وجود

... loading ...

وجود
وجود

اندھے سفر کا حاصل ۔۔؟

پیر 05 ستمبر 2016 اندھے سفر کا حاصل ۔۔؟

waseem-akhtar

کراچی کے نو منتخب میئر وسیم اختر نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں ـ’’ جئے بھٹو ‘‘ اور ’’ جئے عمران خان ‘‘ کے نعرے لگائے تو ماضی کے دھندلکوں سے 12 ستمبر2007 ء کا منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ مری یادوں کے خزانے چٹیل ویرانوں اور کچلے ہوئے خوابوں کے ریزوں جیسے ہیں۔ تپاں جذبوں سے قرطاس و قلم کی مشقت کے کالے لفظوں میں گونجتی، پھنکارتی، ذہنی تھکن اور چٹخے ہوئے اعصاب کی چیخوں کے تسلسل میں مجھے اُس وقت کی سندھ حکومت کے مشیر داخلہ وسیم اختر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سندھ بدری کے احکامات پر گفتگو کرتے نظر آئے۔ 12 ستمبر2007 ء کو عمران خان کراچی پہنچتے ہیں تو پولیس حکام انہیں محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ30یوم تک کراچی میں ان کے داخلے پر پابندی کے احکامات دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد کپتان کو شاہین ایئر لائنز کی پرواز کے ذریعے صوبہ بدر کرکے اسلام آباد واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ اور کراچی ائیر پورٹ پر عمران خان کے استقبال کے لیے پہنچنے والے متعدد کارکن بھی گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔

وسیم اختر کا اپنے اس اقدام کی وضاحت کے لیے اُس وقت یہ کہناتھا کہ اکتوبر2006 ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک بلا روک ٹوک رواں رہنی چاہیئے۔ ہم نے اسی مقصد کے لیے دفعہ144 نافذ کر دی ہے اور کراچی کی سڑکوں پر ریلیاں نکالنے پر پابندی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے عمران خان کی کراچی میں ریلی کے پروگرام سے ایک دن قبل ہی 11 ستمبر کودفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔ یہ پابندی لگائے جانے سے ایک روز قبل 10 ستمبر2007 ء کو چشم فلک نے کراچی میں فسطایت کا یہ منظر بھی دیکھا تھاکہ سندھ ہائی کورٹ کے اندر اور باہر متحدہ قومی مومنٹ کے سینکڑوں کارکنوں کے ہجوم سے پیدا ہونے والے حالات نے ہائی کورٹ کے فل بنچ کو سانحہ 12 مئی کی انکوائری ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ جانے والی تمام سڑکیں بلاک ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے وکیلوں اور عام شہریوں کے لیے سندھ ہائی کورٹ پہنچنا مشکل ہو گیا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بعض لوگوں نے یہ شکایات بھی کی تھیں کہ انہیں عدالت کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ کورٹ کے ایک عہدیدار نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’’ اے ایف پی ‘‘ کو بتایا تھا کہ ان حالات میں عدالت کے لیے سماعت جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ موقع پر جو لوگ موجود تھے ان کے حوالے سے یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ ’’ انہوں نے عمارت پر قبضہ کر لیا ہے اور عدالت سے باہر جانے اور اندر آنے والے ہر شخص کو چیک کرنا شروع کر دیا ہے ‘‘

انہی دنوں میں اس قسم کا سلوک ایم کیو ایم کی جانب سے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ انہیں کراچی ہائی کورٹ نہیں پہنچنے دیا گیا تھا۔ خائن دور کی انہی بددیانت ساعتوں میں ایم کیو ایم نے کراچی کو پرویز مشرف کے مخالفین کے لیے نو گوایریا بنانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں 12 مئی کا اندوہناک اور المناک سانحہ رونما ہوا۔ عمران خان نے اس ساری صورتحال پر ردِ عمل کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ وہ کراچی آئیں گے اور بار بار آئیں گے۔ وہ فوج کو پرویز مشرف سے اور اردو بولنے والوں کو الطاف حسین سے بچانا چاہتے ہیں ـ‘‘۔

آج کل ایم کیو ایم کی جانب سے الطاف حسین سے کیے جانے والے ’’ اعلان ِ برأت ‘‘ کا ہنی مون پیریڈ ہے۔ نئے قائد فاروق ستار کو الطاف حسین سے تعلق توڑنے کے معاملے کو دوسروں کے لیئے قابلِ یقین بنانے کے لیے اُتنا ہی زور لگانا پڑ رہا ہے جتنا وہ اپنے سابق قائد سے وفاداری کے اظہار پر صرف کیا کرتے تھے۔ بے بسی اور بے کسی کی اس صورتحال میں متحدہ اپنا قائد اور آئین بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنا طرزِ عمل بدلنے پر بھی مجبور نظر آتی ہے۔ وسیم اختر اور فاروق ستار کے سابقہ سارے یقین گمان کی دھند میں گم ہو چُکے ہیں۔

اب قومی اسمبلی میں متحدہ قائد فاروق ستار دیوار سے لگائے جانے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی یہ بات درست ہے کہ سارے اردو بولنے والوں کو سزا دینا مناسب نہیں۔ فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کو سارے اردو بولنے والوں کا خیال کاش کچھ عرصہ پہلے آجاتا جب الطاف کے فلسفے کے لیے ایم کیو ایم نے سارے مہاجروں کو داؤ پر لگایا ہوا تھا۔ شہر قائد کے اکثرعلاقوں پر اک ظلمت زدہ اور منحوس تہ خانے کا گماں ہوتا تھا۔ اس ماحول میں ایسا لگتا تھا جیسے کلینڈر پر بھی سیاہی پھیر دی گئی ہو اور تاریخ آگے کھسکتی نظر نہیں آتی تھی۔

ماضی کی ایم کیو ایم ہمیشہ سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دلدار رنگوں کے تعاقب کے لبادے میں سرگرمِ عمل رہی ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ

سرکار کے حضور رکوع و سجود بھی
سرکار سے علیحدگی رہتی ہے زیر غور
گفتار میں شیرنیاں کردار میں جبر وجور
کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور

ماضی کی بات چل نکلی تو یہ قصہ بھی ماضی ہی سے جڑا ہے کہ 17 جون 2007 ء کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ’’ ایم کیو ایم مجھ سے ڈیل کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے ‘‘۔آج اپنا سینہ رازوں سے بھرا ہونے کا دعویٰ کرنے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے جو اُن دنوں ایم کیو ایم کے کوٹے سے جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں مذہبی اُمور کے وزیر مملکت کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھے ’’روزنامہ جناح ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے یہ کہتے سُنے گئے تھے ’’ ایم کیو ایم سیز فائر کے لیئے تیار ہے۔ مگر عمران خان جارحانہ رویہ ترک کردیں۔ الطاف حسین کو دہشت گرد قرار دینے والے ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ عمران خان سے میری ذاتی لڑائی نہیں ہے وہ نہ جانے کس کی باتوں میں آکر الطاف حسین کے خلاف کارروائی کرنے لندن چلے گئے ہیں عمران خان سیاسی قد بڑھانے کے لیئے ایسے حربے ؤ استعمال کر رہے ہیں جو ان کا قد مزید چھوٹا کر رہے ہیں۔ ‘‘

گزشتہ تیس سالوں کے بدترین حالات میں بھی مَیں نے کراچی کے معلم فطرت عوام کو کبھی مایوس نہیں پایا۔ نااُمیدی کے گناہ سے دوری نے ان کے لیے اب اُمید کے دیئے کی لو بڑھانا شروع کر دی ہے۔ جن لوگوں نے الطاف حسین کے ساتھ مل کر کراچی کے عوام کو درِ زنداں میں مقفل کرکے چابی’’ قلزمِ لولاک‘‘ میں پھینکی تھی وہ لوگ اب ’’کہیں پاک سرزمین پارٹی‘‘ اور کہیں ’’نئی متحدہ‘‘ کے پلیٹ فارم سے وہ چابی ’’ وسعتِ افلاک ‘‘ میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور نہ جانے یہ لوگ کب تک دھند میں کھوئے ہوئے آفاق چھانتے رہیں گے۔ ۔؟؟؟ ابھی ان لوگوں کی مشقت کی بڑی معیاد باقی ہے کاش ماضی میں یہ لوگ کبھی اپنے قائد سے یوں مخاطب ہوئے ہوتے۔ ۔۔

بجائے گولیوں کے
دھات سے تم ڈھالتے سکے
تو جانے کتنے بچے
ٹافیوں سے جھولیاں بھر کے
چہکتے جھومتے
اپنے سکولوں کی طرف جاتے
نہ بنتے کارتوس اے کاش
اُن پیسوں سے تم کاغذ بناتے
کچھ کتابیں چھاپ لیتے
اور
دانش عام کر دیتے
تو جانے کتنے بچے
عصرِ نو میں نور برساتے۔ ۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


فراہمی آب کے میگا منصوبے کے فور کے ڈیزائن میں پھر تبدیلی،12 ارب روپے ضائع وجود - هفته 22 جنوری 2022

شہر قائد میں فراہمی آب کے میگا منصوبے کے فور کے ڈیزائن میں ایک بار پھر تبدیلی کردی گئی ہے، جس کے باعث 12 ارب روپے ضائع ہوگئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق کے فور منصوبے کا نیا ڈیزائن تیار کیا گیا ہے، 650 ملین گیلن کا منصوبہ اب 260ملین گیلن تک محدود کردیا گیا ہے، نئے ڈیزائن میں منصوبے کی لمبائی127کلومیٹر سے کم ہوکر108کلومیٹر رہ گئی ہے، منصوبے کی پی سی ون تیار کی جاچکی ہے، جسے جلد ہی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)سے منظورکیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق منصوبہ اوپن کینال کے بجا ئے...

فراہمی آب کے میگا منصوبے کے فور کے ڈیزائن میں پھر تبدیلی،12 ارب روپے ضائع

کراچی میں گرین لائن بس سروس آج سے مکمل فعال کرنے کا اعلان وجود - پیر 10 جنوری 2022

سینئر مینیجر ایس آئی ڈی سی ایل عبدالعزیزنے کہاہے کہ شہر میں گرین لائن بس سروس آج سے مکمل طور پر فعال کردی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے باسیوں کے لئے اچھی خبر ہے کہ شہر میں گرین لائن بس سروس مکمل طور پر فعال کردی جائے گی، 80 بسوں کا بیڑہ مکمل طور پر فعال رہے گا۔اس حوالے سے سینئر مینیجر ایس آئی ڈی سی ایل عبدالعزیز نے بتایا کہ پیر سے نئی جدید ہائبرڈ بسیں 21 کلومیٹر کے ٹریک پر آپریشنل ہوجائیں گی، بسیں تمام 21 اسٹیشنز پر اسٹاپ کریں گی، سرجانی تا نمائش بس سروس صبح 7 سے رات 1...

کراچی میں گرین لائن بس سروس آج سے  مکمل  فعال کرنے کا اعلان

بارش برسانے والا سسٹم کراچی سے نکل گیا، سردی کی شدت میں اضافہ وجود - جمعه 07 جنوری 2022

ایران سے آنے والا بارش برسانے والا سسٹم کراچی سے نکل گیا ، جس کے بعد شہر بارش کا کوئی امکان نہیں تاہم سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیاہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ہونے والی بارش کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ، محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ایران سے آنیوالابارش برسانے والا سسٹم کراچی سے نکل گیا ہے ، شہر میں تیز بارش کا کوئی امکان نہیں لیکن ہلکی بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں جمعہ کودرجہ حرارت 18 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیاگیا جبکہ18 کلومیٹر فی گھنٹے کی رف...

بارش برسانے والا سسٹم کراچی سے نکل گیا، سردی کی شدت میں اضافہ

نسلہ ٹاور کی 15 میں سے 7 منزلیں گرا دی گئیں،4منزلوں پر پارکنگ اور 11 پر رہائشی فلیٹ تھے وجود - جمعرات 06 جنوری 2022

کراچی میں عدالتی حکم پر نسلہ ٹاور کو گرانے کا کام جاری ہے، 15 منزلہ عمارت کی 7 منزلیں گرا دی گئی ہیں۔حکام کے مطابق نسلہ ٹاور کی 4 منزلوں پر پارکنگ اور 11 پر رہائشی فلیٹ تھے، 11 میں سے 7 رہائشی منزلیں گرائی جاچکی ہیں جبکہ بالائی منزل پر مشینری لگا کر عمارت کو گرانے کا کام مسلسل جاری ہے۔عمارت گرانے کا کام کے دوران حفاظتی اقدامات کے تحت نسلہ ٹاور کے اطراف کے تمام روڈ مکمل بند کئے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ کراچی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر گرائے جانے والے نسلہ ٹاور کی غیر قانو...

نسلہ ٹاور کی 15 میں سے 7 منزلیں گرا دی گئیں،4منزلوں پر پارکنگ اور 11 پر رہائشی فلیٹ تھے

کراچی میں بجلی فی یونٹ ایک روپے 7 پیسے مزید مہنگی وجود - بدھ 05 جنوری 2022

نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اکتوبر2021 کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی کے صارفین کے لیے بجلی فی یونٹ ایک روپے 7 پیسے مہنگی کردی۔ نیپرا نے کےـالیکٹرک کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق مذکورہ اضافہ اکتوبر2021 کی فیول ایڈ جسٹمنٹ کی میں کی گئی ہے۔اس اضافے سے کراچی کے صارفین پر ایک ارب 91 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔نیپرا نے کہا کہ صارفین سے اضافہ جنوری 2022 کے بلوں کے ساتھ وصول کیا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق کے...

کراچی میں بجلی فی یونٹ ایک روپے 7 پیسے مزید مہنگی

کراچی میں بجلی 5 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافے کا خطرہ وجود - پیر 03 جنوری 2022

کراچی کے شہری بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کیلئے تیار ہوجائیں، نیپرا کے الیکٹرک کی درخواستوں پر بجلی کی قیمت میں 5 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست پر آج(پیر) سماعت کرے گی۔ کے الیکٹرک نے بجلی کی قیمت میں 5 روپے50 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی دو الگ الگ درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں، کے الیکٹرک کی جانب سے اضافہ ایک سہ ماہی اور ایک ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا ہے۔ کمپنی نے جولائی تا ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ کیلئے بجلی5 روپے 18 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دی ہے جبک...

کراچی میں بجلی 5 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافے کا خطرہ

کراچی میں سال 2021 میں آتشزدگی کے 2300 واقعات پیش آئے وجود - جمعه 31 دسمبر 2021

سال2021 میں شہر قائد کے مختلف علاقوں میں آتشزدگی کے 2300 سے زائد واقعات پیش آئے جس میں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ بھاری مالیت کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق سال2021میں سب سے خطرناک آگ کورنگی صنعتی ایریا مہران ٹائون میں قائم سفری بیگ بنانے والی فیکٹری میں لگی جس میں 16 قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جبکہ صدر میں کو آپریٹو مارکیٹ اور وکٹویہ سینٹر میں آتشزدگی کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کے ملبوسات، کپڑا، دکانیں، گودام اور دیگر سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔روا...

کراچی میں سال 2021 میں آتشزدگی کے 2300 واقعات پیش آئے

مدینہ مسجد طارق روڈ کا انہدام:سپریم کورٹ کے فیصلےپر جمعیت علمائے اسلام سندھ متحرک وجود - جمعرات 30 دسمبر 2021

جمعیت علمائے اسلام صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے اعلی سطحی وفد کے ہمراہ مدینہ مسجد کمیٹی طارق روڈ کے ممبران اور ذمہ داران سے ملاقات کی۔علامہ راشد سومرو نے مسجد انتظامیہ کو جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا خصوصی پیغام پہنچایا کہ مسجد کا ہرصورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا مسجد کمیٹی نے بتایا کہ طارق روڈ کراچی میں مدینہ مسجد 1980 میں بنائی گئی اب اس کے بارے میں سپریم کورٹ نے گرانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ مدینہ مسجد کی زمین پی ای ایچ سی ...

مدینہ مسجد طارق روڈ کا انہدام:سپریم کورٹ کے فیصلےپر جمعیت علمائے اسلام سندھ متحرک

سندھ میں رواں سال 7 ہزار سے زائد بچے نمونیہ سے زندگی کی بازی ہارگئے وجود - بدھ 29 دسمبر 2021

سندھ میں رواں سال 7 ہزار سے زائد بچے نمونیہ سے زندگی کی بازی ہارگئے۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق جان کی بازی ہارنے والے تقریباً تمام بچوں کی عمریں 5 سال سے کم ہیں جبکہ 5 سال سے زائد عمر کے 46 بچے انتقال کرچکے ہیں۔محکمہ صحت نے بتایا کہ نمونیہ سے کراچی سمیت سندھ کے تمام اضلاع میں 27 ہزار 136 بچے متاثر ہوئے ہیں، 5 سال سے زائد عمر کے 8 ہزار 534 بچے متاثر ہوئے ہیں، متاثرین میں 40 فیصد شہری اور 60 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق یہ تمام بچے وہ ہیں جو طبی مراکز پہن...

سندھ میں رواں سال 7 ہزار سے زائد بچے نمونیہ سے زندگی کی بازی ہارگئے

کراچی میں 40 سال کی تاخیر کے بعد پہلا ماس ٹرانزٹ سسٹم فعال ہوگیا وجود - اتوار 26 دسمبر 2021

تقریبا 40 سال کی تاخیر کے بعد کراچی میں پہلا ماس ٹرانزٹ سسٹم فعال ہوگیا، گرین لائن بس سروس کا محدود اور آزمائشی آغاز کردیا گیا۔وفاقی حکومت کے زیر انتظام گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے تحت نئی جدید ہائبرڈ بسیں سرجانی ٹان تا نمائش چورنگی 21کلومیٹر آپریشنل ہوگئیں اور کراچی کے شہریوں کو بھی پہلے ماس ٹرانزٹ سسٹم کی سہولیات میسر آگئی۔تفصیلات کے مطابق گرین لائن بس سروس کا محدود اور آزمائشی آغاز کردیا گیا، پہلی بس عبداللہ چوک سے روانہ ہوکر اپنے آخری اسٹاپ نمائش پہنچی، گرین لائن بس ...

کراچی میں 40 سال کی تاخیر کے بعد  پہلا ماس ٹرانزٹ سسٹم فعال ہوگیا

کراچی میں رواں سال جرائم کی شرح مزید بڑھ گئی،24ہزار موبائل چھین لیے گئے وجود - اتوار 26 دسمبر 2021

کراچی میں ایک سال کے دوران جرائم کی شرح مزید بڑھ گئی، رواں برس شہریوں سے 24 ہزار سے زائد موبائل فون چھینے گئے۔پولیس کے مطابق سال 2020 میں کراچی میں 20 ہزار 743 موبائل فون چھینے گئے جبکہ سال 2021 میں کراچی میں اب تک 24130 موبائل فون چھینے جا چکے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کراچی میں 1ہزار 560 گاڑیاں چھینی گئیں یا چوری ہوئیں، سال 2021 میں اب تک 2 ہزار 60 گاڑیاں چھینی گئیں یا چوری ہوئی ہیں۔سال 2020 میں کراچی سے تقریبا ساڑھے35 ہزار موٹرسائیکلیں جبکہ اس سال اب تک تقریبا 50 ہ...

کراچی میں رواں سال جرائم کی شرح مزید بڑھ گئی،24ہزار موبائل چھین لیے گئے

فواد چودھری نے گورنر سندھ اور حماد اظہر کی صلح کروادی وجود - هفته 25 دسمبر 2021

صوبہ سندھ میں گیس کی بندش پر ناراضگی کے معاملے پر فواد چودھری نے گورنر سندھ اور حماد اظہر میں صلح کروادی۔ذرائع کے مطابق وزیر اطلاعات کے دفتر میں ہونے والی ملاقات میں عامر کیانی بھی موجود تھے، گورنر سندھ نے کراچی میں گیس پریشر نہ ہونے کا معاملہ سامنے رکھ دیا۔ذرائع کے مطابق گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی میں گیس کے مسائل ہیں، آپ مسائل سننے کیلئے تیار نہیں، کراچی کے عوام کو گیس ملنی چاہیے میرا صرف آپ سے اتنا ہی شکوہ ہے۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے نے گورنر سندھ سے کہا کہ آپ میرے بڑے بھائ...

فواد چودھری نے گورنر سندھ اور حماد اظہر کی صلح کروادی

مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)