وجود

... loading ...

وجود
وجود

شیر کا شکاری اور رائے ونڈمارچ

جمعه 30 ستمبر 2016 شیر کا شکاری اور رائے ونڈمارچ

imran-khan

میں جب بھی یہ نعرہ سنتا ہوں ’’ دیکھو دیکھو کون آیا ۔ شیر کا شکاری آیا ‘‘ تو مجھے قیامِ پاکستان سے پہلے ’’کپتان ‘‘ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کی ایک خونخوار شیر سے ’’ ہاتھا پائی ‘‘ کا واقعہ یاد آ جاتا ہے ۔

تاریخی حوالوں کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے ضلع میانوالی اور خوشاب کے سنگم پر واقع سالٹ رینج کے بلند ترین پہاڑ کے دامن میں ایک خونخوار شیر کی وجہ سے دہشت پھیلی ہوئی تھی ۔ آئے روز شیر کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو جانی و مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا تھا ۔

آدم خور شیر کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر علاقے میں تعینات پولیس انسپکٹر خان بیگ خان اپنے محافظ کے ہمراہ علاقے میں پہنچا تو شیر نے ان پر حملہ کر دیا۔انسپکٹر خان بیگ خان کے خود کو سنبھالتے سنبھالتے شیر اُن کے بہت قریب پہنچ گیا تھا ۔ انہوں نے اپنا ایک بازو شیر کے منہ میں دے دیا دوسرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی سنگین سے شیر کا پیٹ پھاڑ دیا ۔ اس معرکے میں پولیس انسپکٹر خان بیگ خان شدید زخمی ہوئے ان کا بازو شیر نے بُری طرح چبا دیا اور سر میں بھی گہرے زخم آئے ۔

انگریز سرکار نے جہاں پولیس انسپکٹر خان بیگ خان کو انعام سے نوازا وہاں انگریزحکومت کے ایک پولیس آفیسر کی جان خطرے میں ڈالنے کے جرم کی پاداش میں ان کی سر زنش بھی کی گئی ۔

یہی خان بیگ خان نیازی شیرمان خیل عمران خان کی دادی شکراں خاتون کے سگے بھائی تھے ۔ اسی وجہ سے عمران خان کے قبیلے کو میانوالی کے علاقے میں ’’ شیر مان خیل ‘‘ کی شناخت حاصل ہوئی۔ عمران خان اس قبیلے کی ذیلی شاخ ’’ علی شیر خان خیل ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی سال پہلے خان بیگ خان کی وفات سے قبل میں نے ایک ملاقات کے دوران اُن کے سر پر اُن زخموں کے نشان خوددیکھے تھے جو شیر سے لڑائی کے دوران ان کے سر پر آئے تھے۔ عمران خان کے خاندانی ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران خان جب بچپن اور جوانی میں جب کبھی میانوالی آتے تو وہ خان بیگ خان سے ضرور ملا کرتے تھے اور ان کی شیر سے لڑائی کا واقعہ ہر مرتبہ بڑی دلچسپی سے سُنا کرتے تھے ۔

سیاسی میدان میں عمران خان بالکل اُسی طرح ’’جان مار نے ‘‘ میں لگے ہوئے ہیں جس طرح وہ کرکٹ کے میدان میں اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرنے لیے جد و جہد کیا کرتے تھے ۔ آج عمران خان پاناما لیکس کے حوالے سے جاری اپنے احتجاج کے اہم ترین مرحلے میں رائے ونڈ پہنچ رہے ہیں ۔ان کے ساتھ شیخ رشید کے علاوہ کوئی دوسری سیاسی جماعت نہیں ہے ۔ اپوزیشن اور حکومت عمران خان کی اس سولوفلائٹ کو ان کی ضد قرار دے رہے ہیں جبکہ کپتان اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔ لوک گلوکار عطاء اﷲ خان عیسیٰ خیلوی کہتے ہیں کہ ’’ ہمارا خان سو لو فلائٹ میں ہی خوبصورت لگتا ہے۔‘‘ تحریک انصاف رائے ونڈ مارچ کے مقاصد حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو تی ہے یہ جلد سامنے آجائے گا ۔

اپوزشن جماعتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف میں بھی بہت سی قوتیں ایسی ہیں جو عمران خان کی جارحانہ اپوزیشن سے خائف ہیں اور عمران خان کی جانب سے وقتاً فوقتاً اُٹھائے جانے والے سخت اور انتہائی اقدامات سے پریشان نظر آتی ہیں ۔ 2014 ء کے دھرنے کے دوران جب عمران خان نے اپنے ارکانِ قومی اسمبلی کو مستعفیٰ ہونے کی ہدایات جاری کیں تو ان کے بہت سے ارکانِ اسمبلی کو بخار ہو گیا تھا ۔’’رائے ونڈ مارچ ‘‘ کا فیصلہ بھی عمران خان کا ذاتی فیصلہ ہے جسے صر ف ان کے کارکنوں کی حمایت حاصل ہوئی ۔ پارٹی لیڈر اور ان کے ارکان پارلیمنٹ کی بڑی تعداد ڈری اور سہمی ہوئی نظر آتی ہے۔ کسی دوسری جانب جانے کی ضرورت نہیں خیبر پختونخوا کے معاملات ہی کو دیکھتے ہیں تو اپنے مقاصد کی جدو جہد میں عمران خان اور ان کے کارکن(جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں ) اکیلے نظر آتے ہیں جبکہ ان کی پارٹی کی ’’اشرافیہ‘‘ کے مقاصد کچھ اور ہی نظر آتے ہیں ۔

2013 ء کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا کو عمران خان کی سیاسی اننگز میں ’’ ہوم گراؤنڈ ‘‘ اور ’’ہوم کراؤڈ ‘‘ کی حیثیت حاصل ہو ئی تھی ۔ بلند و بالا کہساروں کے دامن میں آباد غیور پٹھانوں سے انہیں محبت بھی بہت ملی ہے ۔ کے پی کے جنوبی اضلاع جو ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف مولانا فضل الرحمن کے ’’قلمرو‘‘ سمجھے جاتے تھے، وہاں کا اقتدار بھی ان کی پارٹی کے ہاتھ آگیا ۔ لیکن پرویز خٹک جنہیں کچھ دن پہلے تک عمران خان ’’ ملنگ ‘‘ کہا کرتے تھے ’’ سیاسی گُرو ‘‘ ثابت ہوئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ پرویز خٹک پارٹی کی بجائے اپنا گروپ مضبوط کرنے کے چکروں میں ہیں جس کی وجہ سے کارکنوں میں بد دلی پھیلی ہوئی ہے ،اس صوبے سے عمران خان کے لیے سب سے پریشان کن خبر یہ تھی کہ ان کی پارٹی کی جانب سے مخصوص نشستوں پر ممبر صوبائی اسمبلی بنائی جانے والی آٹھ ایم پی ایز اور ایک مرد ایم پی اے ایک برطانوی ادارے کی دعوت پر عین اُس وقت لندن چلے گئے جب عمران خان کی ہدایت پر چلائی جانے والی رائے ونڈ مارچ کی مہم زوروں پر تھی ۔

عمران خان اپنی قبائلی سرشت کی وجہ سے ضد کے پکے ہیں وہ جو درست سمجھتے ہیں پھر اُس کے لیے ڈٹ جاتے ہیں ۔ ان کی یہی استقامت سیاست میں ان کی خامی قرار دی جاتی ہے ۔ ’’ رائے ونڈ مارچ‘‘ ان کی سیاست پر دور رس اثرات مر تب کرسکتا ہے ۔ ہمارے بہت سے سیاستدان اور تجزیہ نگار اس مارچ کو اخلاقیات کے تناظر میں درست قرار نہیں دے رہے ،جبکہ بہت سو ں کے نزدیک یہ مکافاتِ عمل کا نتیجہ ہے۔مسلم لیگ ن نے سابق صدر فاروق لغاری مرحوم کے گھر ’’چوٹی زیریں ‘‘ کی جانب مارچ کیا تھا ،بہت دور کی بات نہیں چند ماہ پہلے لیگی ورکر لندن میں کپتان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے گھر کے باہر احتجاج کرتے نظر آئے تھے ۔

اہم ایشوز پر احتجاج سیاست کا حصہ ہوتا ہے ، اپوزیشن ہر ملک میں حکومت کے مقابلے پر ہوتی ہے ،پاکستان میں اپوزیشن اور حکومت کی اندرونِ خانہ ہمیشہ ایڈجسٹمنٹ رہی ہے ۔ یہاں باریاں لینے کا رواج ہے اسی لیے عمران خان کا طرزِ سیاست ہمارے ہاں عجیب محسوس ہوتا ہے۔ رائے ونڈ مارچ ہماری سیاست کا کیا رُخ متعین کرتا ہے اس حوالے سے کچھ کہنا ابھی مناسب نہیں ہے البتہ قوم پر حقیقی اور جعلی حزبِ اختلاف کا فرق واضح ہو جائے گا ۔


متعلقہ خبریں


بدلنے والا شیخ انوار حسین حقی - پیر 03 اکتوبر 2016

راولپنڈی کی لال حویلی کے مکین شیخ رشید احمد نے جب سے’’ اپنی ‘‘ سیاست شروع کی ہے۔ اُس وقت سے لے کر اب تک انہوں نے خود کو سیاست میں ’’ اِن ‘‘ رکھا ہوا ہے۔ اُن کی سیاسی کہانی مدو جذر اور پلٹنے جھپٹنے سے عبارت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود راولپنڈی کے دو انتخابی حلقوں سے باہر نہیں نکل سکے۔ وہ پاکستانی سیاست کے اُس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو 1985 ء کی غیر جماعتی پارلیمان کی پیداوار ہونے کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق مرحوم کی باقیات کا حصہ کہلاتا ہے۔ ...

بدلنے والا شیخ

عمران خان نے تنہا میدان مار لیا، محرم بعد اسلام آباد بند، عمران خان کا اعلان وجود - هفته 01 اکتوبر 2016

تحریک انصاف اندرونی انتشار اوربیرونی دباؤ کے باوجود عمران خان کی قیادت میں رائیونڈ میں نہ صرف ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے بلکہ رائیونڈ سے حکومت چلانے والے شریف برادران کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی بجانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ کسی بھی ابہام کے بغیر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عمران خان پاکستان کے واحد رہنما ہے جو اب بڑے عوامی جلسوں کے کامیاب انعقاد کی کشش رکھتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عمران خان نے انصاف یوتھ ونگ کو معطل کردیا تھا۔ جسٹس وجیہہ الدین نے تحریک انصاف سے عل...

عمران خان نے تنہا میدان مار لیا، محرم بعد اسلام آباد بند، عمران خان کا اعلان

ستمبر رائے ونڈ مارچ حکومت کی’’نرم پالیسی‘‘ نے ستمگری کم کردی ابو محمد نعیم - جمعه 23 ستمبر 2016

تحریک انصاف کے30ستمبر کو ہونے والے رائے ونڈ مارچ کے خلاف مسلم لیگ (ن) جس طرح مقابلے کاتاثر دے رہی تھی اب اس پالیسی میں اچانک تبدیلی کو سیاسی حلقوں کی جانب سے یوٹرن کہا جارہا ہے یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا 14 اگست 2014ء کو لاہور سے شروع ہونے والے مارچ کے بارے میں مسلم لیگ(ن) نے کیا تھا ،پہلے بڑھکیں ماری گئیں اورپھر گوجرانوالہ میں جھڑپیں سامنے آئیں لیکن اسلام آباد پہنچنے تک حالات ایسے بدلے کہ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری دھرنے کے شرکاء کیلئے ناشتہ لے کر پہنچ گئے...

ستمبر رائے ونڈ مارچ حکومت کی’’نرم پالیسی‘‘ نے ستمگری کم کردی

اندھے سفر کا حاصل ۔۔؟ انوار حسین حقی - پیر 05 ستمبر 2016

کراچی کے نو منتخب میئر وسیم اختر نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں ـ’’ جئے بھٹو ‘‘ اور ’’ جئے عمران خان ‘‘ کے نعرے لگائے تو ماضی کے دھندلکوں سے 12 ستمبر2007 ء کا منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ مری یادوں کے خزانے چٹیل ویرانوں اور کچلے ہوئے خوابوں کے ریزوں جیسے ہیں۔ تپاں جذبوں سے قرطاس و قلم کی مشقت کے کالے لفظوں میں گونجتی، پھنکارتی، ذہنی تھکن اور چٹخے ہوئے اعصاب کی چیخوں کے تسلسل میں مجھے اُس وقت کی سندھ حکومت کے مشیر داخلہ وسیم اختر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ک...

اندھے سفر کا حاصل ۔۔؟

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور سیاست کی بھیرویں انوار حسین حقی - پیر 29 اگست 2016

پروفیسر منور علی ملک میرے انگزیری کے اُستاد اور عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے دوست ہیں ۔ اپنی کتاب ’’ درد کا سفیر ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ اُونچے سُروں کی شاخوں میں اُلجھ کر جب یہ آواز کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھٹراتی ہے تو روح کا شجر جڑوں تک لرز اُٹھتا ہے ۔ اور پھر جب اس بلندی سے کسی زخمی پرندے ہی کی طرح یہ آواز ایک ہچکی کے ساتھ نیچے کو آتی ہے تو ہارمونیم پر عطاء کی انگلیوں کی لرزش رقصِ بسمل کا منظر بن جاتی ہے ‘‘۔۔۔ پروفیسر صاحب اسی پر اکتفا نہیں کرتے وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ یہ آو...

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور سیاست کی بھیرویں

غازی علم الدین شہید ۔ شہیدِ پاک طینت انوار حسین حقی - هفته 31 اکتوبر 2015

جیل یا عقوبت خانے کا تصور یا تاثر کبھی خوشگوار نہیں ہوتا۔۔۔ پھانسی گھاٹ تو ہوتا ہی خوف اور دہشت کی علامت ہے۔انسان کو اپنا سکون اور جان بہت عزیز ہوتی ہے۔ اس لئے جیل جانا کسی کو بھی پسندیا قبول نہیں ہوتا۔۔ 31 ؍ اکتوبر غازی علم دین شہید کی برسی کے موقع پر سینٹرل جیل میانوالی کے دورے کی خواہش تھی ۔ خوش قسمتی سے ایک روز پہلے مجھے یہ دعوت موصول ہوئی کہ کل سینٹرل جیل میں غازی علم دین شہیدؒ کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام ہے۔ دعوت کو سعادت سمجھتے ہوئے خوشی خوشی جیل پہنچ گئے۔پنجاب کی اس م...

غازی علم الدین شہید ۔ شہیدِ پاک طینت

محمد منصور آفاق انوار حسین حقی - جمعه 30 اکتوبر 2015

محمد منصور آفاق شاعر ، ادیب، ڈراما نگار اور کالم نگار کی حیثیت سے ہمہ جہت شخصیت کا مالک ہے ۔ وہ اپنی ہر غزل، نظم ،شعر ، مصرعے، ڈرامے اور کالم سے پہچانا جاتا ہے ۔ میں محمد منصور آفاق کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب وہ تخلیقی عمل میں پوری طرح گرفتار ہونے کے لئے ’’قلبی وارداتیں ‘‘ کرنے کی بجائے ادبی معرکہ آرائیوں کی سالاری میں مگن پایا جاتا تھا۔میری اُس سے شناسائی دوچار برس کی بات نہیں بلکہ تین دہائیوں کی کہانی ہے اُس کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلوؤں کی یادوں کی ہوائیں اکثر یادداشت کے شہر...

محمد منصور آفاق

کپتان کا خاندانی پس منظر انوار حسین حقی - هفته 10 اکتوبر 2015

نیازی قبائل کی برصغیر میں آمد کا سلسلہ ہندستان پر سلطان محمود غزنوی کی ’’ دستک ‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔لیکن ان قبائل کی باقاعدہ منظم شکل میں اس علاقے میں آمد بہت بعد کی بات ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ نیازیوں کی اکثریت اوائل میں غزنی کے جنوبی علاقے میں آباد تھی ۔ اس علاقے پر انڈروں اور خلجیوں کے آئے دن کے حملوں سے تنگ آکر یہ لوگ ترک سکونت پر مجبور ہوئے اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ ٹانک سے ہوتے ہوئے میانوالی کے علاقہ میں آئے۔ میانوالی میں پٹھانوں کے نیازی قبائل میں بلو خیل قبیلہ کو مم...

کپتان کا خاندانی پس منظر

کپتان کی گھریلو زندگی اور پاکستانی ذرایع ابلاغ انوار حسین حقی - هفته 26 ستمبر 2015

پاکستان کے انحطاط پزیر معاشرے کی صحافت کے رنگ نرالے ہی نہیں مایوس کُن بھی ہیں۔ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے غیر تربیت یافتہ اینکرز کی صحافت ایک ایسی موج کی طرح رقص کناں ہے جسے ہر دم یہ گماں رہتا ہے کہ اُس کا عین اگلا اُچھال اُسے ساحلِ مراد سے ہمکنار کر دے گا۔ لیکن حقائق کی منہ زور ہواؤں کا محض ایک تھپیڑااُسے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل کر بے شباہت کر دیتا ہے۔ ان اینکرزکی ذاتی زندگیاں، صحافتی اداروں خصوصاً چینلز کی اندرونی کہانیاں ہوش رُبا اور عبرتناک ہیں لیکن یہ سب کچھ ’’ا...

کپتان کی گھریلو زندگی اور پاکستانی ذرایع ابلاغ

شیر کا شکاری اور نمل شہرِ علم انوار حسین حقی - جمعه 18 ستمبر 2015

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ عمران خان اپنی اہلیہ ریحام خان کے ہمراہ’’نمل شہر علم ‘‘ میں موجود تھے۔ عمران خان نے شوکت خانم جیسا سماجی خدمت کا ادارہ قائم کیا ۔ کراچی اور پشاور کے شوکت خانم ہسپتال بھی تکمیل کے مراحل کے قریب ہیں ۔میں نے ان عظیم الشان اداروں کے حوالے سے عمران خان کو کبھی اتنا جذباتی اور پُرجوش نہیں پایا جتنا وہ میانوالی کی نمل یونیورسٹی کے حوالے سے ہیں ۔ وہ ’’ نمل شہر ِ علم ‘‘ کی تعمیر کو اپنا جنون قرار دیتے ہیں۔ وہ ریحام خان کے ہمراہ دردِ دل رکھنے والے ڈونرز کو سالٹ...

شیر کا شکاری اور نمل شہرِ علم

اکیسویں صدی کا پاکستان اورغیر انسانی وسیلہ روزگار انوار حسین حقی - بدھ 16 ستمبر 2015

دریائے سندھ کے شمالی کنارے اور سلاگر پہاڑ کی ڈھلوان پر آباد سینکڑوں سال پرانے شہر کالاباغ کامحنت کش اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بھرنے کے لئے ’’ سائیکل رکشہ‘‘ کے ذریعے جانوروں کی طرح انسان کا بوجھ کھینچنے پر مجبور ہے۔عظیم مسلمان فاتح سلطان محمود غزنوی کے دور میں آباد ہونے والے اور سابق گورنر مغربی پاکستان ’’ نواب امیرمحمد خان آف کالاباغ کی وجہ سے ملک گیر شہرت حاصل کرنے والے اس شہر میں سائیکل رکشہ کی مزدوری کم و بیش ڈیڑھ صدی سے رائج ہ...

اکیسویں صدی کا پاکستان اورغیر انسانی وسیلہ روزگار

اُردومتمدن ہے گلبانگِ ثقافت ہے انوار حسین حقی - جمعرات 10 ستمبر 2015

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس جوادایس خواجہ بطور چیف جسٹس اپنی بائیس روزہ تعیناتی مکمل کرکے ریٹائر ہو گئے ہیں ۔ 18 ؍ اگست 2015 ء کو اپنا منصب سنبھالتے ہوئے اُنہوں نے قوم کے ماضی کے حسین البم سے نغمہ عشق و محبت کی کہانی کے طور پر اردو زبان کو نطق و تکلم کے جواں عالم کے طور پر پیش کرتے ہوئے قومی زبان اردو میں حلف اُٹھا یا ۔ اس تقریب کا اپنا ہی سرور تھا ۔ صدر ممنون حسین کی شیروانی کی روایتی سلوٹیں ان کے اردو لہجے میں دبی ہوئی تھیں جب ہی تو پرنٹ ، الیکٹرونک اور سوشل...

اُردومتمدن ہے گلبانگِ ثقافت ہے

مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)