وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

طالبان حکومت کا علان اور تحفظات

اتوار 12 ستمبر 2021 طالبان حکومت کا علان اور تحفظات

طالبان نے عبوری حکومت میں کئی ایسے چہروں کو اہم حثیت دی ہے جو پہلے بھی حکومت میں شامل رہ چکے ہیں اِس کا مطلب ہے کہ چند مصلحتوں کے باوجود طالبان بددستور اپنی سوچ کے مقید ہیں ملا ہیبت اللہ کو امیر المومنین کا منصب ملا ہے لیکن کچھ ایسی شخصیات کو بھی کلیدی عہدے سونپے گئے ہیں جن پر امریکا کو تحفظات ہیں جبکہ مذہبی گروہ بندی کے حوالے سے سختی جنرل قاسم سلیمانی کی کاوشوں سے قائم ایران اور طالبان کے قریبی روابط کو غیر ہموار کر سکتی ہے ایک بات واضح ہے کہ طالبان نے فیصلے کرتے ہوئے کسی بیرونی طاقت کی ہدایات یا احکامات کو اہمیت نہیں دی بلکہ تمام فیصلے آزادانہ مرضی سے کیے ہیں جس سے بھارت جیسے ممالک کی طرف سے بنائے اِس تاثر کی کچھ حد تک نفی ہوئی ہے کہ طالبان کسی ایک ملک یا خطے میں بننے والے کئی ممالک پر مشتمل بلاک کے زیرِ اثر ہیںمگر اب بھی حقانی نیٹ ورک کے سراج حقانی کو نئی حکومت میں شامل کرنے اور وادی پنج شیرکے بارے سخت فیصلوں سے امریکا اور ایران کے تحفظات غیر متوقع نہیں کیونکہ حقانی نیٹ ورک کوہنوز یو این او اور امریکا نے دہشت گردوں کی لسٹ سے خارج نہیں کیااِس لیے ممکن ہے کابینہ کے کچھ چہروں پر تنقید یا مزمت ہو علاوہ ازیں نئی کابینہ میں کسی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی خاتون کو آئندہ وزارت دینے کاعندیہ دیا گیا ہے جس پر خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں خفگی کا اظہار کر سکتی ہیں عبوری حکومت کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے طالبان ترجمان زبیح اللہ مجاہد کے اعتماد سے مترشح ہے کہ وہ کسی کی سننے کی بجائے صرف اپنی سنانا پسند کریں گے ۔
افغانستان میں نئی حکومت کا اعلان ہونے کے باجود بدامنی کے خدشات کم یا ختم نہیں ہوئے بلکہ معاشی بدحالی کے خطرات بھی منڈلانے لگے ہیں بے یقینی کی فضاسے طالبان پر سیاسی دبائو میں اضافہ ہوگااِس میں شائبہ نہیں کہ ملک کے تمام حصوں پر طالبان کا کنٹرول ہے وادی پنج شیر سے جنم لینے والی بغاوت کا خاتمہ ہو چکا ہے پھر بھی سیاسی مطلع صاف نہیں گرد آلودہے ثبوت مخالفانہ آوازیں اُٹھنا ہیں چاہے شرکا کی تعدادچند درجن یعنی محدود ہی سہی خواتین نے کابل میں احتجاجی مظاہر ہ کیا ہے نیز احمد ولی مسعود نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہم زخمی ضرور ہوئے ہیں ابھی مرے نہیں اور یہ کہ اب بھی ہمارے پاس ہزاروں جنگجو موجود ہیں جو کسی بھی وقت وادی میں واپس آسکتے ہیں چاہے قومی مزاحمتی محاز کے سربراہ احمد مسعود کے چچا احمد ولی مسعود کی شخصیت اب زیادہ اہم نہیں رہی مگروہ احمد شاہ مسعود کے بھائی ہیں جنھوں نے سوویت قبضے اور طالبان کے اقتدار کی مخالفت کی جن کے قتل کا القائدہ پر الزام ہے یہ اِ کا دُکا اُٹھنے والی مخالفانہ آوازیں ظاہر کرتی ہیں کہ طالبان کے لیے چیلنجز کم ضرورہوئے ہیںبالکل ختم نہیں ۔
حامد کرزئی سے لیکر اشرف غنی حکومت الزام لگاتی رہی ہیں کہ افغانستان کے معاملات میں پاکستان مداخلت کا مرتکب ہوتا ہے اِس تاثر کو پختہ کرنے میں بھارت اور امریکا نے ہمیشہ معاونت کی اب بھی کچھ چہرے اِس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش میں ہیں حالانکہ پاکستان ایک سے زائد بار تردید کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں اُس کا کوئی ایک فریق پسندیدہ نہیں بلکہ وہ محفوظ اورخوشحال افغانستان پر یقین رکھتا ہے لیکن کچھ مخصوص گروہ پاکستانی موقف کی نفی کرتے ہیں حالانکہ افغانوں کے ساتھ پاکستانیوں نے بھی جانی و مالی نقصان اُٹھایا ہے اسی لیے پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں بدامنی کا خاتمہ ہومگر کچھ بیرونی قوتیں افغانستان کوچین کے تعاون سے کاروباری مرکز بنتا نہیں دیکھنا چاہتیں کابل میں ہونے والے مظاہرے اِس بات کی تائید ہیں تاکہ چین کا کردار محدود ہو اور پاک افغان تعلقات بھی غیر متوازن رہیں حالانکہ طالبان ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے واشگاف اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی مداخلت کا پروپیگنڈہ غلط ہے ہمارے معاملات میں کسی کا دخل نہیں انھوں نے تو یہ چیلنج بھی کیا ہے کہ کوئی ثابت کر ے،ہم نے اسلام آباد کو فائدہ اور کبھی افغانستان کو نقصان پہنچایا ہے مگر باتیں بنانے والے خاموش نہیں ہو رہے بلکہ بضد ہیں کہ طالبان دراصل پاکستان کی پراکسی ہیں عبوری حکومت کے اعلان سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی کابل آمد کو بھی اسی تناظر میں دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ پاکستان نے غیر ملکیوں کے انخلا میں جتنا بھرپور تعاون کیا ہے وہ اُس کی غیر جانبداری کی تصدیق ہے مگرچند مخصوص ممالک کی طرف سے تحفظات کا اظہار ختم نہیں ہو رہا۔
کچھ ممالک کے تحفظات کے اظہار کے باوجود کچھ ممالک کی کوشش ہے کہ جلد از جلد افغانستان میں مستقل امن ہو تاکہ خطے میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہو سکے چین ،پاکستان ،روس اور وسطی ایشیا کی ریاستیں اِس حوالے سے پیش پیش ہیں مگر عبوری حکومت تسلیم کرنے پر محتاط ہیں یہاں تک کہ ترکی بھی خاص جوش وخروش کا مظاہرہ نہیں کر رہاحالانکہ کابل ائرپورٹ کورواں رکھنے کے حوالے سے پیش پیش ہے جو کافی حیران کُن ہے جس سے اِس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ امریکی ناراضگی کا ڈر طالبان کی مدد میں رکاوٹ ہے حقانی نیٹ ورک کو عبوری حکومت میں حصہ ملنے پر تنقید اور ایران کی طرف سے پنج شیر پر قبضے کے بعد سردمہری پر مبنی رویہ اِس امر کا متقاضی ہے کہ طالبان کے پاس غلطیوں کی گنجائش نہیں انھیں فیصلے کرتے ہوئے جو ش کی بجائے ہوشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا وگرنہ عالمی تائید میں کمی آسکتی ہے جس سے افغانوں کی مشکلات کا حل نکالنے کی عالمی امدادی کاوشیں سُست روی کا شکار ہو سکتی ہیں ۔
طالبان اپنی سوچ بدلنے کا تاثر دیتے ہیں لیکن عملی طورپرتبدیلی عنقا ہے کیونکہ دیگر نسلی گروہوں یا سیاسی قوتوں کو عبوری حکومت کا حصہ نہیں بنایا گیا اِس کی وجہ کیا ہے ؟ کیااِس لیے کہ وقتی طور پر حکومتی امور کی انجام دہی کی بنا پر وسیع البنیاد حکومت نہیں بنائی گئی اور ممکن ہے تمام دھڑوں پر مشتمل حکومت تشکیل دینے کے لیے ابھی سوچ بچار جاری ہو یا پھر طالبان سوچ سے متفق چہروں کوہی آگے لانے کا تہیہ ہے جو بھی وجہ ہے عبوری حکومت سے دنیا کواچھا تاثرنہیں ملا بظاہر جلد ہی دیگر دھڑوں کو حکومت میں نمائندگی ملنے کا امکان ہے لیکن غیر ملکی افواج کے پشت بانوں کو ساتھ لیکر چلنا طالبان کے لیے آسان نہیں ہو گااِس کا انھیں بھی احساس ہے حامد کرزئی ائر پورٹ کانام کابل ائر پورٹ رکھنے سے سابق حکمرانوں سے طالبان کی تلخی کا تاثر ملتا ہے اگر اتفاقِ رائے سے حکومت کی تشکیل نہیں ہوتی توتحفظات رکھنے والے ممالک امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اچھی بات یہ ہے کہ طالبان نے مسلح گروہوں سے اسلحہ جمع کر نا شروع کر دیا ہے اور منشیات کی تیاری پر پابندی عائد کر دی ہے جس سے نہ صرف طاقتور گروہوں کی آمدن اور لڑائی کی صلاحیت متاثر ہو گی بلکہ بیرونی قوتوں کے تحفظات میں کمی آئے گی مگر جب تک بھارت جیسے جارحانہ عزائم رکھنے والے ممالک مداخلت کے مرتکب ہوتے رہیں گے تب تک متفقہ حکومت کی تشکیل کے باوجود امن کو متاثر کرنے والے امکانات موجود رہیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا وجود پیر 25 اکتوبر 2021
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا

مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ وجود پیر 25 اکتوبر 2021
مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ

ابن ِعربی وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
ابن ِعربی

اصل ڈکیت وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
اصل ڈکیت

ایک خوفناک ایجادکی کہانی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
ایک خوفناک ایجادکی کہانی

مہنگائی اور احتجاج وجود هفته 23 اکتوبر 2021
مہنگائی اور احتجاج

امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی

بھوک اورآنسو وجود جمعه 22 اکتوبر 2021
بھوک اورآنسو

جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں

دل پردستک وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
دل پردستک

مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر

شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے

اشتہار

افغانستان
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان وجود پیر 25 اکتوبر 2021
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان

افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

اشتہار

بھارت
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی وجود پیر 25 اکتوبر 2021
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی

علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا

بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا
ادبیات
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی