وجود

... loading ...

وجود
کیا قوم ایک اور سرپرائز کا انتظار کرے؟ وجود - جمعرات 07 اپریل 2022

سیاست کو اگر ایک کھیل تسلیم کرلیا جائے تو بلاشبہ عمران خان نے ابھی تک اپنے آپ کو اِس کھیل کا ایک بہترین کھلاڑی ثابت کیا ہے۔جبکہ اُن کے مقابلے میں ہر سیاسی محاذ پر اپوزیشن کے تجربہ کار اور گھاگ سیاست دان بالکل اناڑی ثابت ہوئے ہیں۔خاص طور پر عمران خان نے جس انداز میں اپنے خلاف پیش ہونے والی تحریک عد م اعتماد کو ایک منحن...

کیا قوم ایک اور سرپرائز کا انتظار کرے؟

بڑھتا آئینی و سیاسی بحران وجود - بدھ 06 اپریل 2022

شام کے وقت28اپریل 1977کوپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم زوالفقار علی بھٹو نے انکشاف کیاکہ عربوں کو ہتھیار دینے اور ویت نام کے مسلہ پر ساتھ نہ دینے کی بناپر ہاتھی(امریکا) مجھ سے ناراض ہوگیا ہے ایٹمی پروگرام کو ہدایات کے مطابق ختم نہ کرنے کی پاداش میں ہنری کسن...

بڑھتا آئینی و سیاسی بحران

ویک لی۔روزہ۔۔ وجود - بدھ 06 اپریل 2022

دوستو، رمضان المبارک کا ماہ مقدس اپنی تمام تر رحمتوں،برکتوں، فضیلتوں کے ہمراہ جاری و ساری ہے۔۔ روزوں کی کئی اقسام بھی ہمارے معاشرے میں مقبول عام ہیں، جیسے بچوں کے لیے ـ’’ چڑی‘‘ روزہ ہوتا ہے، اسی طرح کچھ لوگ جمعہ کے جمعہ روزے کو ترجیح دیتے ہیں،جسے باباجی نے ’’ویکلی روزہ‘‘ کا نام د...

ویک لی۔روزہ۔۔

بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور گورننس کے مسائل وجود - بدھ 06 اپریل 2022

قومی اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ اراکین میں ماسوائے زبیدہ جلال کے باقی تمام اراکین نوابزادہ خالد مگسی، احسان اللہ ریکی، محمد اسرار ترین اور روبینہ عرفان نے تحریک انصاف سے ناتا توڑا۔ قومی اسمبلی میں نوابزادہ خالد مگسی اس جماعت کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔ وہ اور جام کمال خان...

بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور گورننس کے مسائل

کون کہتاہے موت آئی تومرجاؤں گا وجود - پیر 04 اپریل 2022

سو کر اٹھا محسوس ہوا گھروالوں کی عجب کیفیت ہے چولہے میں دھواں ہے نہ ناشتے کی کوئی تیاری ۔۔میں نے پوچھا اماں!ناشتے میں کیاہے؟ ۔۔انہوں نے کوئی جواب نہ دیا مجھے لگا جیسے اماں کی آنکھوںمیں آنسو ہوں۔والد صاحب کی طرف دیکھا افسردہ افسردہ ،غمگین،دل گرفتہ۔۔ادھر ادھر نظر دوڑائی تو بڑے بھ...

کون کہتاہے موت آئی تومرجاؤں گا

کیا’’چارٹر آف رائٹس‘‘شہری اور دیہی سندھ کی تفریق ختم کرسکے گا؟ وجود - پیر 04 اپریل 2022

ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلزپارٹی کے درمیان تحریک عدم اعتماد میں متحدہ اپوزیشن کی حمایت کے اعلان کے عوض میں ہونے والے تحریر ی معاہدہ پر جتنا دُکھ اور افسوس ایم کیو ایم پاکستان کے دیرینہ کارکنان ہوا ہے ،شاید اتنا صدمہ تو تحریک انصاف کے کھلاڑیوں کو بھی نہیں ہوا ہوگا۔ کیونکہ پی ٹی ...

کیا’’چارٹر آف رائٹس‘‘شہری اور دیہی سندھ کی تفریق ختم کرسکے گا؟

مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل وجود - پیر 04 اپریل 2022

ملک کی ممتاز صنعت کاراور مشہورکثیرقومی فارما کمپنی ’بائیوکون‘کی بانی کرن مجمدار شاہ نے روز بروز بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ منافرت پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا توہندوستان اطلاعاتی تکنالوجی کے میدان میں قائدانہ کردار سے محروم ہوجائے گا۔انھوں نے خ...

مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے! وجود - اتوار 03 اپریل 2022

رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ مبارک مہینہ جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کے طور پر انتہائی اہم ہے۔ یہ اہتمام خود خالق نے اپنی مخلوق کے لیے کیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے جہاں انفرادی طور پر یہ مبارک مہینہ معنی خیز ہے، وہیں یہ اجتماعی طور پر بھی مسلمانوں کی سمت کا...

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے!

رمضان اور نیند وجود - اتوار 03 اپریل 2022

دوستو،گزشتہ رمضان المبارک کے پہلے روزے کا سچاواقعہ ہے جو باباجی نے ہمیں مزے لے لے کر سنایا، بتانے لگے۔۔ دفتر میں کام زیادہ تھا،اس لیے روزہ وہیں ایک کھجور اور ایک گلاس پانی سے کھولا،جلدی جلدی کام نمٹانے لگاکیوں کہ تراویح بھی اپنے محلے کی مسجد میں پڑھنی تھی،آدھے گھنٹے بعد ہی میں د...

رمضان اور نیند

خط سے ہلچل وجود - هفته 02 اپریل 2022

تحرکِ عدمِ اعتمادکی کامیابی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کیونکہ ق لیگ کے سوانہ صرف تمام اتحادی حکومت سے الگ ہو چکے ہیں بلکہ حکمران جماعت کے اپنے کئی ممبران جماعت سے ناطہ توڑکر الگ ہو چکے ہیں اِس لیے حکومت کی تبدیلی میں کوئی امر مانع دکھائی نہیں دیتا جمہوریت میں ایسی تبدیلی کوئی انہون...

خط سے ہلچل

پاجا سراغ ِزندگی وجود - هفته 02 اپریل 2022

ہم اکثرایک دوسرے سے پوچھتے ہیں،کبھی حالات کا رونا روتے رہتے ہیں کوئی اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتاہے کوئی بھگوان سے ،لیکن ہر شخص سوچوںمیں گم ضرورہے ایک سوال دل و دماغ پر حاوی ہے کہ ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ درویش نے بڑی متانت سے حاضرین کے دلوںمیں موجزن ایک وسوسے کا تجزیہ کرتے...

پاجا سراغ ِزندگی

غلط فہمیاں۔۔ وجود - جمعه 01 اپریل 2022

دوستو،غلط فہمیاں بعض اوقات بندے کو شرمندہ ہونے پر مجبور کردیتی ہیں۔۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بار ہم اپنے پیارے دوست کے ہمراہ برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ کے قریب سے گزررہے تھے کہ اچانک دوست کاگول گپے کھانے کا موڈ ہوا۔۔ سامنے ہی گول گپے کا اسٹال تھا۔۔ ہم رک گئے اور جلدی سے دو پلیٹس گول گپوں...

غلط فہمیاں۔۔

کیا واشنگٹن پیوٹن کی حکومت کا تختہ اُلٹ سکتاہے؟ وجود - جمعرات 31 مارچ 2022

  امریکا دنیا کے ہرملک میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں اپنی من پسنداور مرضی کی کٹھ پتلی حکومت بنوانے کی بھرپور کوشش کرتاہے۔یہ وہ سنگین الزام ہے جو اکثر و بیشتر واشنگٹن پر عائد کیا جاتارہاہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے اردگرد بسنے والے بعض افراد تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دن...

کیا واشنگٹن پیوٹن کی حکومت کا تختہ اُلٹ سکتاہے؟

بے فضول یات وجود - بدھ 30 مارچ 2022

دوستو،کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اوٹ پٹانگ کچھ ایسی باتیں کرنے کا دل ہوتا ہے جس کا کوئی سرپیر نہیں ہوتا، جس کا کوئی مقصد نہیں ہوتا، جس کے پس پردہ کوئی کہانی نہیں ہوتی۔۔بس دل چاہتے ہیں ہلکی پھلکی گپ شپ ہوجائے اور چہرے مسکراجائیں۔۔ ورنہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ٹی وی کھولیں تو ٹ...

بے فضول یات

بلوچستان میں بھی عدم اعتماد کی گونج وجود - بدھ 30 مارچ 2022

ملک کے اندر سیاست اور حکومتی ایوانوں میں زلزلہ معمہ ہے نہ اسے سمجھنے میں کسی طرح کی دشواری ہونی چاہیے ۔میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف اکٹھ ،بعد ازاں دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی جام کمال خان عالیانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی سازش امروز کے کھیل کے مما...

بلوچستان میں بھی عدم اعتماد کی گونج

ہر پل بدلتا سیاسی منظر نامہ وجود - بدھ 30 مارچ 2022

پاکستان کے بارے عام خیال یہ ہے کہ اِس ملک میں کسی وقت بھی، کہیں بھی اور کچھ بھی ہو سکتا ہے سیاسی تناظر میں دیکھیں تو یہ خیال بڑی حد تک درست معلوم ہوتاہے کیا یہ کبھی کسی کے وہم و گمان میں تھا کہ کہ ن لیگ اور پی پی دونوں جماعتیں مل کر حکومت کے خلاف مشترکہ احتجاج کرسکتی ہیں؟کیونکہ د...

ہر پل بدلتا سیاسی منظر نامہ

جوڑ توڑ کی سیاست کا مستقبل؟ وجود - پیر 28 مارچ 2022

سابق صدر ِ پاکستان جناب آصف علی زردری اگر جوڑ توڑ کی سیاست کے بادشاہ کہلاتے ہیں تو دوسری جانب وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان بھی احتجاجی سیاست کے جادوگر کی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں ۔ یاد رہے کہ جوڑ توڑ کی سیاست کی بساط خفیہ راہ داریوں اور ڈرائنگ روم کے بند کمروں ...

جوڑ توڑ کی سیاست کا مستقبل؟

یہ جارحانہ ہندتوا کی جیت ہے! وجود - پیر 28 مارچ 2022

اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ان حلقوں میں مایوسی کی لہر دوڑادی ہے جو تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے تھے ۔بالخصوص یوپی اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کی واپسی پر سیکولر حلقوں میں غم کا ماحول ہے ۔اضطراب اور بے چینی کی ایسی لہر ہے جسے پوری طرح لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔انتخابی نتائج کو دیک...

یہ جارحانہ ہندتوا کی جیت ہے!

ہم کہاں کھڑے ہیں؟ وجود - پیر 28 مارچ 2022

  ترقی کے پس منظرمیں یہ جاننا بھی ضروری ہوتاہے کہ دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے ہمارا طرزِ عمل کیساہے ؟ دوسروںکا اس بارے میں نقطہ ٔ نظر کیا ہے؟ داخلی اور خارجی مسائل کیا ہیں؟ ہماری حکومتوںکے پاس اس کا سلوشن کیاہے؟ یا کیا ہونا چاہیے عوام کی اکثریت کو اس بات کا یقین ہے ک...

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

انوکھی طلاق۔۔ وجود - اتوار 27 مارچ 2022

دوستو،امریکا میں گزشتہ دنوں ایک خاتون نے اپنے شوہر سے ایک ایسی وجہ سے طلاق لے لی کہ سن کر پاکستانی شوہر چونک اٹھیں۔ خبر کے مطابق واقعہ کچھ یوں ہے کہ امریکی ریاست اوہائیو کے رہائشی اس شخص کا نام میتھیو فرے ہے، جسے اس کی بیوی نے اس لیے طلاق دے دی کہ اس نے اپنے گندے برتن بغیر دھوئے ...

انوکھی طلاق۔۔

تاشقند کے "راز" اور خان کا "سرپرائز" وجود - هفته 26 مارچ 2022

عمومی طور پر میں ہمارے وزیر داخلہ شیخ رشید کو کہیں مثال کے طور پر پیش نہیں کرتا ان کی جملہ بازی اور ان کا طریقہ گفتگو کبھی بھی پسند نہیں کیا مخالفین کے حوالے سے ان کے منہ سے جو "پھول" جھڑتے ہیں اور حکومت وقت کے لیے جو قصیدہ گوئی کرتے ہیں یہ ان کا ہی خاصا ہے ۔ اتفاق سے ان دنوں وہ ...

تاشقند کے

اوآئی سی کانفرنس اور اعلامیہ وجود - هفته 26 مارچ 2022

اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی)وزرائے خارجہ کونسل کا دوروزہ اجلاس اسلام آباد میں مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کے بعد اختتام پزیر ہو گیا ہے اِس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ وزرائے خارجہ کانفرنس کے اکثر شرکا نے نہ صرف یومِ پاکستان کی تقریب میں شرکت کی بلکہ پریڈ اور ہتھیاروں کی نمائش بھی د...

اوآئی سی کانفرنس اور اعلامیہ

سقوط ڈھاکا سے بڑاسانحہ وجود - جمعه 25 مارچ 2022

ایک صدی قبل جنوبی ایشیاء کے مسلمانوںنے ایک الگ وطن کاخواب دیکھا یہ خواب لاکھوںقربانیاں دے کر شرمندہ ٔ تعبیرہوا پھر ہم میں سے کچھ لوگوںنے اس خواب ِ دل پذیرکی الگ الگ تعبیر بنالی کسی کے لیے پاکستان شہرت کاسبب بنا ،کچھ اسے دولت کا ذریعہ بنا لیا کچھ نے اس وطن کو سیاست سیاست کا کھیل ب...

سقوط ڈھاکا سے بڑاسانحہ

پرامید رہیں، صحت مند رہیں وجود - جمعه 25 مارچ 2022

دوستو،امریکی نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ پراُمید رہتے ہیں اور ہر مسئلے میں مثبت پہلو تلاش کرتے ہیں، وہ نہ صرف دوسروں سے زیادہ صحت مند رہتے ہیں بلکہ ان کی عمر بھی قدرے طویل ہوتی ہے۔اگرچہ عام تاثر بھی یہی ہے کہ ’رجائیت پسند‘ یعنی ہر طرح کے حالات میں پرامید رہنے والوں کی صحت...

پرامید رہیں، صحت مند رہیں

مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر