وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

بدھ 20 اپریل 2016 ’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

urdu words

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔

ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘۔ یہ تکّا کیا ہے؟ قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض ہے کہ تکّا بغیر پھل (نوک) کے تیر کو کہتے ہیں۔ اس میں نوک کے بجائے گھنڈی ہوتی تھی اور تیراندازی کی مشق کے کام آتا تھا۔ تکّا قیاس، اندازہ، اٹکل کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اب تو تیراندازی اور اس کی مشق ہی ختم ہوگئی۔ اب تو تیر اور تکّا محاوروں، مثالوں میں رہ گئے۔

یہ مراعاتیں کیا ہے؟ شاید کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مراعات کی جمع مراعاتیں ہیں، اور ایک صاحب نے تو اس کا واحد ’’مراعت‘‘ تلاش کرلیا تھا۔ برسوں پہلے مشفق خواجہ (مرحوم) نے اپنے مشہور کالم ’’سخن در سخن‘‘ میں اپنے مخصوص انداز میں موصوف کی خبر لی تھی۔

فرائیڈے اسپیشل کے ایک شمارے کے سرورق پر جنرل راحیل شریف کو ’’سپہ سالارِ اعلیٰ‘‘ لکھا گیا ہے۔ جسارت کے ایک مضون نگار نے ان کو سپہ سالارِ اعظم کہا ہے۔ یعنی صرف سپہ سالار کہنے اور لکھنے سے تسلی نہیں ہوتی۔ اگر سالارِ اعلیٰ ہے تو کوئی سالارِ ادنیٰ بھی ہوگا۔ ہم نے تو فوج کا سپہ سالار بھی پڑھا ہے اور جیّد قسم کے مضمون نگاروں کی تحریروں میں دیکھا ہے۔ شاید انہیں معلوم نہ ہو کہ سپہ یا سپاہ کس کو کہتے ہیں۔

روزنامہ جسارت کی 9 فروری کی اشاعت میں صفحہ 2 پر ایک دلچسپ سرخی ہے ’’خلافِ ضابطہ غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں……‘‘ یہ مراعاتیں کیا ہے؟ شاید کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مراعات کی جمع مراعاتیں ہیں، اور ایک صاحب نے تو اس کا واحد ’’مراعت‘‘ تلاش کرلیا تھا۔ برسوں پہلے مشفق خواجہ (مرحوم) نے اپنے مشہور کالم ’’سخن در سخن‘‘ میں اپنے مخصوص انداز میں موصوف کی خبر لی تھی۔

ہم تو خبر ہی دے سکتے ہیں۔ مراعاتیں بالکل ہی مہمل ہے۔ مُراعات عربی کا لفظ اور مصدر ہے۔ اردو میں یہ مونث استعمال ہوتا ہے۔ یہ واحد اور جمع دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ لغت میں اس کے ذیل میں ایک اور لفظ ہے ’’مُرعی‘‘۔ یہ بھی عربی ہے اور مطلب ہے: رعایت کیا گیا، لحاظ کیا گیا، عائد کیا گیا، حکومت کیا گیا۔ مراعات عموماً رعایت، سلوک، مروت، لحاظ، توجہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، تاہم اس کا ایک مطلب ہے ’’جانوروں کا باہم مل کر چرنا، نگاہ رکھنا، کنکھیوں سے دیکھنا‘‘۔ ادب میں ایک اصطلاح مُراعات النظیر (عربی) کی ہے، یہ علم بدیع کی ایک صنعت ہے جس میں کئی چیزیں جن میں باہم مناسبت ہو ایک جگہ جمع کرتے ہیں، رعایتِ لفظی۔ عربی میں رعایت دیکھ بھال کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ عرب ممالک میں اسپتالوں کے باہر لکھا ہوتا ہے کہ یہاں فلاں مرض کی رعایت کی جاتی ہے۔ معنوی اعتبار سے یہ بالکل صحیح ہے، تاہم اردو میں کمی اور تخفیف کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں حفاظت، بچاؤ، نگہداشت، مناسبت، لحاظ، خیال، سہولت، طرف داری، مہربانی، توجہ، رحم، نرمی وغیرہ کے معنوں میں رعایت استعمال کی جاتی ہے۔ ’’رعایتی قیمت‘‘ کا جھانسہ بھی دیا جاتا ہے۔ اسی سے رعایا، راعی، رعیت وغیرہ ہیں۔ رعایا رعیت کی جمع ہے لیکن اردو میں بہ طور واحد استعمال ہوتا ہے۔ دوسری طرف عوام کسی طرح جمع مذکر ہونے پر تیار نہیں اور عموماً عوام کو واحد مونث لکھا جارہا ہے۔

ٹی وی چینلوں پر آج کل جمع الجمع بنانے کا رواج عام ہورہا ہے۔ مثلاً الفاظوں، جذباتوں، تصاویروں وغیرہ۔ شاید اسی رو میں مراعات کی جمع بنادی گئی۔

کراچی سے راشد رحمانی نے خبر دی ہے کہ معروف صحافی جناب ہارون رشید نے اپنے کالم (28 جنوری) میں جو شعر درج کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ کالم میں یہ شعر یوں ہے:

زمیں کے اندر بھی روشنی ہو
مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

راشد رحمانی کے مطابق پہلا مصرع یوں ہے ’’اندر بھی زمیں کے روشنی ہو‘‘۔ یہ شعر عبیداﷲ علیم کا ہے۔

بھائی رحمانی، یہ شعر کم از کم وزن میں تو ہے، بس کچھ ترتیب بدل گئی ہے۔ شعروں میں عموماً ایسا ہو جاتا ہے، تاہم باذوق افراد بے وزن شعر نہیں لکھتے۔ لیکن ایک صاحب جو بڑی پابندی سے اخبار جنگ میں شائع ہوتے ہیں، پروفیسر بھی ہیں، ان کو شعر بے وزن کرنے میں کمال حاصل ہے۔ وہ یہ کام بڑی کوشش سے کرتے ہیں۔ مرحوم عابد علی عابد کا ایک بہت خوبصورت شعر ہے جو نہ صرف حاصلِ غزل ہے بلکہ ممکن ہے کہ یہ شعر ان کی پوری شاعری پر بھاری ہو، اس کو بھی بے وزن کردیا۔ شعر یہ ہے

وقتِ رخصت وہ چپ رہے عابد
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل

حضرت پراسرار بخاری نے ’’وقت‘‘ کی جگہ ’’دم‘‘ کرکے شعر کا دم ہی نکال دیا۔ یہ کمال انہوں نے برسوں کی ریاضت کے بعد حاصل کیا ہے۔


متعلقہ خبریں


فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

لالچ مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - جمعرات 05 نومبر 2015

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر دوسرے مضمون نگار نے بھی لالچ کو مونث ہی ثابت کیا ہے (بہشت کی لالچ)۔ اب آپ ہی بتائیے، ہم کس کی بات مانیں؟ ہماری تو اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ لالچ مذکر ہے، مونث نہیں۔ ...

لالچ مذکر یا مونث؟

نقص ِامن یا نقضِ امن اطہر علی ہاشمی - هفته 31 اکتوبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا حلف بھی اردو میں لیا ہے۔ سرکاری سطح پر قومی زبان اردو کی جب اہمیت مسلّم ہوجائے گی تو اردو بولنے، لکھنے میں بھی بہتری آئے گی۔ چین سے تعلقات کے پیش نظر چینی زبان سکھانے کا سرکاری اہتمام کیا جارہا ہے تو...

نقص ِامن یا نقضِ امن

امرت سر اطہر علی ہاشمی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو یکجا کردیا۔ دیکھا جائے تو کوئی شخص اُس وقت تک پوری طرح نہیں ڈوبتا جب تک اس کا سر نہ ڈوبے۔ چُلّو بھر پانی میں ڈوبنا محاورہ تو ہے لیکن عملاً ممکن نہیں۔ ممکن ہے خان صاحب کو یہ کہنا اچھا نہ لگا ہو کہ ’’سر ...

امرت سر

اینچا تانی کی کھینچا تانی اطہر علی ہاشمی - پیر 12 اکتوبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال معروف شاعر ظفر اقبال کے ’’اقبال زادے‘‘ ہیں۔ اردو سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام کرتے ہیں۔ پروگرام کی نوعیت تو کچھ اور ہے تاہم درمیان میں آفتاب اقبال اردو کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بتایا کہ ’’کھینچا تانی‘‘ اصل میں اینچا تانی ہے۔ کپڑا بُنتے ہوئے دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے دو دھاگے چلتے ہیں جو اینچا تانی کہلاتے ہیں۔ یقینا یہ الفاظ لغت میں موجود ہیں۔ اسی کو تانا بانا بھی کہا ج...

اینچا تانی کی کھینچا تانی

بیرون ممالک اطہر علی ہاشمی - بدھ 16 ستمبر 2015

چلیے، آغاز اپنی غلطی سے کرتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ آئندہ بھی کریں گے۔ پچھلے شمارے میں سرزد ہونے والے سہو کی نشاندہی روات سے ایک ذہین شخص ذہین احمد نے کی ہے۔ روات اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، ممکن ہے اب بڑا شہر ہوگیا ہو، اسلام آباد کی قربت کا فائدہ ضرور ہوا ہوگا۔ پچھلے شمارے میں ہم نے ’’بانگ دہل‘‘ استاد دامن کے دامن میں ڈال دی تھی۔ یہ معرکتہ الآرا مجموعہ استاد امام دین گجراتی کا ہے جن کا ایک شعر یہ ہے: تیری اماں نے پکائے مٹر مام دینا تو کوٹھے پہ چڑھ ...

بیرون ممالک

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب ارد...

رفاعی یا رفاہی