وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا

جمعه 15 مئی 2026 مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا

ریاض احمدچودھری

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیرمیں مودی کی بھارتی حکومت نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف انسدادِ منشیات کی آڑ میں ریاستی نگرانی اور جبر کے اقدامات تیزکردیئے ہیں ، جس پر ماہرین اور مبصرین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کی کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد کو بدنام کرنے اور تحریک خودارادیت کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منشیات سے جوڑا جا رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سیاسی اختلافِ رائے کو مجرمانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مودی حکومت متنازعہ قوانین جیسے” پی آئی ٹی این ڈی پی ایس ایکٹ ”اور جدید ٹریکنگ نظام متعارف کرارہی ہے۔بھارت ان کالے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رہا ہے، جہاں منشیات کے خلاف کارروائی محض ریاستی نگرانی کا ایک بہانہ ہے۔ ان قوانین کے تحت کشمیری نوجوانوں کی جبری نظربندی دراصل تحریک آزادی کودبانے اور نوجوان نسل کو مجرم قرار دینے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے جو پہلے ہی بھارت کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہے۔ماہرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نہ صرف شہری آزادیوں کو محدود کرنا بلکہ پوری آبادی کو ایک مسلسل نگرانی کے نظام کے تحت لانا ہے۔مقبوضہ وادی کشمیر میں پہلے ہی شدید خوف ودہشت اور عدم تحفظ کاماحول قائم ہے اور کشمیری نوجوانوں کی جبری گرفتاریوں کاسلسلہ جاری ہے۔ نیشنل کوآرڈینیشن میکانزم کے تحت مقبوضہ کشمیر کے تعلیمی اداروں اور زرعی شعبے کو بھی نگرانی کے دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔اسکولوں کو ”احتیاطی تعلیم” کے نام پر نگرانی کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ زرعی شعبے میں مداخلت کے ذریعے دیہی آبادی کو متاثر کیا جا رہا ہے،تاکہ کشمیری کسانوں کو ان کے روزگار سے محروم کیاجاسکے۔ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں منشیات کے استعمال کو سکیورٹی کا ایک مسئلہ بنا کر پیش کرہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مودی حکومت کی ان پالیسیوں سے خطے میں ایک سرویلنس اسٹیٹ کے قیام کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں سماجی بہبود کے نام پر شہریوں کی زندگی کے ہر پہلو کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق پالیسیوں کو ترتیب دیا جائے تاکہ مقبوضہ علاقے میں میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں عمر عبداللہ کی زیر قیادت حکومت کی ایک وزیر نے انسداد منشیات کی آڑ میں کشمیریوں کے گھروں کو مسمار اور جائیدادوںکو ضبط کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیرکی وزیر صحت اور تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ ہندو اکثریتی خطے جموں میں منشیات کا زیادہ استعمال ہوتا ہے جبکہ جابرانہ کارروائیاں مسلم اکثریتی وادی کشمیر میںکی جارہی ہیں۔ میں وزیر صحت کی حیثیت سے بتارہی ہوں کہ جموں میں منشیات کے عادی افراد زیادہ ہیں، لیکن لوگوں کے گھرکشمیر میں گرائے جا رہے ہیں اور جائیدادوں پر قبضہ کیا جارہا ہے، کیوں؟ان کا بیان نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت قابض انتظامیہ کی طرف سے نام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میں جاری کارروائیوں کے تناظر میںسامنے آیاہے جس میں لوگوں کے گھروں کو مسمار اورضبط کیاجارہاہے۔ اس طرح کے تعزیری اقدامات قانونی اور اخلاقی طور پر بلاجواز ہیں۔حکام کی ترجیح نوجوانوں کو منشیات سے بچانا ہونا چاہیے نہ کہ خاندانوں کو سزا دینا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ نے انسداد منشیات مہم کی آڑ میں کشمیریوں پر ریاستی نگرانی اورظلم و جبر تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کالے قوانین کے تحت جبری نظربندیاں تحریک آزادی کو دبانے اور نوجوان نسل کو مجرم قراردینے کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ بھارتی حکومت کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو بدنام کرنے اور تحریک آزادی کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے منشیات کے استعمال کو سکیورٹی کے لئے خطرہ قراردے رہی ہے۔
نوجوانوں میں منشیات کا اثر اس قدر سرایت کرچکا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو افیون، چرس، ہیروئین، کوکین، بھنگ، براو?ن شوگر،گوند،رنگ پتلا کرنے والے محلول اور دوسرے معلوم اور نامعلوم نشہ آور مرکبات استعمال کرنے کے نتیجے میں جسمانی نفسیاتی اور جذباتی امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کی تعدادبھی کثرت سے ملتی ہیں جو فارما سیوٹیکل ادویات کو بھی اب نشے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور یہ عمل دوسری ادویات یا منشیات استعمال کرنے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کشمیر کے بعض علاقوںمیں جان بوجھ کروہاں کی نوجواں نسل کوبربادکرنے کے لئے بھارتی فورسز منشیات کے پھیلائوکا حربہ استعمال کر رہی ہیں تاکہ نوجوان نسل کومنشیات کی لت پڑے اوروہ اسی میں لگے رہیںانہیں اپنی اوراپنے قوم کی فکر دامن گیر نہ رہے اوروہ اس طرف دیکھنے یاسوچنے کے قابل نہ رہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بعض علاقوں میںحالات کا جبر،بڑھتی ہوئی بے روزگاری اورروزافزوں مہنگائی بھی اس کا باعث بن رہی ہے،جبکہ منشیات کے استعمال کی ایک اہم اور بنیادی وجہ دین سے دوری اورتعلیمات دین پرمشتمل نسخہ ہائے کیمیاسے اجتناب اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے نقصانات اور وعیدوں سے بے خبری ہے۔ لیکن سب سے افسوس سناک امریہ ہے کہ اس وقت منشیات کے استعمال کے بارے میں ہم بعض افسوس ناک مخمصوں میں مبتلا ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا وجود جمعه 15 مئی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا

25کروڑمال مویشی وجود جمعه 15 مئی 2026
25کروڑمال مویشی

ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی وجود جمعه 15 مئی 2026
ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی

اب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے! وجود جمعه 15 مئی 2026
اب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے!

کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر