وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

تلفظ میں زیر و زبر

پیر 01 اگست 2016 تلفظ میں زیر و زبر

urdu-caligraphy

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے، وہ ایک ٹی وی پروگرام میں ’’ممالک‘‘ کے لام پر زبر لگا رہے تھے، یعنی ’’ممالَک‘‘۔ اگر وہ لام کو زیر کرلیتے تو کچھ حرج نہیں تھا۔ ایسے اور کئی الفاظ ہیں جن میں زبر کی جگہ زیر اور زیر کی جگہ زبر لگایا جارہا ہے۔ مثلاً عِندیہ کو عَندیہ، منصِف کو منصَف وغیرہ۔ ہمارے وزیراعظم اور دیگر وزراء تو چوں کہ حاکم ہیں اس لیے تلفظ سے بھی مبّرا ہیں، لیکن وہ جو صحافی اور دانشور ہیں انہیں سوچ لینا چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کا تلفظ بگاڑنے کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ایک بار پھر یہ وضاحت کردیں کہ غلط تلفظ کی ادائیگی کسی ایک صوبے یا اُن تک محدود نہیں جن کی مادری زبان اردو نہیں۔ کتنے ہی پشتو بولنے والے، پنجابی بولنے والے ایسے ہیں جن کا تلفظ اردو بولنے والوں سے بہتر ہے اور بڑی نفیس نثر لکھتے ہیں۔ فیض احمد فیض، منیر نیازی، قتیل شفائی، احمد فراز، ابن انشاء وغیرہ نہ صرف یہ کہ اردو کے باکمال شاعر تھے بلکہ تلفظ بھی بے خطا تھا۔ لاہور میں مقیم اور ہارون آباد سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی رؤف طاہر کا تلفظ قابلِ رشک ہے۔ دوسری طرف وہ جن کی مادری زبان اردو ہے، ان کا تلفظ قابلِ رحم ہے۔ پٹھانوں میں امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد (مرحوم) نہ صرف سلیس اردو بولتے تھے بلکہ عربی، فارسی پر بھی عبور تھا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں شکوہ کیا تھا کہ آج کل اردو بگاڑی جارہی ہے۔ سید مودودیؒ کی نثر بطور سند پیش کی جاتی ہے مگر ان کے متبعین میں کئی ایسے ہیں جنہوں نے سید مودودیؒ کی نثر سے کچھ نہیں سیکھا، نہ تلفظ نہ املا۔

ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں جسارت میں ایک اشتہار شائع ہوا جس میں رفاہی کی جگہ رفاعی تھا۔ ایک اور اشتہار میں ’’الحمد اللہ‘‘ تھا۔ قارئین شکوہ کرتے ہیں کہ یہ غلطی کیوں؟ لیکن ادارتی عملے کا اشتہارات پر بس نہیں چلتا۔

ہمیں تو افسوس اس پر ہوتا ہے کہ خود ہمارے ہم کار اور ساتھی کچھ سیکھنے کو تیار نہیں۔ علاء الدین، بہاء الدین کے بارے میں کئی بار لکھا جا چکا ہے کہ اس میں واؤ نہیں آتا۔ یعنی علاو الدین اور بہاو الدین نہیں ہے۔ منگل 17 مئی کے اخبار میں اسٹاف رپورٹر نے ایک بیان میں ’’منڈی بہاؤ الدین‘‘ لکھا ہے۔ سرخی میں تو تصحیح ہوگئی لیکن متن میں یونہی چھپا ہے۔ ایک ادبی تنظیم کی خبر میں ’’پھولوں کا گلدستہ‘‘ موجود ہے۔ سب ایڈیٹر نے اس کی تصحیح کی ضرورت نہیں سمجھی کہ خود اس کو گلدستہ اور پھولوں کا گلدستہ میں فرق نہیں معلوم۔ لیکن کوشش جاری رہے گی۔ ’’بیرون ممالک‘‘ بھی جسارت ہی میں شائع ہوا ہے۔

ہم کوئی ماہرِ لسانیات نہیں ہیں۔ خود ہمارا حال یہ ہے کہ کسی اہلِ علم سے سن کر یا لغت دیکھ کر تلفظ درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کا مشہور مصرع ہے

کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دے

کنجشک کا تلفظ تو خیر مشکل ہی ہے لیکن ہم فرومایہ کو زبر کرتے رہے یعنی ’ف‘ کے اوپر زبر لگا کر پڑھتے تھے۔ معلوم ہوا کہ شاہیں سے لڑنے کا خواہ کچھ انجام ہو لیکن فرومایہ میں ’ف‘ کے نیچے زیر ہے۔ اب یہ تو قارئین کو معلوم ہی ہوگا کہ علامہ اقبالؒ گھروں میں رہنے والی چھوٹی سی چڑیا کو شاہین سے لڑا رہے تھے۔ احتیاطاً کنجشک کا تلفظ بھی بتادیں جو خود ہم نے بڑی مشکل سے سیکھا ہے۔ یہ ہے کُن+ جِشْک۔ فِرو کہتے ہیں زیرِ حکم، ماتحت، سفلہ، کم رتبہ، مسکین وغیرہ کو۔ اس سے فِرومایہ کے علاوہ فِروتن، فِروگزاشت (کوتاہی، کمی، خطا، بھول، بے پروائی، غفلت، درگزر، چشم پوشی) وغیرہ کئی تراکیب ہیں۔ فِرومایہ کا مطلب ہے کمینہ، کم ظرف، حقیر وغیرہ۔ اب علامہ اقبال کنجشک یا چڑیا کو کمینی تو کہنے سے رہے۔

ایک ترکیب فِرو کرنا بھی ہے، جس کا مطلب ہے دبانا، بٹھانا، بجھانا، کم کرنا جس کی ایک جھلک گزشتہ پیر کو قومی اسمبلی میں بھی نظر آئی۔ کس کو دبایا، کس کو بجھایا، یہ قارئین خود طے کرلیں۔ اور ہاں! فِروکش بھی تو ہے، یعنی اترنے والا، قیام کرنے والا۔

گزشتہ دنوں ’’تذکرہ غوثیہ‘‘ پڑھ رہے تھے تو ایک جملہ نظر سے گزرا جس میں کسی کو منصب چکلہ داری دینے کی بات کی گئی ہے۔ چکلہ (صحیح چکلا) کا یہ استعمال نیا تھا کہ یہ بھی کوئی منصب ہے۔ چکلا کا عام استعمال یا تو چوڑا چکلا ہے یا روٹی بیلنے کا پٹڑا چکلا کہلاتا ہے۔ لغت کے مطابق یہ ہندی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ملک کا ایک حصہ جس میں کئی پرگنے ہوں، علاقہ، صوبہ، جاگیر یا شہر کا وہ حصہ جہاں کسبیاں رہیں۔ علاوہ ازیں گول، مدور، چوڑا، عریض، گول اور چپٹا پتھر یا لکڑی کا ٹکڑا، دال دلنے کی چکی۔ ہمارے ساتھی مظفر اعجاز نے توجہ دلائی ہے کہ ممکن ہے ’’چک‘‘ چکلا کی تصغیر ہو۔ چک پنجاب میں مستعمل ہے یعنی کسی علاقے کی حد بندی۔ چکلا بندی کا مطلب ہے حد بندی، صوبوں کو چکلوں میں تقسیم کرنا۔ تذکرہ غوثیہ دلچسپ حکایتوں کی کتاب ہے جو 1880ء سے پہلے لکھی گئی۔ چنانچہ اس میں اردو کے اور کئی ایسے الفاظ ہیں جو اب متروک ہوچکے ہیں۔ ان کا ذکر پھر کبھی سہی، اس گزارش کے ساتھ کہ تذکرہ غوثیہ کو دینی کتاب سمجھ کر نہ پڑھا جائے۔

ایک انجان قاری فیروز ہاشمی نے کسی انجان مقام سے خط بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘ بہت خوب اور بہت معلوماتی ہے۔ کئی الفاظ میں مجھے بھی الجھن ہوتی ہے۔ لیکن اب مسلسل یہ کالم شائع ہونے سے فائدہ ہورہا ہے کہ خودبخود جواب مل رہا ہے۔ نون غنہ اور انگریزی کے سائلنٹ حروف کے بارے میں کچھ اشکال ہیں۔ امید ہے کہ اہلِ زبان اس بارے میں رہنمائی فرمائیں گے۔ مثلاً اکثر لوگ ’’کیونکہ‘‘ اس طرح لکھتے ہیں۔ درمیان میں نون غنہ کے لیے نون ہی کا استعمال ہورہا ہے جو بعض دفعہ کم اردو جاننے والوں کے لیے پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ کیا ہم نون غنہ کے لیے رشید حسن خاں کے مشورے پر عمل کرسکتے ہیں؟ جیسے شنکر، کنکر، بانگ، دانگ وغیرہ۔ سرائیکی میں بھی شاید اس طرح کا طریقہ رائج ہے۔ سرائیکی نستعلیق میں یہ لکھا جاتا ہے۔

انگریزی کے سائلنٹ حروف کو اردو میں بھی لکھا جائے اور انگریزی کی طرح پڑھا نہ جائے جیسے فرسٹ (First) وغیرہ۔

عربی کے قاعدے کے مطابق بہت سارے الفاظ جو اردو میں استعمال کیے جاتے ہیں انہیں لکھا جائے لیکن پڑھا نہ جائے، یعنی اصل عربی املا ہی کو جاری رکھا جائے تاکہ ہمارے علم میں یہ رہے کہ یہ عربی زبان سے اردو میں رائج ہوا ہے۔ ورنہ اگر ہم اعلیٰ کو اعلا کریں گے تو بہت ساری دشواریاں آئیں گی۔ خاص طور سے سرچ کرنے میں دقت آئے گی۔ اب زیادہ تر ضرورتوں کے لیے انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا استعمال ہورہا ہے۔ اگر ہم مختلف قسم کے املا لکھیں گے تو سرچ کرنے میں دقت پیش آئے گی۔ ابھی کمپیوٹر میں اردو زبان کے سلسلے میں زیادہ کام نہیں ہوپایا ہے کہ انگریزی کی طرح دوسرے متبادل الفاظ کمپیوٹر خود پیش کردے۔‘‘

بھائی فیروز ہاشمی، توجہ کا شکریہ۔ آپ کی بات پوری طرح سمجھ میں نہیں آئی۔ توقع ہے کہ مزید وضاحت کریں گے۔ آپ نے اہلِ زبان سے رہنمائی چاہی ہے۔ ہم بھی یہ معاملہ

انہی پر چھوڑتے ہیں۔ فی الوقت تو رسید حاضر ہے۔


متعلقہ خبریں


املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ کا بگاڑ اطہر علی ہاشمی - جمعه 05 اگست 2016

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا ...

تلفظ کا بگاڑ

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘ اطہر علی ہاشمی - هفته 04 جون 2016

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔ کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔...

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

اعلیٰ یا اعلا اطہر علی ہاشمی - اتوار 03 اپریل 2016

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ ...

اعلیٰ یا اعلا

فِحش یا فحش؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 22 فروری 2016

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی ا...

فِحش یا فحش؟

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

’’معاملات ٹھن گئے‘‘ اطہر علی ہاشمی - منگل 08 دسمبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعظم جناب انور ظہیر جمالی نے گزشتہ منگل کو ایوانِ بالا سے بڑی رواں اور شستہ اردو میں خطاب کرکے نہ صرف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی لاج رکھی بلکہ یہ بڑا ’’جمالی‘‘ خطاب تھا اور اُن حکمرانوں کے لیے آئینہ جو انگریزی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ حالانکہ عدالتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والوں کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی انگریزی ہوتا ہے۔ قانون کی تعلیم، وکالت اور پھر عدالتوں میں دائر درخواستیں پڑھنا، جو عموماً انگریزی میں ہوتی ہیں۔ ایک عام جج بھی میاں نوازشریف سے ...

’’معاملات ٹھن گئے‘‘

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق اطہر علی ہاشمی - پیر 30 نومبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال، نامور شاعر ظفر اقبال کے ماہتاب ہیں۔ اردو سے خاص شغف ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام مزاحیہ ہے، چنانچہ ان کی اصلاح بھی کبھی کبھی مزاح کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ اتوار کو ان کا پروگرام دیکھا جس میں انہوں نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا کہ جس کو شہر یعنی City کہا جاتا ہے، یہ دراصل عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘ جیسے شہرِ رمضان۔ پہلے تو ہمیں گمان ہوا کہ وہ شاید اپنے پروگرام کی نسبت سے مزاح فرما رہے ہیں، لیکن پھر...

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ اطہر علی ہاشمی - منگل 24 نومبر 2015

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن ...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ

اردو میں لٹھ بازی اطہر علی ہاشمی - بدھ 11 نومبر 2015

چلیے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ سنڈے میگزین (4 تا 10 اکتوبر) میں صفحہ 6 پر ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے لیکن اس میں زبان و بیان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ مثلاً ’لٹھ‘ کو مونث لکھا گیا ہے۔ اگر لٹھ مونث ہے تو لاٹھی یقینا مذکر ہوگی۔ لٹھ کو مونث ہی بنانا تھا تو ’’لٹھیا‘ لکھ دیا ہوتا۔ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس (لٹھ) کے ٹاپ پر گھنگرو اور پیتل کی گھنٹیاں‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نفاذِ اردو کے حکم کے بعد ’’ٹاپ‘‘ کا استعمال توہین عدالت کے مترادف ہے، وزیراعظم کے انگریزی میں خطاب پر ...

اردو میں لٹھ بازی