان و بیان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ مثلاً ’لٹھ‘ کو مونث لکھا گیا ہے۔ اگر لٹھ مونث ہے تو لاٹھی یقینا مذکر ہوگی۔ لٹھ کو مونث ہی بنانا تھا تو ’’لٹھیا‘ لکھ دیا ہوتا۔ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس (لٹھ) کے ٹاپ پر گھنگرو اور پیتل کی گھنٹیاں‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نفاذِ اردو کے حکم کے بعد ’’ٹاپ‘‘ کا استعمال توہین عدالت کے مترادف ہے، وزیراعظم کے انگریزی میں خطاب پر ...

اردو میں لٹھ بازی

مضامین
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

اشتہار