وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اعلیٰ یا اعلا

اتوار 03 اپریل 2016 اعلیٰ یا اعلا

Urdu

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔

رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ لیکن ان کی ہر بات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر املا کی تبدیلی سے۔ انہوں نے برسوں پہلے یہ مشورہ دیا تھا کہ عربی تراکیب کے استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ وارث سرہندی نے 1982ء یعنی تقریباً 33 سال پہلے ہی اس کی گرفت کرتے ہوئے اس مشورے کو غلط بلکہ نقصان دہ قرار دیا تھا اور لکھا تھا کہ یہ مشورہ بھارت کے سیاسی پس منظر کے زیراثر ہوسکتا ہے جو کوئی مصلحت یا جواز رکھتا ہو، کیونکہ وہاں ایک سازش کے تحت اردو سے عربی الفاظ خارج کرکے ہندی اور سنسکرت الفاظ زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گویا اردو میں ’’شدھی‘‘ کی تحریک چلائی جارہی ہے۔ وہاں تو اردو کے عربی رسم الخط کو بھی ختم کرکے دیوناگری رسم الخط کو رواج دینے کی کوشش زور شور سے ہورہی ہے، ہم ان ناپاک عزائم میں ساتھی کیوں بنیں۔ اردو کے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے چاہیے تو یہ تھا کہ اردو میں ہندی اور سنسکرت الفاظ کے بے جا استعمال کے خلاف آواز اٹھائی جاتی، مگر سیاسی مرعوبیت کے زیراثر ہمیں الٹا یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ ہم اردو میں عربی تراکیب کے استعمال سے پرہیز کریں۔

یہ اشتہارات جانے کون سی مخلوق کے لیے ہیں مثلاً “EK CUP CHAI”۔ اب جسے انگریزی نہیں آتی وہ کیا خاک سمجھے گا!

رشید حسن خان کا تعلق تو بھارت سے تھا، لیکن ہم یہ کررہے ہیں کہ منظم طریقے سے رومن اردو کو بڑھاوا دے رہے ہیں، یعنی اردو انگریزی رسم الخط میں لکھی جارہی ہے۔ کیا یہ بھی اردوکے خلاف سازش نہیں ہے؟ موبائیل فون (ہاتف جوال) پر جو پیغامات اِدھر سے اُدھر ہوتے ہیں وہ عموماً انگریزی رسم الخط میں ہوتے ہیں۔ شاید مجبوری ہو کہ ہر ایک اپنے فون پر اردو ٹائپ نہیں کرسکتا، لیکن ملک بھر میں لگائے گئے اشتہارات، بینرز کو کیا کہیں گے جو رومن اردو میں ہوتے ہیں۔ یہ نہ انگریزی جاننے والوں کے مطلب کے ہیں اور نہ انگریزی سے نابلد اردو دانوں کے لیے قابلِ فہم۔ جو انگریزی پڑھ لیتے ہیں اُن کے لیے اشتہار انگریزی میں ہونا چاہیے، اور جو انگریزی سے واقف نہیں اُن کے لیے اردو میں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اشتہارات جانے کون سی مخلوق کے لیے ہیں مثلاً “EK CUP CHAI”۔ اب جسے انگریزی نہیں آتی وہ کیا خاک سمجھے گا! تو کیا یہ شعوری طور پر اردو سے دور لے جانے کی کوشش نہیں؟

جہاں تک ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کا تعلق ہے تو یہ ہندی فلموں اور ڈراموں کے ذریعے بہت تیزی سے ہماری بول چال میں داخل ہورہے ہیں۔ لیکن ایسے بے شمار ہندی الفاظ جو اردو کا حصہ بن گئے ہیں ان کو نہیں نکالا جا سکتا۔ جن الفاظ میں دو چشمی ہ (ھ)، ڈ، ڑ،ٹ جیسے حروف ہیں وہ ہندی ہی سے آئے ہیں جیسے گھوڑا، گدھا، دھوبی، بھنگی وغیرہ…… یا ڈول، ڈبا، ٹوپی، پہاڑ وغیرہ۔ لیکن لغت میں ایسے سب الفاظ اردو کے قرار دیے گئے ہیں۔ ایک مزے کی بات یہ ہے کہ ہندی کو عربی فارسی الفاظ سے ’’پوتر‘‘ کرنے کے باوجود ایسا نہیں ہوسکا، البتہ تلفظ بگاڑ کر رکھ دیا مثلاً گجب (غضب)، گُسہ (غصہ) وغیرہ۔ ایک ستم یہ ہوا کہ ہندی میں ’پھ‘ کو ’ف‘ سے بدل دیا گیا اور پھول ’’فول‘‘، پھل ’’فَل‘‘، پھرتی ’’فُرتی‘‘ ہوگیا۔ اس پر بھارت کے کچھ ادیبوں، شاعروں نے بھی اعتراض کیا ہے، لیکن بھارت کی نئی ہندو نسل کا اپنا تلفظ بگڑ گیا ہے۔ پرانے لوگوں کا تلفظ بالکل صحیح تھا۔

عربی الفاظ کے سلسلے میں بہتر اور محفوظ طریقہ یہی ہے کہ عربی الفاظ اردو میں کسی تغیر و تبدل کے بغیر استعمال کیے جائیں۔ جو الفاظ پہلے ہی اردو میں اپنی اصلی صورت میں استعمال ہورہے ہیں، ان کو نہ چھیڑا جائے اور ان کی اصلی صورت برقرار رکھی جائے مثلاً ادنیٰ، اعلیٰ، اقصیٰ، بشریٰ، تعالیٰ، تقویٰ، دعویٰ جیسے الفاظ کے املا میں کوئی تصرف نہ کیا جائے۔ اگر حتیٰ، علیٰ، الیٰ کا اصل املا برقرار رکھا جاسکتا ہے تو باقی الفاظ کا کیا قصور ہے کہ خواہ مخواہ ان کی صورت مسخ کی جائے! وارث سرہندی کے مطابق جن الفاظ کے املا میں تصرف ہوہی چکا ہے ان کا بھی اصل املا بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اصلی جھگڑ اعلیٰ اور ادنیٰ کا ہے۔ بچوں کا رسالہ نونہال ایک عرصے سے اعلا اور ادنا لکھ رہا ہے۔ اس رشید حسن خانی اختراع سے اور بھی لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ کیا پتا کب موسیٰ اور عیسیٰ، موسا اور عیسا ہوجائیں۔ عربی الفاظ کی اصلی صورت برقرار رکھنے میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اوّل تو ہمیں عربی سیکھنے میں اس سے مدد ملے گی، دوم ان الفاظ کا ماخذ اور اشتقاق معلوم کرنے میں کوئی الجھن پیدا نہیں ہوگی۔ اگر عربی الفاظ کا املا رشید حسن خان کی تجویز کے مطابق تبدیل کردیا جائے تو اس سے دورنگی پیدا ہوگی کیونکہ ایک ہی لفظ کو ہم اردو میں ایک شکل میں دیکھیں گے اور عربی میں دوسری شکل میں۔ اس طرح ایک طرح کا ذہنی خلجان پیدا ہوگا کہ فلاں صاحب مدیر اعلیٰ ہیں یا مدیر اعلا۔

ہمارے لیے عربی اور فارسی زبانیں سیکھنا اس لیے آسان ہیں کہ ان کے بہت سے الفاظ اردو میں اصلی صورتوں اور حقیقی معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے غالب اکثریت عربی زبان سے مانوس ہے۔ جو مسلمان عربی نہیں سمجھتا وہ بھی کم از کم قرآن کریم ناظرہ ضرور پڑھتا ہے، اس لیے وہ عربی الفاظ کی شکل و صورت سے آشنا ہوتا ہے۔ اس لیے اردو میں عربی الفاظ کو ان کی اصل صورت میں لکھنا ہمارے لیے کوئی مشکل بات نہیں۔ اب نجانے رشید حسن خان اللہ تعالیٰ کیسے لکھتے ہوں گے؟ کیا اللہ تعالا؟

چلتے چلتے ایک لطیفہ…… گزشتہ دنوں پی ٹی وی کی ایک محترمہ خبر سنا رہی تھیں کہ ’’موٹرو۔ ہیکل ٹیکس……‘‘ محترمہ نے موٹر وہیکل کے دو ٹکڑے کردیے۔ حیرت ہے کہ اگر اردو کمزور ہے تو کم از کم انگریزی الفاظ سے تو واقفیت ہوتی۔ ان کا یہ ’’موٹرو۔ ہیکل‘‘ ہر نشریے میں دہرایا گیا، غالباً دوسرے اونگھ رہے تھے۔ اور یہ وہی پاکستان ٹیلی ویژن ہے جس پر کبھی تلفظ پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی، لیکن شاید اب کسی اور چیز پر توجہ ہے۔


متعلقہ خبریں


املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ کا بگاڑ اطہر علی ہاشمی - جمعه 05 اگست 2016

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا ...

تلفظ کا بگاڑ

تلفظ میں زیر و زبر اطہر علی ہاشمی - پیر 01 اگست 2016

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم ن...

تلفظ میں زیر و زبر

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘ اطہر علی ہاشمی - هفته 04 جون 2016

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔ کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔...

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

فِحش یا فحش؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 22 فروری 2016

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی ا...

فِحش یا فحش؟

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

’’معاملات ٹھن گئے‘‘ اطہر علی ہاشمی - منگل 08 دسمبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعظم جناب انور ظہیر جمالی نے گزشتہ منگل کو ایوانِ بالا سے بڑی رواں اور شستہ اردو میں خطاب کرکے نہ صرف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی لاج رکھی بلکہ یہ بڑا ’’جمالی‘‘ خطاب تھا اور اُن حکمرانوں کے لیے آئینہ جو انگریزی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ حالانکہ عدالتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والوں کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی انگریزی ہوتا ہے۔ قانون کی تعلیم، وکالت اور پھر عدالتوں میں دائر درخواستیں پڑھنا، جو عموماً انگریزی میں ہوتی ہیں۔ ایک عام جج بھی میاں نوازشریف سے ...

’’معاملات ٹھن گئے‘‘

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق اطہر علی ہاشمی - پیر 30 نومبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال، نامور شاعر ظفر اقبال کے ماہتاب ہیں۔ اردو سے خاص شغف ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام مزاحیہ ہے، چنانچہ ان کی اصلاح بھی کبھی کبھی مزاح کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ اتوار کو ان کا پروگرام دیکھا جس میں انہوں نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا کہ جس کو شہر یعنی City کہا جاتا ہے، یہ دراصل عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘ جیسے شہرِ رمضان۔ پہلے تو ہمیں گمان ہوا کہ وہ شاید اپنے پروگرام کی نسبت سے مزاح فرما رہے ہیں، لیکن پھر...

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ اطہر علی ہاشمی - منگل 24 نومبر 2015

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن ...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ

اردو میں لٹھ بازی اطہر علی ہاشمی - بدھ 11 نومبر 2015

چلیے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ سنڈے میگزین (4 تا 10 اکتوبر) میں صفحہ 6 پر ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے لیکن اس میں زبان و بیان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ مثلاً ’لٹھ‘ کو مونث لکھا گیا ہے۔ اگر لٹھ مونث ہے تو لاٹھی یقینا مذکر ہوگی۔ لٹھ کو مونث ہی بنانا تھا تو ’’لٹھیا‘ لکھ دیا ہوتا۔ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس (لٹھ) کے ٹاپ پر گھنگرو اور پیتل کی گھنٹیاں‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نفاذِ اردو کے حکم کے بعد ’’ٹاپ‘‘ کا استعمال توہین عدالت کے مترادف ہے، وزیراعظم کے انگریزی میں خطاب پر ...

اردو میں لٹھ بازی

مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام