وجود

... loading ...

وجود
وجود

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور سیاست کی بھیرویں

پیر 29 اگست 2016 عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور سیاست کی بھیرویں

Attaullah-Esakhelvi

پروفیسر منور علی ملک میرے انگزیری کے اُستاد اور عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے دوست ہیں ۔ اپنی کتاب ’’ درد کا سفیر ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ اُونچے سُروں کی شاخوں میں اُلجھ کر جب یہ آواز کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھٹراتی ہے تو روح کا شجر جڑوں تک لرز اُٹھتا ہے ۔ اور پھر جب اس بلندی سے کسی زخمی پرندے ہی کی طرح یہ آواز ایک ہچکی کے ساتھ نیچے کو آتی ہے تو ہارمونیم پر عطاء کی انگلیوں کی لرزش رقصِ بسمل کا منظر بن جاتی ہے ‘‘۔۔۔ پروفیسر صاحب اسی پر اکتفا نہیں کرتے وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ یہ آواز وہ آواز ہے جو حلق کی کمان سے تیر کی طرح سنسنا کر نکلتی ہے اور تیر ہی کی طرح دل میں پیوست ہو جاتی ہے بشرطیکہ دل کسی انسان کا ہو ۔ اس آواز کو کوئی نام دینا چاہیں تو موسیقی کی لغت کی تنگی داماں کا بھرم کھلتا ہے کہ اتنی موثر اور مقبول آواز کیلئے کوئی لفظ سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ شاید اسی لیے کہ ایسی کوئی آواز پہلے موجود ہی نہ تھی ۔ یوں لگتا ہے کہ اس آواز کو تخلیق کرکے قدرت نے سات سُروں کی کائنات میں ایک آٹھویں سُر کا اضافہ کیا ہے ۔ اور اسطرح یہ ثابت کردیا ہے کہ سُروں کا خالق بھی انسان نہیں بلکہ وہ خالقِ عالم خود ہے ۔‘‘

باکمالوں کی دھرتی میانوالی کے اکثر بیٹوں کوحاصل ہونے والا کمال جغرافیائی سرحدوں سے ماورانظر آتا ہے ۔ عیسیٰ خیل پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے سنگم پر آباد ایک ایسا علاقہ ہے جس کے اکثر علاقوں پر ابھی تک اٹھاوریں صدی کا گمان ہوتا ہے ۔ لیکن اس دور آباد علاقے نے ادب اور موسیقی میں بے پناہ شہرت حاصل کی ۔ یہ علاقہ اب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آبائی حلقہ انتخاب این اے 71 کا حصہ ہے ۔ اس سے پہلے مولانا عبد الستار خان نیازیؒ اس حلقہ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہواکرتے تھے ۔ مولانا عبد الستار خان نیازی ؒبھی اسی علاقے میں پیدا ہوئے تھے ۔ نامور شاعر تلوک چند محروم اور ان کے فرزند ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد عیسیٰ خیل کے نواحی قصبہ ’’ کلور شریف ‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ انڈیا چلے گئے تھے ۔ انڈیا میں اقبالیات کے حوالے سے ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد کی شناخت سے دنیا واقف ہے۔ ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ چودہ اگست1947 ء کو جس وقت قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو ریڈیو پاکستان لاہور سے ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا قومی ترانہ نشر ہوا ۔

’’ ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک ۔۔۔۔۔۔۔ اے سر زمینِ پاک ـ‘‘

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی بھی اسی دھرتی کے بیٹے ہیں ۔ عیسیٰ خیل جیسے پسماندہ علاقوں سے نکل کر اُن کی آواز نے عالمگیر شہرت حاصل کی اور اپنے فن کی بدولت لوک گائیکی کی دنیا میں ایک لیجنڈ کی حیثیت سے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔۔۔ عیسیٰ خیل کی مٹی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں سیاسی شعور بہت زیادہ پایا جاتا ہے ۔ پسماندگی اور درماندگی کی آندھی کے باوجود اس علاقے میں حریتِ فکر کا چراغ بھی کبھی گل نہیں ہوا ۔ بے مایہ مولانا نیازی ؒ یہاں سے ایم این اے منتخب ہو جایا کرتے تھے ۔ساٹھ کی دہائی میں یہاں کے لوگوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان اور نواب آف کالاباغ کے مقابلے میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ انتہائی خوش دلی کے ساتھ انہیں خوش آمدید بھی کہا تھا ۔ 1996 ء میں عمران خان نے سیاست کا آغاز کیا تو اسی علاقے کے بیابانوں اور کہساروں کے لوگ ان کی پشتیبانی کے لیے آگے بڑھے ۔

یہ عیسیٰ خیل کی مٹی کی تاثیر ہی ہے کہ کچھ سال پہلے شہنشائے لوک موسیقی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے سیاست میں عملی طور پر دوبارہ حصہ لینا شروع کر دیا ۔ سرائیکی کو دنیا بھر میں متعارف کروانے والا یہ عظیم فنکار اس سے پہلے بھی عملی سیاست میں سرگرم رہا تھا ۔ اپنی گلوکاری کے آغاز کے دنوں میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ اور اپنی تحصیل کے صدر تھے ۔ بعد میں انہوں نے سیاست سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی پوری توجہ موسیقی پر مرکوز رکھی ۔ 2013 ء کے عام انتخابات سے پہلے انہوں پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک گیت گایا ۔ انتخابی مہم میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی پرسوز آواز نے ایک رنگ بھر دیا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی وہ عملی سیاست میں واپس لوٹ آئے ۔۔۔ ’’ ان کا کہنا ہے کہ میں نے ذوالفقار علی بھٹو کی وجہ سے سیاست چھوڑ دی تھی اب عمران خان کی وجہ سے سیاست میں واپس آگیا ہوں ۔ ‘‘انہوں نے اپنے علاقے میانوالی کو وقت دینا شروع کر دیا ۔کہتے ہیں کہ جب میں یہ گیت گاتا ہوں کہ ’’ تینوں لے کے جانا ہے میانوالی ‘‘ تو ایسا لگتا ہے کہ میں کسی دوشیزہ سے مخاطب ہوں ۔ لیکن اپنے شعور میں دنیا کی ہر خوبصورتی میانوالی لانا چاہتا ہوں ۔ میانوالی کی پسماندگی مجھے رُلاتی ہے ۔۔۔ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی جیسا حساس فنکار جب عملی سیاست میں دوبارہ سرگرم ہونے جا رہا تھا تو اس کے چاہنے والوں کا سینہ دھک دھک کر رہا تھا ۔ سیاست کی بے رحمی ان کے سامنے تھی اور لالہ عطاء ہی کی گائی ہوئی غزل کا یہ شعر بار بار یاد آتا تھا کہ

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

لوک گلوکاری کی بلندیوں کو تسخیر کرنے والے عطاء سیاست کے میدان میں مشکلات کا شکار ہو گئے ۔ نرم خو، حلیم اطبع ، دوسروں کا درد محسوس کرنے والا اور اپنے علاقے کی پسماندگی کا رونا رونے والا یہ لیجنڈ گذشتہ پانچ ماہ سے سیات کی تلخیوں کا شکارہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ منظم مخالفت سرگرم ہونے لگی ہے۔ ایک ہفتہ قبل سوشل میڈیا پر ان خبروں کی گردش میں اضافہ ہو گیا کہ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی راہیں عمران خان سے جُدا ہونے والی ہیں ۔ وہ ان دنوں ملک سے باہر ہیں اس لیے ان کی جانب سے وضاحت آنے میں کچھ تاخیر ہوئی ۔ اب ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ’’ وہ کسی عہدے یا منصب کے لالچ سے بے نیاز ہو کر عمران خان کے مشن کے ساتھی ہیں وہ پاکستان تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور رہیں گے ‘‘ یہ بیان ان کی سیاسی پختگی کا مظہر ہے ۔ انہوں نے موسیقی کے سُروں کو قدرت کی عطا کردہ آواز سے مسخر کیا ۔ لیکن ’’سیاست کی بھیرویں ‘‘ پر آ کر اٹک گئے ۔ یہاں مجھے ریڈیو پاکستان کے ممتاز سارنگی نواز محمد حسین کی یہ بات یاد آتی ہے کہ ’’ سارنگی کا سب سے اہم تانت چمڑے کا تانت ہوتا ہے ۔ مگر عطاء کی آواز میں نہ جانے کیا بات ہے کہ چمڑے کا تانت ان کی آواز کا ساتھ نہیں دے سکتا ۔ ایک آدھ مرتبہ ان کے ساتھ سنگت کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ چمڑے کے تانت سے وہ تاثرپیدا نہیں ہوتا جو ہونا چاہئے۔ لہذا ان کے ساتھ سنگت کے لیے ا سٹیل کا تار استعمال کرتا ہوں اورا سٹیل کے تار سے انگلیوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے ان پر پلاسٹر ٹیپ لپیٹ لیتا ہوں ۔ ‘‘

ہمارے ہاں کی سیاست حرص و ہوس کی وادی ہے ۔ کلاسیکل لوگوں کے لیے اس میدان میں بہت مشکلات ہیں ۔ لالہ عطاء کی سیاست میں سرگرمی پر ان کے کپتان عمران خان کا کہنا تھا کہ اس میدان میں لوگ کپڑے بھی اُتار لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو چاہیے کہ سارنگی نواز محمد حسین کی طرح سیاسی میدان میں لوہے یاا سٹیل کا ’’ تانت ‘‘ استعمال کریں ۔ اپنی انگلیوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لئے پلاسٹر ٹیپ لپیٹے رہیں کیونکہ ہماری سیاست میں ’’ یار ‘‘ اور ’’ اغیار ‘‘ بدلتے رہتے ہیں ۔۔


متعلقہ خبریں


لاریب عطا نے ہالی ووڈ فلم میں اپنی خدمات پیش کر دیں وجود - جمعرات 07 اکتوبر 2021

پاکستانی نژاد ویژول آرٹسٹ لاریب عطا نے ایک اور بڑے بجٹ کی ہالی وڈ فلم میں اپنی خدمات پیش کردی ہیں۔ لاریب عطا نے باکس آفس پر تہلکہ مچانے والی ہالی وڈ فلم جیمز بونڈ 007 میں بطور ویژول آرٹسٹ کام کیا ہے، اس وقت یہ فلم برطانوی اور امریکی باکس آفس پر چھائی ہوئی ہے۔معروف گلوکارعطا اللہ خان عیسی خیلوی کی بیٹی لاریب عطا گزشتہ 10 سالوں سے ہالی وڈ میں بطور ویژول آرٹسٹ کام کررہی ہیں۔ لاریب عطا جیمز بونڈ 007 سے قبل ہالی وڈ فلم ٹیننٹ اور مشن امپاسیبل فال آؤٹ، ایکس مین اور دیگر فلموں میں بط...

لاریب عطا نے ہالی ووڈ فلم میں اپنی خدمات پیش کر دیں

سانول اور شہنائی کی گونج انوار حسین حقی - منگل 14 مارچ 2017

جولائی 2013 ء کے آخری عشرے کی ایک حبس زدہ شام میں موسیقی کی گہری جڑیں اپنی سرزمین میں پیوست کرنے والے عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو ملاقات کا ایک پیغام بھجوایا ۔ ان دنوں عمران خان کے آبائی حلقہ انتخاب میں ضمنی الیکشن کا مرحلہ درپیش تھا ۔ جواب ملا کہ مان لو عشق کی صدارت میں ایک اجلاس اب ضروری ہے اُن سے ملاقات ہوئی تو میں نے اپنے بیٹے محمد زین العابدین کا ان سے تعارف کروایا ۔۔ جواب میں انہوں نے اپنے دائیں جانب کھڑے ایک سلیم الفطرت نوجوان کا بازو پکڑتے ہوئے کہا کہ یہ میرا بی...

سانول اور شہنائی کی گونج

بدلنے والا شیخ انوار حسین حقی - پیر 03 اکتوبر 2016

راولپنڈی کی لال حویلی کے مکین شیخ رشید احمد نے جب سے’’ اپنی ‘‘ سیاست شروع کی ہے۔ اُس وقت سے لے کر اب تک انہوں نے خود کو سیاست میں ’’ اِن ‘‘ رکھا ہوا ہے۔ اُن کی سیاسی کہانی مدو جذر اور پلٹنے جھپٹنے سے عبارت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود راولپنڈی کے دو انتخابی حلقوں سے باہر نہیں نکل سکے۔ وہ پاکستانی سیاست کے اُس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو 1985 ء کی غیر جماعتی پارلیمان کی پیداوار ہونے کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق مرحوم کی باقیات کا حصہ کہلاتا ہے۔ ...

بدلنے والا شیخ

شیر کا شکاری اور رائے ونڈمارچ انوار حسین حقی - جمعه 30 ستمبر 2016

میں جب بھی یہ نعرہ سنتا ہوں ’’ دیکھو دیکھو کون آیا ۔ شیر کا شکاری آیا ‘‘ تو مجھے قیامِ پاکستان سے پہلے ’’کپتان ‘‘ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کی ایک خونخوار شیر سے ’’ ہاتھا پائی ‘‘ کا واقعہ یاد آ جاتا ہے ۔ تاریخی حوالوں کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے ضلع میانوالی اور خوشاب کے سنگم پر واقع سالٹ رینج کے بلند ترین پہاڑ کے دامن میں ایک خونخوار شیر کی وجہ سے دہشت پھیلی ہوئی تھی ۔ آئے روز شیر کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو جانی و مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا تھا ۔ آدم...

شیر کا شکاری اور رائے ونڈمارچ

اندھے سفر کا حاصل ۔۔؟ انوار حسین حقی - پیر 05 ستمبر 2016

کراچی کے نو منتخب میئر وسیم اختر نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں ـ’’ جئے بھٹو ‘‘ اور ’’ جئے عمران خان ‘‘ کے نعرے لگائے تو ماضی کے دھندلکوں سے 12 ستمبر2007 ء کا منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ مری یادوں کے خزانے چٹیل ویرانوں اور کچلے ہوئے خوابوں کے ریزوں جیسے ہیں۔ تپاں جذبوں سے قرطاس و قلم کی مشقت کے کالے لفظوں میں گونجتی، پھنکارتی، ذہنی تھکن اور چٹخے ہوئے اعصاب کی چیخوں کے تسلسل میں مجھے اُس وقت کی سندھ حکومت کے مشیر داخلہ وسیم اختر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ک...

اندھے سفر کا حاصل ۔۔؟

غازی علم الدین شہید ۔ شہیدِ پاک طینت انوار حسین حقی - هفته 31 اکتوبر 2015

جیل یا عقوبت خانے کا تصور یا تاثر کبھی خوشگوار نہیں ہوتا۔۔۔ پھانسی گھاٹ تو ہوتا ہی خوف اور دہشت کی علامت ہے۔انسان کو اپنا سکون اور جان بہت عزیز ہوتی ہے۔ اس لئے جیل جانا کسی کو بھی پسندیا قبول نہیں ہوتا۔۔ 31 ؍ اکتوبر غازی علم دین شہید کی برسی کے موقع پر سینٹرل جیل میانوالی کے دورے کی خواہش تھی ۔ خوش قسمتی سے ایک روز پہلے مجھے یہ دعوت موصول ہوئی کہ کل سینٹرل جیل میں غازی علم دین شہیدؒ کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام ہے۔ دعوت کو سعادت سمجھتے ہوئے خوشی خوشی جیل پہنچ گئے۔پنجاب کی اس م...

غازی علم الدین شہید ۔ شہیدِ پاک طینت

محمد منصور آفاق انوار حسین حقی - جمعه 30 اکتوبر 2015

محمد منصور آفاق شاعر ، ادیب، ڈراما نگار اور کالم نگار کی حیثیت سے ہمہ جہت شخصیت کا مالک ہے ۔ وہ اپنی ہر غزل، نظم ،شعر ، مصرعے، ڈرامے اور کالم سے پہچانا جاتا ہے ۔ میں محمد منصور آفاق کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب وہ تخلیقی عمل میں پوری طرح گرفتار ہونے کے لئے ’’قلبی وارداتیں ‘‘ کرنے کی بجائے ادبی معرکہ آرائیوں کی سالاری میں مگن پایا جاتا تھا۔میری اُس سے شناسائی دوچار برس کی بات نہیں بلکہ تین دہائیوں کی کہانی ہے اُس کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلوؤں کی یادوں کی ہوائیں اکثر یادداشت کے شہر...

محمد منصور آفاق

کپتان کا خاندانی پس منظر انوار حسین حقی - هفته 10 اکتوبر 2015

نیازی قبائل کی برصغیر میں آمد کا سلسلہ ہندستان پر سلطان محمود غزنوی کی ’’ دستک ‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔لیکن ان قبائل کی باقاعدہ منظم شکل میں اس علاقے میں آمد بہت بعد کی بات ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ نیازیوں کی اکثریت اوائل میں غزنی کے جنوبی علاقے میں آباد تھی ۔ اس علاقے پر انڈروں اور خلجیوں کے آئے دن کے حملوں سے تنگ آکر یہ لوگ ترک سکونت پر مجبور ہوئے اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ ٹانک سے ہوتے ہوئے میانوالی کے علاقہ میں آئے۔ میانوالی میں پٹھانوں کے نیازی قبائل میں بلو خیل قبیلہ کو مم...

کپتان کا خاندانی پس منظر

کپتان کی گھریلو زندگی اور پاکستانی ذرایع ابلاغ انوار حسین حقی - هفته 26 ستمبر 2015

پاکستان کے انحطاط پزیر معاشرے کی صحافت کے رنگ نرالے ہی نہیں مایوس کُن بھی ہیں۔ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے غیر تربیت یافتہ اینکرز کی صحافت ایک ایسی موج کی طرح رقص کناں ہے جسے ہر دم یہ گماں رہتا ہے کہ اُس کا عین اگلا اُچھال اُسے ساحلِ مراد سے ہمکنار کر دے گا۔ لیکن حقائق کی منہ زور ہواؤں کا محض ایک تھپیڑااُسے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل کر بے شباہت کر دیتا ہے۔ ان اینکرزکی ذاتی زندگیاں، صحافتی اداروں خصوصاً چینلز کی اندرونی کہانیاں ہوش رُبا اور عبرتناک ہیں لیکن یہ سب کچھ ’’ا...

کپتان کی گھریلو زندگی اور پاکستانی ذرایع ابلاغ

شیر کا شکاری اور نمل شہرِ علم انوار حسین حقی - جمعه 18 ستمبر 2015

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ عمران خان اپنی اہلیہ ریحام خان کے ہمراہ’’نمل شہر علم ‘‘ میں موجود تھے۔ عمران خان نے شوکت خانم جیسا سماجی خدمت کا ادارہ قائم کیا ۔ کراچی اور پشاور کے شوکت خانم ہسپتال بھی تکمیل کے مراحل کے قریب ہیں ۔میں نے ان عظیم الشان اداروں کے حوالے سے عمران خان کو کبھی اتنا جذباتی اور پُرجوش نہیں پایا جتنا وہ میانوالی کی نمل یونیورسٹی کے حوالے سے ہیں ۔ وہ ’’ نمل شہر ِ علم ‘‘ کی تعمیر کو اپنا جنون قرار دیتے ہیں۔ وہ ریحام خان کے ہمراہ دردِ دل رکھنے والے ڈونرز کو سالٹ...

شیر کا شکاری اور نمل شہرِ علم

اکیسویں صدی کا پاکستان اورغیر انسانی وسیلہ روزگار انوار حسین حقی - بدھ 16 ستمبر 2015

دریائے سندھ کے شمالی کنارے اور سلاگر پہاڑ کی ڈھلوان پر آباد سینکڑوں سال پرانے شہر کالاباغ کامحنت کش اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بھرنے کے لئے ’’ سائیکل رکشہ‘‘ کے ذریعے جانوروں کی طرح انسان کا بوجھ کھینچنے پر مجبور ہے۔عظیم مسلمان فاتح سلطان محمود غزنوی کے دور میں آباد ہونے والے اور سابق گورنر مغربی پاکستان ’’ نواب امیرمحمد خان آف کالاباغ کی وجہ سے ملک گیر شہرت حاصل کرنے والے اس شہر میں سائیکل رکشہ کی مزدوری کم و بیش ڈیڑھ صدی سے رائج ہ...

اکیسویں صدی کا پاکستان اورغیر انسانی وسیلہ روزگار

اُردومتمدن ہے گلبانگِ ثقافت ہے انوار حسین حقی - جمعرات 10 ستمبر 2015

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس جوادایس خواجہ بطور چیف جسٹس اپنی بائیس روزہ تعیناتی مکمل کرکے ریٹائر ہو گئے ہیں ۔ 18 ؍ اگست 2015 ء کو اپنا منصب سنبھالتے ہوئے اُنہوں نے قوم کے ماضی کے حسین البم سے نغمہ عشق و محبت کی کہانی کے طور پر اردو زبان کو نطق و تکلم کے جواں عالم کے طور پر پیش کرتے ہوئے قومی زبان اردو میں حلف اُٹھا یا ۔ اس تقریب کا اپنا ہی سرور تھا ۔ صدر ممنون حسین کی شیروانی کی روایتی سلوٹیں ان کے اردو لہجے میں دبی ہوئی تھیں جب ہی تو پرنٹ ، الیکٹرونک اور سوشل...

اُردومتمدن ہے گلبانگِ ثقافت ہے

مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)