وجود

... loading ...

وجود
انصاف پر اعتماد کیسے؟ وجود - هفته 29 اگست 2020

وہ نوجوان چلا رہا تھا اور انصاف کے لیے دہائی دے رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وہ یتیم ہے اور گھر کا واحد کفیل ہے ۔ گھر میں رہنے والی بوڑھی ماں اور بہنوں کا سہارا ہے ۔ اسے اس کا حق چاہیے ورنہ وہ اور اس کے گھر والے خودکشی پر مجبور ہوں گے ۔ بڑی سی صوفہ نما آرام دہ کرسی پر تمکنت سے براجمان شخص اس کی بات کو غور سے سن رہا تھا۔...

انصاف پر اعتماد کیسے؟

چین خلاف امریکا کی جنگی تیاریاں وجود - هفته 29 اگست 2020

موجودہ عالمی اور خطے کی صورتحال میں بظاہر جو کچھ نظر آرہا تصویر اس کا کوئی اور ہی رخ پیش کررہی ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکا نے چین کے خلاف بھارت کی مدد کے لئے اپنے خطرناک ایٹمی بمبار بی ۔2 اسٹلتھ طیارے ڈپلائے کردیئے ہیں۔ دوسری جانب بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تلخی ختم ...

چین خلاف امریکا کی جنگی تیاریاں

چٹ پٹی خبریں۔۔ وجود - هفته 29 اگست 2020

دوستو،آج آپ کے لئے کچھ چٹ پٹی اورمزے دارخبریں حاضر ہیں۔۔ایک خبر کے مطابق کورونا وائرس کے باعث لگائے گئے لاک ڈاؤن کے باعث دو ماہ کے دوران 76 فیصد افراد نے کسی شادی کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔یہ دلچسپ انکشاف گیلپ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ سروے کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔...

چٹ پٹی خبریں۔۔

مریم نواز کی سیاست وجود - جمعرات 27 اگست 2020

کیا مریم نواز اور شہباز شریف ایک دوسرے کے خلاف معرکہ آرا ہے؟ جاہ پسندی رشتوں کو چاٹ لیتی ہے۔ تاریخ کی گواہی تو یہی ہے۔ مغل تاریخ میں کیا کچھ موجود نہیں۔ تیموری روایت کے مطابق بادشاہ کی وفات کے بعد بڑا بیٹا تخت پر جلوہ افروز ہوتا تھا، مگر تخت کی چاہ خاندان میں سازشوں کو پروان چڑ...

مریم نواز کی سیاست

ڈوبتے کراچی کو کس کا سہارا؟ وجود - جمعرات 27 اگست 2020

ایک انجینئرنگ یونیورسٹی،کے تمام اساتذہ کوسیر پر لے جانے کیلئے ایک ہوائی جہاز میں بٹھایا گیا۔۔۔جب تمام اساتذہ جہاز میں اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے تو پائلٹ نے خوشی اور جوش بھرے لہجے میں اعلان کیا کہ ’’آپ تمام اساتذہ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ جس جہاز میں آپ بیٹھے ہیں اسے آپ ہی ک...

ڈوبتے کراچی کو کس کا سہارا؟

’’شیخ پیر‘‘ خواجہ سرا؟ وجود - بدھ 26 اگست 2020

دوستو،محققین نے معروف ادیب، ڈرامہ نگار اور شاعر ولیم شیکسپیئر غزلوں کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ یقینی طور پر شیکسپیئر مخنث یعنی خواجہ سراتھے۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیق کے نتائج آئندہ مہینوں میں شائع ہونے والی کتاب میں پیش کیے جائیں گے۔ محققین نے بتایا...

’’شیخ پیر‘‘ خواجہ سرا؟

کراچی کا حل میرٹ و قانون کا عملی نفاذ وجود - پیر 24 اگست 2020

کراچی کو دنیا بھر میں روشنیوں کے شہر کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن پھر وہ وقت بھی آیا کہ اس کی شناخت بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، اسٹریٹ کرائم و دیگر گھنائونے جرائم کے گڑھ کے نام سے مشہور ہوئی اور کراچی دنیا کے خطرناک ترین شہروں کی دوڑ میں شامل ہوگیا، عین ممکن تھا کہ...

کراچی کا حل میرٹ و قانون کا عملی نفاذ

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی ’’اعلانیہ قربت ‘‘کیا گل کھلائے گی؟ وجود - پیر 24 اگست 2020

ٓ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)،اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات قائم کرنے جارہا ہے ،دنیا پر سکتہ طاری ہوگیا ہے ۔خاص طور اسلامی دنیا پر یہ اعلان بجلی بن کر گرا ہے ۔ اسلامی ممالک جو پہلے ہی سفارتی و سیاسی معاملات پر ایک دوسرے سے سخت شاکی...

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی ’’اعلانیہ قربت ‘‘کیا گل کھلائے گی؟

کوڑا۔۔۔ کر۔۔کٹ۔۔۔ وجود - اتوار 23 اگست 2020

دوستو، آج اتوار ہے یعنی چھٹی کا دن، چھٹی والے دن شوہرات زیادہ تر گھر کے کام نمٹانے کے بعد ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اگر کرکٹ میچ آرہا ہوتو ان کی وقت اچھا پاس ہوجاتا ہے، بیگمات اپنے شوہرات کی چھٹی کی مناسبت سے کچن میں اسپیشل ڈشز بناتی ہیں اس طرح خواتین کا ٹائم بھی پاس ہوجاتا...

کوڑا۔۔۔ کر۔۔کٹ۔۔۔

’’غور‘‘ منٹ یا’’گور‘‘ منٹ ۔۔ وجود - جمعه 21 اگست 2020

دوستو،کسی ملک کے وزیراعظم نے اقتدار میں آنے سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ قرضہ نہیں لوں گا،لیکن آئی ایم ایف سمیت کئی مالیاتی اداروں سے خوب قرضے لیے گئے۔۔پھریہ دعوی بھی کیا تھا کہ پیٹرول، گیس، بجلی سستی کروں گاجب کہ سستا کرنا تودرکنار ان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا۔۔کہا میٹ...

’’غور‘‘ منٹ یا’’گور‘‘ منٹ ۔۔

اہلیانِ کراچی کا، بس اتنا سا خواب تھا۔۔۔! وجود - جمعرات 20 اگست 2020

سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے ایک بار کہا تھا کہ ’’شہری سیاست کے بل بوتے پر انتخابات جیت کرحکومت تو نہیں بنائی جاسکتی لیکن شہری سیاست کسی بنی بنائی انتخابی و جمہوری حکومت کو گرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے‘‘۔ پاکستانی سیاست پر ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی بصیرت سے لبری...

اہلیانِ کراچی کا، بس اتنا سا خواب تھا۔۔۔!

معاہدہ ابراہیم اور اسرائیلی سفیر امریکا وجود - جمعرات 20 اگست 2020

امریکی و برطانوی زیرسرپرستی سرزمین فلسطین پر یہودیوں کی آبادکاری کے بعد سے فلسطینی مسلمان اپنے وجود کے بحران سے دوچار ہیں۔ عرب روز اول سے ہی صہیونی تسلّط کو تسلیم کرنے سے انکاری رہے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد عرب اسرائیل جنگیں بھی ہوئیں، 1948، 1956 اور 1967 کی جنگوں میں عربوں کو ...

معاہدہ ابراہیم اور اسرائیلی سفیر امریکا

یک رنگ ہو جا وجود - پیر 17 اگست 2020

آئیے جنرل ضیاء الحق کے ذریعے پاکستانی سیاست کا چہرہ پہچانتے ہیں۔ نفاق کو کھنگالتے ہیں۔ سلیم احمد مرحوم نے لکھا تھا: عورت اور شاعری پورا آدمی مانگتی ہے‘‘۔ شاید جمہوریت بھی۔ جمہوریت کے خصائص و قصائد اُنہیں زیبا نہیں جو ادھورا ہو۔ طاقت کی جدلیات میں دستور ی بالادستی اور جمہوری حق...

یک رنگ ہو جا

ٹرمپ اور جوبائیڈن کی انتخابی جنگ میں دنیا کس کے ساتھ ہے؟ وجود - پیر 17 اگست 2020

دنیا کے کسی بھی جمہور ی ملک میں ہونے والے انتخابات اُس ملک کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی ملک میں منعقد ہونے والے انتخابات میں دنیا کے دیگر ممالک بھی اپنی بھرپور دلچسپی کا اظہار کریں ۔ لیکن امریکی انتخابات کی منفرد اور خاص بات ہی یہ ہے کہ اِن انتخابات می...

ٹرمپ اور جوبائیڈن کی انتخابی جنگ میں دنیا کس کے ساتھ ہے؟

مشرق وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل گیم وجود - اتوار 16 اگست 2020

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا ’’سفارتی معاہدہ‘‘ جسے’’ امن معاہدے ‘‘سے تعبیر کیا جارہا ہے۔کیا مشرق وسطیٰ کے سماجی ،سیاسی ا و رمعاشی مستقبل بالخصوص فلسطین کاز کو ایسے کسی معاہدے کی ضرورت ہے یا نہیں اس بحث سے ہٹ کر اتنا ضرور ہوا ہے کہ اسرائیل عرب دنیا میں خود کو ت...

مشرق وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل گیم

آنے والا کل وجود - اتوار 16 اگست 2020

دوستو،کہتے ہیں کہ انسان کو اگلے پل کا علم نہیں ہوتامگر پھر بھی وہ مستقبل کی پلاننگ بہت دھوم دھام سے کرتا ہے۔بچی کے پیدا ہوتے ہی اس کے جہیز کی فکر لگ جاتی ہے، بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے کسی اچھے اسکول میں داخلے کی ٹینشن شروع ہوجاتی ہے۔۔کل کیا ہونے والا ہے ، اس کا علم تو خدا کے علاو...

آنے والا کل

بیروت دھماکوں کاپس منظر وجود - هفته 15 اگست 2020

سولہ ستمبر 1977ء کی ایک سرد رات، اسرائیلی جنرل موشے دایان پیرس کے جارج ڈیگال ائر پورٹ پر اترتا ہے وہ تل ابیب سے پہلے برسلز اور وہاںسے پیرس آتا ہے جہاں پر وہ اپنا روایتی حلیہ بالوں کی نقلی وگ اور نقلی موچھوں کے ساتھ تبدیل کرکے گہرے رنگ کی عینک لگاکر اگلی منزل کی جانب روانہ ہوتا ہ...

بیروت دھماکوں کاپس منظر

کشمیر کی مقامی آبادی کو راتوں رات اقلیت بنانے کا منصوبہ وجود - هفته 15 اگست 2020

ایک سال قبل پانچ اگست کو ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تحلیل کرنے کے بعد بیشتر مبصرین خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ خطے کی مسلم اکثریتی ا?بادی کو اپنے ہی وطن میں اپنی ہی زمین پر ا قلیت میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ گو کہ اس طرح کے اقدام کو نافذ کرنے میں عملاً کئی سال درپیش ہوں گے مگ...

کشمیر کی مقامی آبادی کو راتوں رات اقلیت بنانے کا منصوبہ

بجلی بند ،میٹر چالو وجود - جمعرات 13 اگست 2020

اگر سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں فرینک شمیڈٹ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا چیئرمین نہ بنتاتو ہمیں خبر ہی نہیں ہوسکتی تھی کہ پاکستان میں اصل ’’بجلی چور ‘‘ کون ہے؟۔ جی ہاں ! فرینک شمیڈٹ کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھنے والا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ’’بجلی چور ‘‘عناصر کی بالکل در...

بجلی بند ،میٹر چالو

لوٹادو وہ بچپن کا ساون۔۔۔ وجود - بدھ 12 اگست 2020

دوستو،آج کالم کا جو عنوان ہے، ہمارے لیے بہت یادگار ہے۔۔ زمانہ طالب علمی تھا،شاید انٹریا میٹرک میں زیرتعلیم تھا، اس زمانے میں لاہور سے شائع ہونے ایک مزاحیہ ماہنامہ کا باقاعدہ قاری تھا، اس ماہنامے نے انیس سو اٹھاسی یا انیس سو نوے میں اپنے لکھاریوں کے درمیان ایک مقابلہ کرایا۔۔دل پھ...

لوٹادو وہ بچپن کا ساون۔۔۔

کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان کے آپشن وجود - بدھ 12 اگست 2020

آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ابتک پاک بھارت مخاصمت و عداوت میں 73 برس گزر چکے ہیں اور بلاشبہ مسئلہ کشمیر دونوں کے مابین خوشگوار تعلقات کی راہ میں بنیادی تنازعہ ہے۔ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی گیا، بہت سے ممالک نے ثالثی کی کوشش بھی کی اور کئی بار پاک بھارت باہمی ...

کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان کے آپشن

عدل و انصاف اورمنصب قاضی وجود - پیر 10 اگست 2020

کتاب الاوائل میں علامہ ابو ہلال عسکری لکھتے ہیں کہ تاریخ اسلام میں بنوامیہ کے عہد میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پوتے بلال بن ابی بردۃ بن ابی موسیٰ اشعری نے بطور قاضی فیصلے کے لیے رشوت وصول کرکے اپنا نام سب سے پہلے راشی قاضی کے طور پر تحریر کروایا۔ اسی بنو امیہ کے عہد میں جہاں بلال ...

عدل و انصاف اورمنصب قاضی

انسدادِ کرپشن کے ’’چینی نسخے‘‘ وجود - پیر 10 اگست 2020

ایران کا عظیم بادشاہ نوشیروان عادل ایک روز شکار کے لیے جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے باغ میں ایک پودا لگا رہا تھا۔ بادشاہ نے اپنا گھوڑا روک کر بوڑھے کو اپنے پاس بلایا اور اس سے سوال کیا’’بابا کیا تمہیں یقین ہے کہ تم اس پودے کا پھل کھا سکو گے؟‘‘۔بوڑھے نے ا...

انسدادِ کرپشن کے ’’چینی نسخے‘‘

بھارت اب شملہ معاہدہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا وجود - اتوار 09 اگست 2020

جنگ عظیم اول کے بعد دنیا کو تباہی سے بچانے اور عالمی انصاف کی فراہمی کے اہداف کے ساتھ لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکا، دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام عالم نے بہتر دنیا کی تشکیل کی غرض سے انجمن اقوام متحدہ کے قیام کو ضروری سمجھا۔ سابق امریکی صدر ہینر...

بھارت اب شملہ معاہدہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا

مضامین
شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود اتوار 18 جنوری 2026
برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر