وجود

... loading ...

وجود

خود پسندی

منگل 03 نومبر 2015 خود پسندی

imran-khan

کیا عمران خان خود پسندی کے شکار ہیں، نرگسیت سے دوچار؟ عمران خان اور ریحام کی طلاق کے محرکات پر غور کرنے سے زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے۔

اُصولی طور پر یہ بات درست ہے کہ شادی اورطلاق کے فیصلے ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور انہیں سرعام موضوعِ بحث نہیں بنانا چاہیے۔ مگر زندگی کے اجتماعی شعبوں سے جڑے لوگوں کے بارے میں یہ موقف کبھی قابلِ عمل نہیں رہا۔ یہاں تک کہ اِسے درست بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ ایسی شخصیات کے ذاتی زندگی کے انداز لوگوں کے اعتماد کرنے یا نہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ پھر عمران خان کا معاملہ تو اس سے بھی ذرا مختلف ہے۔ اُنہوں نے اپنی شادی کو خود عوام میں موضوعِ بحث بنایا۔ اور طلاق کی خبر بھی اپنے جماعتی ترجمان نعیم الحق سے افشا کرائی۔ اگر چہ اس کے پیچھے وقت کا ایک جبر بھی کام کررہا تھا۔ عمران کے کان میں کسی نے سرگوشی کی تھی کہ ریحام طلاق کی خبر کو برطانوی ذرائع ابلاغ میں فروخت کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس طرح کسی بھی سطح پر یہ مسئلہ ذاتی نوعیت کے مدار پر گردش نہیں کر رہا تھا۔ چنانچہ اِسے ہر جگہ موضوع بننا تھا۔ اور موزوں طور پر یہ موضوع بھی بنا۔

شادی بیاہ اور طلاق وراثت کے معاملات نہایت غوروفکر کے متقاضی ہوتے ہیں۔عمران خان نے اپنی دوسری شادی میں اپنے خاندان کے خلاف جاکر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اپنے فیصلے خود کر سکتا ہوں ، مجھے کون سمجھا سکتا ہے؟ اس طرح اُنہوں نے اپنے غور وفکر کی صلاحیت کے معاملے میں ایک دعویٰ بھی داغا تھا۔ اور عام طور پر ہمارے تہذیبی پسِ منظر میں اس نوع کے فیصلے میں خاندانی مشاورت کی ایک عموی روایت سے اعلانیہ اجتناب برتا تھا۔ مگر عمران خان نہایت غوروفکر کے حامل اس نہایت ذاتی فیصلے میں بھی دو مرتبہ ناکام ہو چکے ہیں۔ فطری غوروفکر کے ذاتی معاملات میں غلط فیصلے کرنے والی شخصیات عام طور پر ’’impulsive‘‘ یعنی ہیجانی اور خود پسندی کاشکار ہوتی ہیں۔

اب ذرا یہ دیکھئے کہ عمران خان نے شادی اور طلاق کے فیصلے کب کئے؟ عمران خان کی طرف سے شادی کا فیصلہ پاکستان کی روح میں گھاؤ لگانے والے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کے سفاکانہ واقعے کے فوراً بعد کیا گیا۔ اور طلاق کی خبر زلزلے کے فوراً بعد اور بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل افشا کی گئی۔ شادی اور طلاق کے لیے وقت کا یہ انتخاب بجائے خود عمران خان کی خود پسندی کا ایک اظہار ہے۔ جس میں وہ گردوپیش سے بے نیاز اپنی ذات میں گم ایسے فیصلے کرتے ہوئے بھی کسی کی بالکل پروا نہیں کرتے جو لوگوں کو گم صم کردیتے ہوں۔ ایک خود پسند شخصیت میں ایسے فیصلے کرنے کی بے پروائی دو بنیادی امراض سے پھوٹتی ہے۔ اول تو اُس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے اور ثانیاً وہ دھیرے دھیرے بس جذبات کی مخلوق بن کر رہ جاتی ہے۔ نرگسیت ،نرگسیت ۔ایسی شخصیت لٹو کی طرح بس اپنے گرد ہی گھومتی رہتی ہے۔ خود مرکزیت کے حامل لوگ اپنے من کی مندر میں اپنی ہی مورتی کو سجا کر اُسے خود ہی پوجنے کے مریض بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ دور تک دیکھنے اور دیر تک سوچنے کے کبھی قابل نہیں ہوتے۔ خود پسندی پیش بینی کی صلاحیت کو چاٹ لیتی ہے۔

خود مرکزیت کے حامل لوگ اپنے من کی مندر میں اپنی ہی مورتی کو سجا کر اُسے خود ہی پوجنے کے مریض بن جاتے ہیں

دنیا میں عام طور پرعظیم اداکاروں ، اداکاراؤں اور بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ یہ ماجرا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے رشتوں میں عام نہیں بن پاتے۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک رشتہ جو میں نے کرلیا ہے اُسے نبھانے کی ہر ذمہ داری دوسرے پر ہے، مجھ پر نہیں۔ یہ تصور شخصیت کا عیب بن کر مضرت رسانی کا سامان پیدا کرتا رہتا ہے۔ اور تباہ کن نتائج لاتا ہے۔کیونکہ وہ کسی تعلق میں بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ چاہے وہ کتنے ہی قریبی رشتے دار کیوں نہ ہو۔ عمران خان اپنی زندگی میں ایک سے زائد بار اس سنگ دلی کے مرتکب ہو چکے ہیں۔

عمران خان ایک ایسے قبائلی مزاج کے حامل خاندان میں اپنے سگے چچا زاد بھائی کی موت پر نہیں گئے ، جہاں اس طرح کا انحراف قتل کے برابر جرم سمجھا جاتا ہے۔تب وہ دھرنے میں تھے۔ مگر اس سے بھی بڑی سنگ دلی یہ تھی کہ اُنہوں نے عین اُس دن اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا؟ گاہے گمان گزرتا ہے کہ اُس روز اُنہوں نے اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا تھا یا اختلاف رائے رکھنے والے اپنے چچا زادبھائی کی موت کو جشن مسرت منایاتھا۔ کیونکہ اُس سے پہلے اور اُس کے بعد وہ کبھی سالگرہ کا کیک کاٹتے ہوئے دکھائی نہیں دیئے۔ خود پسندی کا مریض خود کو ہر روایت سے بڑا سمجھنے کا بھی مریض ہو تا ہے۔

ریحام کے معاملے میں بھی یہی تھا۔ اس رشتے کو سنبھالنے کی پوری ذمہ داری ریحام کی تھی۔ جو برابر کی ذمہ داری بھی اُٹھانے کی اہل نہ تھیں۔ عمران کے لاشعور سے سطح شعور تک اُبھرنے والی یہ توقع دراصل غیر فطری تھی۔ کہ جسے میں مل گیا اُسے ساری دولت مل گئی اب یہ جمع پونجی سنبھالنے کی ذمہ داری دوسرے کی ہے۔اس معاملے کا دوسرا غیر فطری پہلو یہ تھا کہ باسٹھ برس کی عمر میں شادی کرنے والے عام طور پر طلاق کے مرتکب ہونے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر وہ خود پسندی کی آخری حد کو چھو کر بھی آگے نکل گئے ہیں۔ اُنہوں نے طلاق دی ہی نہیں اس سے پہلے وہ مذاق مذاق میں بھی طلاق کا ذکر کرتے رہے۔ ایک موقع پر عمران خان نے ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر میری بیوی مجھ سے دس لاکھ کا پرس مانگے تو میں اُسے طلاق دے دوں گا۔ اس سے زیادہ غیر مہذب جملہ ٹیلی ویژن پر اس رشتے کے حوالے سے کبھی نہیں کہا جاسکتا تھا۔ عمران خان نے اس جملے سے اپنے طلاق کے معاملے کو عوامی سطح پر لا اُتارا تھا۔

اس تناظر میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان قیادت کے اہل ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ عمران خان نے بہرحال قومی زندگی پر غلط یا صحیح اثرانداز ہونے کی وقتی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اس میں بھی عمران خان کی صلاحیت سے کہیں زیادہ عوام کی کم تربیتی کادخل ہے جن کے لیے بڑی بڑی باتیں کرنے والے لوگ پرکشش ہوتے ہیں۔ عمران خان عوام میں ایسی ہی کشش رکھتے بھی ہیں۔ دراصل عظیم قیادتیں اپنے بڑے فیصلوں سے پہچانی جاتی ہے مگر بڑے فیصلوں میں دوچیزیں برابر کی شریک ہوتی ہیں:جذبہ اور تدبر۔ عمران خان کے فیصلوں میں جذبے کی جھلک تو صاف دیکھی جاسکتی ہے مگر تدبر کا خانہ بالکل خالی دکھائی دیتا ہے۔ اس وجہ سے اُن کی ناکامیاں بھی ایک طرح کی ہیں اور اُس پر دیئے گئے جواز بھی ایک ہی طرح کے ہیں۔ عمران خان نے کبھی اپنی ناکامیاں تسلیم نہیں کیں۔ جمائما اُنہیں ایک ناکام سیاست دان کہتی تھیں، عمران نے تسلیم کرکے نہیں دیا۔ جمائما سے طلاق کی ذمہ داری عمران نے کبھی نواز شریف پر عائد کی اور کبھی خود اپنی ہی بہنوں پر۔ اب یہی کچھ ریحام خان کے معاملے میں بھی ہورہا ہے۔ برسبیل تذکرہ دھرنے کے اہداف میں بھی یہی ہوا تھا۔ عظیم قیادتیں کبھی ناکامیاں نہ ماننے والا رویہ نہیں رکھتیں۔ وہ ناکامیاں مان کر اُس کے اسباب کو کھوجتی ہیں اور دوسروں کے سر تھوپنے کے بجائے اس کا بوجھ خود اُٹھاتی ہیں۔ گر کر ماننا اور پھر اُٹھ کر دکھانا قیادت کی عظمت ہوتی ہے۔ عمران خان اس سے کوسوں دور ہیں۔ صرف مالیاتی بدعنوانی کے الزام سے بچے رہنا قیادت کی صفت سے کسی کو متصف نہیں کردیتی۔ یہ ایک بڑے وژن ، بڑے ذہن اور بڑے تجربے کے تقاضے بھی رکھتی ہیں۔ عمران خان اگر کبھی سوفیصد اکثریت کا ناممکن بھی حاصل کر لیں تو بھی وہ تبدیلی کے اپنے نصب العین کو عمل میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ خود پسندی کا یہ نتیجہ نوشتۂ دیوار ہے۔


متعلقہ خبریں


پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار وجود - منگل 09 اگست 2022

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو عاشور کے روز اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اُنہیں اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا۔ شہباز گل کے خلاف تھانہ بنی گالہ میں بغاوت پر اُکسانے کا مقدمہ بھی درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کی گرفتاری کے دوران ڈ...

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ،عمران خان نے اتوار کو احتجاج کی کال دے دی وجود - جمعه 17 جون 2022

عمران خان نے عوام کو اتوار کو احتجاج کی کال دے دی،سابق وزیراعظم خود ویڈیو لنک کے ذریعے احتجاج میں شریک ہونگے، عمران خان نے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا اگر ہم نے کوئی لائحہ عمل اختیار نہ کیا تو ملک تباہ ہو جائے گا، اگرحکومت سنبھال نہیں سکتے تھے تو کیوں سازش کی، ہماری حکومت پر ک...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ،عمران خان نے اتوار کو احتجاج کی کال دے دی

تگڑا شو کرنے والا ہوں، ابھی بتاؤں گا نہیں ،عمران خان وجود - جمعرات 16 جون 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تگڑا شو کرنے والا ہوں لیکن ابھی نہیں بتاؤں گا ،اگر امریکی سازش کامیاب ہوگئی تو ملک معاشی طور پر تباہ جائے گا، بلوں کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا گیا، اگر ہم نے امریکہ کے سامنے جھکنا نہ چھوڑا تو ہم مکمل غلام ...

تگڑا شو کرنے والا ہوں، ابھی بتاؤں گا نہیں ،عمران خان

کیا ڈی جی آئی ایس پی آر فیصلہ کریں گے سازش تھی یا نہیں ؟ عمران خان وجود - جمعرات 16 جون 2022

چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ کیا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار فیصلہ کریں گے سازش تھی یا نہیں؟ ان کا نقطہ نظر ہوسکتا ہے، فیصلہ نہیں، کہتے ہیں مداخلت ہوئی تو کون فیصلہ کرے گا مداخلت ہوئی یا نہیں؟ س...

کیا  ڈی جی آئی ایس پی آر فیصلہ کریں گے سازش تھی یا نہیں ؟ عمران خان

چیف الیکشن کمشنر ، حمزہ اور مریم سے احکامات لیتے ہیں،عمران خان کا الزام وجود - منگل 14 جون 2022

سابق وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمشنر پر ن لیگ سے مل کر قبل از انتخابات دھاندلی کا الزام لگا دیا اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ، حمزہ اور مریم سے احکامات لیتے ہیں، ہر ہفتے حلقہ بندی پر بات ہوتی ہے۔کسان کنونشن سے خطاب میں جلد الیکشن کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا عمران خان نے کہا کہ ی...

چیف الیکشن کمشنر ، حمزہ اور مریم سے احکامات لیتے ہیں،عمران خان کا الزام

قوم کی آزادی کی جنگ لڑتا رہوں گا، عمران خان وجود - جمعرات 09 جون 2022

پاکستا ن تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ قوم کی آزادی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔ پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر عمران خان نے جاری بیان میں کہا کہ ہم سیاست نہیں بلکہ ان چوروں اور غلاموں کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، جب تک زن...

قوم کی آزادی کی جنگ لڑتا رہوں گا، عمران خان

عمران خان کا ملک بھر میں احتجاجی تحریک جلد چلانے کا اعلان وجود - جمعرات 09 جون 2022

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک جس طرف جا رہا ہے، اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ ان کو اس لیے ہم پر مسلط کیا گیا تاکہ ہمارا ملک کمزور ہو، سازش کرنے والے چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور پاک فوج کمزور ہو، کچھ دنوں میں ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا اعلان کرنے جا رہا...

عمران خان کا ملک بھر میں  احتجاجی تحریک  جلد چلانے کا اعلان

عمران خان کی اہلیہ کے لیے ہیرے کے تحفے کا ذکر، ملک ریاض کا نیا آڈیو ٹیپ سامنے آگیا وجود - اتوار 05 جون 2022

بزنس ٹائیکون ملک ریاض اور ان کی بیٹی کا ایک مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آیا ہے جس میں عمران خان کی اہلیہ کو ایک کام کے عوض ہیرے کے تحفے کا ذکر ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئے آڈیو ٹیپ میں ملک ریاض کو ان کی بیٹی عنبر مبینہ طور پر فرح گوگی سے ہونے والی بات چیت اور اس کی فرمائشوں سے مت...

عمران خان کی اہلیہ کے لیے ہیرے کے تحفے کا ذکر، ملک ریاض کا نیا آڈیو ٹیپ سامنے آگیا

غداری کا مقدمہ بنا کر مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،عمران خان وجود - هفته 04 جون 2022

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے سازش کے تحت ہماری حکومت کو گرایا گیا، جب سازش کرنے والوں نے دیکھا کہ قوم سازش کو سمجھ چکی تو یہ کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان پر غداری کا مقدمہ کرکے اس کو راستے سے ہٹائیں، کیا نواز شریف اور آصف علی زردار...

غداری کا مقدمہ بنا کر مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،عمران خان

تحریک انصاف کا ملک گیر احتجاج کا اعلان وجود - جمعرات 02 جون 2022

تحریک انصاف نے مہنگائی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی۔ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فرخ حبیب نے اعلان کیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہدایات پر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف آج (جمعہ کو) ملک گیر...

تحریک انصاف کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

مستعفی ہوچکے،اسمبلی تصدیق کے لیے جانے کا مطلب امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرنا ہے، عمران خان وجود - منگل 31 مئی 2022

سابق وزیراعظم عمران خان نے عدم اعتماد کے دوران آصف زرداری سے رابطوں کی تردید کرتے ہوئے آصف زرداری اور ملک ریاض کے درمیان گفتگو سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی سے مستعفی ہوچکے ہیں، تصدیق کے لیے جانے کی ضرورت نہیں، حکومت میں تھے تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباو...

مستعفی ہوچکے،اسمبلی تصدیق کے لیے جانے کا مطلب امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرنا ہے، عمران خان

امریکی رجیم چینج سے لائی گئی حکومت میں60 فیصد مجرم ہیں، عمران خان کا برطانوی چینل کو انٹرویو وجود - منگل 31 مئی 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا، روس، چین اوردیگرممالک سے تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں، عوام نے مجھے پاکستان کے لیے منتخب کیا تھا دنیا کی غلطیاں ٹھیک کرنے کے لیے نہیں، ہمیں بھی نیوٹرل رہنے کی اجازت دیں تاکہ ہم اپنے لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرسکیں،...

امریکی رجیم چینج سے لائی گئی حکومت میں60 فیصد مجرم ہیں، عمران خان کا برطانوی چینل کو انٹرویو

مضامین
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی وجود جمعه 19 اگست 2022
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی

ڈیپ فیک وجود جمعه 19 اگست 2022
ڈیپ فیک

ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر

سور۔یلا۔۔ وجود بدھ 17 اگست 2022
سور۔یلا۔۔

سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے وجود بدھ 17 اگست 2022
سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے

میثاقِ معیشت کی تجویز وجود بدھ 17 اگست 2022
میثاقِ معیشت کی تجویز

اشتہار

تہذیبی جنگ
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید

یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام