وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

هفته 04 جون 2016 ’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

urdu words

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔

کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔ لیکن لوہے قلم کے لیے جائز ہے۔ یہ فیصل آباد سے بروقت شائع ہونے والا واحد کلر پرنٹ اخبار ہے۔ جب کوئی نیا اخبار نکالنا چاہے تو سب سے بڑا مسئلہ نام کا ہوتا ہے۔ محکمہ اطلاعات کی فہرست میں ہر نام موجود ہوتا ہے خواہ وہ اخبار باقاعدگی سے شائع ہوتا ہو یا نہیں۔ ممکن ہے ’لوح و قلم‘ نام کا کوئی اخبار بھی فہرست میں موجود ہو اسی لیے نام ’لوہے قلم‘ رکھ دیا، اس یقین کے ساتھ کہ یہ نام کسی کے پاس نہیں ہوگا۔ یوں بھی ’لوح و قلم‘ ایسا نام ہے جو کسی کی توجہ مبذول نہ کراتا۔ ’لوہے قلم‘ اچھوتا ہے جس پر اس کے بانی چیف ایڈیٹر کو داد دینی چاہیے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی 1167ء میں، اور کیمرج 1230ء میں وجود میں آئی۔ ایک ہزار سال پہلے سے مسلمانوں کے ان کا مرہونِ منت ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اُس زمانے میں تو یورپ سے علم کے متلاشی فاس، قاہرہ اور قرطبہ آکر اسلامی جامعات کے مرہونِ منت ہوتے تھے۔

محسن فارانی نے ’’لغزشیں اہلِ صحافت کی‘‘ کے عنوان سے صحافیوں کی گرفت کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’اخبارات و جرائد میں اب ایک نئے مرکب سے واسطہ پڑرہا ہے اور وہ ہے ’’پیشن گوئی‘‘۔ فارسی لفظ پیش یا پیشین دونوں کے معنی ہیں ’پہلے‘ یا ’آگے‘۔ ان سے درست ترکیب پیش گوئی یا پیشین گوئی ہے یعنی مستقبل کی کوئی بات کہنا۔لیکن یار لوگوں نے ایک تیسری ترکیب گھڑلی ہے یعنی پنجابی لفظ ٹیشن (اسٹیشن) کے وزن پر لفظ ’پیشن‘ ایجاد کرلیا ہے جو لغت میں سراسر بدعت ہے۔‘‘

’’’غتربود‘‘ کی ترکیب کیسے وجود میں آئی؟ شیخ سعدی کا مصرع ہے ’’سعدی کہ گوئے بلاغت ربود‘‘ یعنی سعدی بلاغت کی گیند چھین لے گیا۔ ’گوئے‘ فارسی میں گیند کو کہتے ہیں اور گیند سے کھیلنے والے کو ’گوئے باز‘ جسے ہم بیٹسمین کہتے ہیں۔ اسی سے ایک محاورہ ہے ’’گوئے سبقت لے جانا‘‘۔ کاتب نے شیخ سعدی کے مصرع کی کتابت کرتے ہوئے بلاغت ربود کو ملا کر بلاغتربود لکھ دیا۔ اس سے فارسی کا محاورہ ’’غتربود شدن یاکردن‘‘ اور اردو میں غتربود ہونا یا کرنا وجود میں آیا جس کے معنی ہیں ’گڈمڈ ہونا‘ یا ’خراب کردینا‘۔ اس حوالے سے ایک قصہ بھی مشہور ہے۔ استاد نے اس مصرع کے بارے میں شاگرد سے پوچھا کہ کیا مطلب سمجھ میں آگیا؟ اس نے کہا ’’استاد جی’بلا‘ تک تو سمجھ میں آگیا، اس سے آگے غت ربود سمجھ میں نہیں آیا‘‘۔ اور یوں اس نے معنی غتربود کردیے۔

معروف ہوجانے والے کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے ایک کالم میں جذبات میں بہہ کر لکھ ڈالا کہ ’’ہم (مسلمان) ایک ہزار سال سے آکسفورڈ اور کیمرج کے مرہونِ منت ہیں‘‘۔ یہ نہ صرف مبالغہ بلکہ خلافِ حقیقت بھی ہے۔ ایک ہزار سال پہلے آکسفورڈ اور کیمرج کا وجود ہی نہیں تھا، البتہ اُس وقت اسلامی یونیورسٹیاں جامعہ قرویین (فاس، مراکش۔ تاسیس 895ء) اور جامعہ ازہر (قاہرہ 971ء) موجود تھیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی 1167ء میں، اور کیمرج 1230ء میں وجود میں آئی۔ ایک ہزار سال پہلے سے مسلمانوں کے ان کا مرہونِ منت ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اُس زمانے میں تو یورپ سے علم کے متلاشی فاس، قاہرہ اور قرطبہ آکر اسلامی جامعات کے مرہونِ منت ہوتے تھے۔ مشرق کے مسلمان تو گزشتہ ڈیڑھ، دو سو برس میں آکسفورڈ اورکیمرج کے مرہونِ منت ہوئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ برعظیم پاک و ہند سمیت کئی مسلم ممالک پر انگریزوں کا غلبہ تھا اور مسلمانوں کا اپنے تعلیمی اداروں کے بارے میں احساسِ کمتری۔ اور یہ احساس بھی انگریز نوازوں کا پیدا کردہ تھا۔ ورنہ برعظیم میں اُس وقت بھی متعدد تعلیمی ادارے کام کررہے تھے اور انہی سے انجینئر، طبیب اور دیگر ماہرینِ فن نکلتے تھے۔ بعض لوگوں میں یہ احساسِ کمتری اب بھی موجود ہے۔
برسبیل تذکرہ، ہمارے قارئین کو یہ تو معلوم ہوگا کہ مرہون کا مادہ رہن ہے۔ رہن رکھنا عام استعمال ہوتا ہے۔ مرہون عربی کا لفظ اور مذکر ہے، مطلب ہے رہن کیا گیا، گرو (گروی) رکھا گیا۔ مرہونِ منت یعنی احسان مند، شکرگزار۔ عربی میں رہن کی ’ر‘ پر زبر ہے لیکن اردو میں بکسر اول بھی بولتے ہیں۔ اردو میں ایک لفظ اسی شکل صورت کا ہے یعنی رَہن بمعنی رہائش، دستور، قاعدہ۔ اسی سے رَہن سَہن ہے یعنی معاشرت، طرز، بودو باش وغیرہ۔

ایک خاتون کالم نگار نے چین کے بارے میں اپنے کالم میں لکھ ڈالا کہ اس کے سب دریا بحراوقیانوس میں گرتے ہیں۔ اب کہاں مغربی سمندر بحر اوقیانوس جو یورپ، افریقہ اور امریکہ کے درمیان واقع ہے، اور کہاں مشرقی ملک چین…… اس کے دریا بحرالکاہل میں گرتے ہیں، شاید اسی لیے کبھی چینی کاہل ہوا کرتے تھے اور انقلاب کے بعد شاعر کو کہنا پڑا کہ ’’گراں خواب چینی سنبھلنے لگے‘‘۔ یورپ نے ان کو افیون کا عادی بنادیا تھا۔ افیون پر پابندی لگانے کی وجہ سے یورپ کی چینیوں سے دو جنگیں ہوئیں جو جنگِ افیون (OPIUM WAR) کہلاتی ہیں۔آج وہی مغرب دوسروں پر منشیات فروشی کا الزام لگاتا ہے۔ لیکن آج کل چین کی مصنوعات کی ناپائیداری کا چرچا ہے۔ ایسی اشیا وہ اپنے ملک کے لیے نہیں دوسروں کے لیے بناتے ہیں۔ کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا حال سب پر آشکار ہے۔ ایسے میں کسی پاکستانی مبصر نے کہہ دیا کہ عمر اکمل اور شہزاد پاکستان کے روہت شرما ہیں، تو بھارتی کھلاڑی یوراج سنگھ بولے ’’ہاں، مگر وہ چینی روہت شرما ہیں‘‘۔ اس تبصرے پر سوائے شرمندہ ہونے کے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

بحرالکاہل کو عربی میں ’’المحیط الھادی‘‘ کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم جسے دریا کہتے ہیں فارسی میں اسے ’رود‘ کہا جاتا ہے (پہاڑوں سے آنے والے دریاؤں، نالوں کو یہاں بھی رود کوہی کہا جاتا ہے)۔ فارسی والے سمندر کو دریا کہتے ہیں، مثلاً بحرہند کو دریائے ہند۔ ہم نے یہ بحرہند بھی عربوں کے البحرالہندی سے لیا تھا، مگر اب عرب اسے المحیط الہندی کہتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اسی لیے ’محیط بیکراں‘کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ہم نے بحر، بحیرہ اور نہر کے الفاظ عربوں سے لیے مگر عربوں نے ان کے معنی ہی بدل ڈالے۔ ادھر ہمارے برقی ذرائع ابلاغ پر بُحیرہ کو غلط طور پر بَحیرہ پڑھا جاتا ہے، جب کہ قرآنی لفظ بَحیرہ کے معنی ہیں ’’کسی بت کے نام وقف کی گئی اونٹنی۔‘‘

سمندروں میں سفینہ رواں ہو ہی گیا ہے تو یہ ذکر بھی دلچسپ ہوگا کہ بحراوقیانوس کو یونانیوں نے OKEANUS کا نام دیا تھا جسے عربوں نے معّرب کرکے اوقیانوس بنالیا۔ عربی اور فارسی سے یہ نام اردو میں آیا۔ لطیفہ یہ ہوا کہ اوقیانوس اسم معرفہ تھا مگر یورپ والوں نے اسے نکرہ بناکر OCEAN (بڑا سمندر) کے ساتھ معرفہ اٹلانٹک لگالیا اور عربوں نے ان کی پیروی کرتے ہوئے اسے ’’المحیط الاطلنطی‘‘ کہنا شروع کردیا، جب کہ ہم بدستور عربوں کے دیے ہوئے اوقیانوس سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ایک اور بات…… عربی کی مشہور لغت ہے القاموس۔ قاموس بڑے سمندرکو کہتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ کا بگاڑ اطہر علی ہاشمی - جمعه 05 اگست 2016

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا ...

تلفظ کا بگاڑ

تلفظ میں زیر و زبر اطہر علی ہاشمی - پیر 01 اگست 2016

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم ن...

تلفظ میں زیر و زبر

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

اعلیٰ یا اعلا اطہر علی ہاشمی - اتوار 03 اپریل 2016

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ ...

اعلیٰ یا اعلا

فِحش یا فحش؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 22 فروری 2016

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی ا...

فِحش یا فحش؟

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

’’معاملات ٹھن گئے‘‘ اطہر علی ہاشمی - منگل 08 دسمبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعظم جناب انور ظہیر جمالی نے گزشتہ منگل کو ایوانِ بالا سے بڑی رواں اور شستہ اردو میں خطاب کرکے نہ صرف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی لاج رکھی بلکہ یہ بڑا ’’جمالی‘‘ خطاب تھا اور اُن حکمرانوں کے لیے آئینہ جو انگریزی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ حالانکہ عدالتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والوں کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی انگریزی ہوتا ہے۔ قانون کی تعلیم، وکالت اور پھر عدالتوں میں دائر درخواستیں پڑھنا، جو عموماً انگریزی میں ہوتی ہیں۔ ایک عام جج بھی میاں نوازشریف سے ...

’’معاملات ٹھن گئے‘‘

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق اطہر علی ہاشمی - پیر 30 نومبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال، نامور شاعر ظفر اقبال کے ماہتاب ہیں۔ اردو سے خاص شغف ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام مزاحیہ ہے، چنانچہ ان کی اصلاح بھی کبھی کبھی مزاح کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ اتوار کو ان کا پروگرام دیکھا جس میں انہوں نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا کہ جس کو شہر یعنی City کہا جاتا ہے، یہ دراصل عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘ جیسے شہرِ رمضان۔ پہلے تو ہمیں گمان ہوا کہ وہ شاید اپنے پروگرام کی نسبت سے مزاح فرما رہے ہیں، لیکن پھر...

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ اطہر علی ہاشمی - منگل 24 نومبر 2015

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن ...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ

اردو میں لٹھ بازی اطہر علی ہاشمی - بدھ 11 نومبر 2015

چلیے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ سنڈے میگزین (4 تا 10 اکتوبر) میں صفحہ 6 پر ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے لیکن اس میں زبان و بیان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ مثلاً ’لٹھ‘ کو مونث لکھا گیا ہے۔ اگر لٹھ مونث ہے تو لاٹھی یقینا مذکر ہوگی۔ لٹھ کو مونث ہی بنانا تھا تو ’’لٹھیا‘ لکھ دیا ہوتا۔ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس (لٹھ) کے ٹاپ پر گھنگرو اور پیتل کی گھنٹیاں‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نفاذِ اردو کے حکم کے بعد ’’ٹاپ‘‘ کا استعمال توہین عدالت کے مترادف ہے، وزیراعظم کے انگریزی میں خطاب پر ...

اردو میں لٹھ بازی