وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

هفته 07 نومبر 2015 پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

urdu words

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔

ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم عمارت کا نوحہ کررہے تھے اور بتارہے تھے کہ کبھی یہ عمارت بڑی ’’پرشکوہ‘‘ تھی۔ چونکہ یہ نوحہ تھا اس لیے شکوہ بھی اس کے وزن پر تھا جیسے حلوہ، جلوہ، میوہ وغیرہ۔ معلوم ہوتا ہے وہ علامہ اقبال کی نظمیں ’’شکوہ، جوابِ شکوہ‘‘ سے بہت متاثر ہیں چنانچہ عمارت کو بھی پرشکوہ ہی کہتے ہیں۔ جانے وہ شاہجہاں کے بیٹے داراشکوہ یا مغل شہزادے سلمان شکوہ کو کیا کہتے ہوں گے! اس میدان میں جناب علی حسن اکیلے نہیں ہیں اور بھی کچھ لوگ ہیں جو شان و شکوہ کو شان و شکوہ (شکوا) کہتے پائے گئے ہیں۔ یہ شکوہ تو ’’کوہ‘‘ کے قافیے میں ہے۔ (شی کوہ)۔

ایک صاحب نے مخبری کی ہے کہ ایک چینل پر خبر دی جارہی تھی کہ ’’جان اچکزئی اپنی پاٹی کو خیرآباد کہہ گئے‘‘۔ بلاول زرداری کی لاہور میں پُرجوش تقریر کے دوران ڈان چینل پر پٹّا چل رہا تھا کہ ’’پیپلزپارٹی نے مفاہمت کی سیاست کو خیرآباد کہہ دیا‘‘۔ پٹی کی جگہ ’’پٹا‘‘ ہم نے اس لیے لکھا ہے کہ پٹی تو ٹی وی کے پردے پر نیچے کی طرف چل رہی ہوتی ہے لیکن بعض چینل کسی اہم نکتے کو واضح کرنے کے لیے پردے کے نصف حصے پر خبر چلاتے ہیں تو اسے پٹّا ہی کہا جائے گا۔ بہرحال ڈان نے تھوڑی دیر بعد ہی اصلاح کرلی۔ ممکن ہے سیاست میں خیر کو آباد کرنے کی بھی کوئی صورت ہو۔ نکڑ پر ایک خیرآباد کافی ہاؤس تو ہے۔

ایک خاتون ٹی وی چینل پر مہنگائی کے بارے میں بتارہی تھیں کہ یہ بہت ہوشر۔ با ہے۔ اب اگر ہوشربا ملاکر لکھا جائے تو انگریزی اداروں سے فارغ التحصیل خاتون کچھ بھی پڑھ سکتی ہیں جبکہ چینل بھی ایک انگریزی اخبار کا ہو۔ کوئی تصحیح کرنے والا بھی دستیاب نہیں ہوتا، چنانچہ خاتون ہر بلیٹن میں ہوش رُبا کے ٹکڑے کرتی رہیں۔ ویسے بھی لفظ ’’رُبا‘‘ ان کے لیے نامانوس ہی ہوگا اور ہمارا گمان ہے کہ وہ رُبا کے مطلب نہیں جانتی ہوں گی۔ لیکن کیا وہ ہوشر۔با کے مطلب جانتی ہوں گی؟

ایک ٹی وی چینل پر بلاول کے خطاب کے حوالے سے پٹی چل رہی تھی: ’’لاہور میں بلاول کا کھڑاگ‘‘۔ یہ کھڑاگ کسی اور چینل پر بھی نظر آیا۔ کھڑاگ پنجاب کا خاص لفظ ہے۔ ایک فلم بھی بنی تھی’’جٹ دا کھڑاگ‘‘۔ بلاول کے قول و عمل سے قطع نظر‘ وہ جٹ تو ہرگز نہیں ہیں۔ لیکن یہ لفظ کھڑاگ بے معنی ہے۔ اصل میں یہ کھٹراگ (کھٹ راگ) تھا لیکن ملا کر لکھنے کی وجہ سے کھڑاگ ہوگیا جیسے ’’غت ربود‘‘ غتربود ہوگیا۔ اس کا پس منظر بھی دل چسپ ہے۔ کھٹ راگ، پکھیڑے، جھمیلے، جھگڑے، قضیے، جنجال، فضول سامان کے علاوہ جس راگ میں سب راگوں کے سُر شامل ہوں اسے بھی کھٹ راگ کہتے ہیں۔ کھٹ راگ میں پڑنا یا بکھیڑے میں پڑنا۔ کھاٹ (پلنگ) کی چڑچوں کو بھی کھٹ راگ کہتے ہیں۔ لیکن جو بات کھڑاگ میں ہے وہ کھٹ راگ میں کہاں!

اتواری مخزن (سنڈے میگزین) میں ایک نوجوان ادیب و شاعر کا بڑا دلچسپ جملہ پڑھنے میں آیا ’’6 ستمبر بروز اتوار کا دن‘‘۔ بروز کے ساتھ دن غالباً تصدیقِ مزید کے لیے ہے۔ یہ سہو ہوسکتا ہے لیکن ایک ابھرتے ہوئے ادیب و شاعر کو ابھی سے اپنی تحریر پر توجہ دینی چاہیے ورنہ یہ غلطی ہو یا لاپروائی، پختہ ہوجائے گی۔ اپنی تحریر کو کم از کم دوسری بار تنقیدی نظر سے پڑھ لینا چاہیے۔ اردو کا ایک محاورہ ہے ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘۔ یہ نہیں ہونا چاہیے، مگر ہم خود یہی کرتے ہیں۔

شاعری پر یاد آیا، شام کے ایک اخبار میں ’’آج کا شعر‘‘ کے عنوان سے کسی کا شعر دیا جاتا ہے۔ ارشد صابری کا شعر کچھ یوں تھا:

ساتھیو وہ مدح خضراء جو نظر آجائے
بحر تعظیم جھکو، جھک کر مقرر دیکھو

اس شعر کا مطلب تو شاعر ہی کو معلوم ہوگا لیکن یہ ’’بحر تعظیم‘‘ کیا ہے؟ ہم اپنی ایک مضمون نگار خاتون پر یہی اعتراض کرتے رہے ہیں کہ بہرحال کو ’بحرحال‘ لکھ کر حال کو سمندر برد کیوں کرتی ہیں۔ لیکن اب وہ سند میں مذکورہ شعر پیش کرسکتی ہیں خواہ وہ ارشد صابری ہی کا ہو۔

اردو کے نفاذ کے بارے میں عدالتِ عظمیٰ فیصلہ دے چکی ہے اور جماعت اسلامی یوم نفاذِ اردو بھی مناچکی۔ لیکن برقی اور ورقی ذرائع ابلاغ میں انگریزی کے غیر ضروری الفاظ کی ٹھونس ٹھانس کم نہیں ہوئی۔ کئی الفاظ ایسے ہیں جن کا مناسب متبادل اردو میں موجود ہے۔ مثلاً کرپٹ اور کرپشن۔ بدعنوان اور بدعنوانی لکھنے میں کیا قباحت ہے؟ ایسے ہی چیمبر آف کامرس ہے۔کچھ ہی عرصہ پہلے اسے ایوانِ تجارت لکھا جاتا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو بھی ایوان تجارت و صنعت لکھا اور سمجھا جاتا رہا ہے۔ کئی شہروں کے ہوں تو ’’ایوانہائے‘‘ کی صورت میں جمع بنالی جاتی تھی، لیکن اب شاید رپورٹر اور اردو کی خبر ایجنسیوں میں کام کرنے والے لڑکے اس سے گریزاں ہیں کیونکہ ان کو بھی ’’کامرس رپورٹر‘‘ کہا جاتا ہے، کوئی تجارتی رپورٹر نہیں کہتا۔

اخبارات میں آج کل یہ خبریں لگ رہی ہیں کہ عید کے موقع پر اسپیشل ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ اب ٹرین اور ریل تو اردو ہی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اسپیشل کو خصوصی لکھنے سے ریل کی حالت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جو پہلے ہی خستہ ہے۔ البتہ کئی الفاظ انگریزی کے ایسے ہیں جن کا ترجمہ کیا تو دشواری ہوگی، ہم ROBOT کا ترجمہ تلاش کررہے تھے جو یوں ہے: ’’کلدار آدمی، کل پرزوں کا آدمی، مصنوعی انسان‘‘ وغیرہ۔ اس سے بہتر تو روبوٹ ہی ہے جس سے بچے بھی واقف ہیں۔ ان کو بتاؤ کہ یہ کلدار آدمی ہے تو ضرور کہیں گے ’’اردو میں بتایئے ناں‘‘۔

اردو سکھانے کی سب سے زیادہ ضرورت ٹی وی چینلوں کے باورچیوں کو ہے۔ وہ اپنی قابلیت جھاڑنے کے لیے مرچ، مسالے کا نام بھی انگریزی میں بتاتے ہیں اور کم تعلیم یافتہ خواتین پوچھتی پھرتی ہیں کہ بلیک پیپر اور جنجر کیا ہے‘کہاں سے ملے گا؟ یہ شاید ان کا احساسِ کمتری ہے اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ اب تو گاؤں، دیہات اور چھوٹے شہروں میں ٹی وی دیکھا جارہا ہے۔ ٹیبل سپون اور ٹی سپون، پنچ آف سالٹ، لیمن اسپائسی وغیرہ جیسے الفاظ تو اتنے عام ہیں جیسے گوبھی گوشت بھی انگریزوں کے لیے بن رہا ہو۔ ٹی وی چینل کے مالکان ان باورچیوں کو سمجھائیں جو ’’شیف‘‘ کہلوانے لگے ہیں، باورچی کہلوانا شاید توہین کا باعث ہو۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہندی میں ان کو مہاراج کہہ کر عزت دی جاتی ہے بشرطیکہ وہ برہمن بھی ہو، ورنہ تو ’’رسوئیا‘‘ کافی ہے جو رسوئی میں کام کرے۔ ہمارے ہاں باورچی خانہ ہوتا ہے مگر عام گھروں میں اس پر خاتونِ خانہ کا راج ہوتا ہے، لیکن کوئی انہیں باورچن کہنے کی جرأت نہیں کرتا۔

لانڈھی سے ایک قاری فیصل صاحب نے توجہ دلائی ہے کہ آپ نے ڈپریشن اور کنفیوژن کا مطلب قارئین پر چھوڑ دیا۔ کنفیوژن تو سیدھا سادہ ’’ابہام‘‘ ہے۔ نسلِ نو شاید اس کا مطلب پوچھ بیٹھے۔ رہی بات ڈپریشن کی، تو اسے دباؤ کہہ لیجیے۔ ملال، افسردگی، بددلی وغیرہ۔ اس کا مطلب جھکاؤ، نشیب اور ہوا کا دباؤ کم ہونا بھی ہے، جو پسند آئے۔ ویسے افسردگی مناسب ہے۔


متعلقہ خبریں


فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

لالچ مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - جمعرات 05 نومبر 2015

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر دوسرے مضمون نگار نے بھی لالچ کو مونث ہی ثابت کیا ہے (بہشت کی لالچ)۔ اب آپ ہی بتائیے، ہم کس کی بات مانیں؟ ہماری تو اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ لالچ مذکر ہے، مونث نہیں۔ ...

لالچ مذکر یا مونث؟

نقص ِامن یا نقضِ امن اطہر علی ہاشمی - هفته 31 اکتوبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا حلف بھی اردو میں لیا ہے۔ سرکاری سطح پر قومی زبان اردو کی جب اہمیت مسلّم ہوجائے گی تو اردو بولنے، لکھنے میں بھی بہتری آئے گی۔ چین سے تعلقات کے پیش نظر چینی زبان سکھانے کا سرکاری اہتمام کیا جارہا ہے تو...

نقص ِامن یا نقضِ امن

امرت سر اطہر علی ہاشمی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو یکجا کردیا۔ دیکھا جائے تو کوئی شخص اُس وقت تک پوری طرح نہیں ڈوبتا جب تک اس کا سر نہ ڈوبے۔ چُلّو بھر پانی میں ڈوبنا محاورہ تو ہے لیکن عملاً ممکن نہیں۔ ممکن ہے خان صاحب کو یہ کہنا اچھا نہ لگا ہو کہ ’’سر ...

امرت سر

اینچا تانی کی کھینچا تانی اطہر علی ہاشمی - پیر 12 اکتوبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال معروف شاعر ظفر اقبال کے ’’اقبال زادے‘‘ ہیں۔ اردو سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام کرتے ہیں۔ پروگرام کی نوعیت تو کچھ اور ہے تاہم درمیان میں آفتاب اقبال اردو کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بتایا کہ ’’کھینچا تانی‘‘ اصل میں اینچا تانی ہے۔ کپڑا بُنتے ہوئے دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے دو دھاگے چلتے ہیں جو اینچا تانی کہلاتے ہیں۔ یقینا یہ الفاظ لغت میں موجود ہیں۔ اسی کو تانا بانا بھی کہا ج...

اینچا تانی کی کھینچا تانی

بیرون ممالک اطہر علی ہاشمی - بدھ 16 ستمبر 2015

چلیے، آغاز اپنی غلطی سے کرتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ آئندہ بھی کریں گے۔ پچھلے شمارے میں سرزد ہونے والے سہو کی نشاندہی روات سے ایک ذہین شخص ذہین احمد نے کی ہے۔ روات اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، ممکن ہے اب بڑا شہر ہوگیا ہو، اسلام آباد کی قربت کا فائدہ ضرور ہوا ہوگا۔ پچھلے شمارے میں ہم نے ’’بانگ دہل‘‘ استاد دامن کے دامن میں ڈال دی تھی۔ یہ معرکتہ الآرا مجموعہ استاد امام دین گجراتی کا ہے جن کا ایک شعر یہ ہے: تیری اماں نے پکائے مٹر مام دینا تو کوٹھے پہ چڑھ ...

بیرون ممالک

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب ارد...

رفاعی یا رفاہی