وجود

... loading ...

وجود
وجود

بدلنے والا شیخ

پیر 03 اکتوبر 2016 بدلنے والا شیخ

sheikh-rasheed

راولپنڈی کی لال حویلی کے مکین شیخ رشید احمد نے جب سے’’ اپنی ‘‘ سیاست شروع کی ہے۔ اُس وقت سے لے کر اب تک انہوں نے خود کو سیاست میں ’’ اِن ‘‘ رکھا ہوا ہے۔ اُن کی سیاسی کہانی مدو جذر اور پلٹنے جھپٹنے سے عبارت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود راولپنڈی کے دو انتخابی حلقوں سے باہر نہیں نکل سکے۔ وہ پاکستانی سیاست کے اُس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو 1985 ء کی غیر جماعتی پارلیمان کی پیداوار ہونے کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق مرحوم کی باقیات کا حصہ کہلاتا ہے۔

شیخ صاحب ایک طویل عرصے تک پسماندگی اور درماندگی کے شکار لوگوں کو دوسرے سیاستدانوں کی طرح سبز باغ دکھا کر خوب تالیاں بجواتے رہے ہیں۔ عوام دیر تک ان کی باتوں میں کھوئے رہتے تھے۔ ڈھول بجتے، بھنگڑے اور دھمالیں ڈالی جاتیں، اور لوگ بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ پھر شیخ صاحب نے سیاسی استخاروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ عوام نے سمجھا کہ وہ بھی ’’ پیر پگاڑا‘‘ کی طرح ’’ جی ایچ کیو ‘‘ سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ ایسی سوچ رکھنے والوں سے ہمیں اس لیے اختلاف تھا کہ ’’ ہونے ‘‘ سے پہلے ’’نا ہونا‘‘ ضروری ہوتا ہے۔

مجھے جناب مجیب الرحمن شامی کے یہ الفاظ اکثر یاد آتے ہیں ’’شیخ صاحب کو جو بات ممتاز ہی نہیں بہت ممتاز کرتی ہے وہ عوامی نفسیات سے ان کی واقفیت ہے۔ اس موضوع پر سمجھیئے وہ ’’ پی ایچ ڈی ‘‘ ہیں۔ گلی محلوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہیں پروان چڑھے اور یہیں اب تک رہ رہے ہیں۔ اس لئے ان کو اچھی طرح معلوم ہے عوام کیا چاہتے ہیں اور کس طرح سوچتے ہیں۔ ان کی خوشیاں کیاہیں اور غم کیا ہیں۔ کون سا غبارہ ان کو دیا جائے تو وہ خوش رہیں گے اور کون سا رنگ نظر آئے تو اُداس ہو جائیں گے۔ اس ایک بات نے انہیں بے پناہ عوامی مقرر بنا دیا ہے۔ شیخ صاحب فلسفہ نہیں جھاڑتے، شاعری نہیں کرتے، گنگا اور جمنا میں دہلی زبان نہیں بولتے وہ جہلم اور چناب کے پانیوں میں بھیگے ہوئے لہجے میں بات کرنا جانتے ہیں ‘‘۔

میری کم مائیگی نے شیخ رشید کے لئے شامی صاحب کی اس ’’سند ِ امتیاز ‘‘ کو اپنے ان خیالات کی تائید سمجھاکہ اس ملک کے عوام کے ساتھ ہمیشہ سے ’’ ہاتھ ‘‘ ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ہر کوئی قوم کو بہلا کر اپنا اُلو سیدھا کرنے کے چکر میں نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے ’’ جنابِ شیخ ‘‘ کے اُستادِ محترم شورش کاشمیری مرحوم کے یہ اشعار بھی بے اختیار یاد آنے لگتے ہیں

بہت قریب سے دیکھا ہے رہنماؤں کو
بہت قریب سے کچھ راز پائے ہیں میں نے
کہوں تو گردشِ لیل و نہار رُک جائے
کچھ ایسے زخم عقیدت میں کھائے ہیں میں نے

شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ ’’ میں اپنے دماغ سے کام لیتا ہوں جبکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں زبان سے کام لیتا ہوں‘‘۔ ۔ ہمیں ’’جنابِ شیخ‘‘ سے جہاں اور بہت سے اختلافات ہیں وہاں ہمارا یہ بھی خیال ہے کہ وہ شیخ ہونے کے ناطے دماغ اور زبان دونوں سے کام لیتے ہیں۔ اب تک کی سیاست انہوں نے زیادہ تر زبان کے سہارے ہی کی ہے۔ ہمیں کچھ لوگوں کی اس بات سے بھی بالکل اتفاق نہیں ہے کہ شیخ رشید احمد سابقہ وزیر اعظم میر ظفر اﷲ خان جمالی کو بے وقوف بنایا کرتے تھے کیوں کہ بے وقوف بننے کے لئے جمالی صاحب کا عقلمند ہونا ضروری تھا۔

شیخ صاحب جہاں وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بدلتے رہتے ہیں وہاں ان کے بنیادی سیاسی نظریات بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے پہلے دو ا دوارِ حکومت میں میاں نواز شریف سے قربت اور مسلم لیگ ق کے دور میں جنرل پرویز مشرف کی نیازمندی نے انہیں بہت سی تبدیلیوں سے رُوشناس کیا۔ شیخ صاحب ماضی میں سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ اور شورش کاشمیری مرحوم کے جلسوں میں نعرے لگاتے اور تقریریں کرتے ہوئے ’’ جلسہ جلسہ اور جلوس جلوس کھیلتے تھے ‘‘ لیکن جنر ل پرویز مشرف کے دور میں جب ریلوے کے وزیر بنائے گئے تو یہ کہتے سُنے جاتے تھے کہ ’’ انگریز انگریز ہے ‘‘۔ پہلے وہ شورش کاشمیری کے شعر پڑھ کر جھومتے تھے بعد میں وہ گولڑہ ریلوے اسٹیشن پر قائم ریلوے میوزیم میں رکھی انگریز دور کی پنلسین کی گولی کی تعریف کرتے نظر آتے تھے۔

وقت کے ساتھ بدلنے کا ہنر جاننے والے شیخ صاحب آج کل جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ ماضی میں وہ جس عمران خان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا کرتے تھے انہیں اب قوم کی آخری اُمید قرار دے رہے ہیں۔ ان کے ہر لحظہ بدلتے سابقہ رنگوں کی طرح ہمیں ان کے اس نئے روپ پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ شیخ صاحب پھلجھڑیاں چھوڑنے، تمسخر اُڑانے، فقرے اُچھالنے اور طعنے دینے کے لئے پہلے مسلم لیگ ن، بعد میں مسلم لیگ ق اور مشرف کے جرنیلی اقتدار کی ضرورت رہے ہیں۔ وہ جس جماعت اور حکمران کے ساتھ بھی رہے ’’ خلوص ‘‘ کے ساتھ رہے۔ گئے دنوں میں جب پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر اور اس کے جاہ پرست ٹولے کے امریکا کے سامنے عاجزانہ طرزِ عمل نے ملتِ پاکستان کو آزمائش و ابتلا میں مبتلا کیا ہوا تھا اور قائدِ اعظم ؒکے بعد سب سے زیادہ محترم و معظم شخصیت محسنِ پاکستان اور ان کے رفقاء ڈی بریفنگ کے نام پر قیدِ قفس اور توہین آمیز رویئے کا شکار تھے۔ ان دنوں شیخ صاحب قوم کو انتہائی وثوق، یقین اور اعتماد کے ساتھ بتایا کرتے تھے کہ ’’ آنے والے دنوں میں جو قدم بھی اُٹھا یا جائے گا وہ پاکستان کے اہم اور حساس ترین اثاثوں کے تحفظ کی خاطر ہوگا۔ لاکھ کوشش اور چاہنے کے باوجود مجھے راولپنڈی کے صحافی نواز رضا کی یہ تحریر نہیں بھولتی کہ ’’ جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں بارہویں پی ٹی وی ایوارڈ کی تقریب میں نامور ایٹمی سائنسداں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان اگلی نشست پر بیٹھے تھے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیخ رشید احمد ان کے پاس آئے اور کہا ’’ڈاکٹر صاحب آپ کی نشست پیچھے ہے براہ کرم آپ وہاں چلے جائیں‘‘ ڈاکٹر صاحب کوئی ردِ عمل ظاہر کیے بغیرپچھلی نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ جمگاتی روشنیوں میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی یہ بے توقیری نہیں دیکھی جا سکتی تھی‘‘ !!!

جنرل پرویز مشرف کے دور میں جن دنوں وہ صدارتی کیمپ کے ترجمان تھے تو کہا کرتے تھے ’’ جنرل پرویز مشرف انہیں وردی میں بہت اچھے لگتے ہیں ‘‘۔ ایک طرف تو شیخ صاحب کو ’’ صدرمملکت کی فوجی وردی من بھاتی تھی دوسری طرف وہ ایسے بیانات دیتے تھے جو پاکستانی فوج پر عدم اعتماد کے مظہر اور پاکستانی قوم کے اعتماد کے قاتل محسوس ہوتے تھے۔ جون 2003 ء میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے وائس آف امریکا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’ اگر پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دی جائے تو ہم ایک حد تک ہتھیاروں میں کمی پر تیار ہیں۔ تاہم پوری طرح خود کو غیر مسلح یا ایٹمی ہتھیاروں کو رول بیک نہیں کیا جا سکتا۔ ۔ ‘‘شیخ صاحب آج تک اپنے اُس تشویش ناک انٹرویو کی وضاحت نہیں کر سکے۔ ابھی تک وہ قوم کو نہیں بتا سکے کہ وہ پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کی ضمانت کس سے مانگ رہے تھے۔ پاکستان کا ہر شہری پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کے لئے اپنی فوج کی طرف دیکھتا ہے۔ ہمیشہ سے پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کی واحد ضمانت پاک فوج اور اس کی دفاعی قوت رہی ہے۔ کوئی بھی قوم اپنی بقا، تحفظ اور سلامتی کی جنگ اپنے بل بوتے پر لڑسکتی ہے کسی بیرونی طاقت کی ضمانت نے کبھی کسی قوم کا دفاع نہیں کیا۔ جو قوم اپنا تحفظ خود نہیں کر سکتی وہ تاریخ میں صرف عبرت کے نشان کے طور پر زندہ رہتی ہے۔

ہماری دعا ہے کہ شیخ رشید کی نئی تبدیلی ان کی سیاست کا تضاد نہیں ارتقاء ثابت ہو۔ کہا گیا کہ وہ ’’ پی ایچ ڈی ‘‘ نہ ہونے کے باجود بہت کچھ ہیں۔ جبکہ ہمارا خیال ہے کہ ہمارے ہاں ’’ پی ایچ ڈی ‘‘ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح ہمارے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور سائیں قائم علی شاہ بھی ’’ ڈاکٹر ‘‘ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیدیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ اور احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دے دیا۔ پیر کو ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیے جانے کی تصدیق کی۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ میں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم عمران خان کو بھیج دیا ہے اور امید ہے عمران خان کی زیر قیادت احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق شہزاد اکبر نے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے البتہ ان کے مشیر برائے داخلہ کے حوالے سے صورتحال ابھی واضح نہیں۔ ذرائع کے مطابق 18 جنوری کو کابی...

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیدیا

سیاحوں کا رش، مری میں شدید برف باری سے گاڑیوں میں19افراد ہلاک وجود - هفته 08 جنوری 2022

مری میں شدید برف باری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے گاڑیوں میں19افراد کی موت ہوگئی ، برفانی طوفان نے مزید مشکلات پیدا کر دیں، ہزاروں سیاحوں نے رات سڑک پر گزاری ،سیاحوں کو نکالنے کیلئے سول آرمڈ فورسز طلب کرلی گئی،انتہائی خرا ب صورتحال کے باعث سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دیکر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کی صورتحال انتہائی خراب ہونے کے بعد سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری دفاتر کو سیاحوں کیلئے کھولنے کا حکم دیا ہے، مری کی جانب پیدل جانے والے راستے سمیت ت...

سیاحوں کا رش، مری میں شدید برف باری سے گاڑیوں میں19افراد ہلاک

حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کی قیادت سے رابطے کے لیے 12رکنی کمیٹی قائم وجود - اتوار 31 اکتوبر 2021

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ علماء نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ،12 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو حکومت اور کالعدم تحریک لبیک سے رابطے میں رہ کر بات آگے بڑھائے گی۔علماء کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں علماء مشائخ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہاکہ وزیراعظم نے ہمیشہ بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کا خیر مقدم کیا اورکوئی ایسی بات جو ملک کو بڑے تصادم اور خون ریزی سے بچا سکے ...

حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کی قیادت سے رابطے کے لیے 12رکنی کمیٹی قائم

ریاست کی رٹ چیلینج نہیں کرنے دیں گے، قومی سلامتی کمیٹی وجود - هفته 30 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کا لعدم جماعت کیساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہ کیے جائیں اور نہ ہی کسی کو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے دیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کالعدم جماعت کے مارچ پر تبادلہ خیال سمیت قومی سلامتی کے دیگر امورکی حکمت عملی پربھی غور کیا گیا۔اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، نیول چیف امجد خان نیازی، ا...

ریاست کی رٹ چیلینج نہیں کرنے دیں گے، قومی سلامتی کمیٹی

بس بہت ہوگیا،حکومت یرغمال نہیں بنے گی، وزیر داخلہ نے کالعدم تنظیم کو خبر دار کر دیا وجود - جمعه 29 اکتوبر 2021

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کالعدم تنظیم کے پرتشدد مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ بس بہت ہوگیا، ،حکومت یرغمال نہیں بنے گی، ریاست کی رٹ کو ہر صورت قائم کیا جائیگا، تمام مطالبات تسلیم کرلیے تھے، احتجاج کا کوئی جواز نہیں، مارچ کو ہر صورت روکا جائیگا۔ جمعرات کو اپنے بیان میں وزیرداخلہ نے کہا کہ اگر مظاہرین واپس مرکز چلے جائیں تو حکومت ان سے بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن جی ٹی روڈ بند کرنیکی اجازت نہیں دی جائیگی یہ دفاعی لحاظ سے اہم شاہراہ ہے اسے بند نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ (آج...

بس بہت ہوگیا،حکومت یرغمال نہیں بنے گی، وزیر داخلہ نے کالعدم تنظیم کو خبر دار کر دیا

کالعدم تحریک لبیک کا لانگ مارچ، پنجاب رینجرز کے حوالے وجود - جمعرات 28 اکتوبر 2021

فاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں 60 دن کے لیے رینجرز طلب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سندھ کی طرح رینجرز کو کہیں بھی تعینات کرسکتی ہے،پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ ہے، غیر ملکی طاقتیں ہم پر پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہیں، غیر ملکی طاقتیں ہماری جوہری اور معیشت پر نظریں جمائے بیٹھی ہے، کالعدم تنظیم کی یہ چھٹی قسط ہے ، مجبوری کی حالت میں کہہ رہا ہوں اب عسکریت پسند ہوچکے ہیں،ہم ناموس رسالت اور ختم نبوت کے بھی سپاہی ہیں لیکن ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے، ہم ملک کے حالا...

کالعدم تحریک لبیک کا لانگ مارچ، پنجاب رینجرز کے حوالے

وزیراعظم کی وزراء کو کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات کی ہدایت وجود - هفته 23 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کو کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات کی ہدایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پیر نورالحق قادری سے ٹیلفونک رابطہ کرکے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اور کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج کے حوالے سے بات کی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور وزیرداخلہ شیخ رشید کو لاہور پہنچنے کی ہدایت کردی۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کراچی سے لاہور پہنچ گئے ہیں اور وزیراعظم...

وزیراعظم کی وزراء کو کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات کی ہدایت

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگلے جمعہ تک سب ٹھیک ہوجائے گا، معاملات طے ہوچکے ہیں، طریقہ کار کا اعلان 7 دن میں ہوجائے گا۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران شیخ رشید نے حکومت اور فوج میں کسی بھی نوعیت کے اختلاف کی تردید کی۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے، لیکن اس کے باوجود بعض باتوں کا جواب وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت جلدی گھبرا جاتے ہیں، اس معاملے پر عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے لیا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میرے پاس ج...

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ

شیر کا شکاری اور رائے ونڈمارچ انوار حسین حقی - جمعه 30 ستمبر 2016

میں جب بھی یہ نعرہ سنتا ہوں ’’ دیکھو دیکھو کون آیا ۔ شیر کا شکاری آیا ‘‘ تو مجھے قیامِ پاکستان سے پہلے ’’کپتان ‘‘ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کی ایک خونخوار شیر سے ’’ ہاتھا پائی ‘‘ کا واقعہ یاد آ جاتا ہے ۔ تاریخی حوالوں کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے ضلع میانوالی اور خوشاب کے سنگم پر واقع سالٹ رینج کے بلند ترین پہاڑ کے دامن میں ایک خونخوار شیر کی وجہ سے دہشت پھیلی ہوئی تھی ۔ آئے روز شیر کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو جانی و مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا تھا ۔ آدم...

شیر کا شکاری اور رائے ونڈمارچ

عمران خان کو سیاست آگئی، شیخ رشید کے مشورے سنتے ہیں مانتے نہیں انوار حسین حقی - منگل 20 ستمبر 2016

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جیسے ہی رائے ونڈ مارچ کیلئے 30 ستمبر کی تاریخ کا اعلان کیا ہے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے رائے وانڈ مارچ کے دوران عمران خان کے شانہ بشانہ رہنے کا اعلان کردیا، شیخ رشید احمد 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے ماضی کی رنجشیں بھُلا عمران خان کا اُسی بھرپور انداز میں ساتھ دے رہے ہیں جس طرح وہ ’’سید پرویز مشرف‘‘ کی ہمنوائی بلکہ تابعداری کیا کرتے تھے۔ اس سارے عرصہ میں شیخ رشید احمد شریف برادران کی اُسی طرح مخالفت کرتے چلے آئے ہیں جس ط...

عمران خان کو سیاست آگئی، شیخ رشید کے مشورے سنتے ہیں مانتے نہیں

اندھے سفر کا حاصل ۔۔؟ انوار حسین حقی - پیر 05 ستمبر 2016

کراچی کے نو منتخب میئر وسیم اختر نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں ـ’’ جئے بھٹو ‘‘ اور ’’ جئے عمران خان ‘‘ کے نعرے لگائے تو ماضی کے دھندلکوں سے 12 ستمبر2007 ء کا منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ مری یادوں کے خزانے چٹیل ویرانوں اور کچلے ہوئے خوابوں کے ریزوں جیسے ہیں۔ تپاں جذبوں سے قرطاس و قلم کی مشقت کے کالے لفظوں میں گونجتی، پھنکارتی، ذہنی تھکن اور چٹخے ہوئے اعصاب کی چیخوں کے تسلسل میں مجھے اُس وقت کی سندھ حکومت کے مشیر داخلہ وسیم اختر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ک...

اندھے سفر کا حاصل ۔۔؟

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور سیاست کی بھیرویں انوار حسین حقی - پیر 29 اگست 2016

پروفیسر منور علی ملک میرے انگزیری کے اُستاد اور عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے دوست ہیں ۔ اپنی کتاب ’’ درد کا سفیر ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ اُونچے سُروں کی شاخوں میں اُلجھ کر جب یہ آواز کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھٹراتی ہے تو روح کا شجر جڑوں تک لرز اُٹھتا ہے ۔ اور پھر جب اس بلندی سے کسی زخمی پرندے ہی کی طرح یہ آواز ایک ہچکی کے ساتھ نیچے کو آتی ہے تو ہارمونیم پر عطاء کی انگلیوں کی لرزش رقصِ بسمل کا منظر بن جاتی ہے ‘‘۔۔۔ پروفیسر صاحب اسی پر اکتفا نہیں کرتے وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ یہ آو...

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور سیاست کی بھیرویں

مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)