وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

پیر 11 جولائی 2016 ’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

urdu-nastaliq

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟

عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ’’ذمے وار‘‘ کہتے رہیں، ان کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ تاہم پیر 11 اپریل کو انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہاکہ ’’دو معاملات کو آپس میں گُڈمُڈ نہ کریں‘‘۔ حضرت گاف اور میم دونوں پر زبر ہے جسے فتح کہتے ہیں، یعنی گَڈمَڈ ہے۔

یہ صراحت اس لیے ضروری ہے کہ ’’کلام الملوک، ملوک الکلام‘‘ کے مصداق عام لوگ تلفظ میں بھی حکمرانوں کی پیروی کررہے ہیں۔ ممکن ہے کہ ٹی وی چینلز پر بیٹھے ہوئے حضرات بھی معاملات کو گُڈ مُڈ کر دیں۔

کئی الفاظ ایسے ہیں جن کی جمع الجمع بن گئی ہے مثلاً دوا کی جمع ادویہ اور جمع الجمع ادویات۔ لیکن ٹی وی چینلز پر خواتین اور روابط کی جمع الجمع سننے میں آئی یعنی ’’خواتینوں‘‘، ’’روابطوں‘‘۔ اخبارات میں ’’ایک ذرائع کے مطابق‘‘ تو عام ہے۔

ایسا ہی ایک لفظ ’کھدبد‘ ہے۔ یہ کھد بد دال میں بھی ہوتی ہے اور دل میں بھی۔ ہم ایک عرصے تک اسے کُھد بُد (پیش کے ساتھ) کہتے اور اسی کو صحیح سمجھتے رہے۔ لیکن یہ کھد بد کہیں بھی ہو، یہاں بھی دونوں جگہ زبر ہے یعنی کَھد بَد۔

کئی الفاظ ایسے ہیں جن کی جمع الجمع بن گئی ہے مثلاً دوا کی جمع ادویہ اور جمع الجمع ادویات۔ لیکن ٹی وی چینلز پر خواتین اور روابط کی جمع الجمع سننے میں آئی یعنی ’’خواتینوں‘‘، ’’روابطوں‘‘۔ اخبارات میں ’’ایک ذرائع کے مطابق‘‘ تو عام ہے۔

ویسے تو یہ ’’قولِ پرویزی‘‘ ہے اور یہ والے پرویز، رشید بھی ہیں، یعنی پرویز رشید، جن کو حکومت کی طرف سے عمران خان کا شعبہ تفویض کیا گیا ہے، چنانچہ انہوں نے عمران خان کے طویل خطاب پر بلاغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ان کی بچگانہ باتیں تین سال سے سن رہے ہیں‘‘۔ یعنی یہ راج ہٹ اور بالک ہٹ کا مقابلہ ہے، لیکن بچگانہ کو کچھ اخبارات نے ’ک‘ سے یعنی ’بچکانہ‘ لکھا ہے۔ اب دونوں میں سے صحیح کیا ہے، بات بچگانہ ہے یا بچکانہ؟ الفاظ تو دونوں ہی ٹھیک ہیں لیکن لغت کے اعتبار سے دونوں میں معنوی لحاظ سے فرق ہے۔ شاید اس پر پہلے بھی لکھا گیا ہے لیکن ’’باز خوانی‘‘ میں کوئی حرج نہیں۔

بچکانا ہندی کا لفظ ہے اور مطلب ہے: بچوں کے لائق، کم عمر کا، بچوں کا، بچے کا جوتا، کپڑا وغیرہ۔ اس کی تانیث ہے ’بچکانی‘۔ اور بچگانہ فارسی صفت ہے یعنی بچوں کے متعلق، بچپنے کا، طفلانہ، بچوں کے قابل، بچوں کی طرح۔ پرویز رشید نے عمران خان کی باتوں کو ’’بچگانہ‘‘ کہا ہوگا۔ لیکن اس کاف، گاف کی وضاحت جناب پرویز رشید ہی کو کرنی چاہیے، آخر وزیراطلاعات بھی تو ہیں اور تین سال سے برداشت کررہے ہیں۔

لاہور میں ہمارے نادیدہ مگر حقیقی مہربان جناب افتخار مجاز نے پوچھا ہے کہ ’’آپ نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے ’’یہ توہم کا کارخانہ ہے‘‘۔ کیا اس مصرع میں ’’تواہم‘‘ نہیں ہے؟‘‘ حضرت، ہم بھی اسی وہم میں مبتلا رہے کہ یہ تواہم ہے، مگر ایک استاد نے بتایا کہ یہ توہم ہے۔ بات یہ ہے کہ توہم کا تلفظ ایسا ہے کہ اس میں الف چھپا ہوا ہے یعنی تَوَہُمّ…… وہم میں ڈالنا۔ واؤ پر زبر ہے جس سے الف کی آواز نکلتی ہے۔ اس کی جمع توہمات ہے اور اس میں بھی مشکل پیش آتی ہے کہ ہم جیسے لوگ اسے ’تو۔ہمات‘ پڑھتے ہیں۔ اب کیا کریں کہ یہ تَوَہُمّ کا کارخانہ ہے۔ افتخار مجاز کی وجہ سے ممکن ہے دوسروں کا تلفظ بھی درست ہوجائے۔

سہ ماہی ’بیلاگ‘ عزیز جبران انصاری کی کاوشوں اور محنتِ شاقہ کا مظہر ہے۔ اس کے ذریعے ہم اپنا تلفظ و املا بھی درست کرتے ہیں۔ یہ اردو زبان کی بڑی خدمت ہے۔ جنوری تا مارچ کے شمارے میں انتظار حسین مرحوم پر بڑا بھرپور مضمون ہے۔ تاہم صفحہ 51 پر مصنف نے ایک لفظ ’’کورمغزی‘‘ استعمال کیا ہے۔ مغز کے اندھا ہونے کا کوئی قرینہ، کوئی محاورہ نہیں ہے۔ ممکن ہے یہ سہو کاتب ہو اور یہ لفظ کوڑھ مغز ہو (ک پر پیش ہے)۔ کوڑھ مغز کا مطلب ہے: بے وقوف، احمق، مورکھ وغیرہ۔ اب تو یہ کم ہی استعمال ہوتا ہے، ورنہ بزرگ اپنے خردوں کے لیے کثرت سے استعمال کرتے تھے (ذاتی تجربہ ہے)۔ مذکورہ شمارے میں بھی صحتِ الفاظ پر توجہ دی گئی ہے۔ ہم نے بھی استفادہ کیا۔ مثلاً جنجال کو ہم جیم پر زبر کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں۔ لیکن عزیز جبران انصاری کے مطابق اس میں جیم پر زیر ہے یعنی جِن جال۔ لیکن ایک نہیں کئی لغات میں جَنجال (جیم پر زبر بالفتح، بروزن کنگال) ہے۔ یعنی ہم تو صحیح پڑھتے رہے۔ امید ہے اگلے بیلاگ میں تصحیح یا وضاحت ہوجائے گی۔

آج کل کا نیا شوشہ، پاناما لیکس کے حوالے سے کچھ لوگوں سے استعفا طلب کیا جارہا ہے۔ لیکن جو لوگ استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں، وہ پہلے تلفظ تو درست کرلیں۔ وہ ہی کیا تمام ٹی وی چینلوں پر جناب پرویزرشید ہی کی زبان چل رہی ہے اور ہر طرف سے ’اَستَعفا‘ طلب کیا جارہا ہے۔ کوئی مستعفی ہو یا نہ ہو اِستِعفا (اِس۔تع۔فا) میں الف اور ت دونوں کے نیچے زیر (کسرہ) ہے۔ عربی کا لفظ ہے اور اس کا مادہ عفو ہے۔ عفو کا مطلب ہے معافی طلب کرنا۔ ویسے ’’عفو‘‘ کا تلفظ بھی عموماً غلط ہی سنا۔

ماہنامہ ’قومی زبان‘ کراچی کے اپریل کے شمارے میں اردو کے استاد ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا ایک مضمون ’’صحافت کی زبان اور اردو املا کا انتشار: چند تجاویز‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اس سے ایک اقتباس:

’’سطورِ بالا میں لفظ ’’گنجائش‘‘ آیا ہے اور ہم نے اس میں ہمزہ لکھا ہے، جب کہ بعض لوگ غالباً رشید حسن خان صاحب مرحوم کی کتاب کے زیراثر اب ایسے الفاظ مثلاً نمائش، فرمائش، فہمائش وغیرہ میں ہمزہ کی (کے) بجاے ’’ی‘‘ لکھ رہے ہیں یعنی ان کا املا نمایش، فرمایش اور فہمایش کررہے ہیں۔ لیکن ہماری دانست میں یہاں ’’ی‘‘ لکھنا غلط ہے۔ ابھی لفظ ’’بجاے‘‘ بھی آیا، اسے ’’بجائے‘‘ لکھا جاتا ہے لیکن اس پر ہم نے ہمزہ نہیں لکھا…… عرض یہ ہے کہ ذیل میں پیش کی گئی گزارشات محض تجاویز ہیں، اہلِ علم اور علمی و ادبی ادارے ان پر غور فرمائیں اور اردو کے ایک معیاری اور یکساں املا کی طرف پیش قدمی کریں۔‘‘

رؤف پاریکھ نے توجہ دلائی ہے کہ بعض اخبارات ایسے بھی ہیں جن میں ایک ہی لفظ کا املا مختلف اوقات میں مختلف ہوتا ہے۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں خطاب کرتے ہیں ،یہ معاملہ صرف بڑی طاقتوں کا ہی نہیں ہے ایران کی رہنما بھی عالمی فورمز پر اظہار خیالات کیلئے فارسی کا ہی سہارا لیتے ہیں، جبکہ عرب لیڈر بالعموم عربی میں ہی خطاب کرتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ کا بگاڑ اطہر علی ہاشمی - جمعه 05 اگست 2016

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا ...

تلفظ کا بگاڑ

تلفظ میں زیر و زبر اطہر علی ہاشمی - پیر 01 اگست 2016

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم ن...

تلفظ میں زیر و زبر

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیراہتمام قومی نفاذ اردو کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قومی زبان تحریک کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ ہر صوبے میں اردو اور علاقائی زبان پڑھائی...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘ اطہر علی ہاشمی - هفته 04 جون 2016

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔ کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔...

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

اعلیٰ یا اعلا اطہر علی ہاشمی - اتوار 03 اپریل 2016

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ ...

اعلیٰ یا اعلا

فِحش یا فحش؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 22 فروری 2016

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی ا...

فِحش یا فحش؟

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں، ہمیں دوستوں کا پتہ نہیں اُن کا برقی پتہ محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور موبائل کی آمد کے بعد سے تو گویا قلم و کاغذ سے رہا سہا تعلق بھی جا تا رہا۔ خط و کتابت اب ماضی بعید کا قصہ بن چکا ہے۔ کورے کاغذ کی خوشب...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے بھی نئے خریدار بن نہیں رہے ۔ بتانے لگا کہ کسی زمانے میں انگریزی کی ریڈرز ڈائجسٹ دُکان پر دو سوکے لگ بھگ آتی اور ہاتھوں ہاتھ نکل جاتیں۔ طلبہ اورکم آمدنی والے نوجوان پرانے شمار ے سستے داموں فراہم کرنے ...

پڑھتے کیوں نہیں؟