وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جامعہ تلاشی

هفته 05 ستمبر 2015 جامعہ تلاشی

گزشتہ بدھ کو لاڑکانہ میں ایک اور صحافی قتل ہو گیا۔ ٹی وی چینل اب تک کے نمائندے نے اس کی خبر دیتے ہوئے مرحوم کو صحافیوں کے ’’ہر۔اول‘‘ دستے میں شمار کیا۔ ٹی وی چینل میں بیٹھے ہوئے افراد نے بھی تصحیح نہیں کی کیونکہ یہ لفظ بار بار سننے میں آیا۔ لاڑکانہ کا نمائندہ ہی نہیں ہم نے صحافت سے تعلق رکھنے والے اپنے دیگر ساتھیوں سے بھی ’’ہر۔ اوّل‘‘ سنا ہے۔ چلیے اول تک تو ٹھیک ہے لیکن کیا ان لوگوں نے کبھی یہ بھی غور کیا کہ یہ ’’ہر‘‘ کیا ہے؟ کیا یہ انگریزی کا HER ہے یا کچھ اور۔ ہم اپنے ساتھیوں کو تاکید کرتے رہتے ہیں کہ جو لفظ لکھ رہے ہیں یا بول رہے ہیں اس کا مطلب بھی معلوم کر لیا کریں اور لغت دیکھتے رہا کریں۔ بسا اوقات ایک لفظ اپنے مفہوم میں صحیح استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا لغوی معنی علم میں نہیں ہوتا اور یہ ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اب اگر ہر۔اول لکھا جائے تو جو جانتا ہے وہ تو صحیح پڑھ لے گا، پول تو بولنے پر کھلتا ہے۔ یہ لفظ ہر۔اول نہیں بلکہ ’’ہراول‘‘ بروزن، بلاول، رساول ہے۔ اب تو عرصہ سے رساول ہی نہیں کھایا اور شاید بہت سوں کو معلوم بھی نہ ہو کہ کیا ہے۔ پول پر یاد آیا کہ ٹی وی چینلز پر یہ بھی مونث ہو گیا ہے یعنی پول کھل گئی۔ جب کہ یہ ضرب المثل ’’ڈھول کا پول‘‘ بتا رہی ہے کہ وہ پول جو کھلتا ہے وہ مذکر ہے اور جو انگریزی میں کھمبے کے معنی میں آتا ہے وہ بھی مذکر ہی ہے خواہ اس پر لگا ہوا بلب روشن نہ ہو۔ بلب انگریزی کا لفظ ہے لیکن اسے بھی کچھ لوگ ’’ب۔لب‘‘ بروزن ہَدف یا کرم بولتے ہیں جب کہ یہ جَبْر صَبْر کے وزن پر ہے۔ خدشہ ہے کہ کچھ لوگ جبر اور صبر کو بھی ہدف، صدف کے وزن پر نہ بولتے اور تولتے ہوں۔

غلطیاں کسی نقصان کا باعث نہ ہوں تو ان سے محظوظ ہوا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی ایک دلچسپ غلطی ہے ’’جامعہ تلاشی یا جامع تلاشی۔ چلیے، جامع تلاشی کی تو توجیہ کی جاسکتی ہے۔ پولیس والے اور راہ زن عموماً بڑی جامع تلاشی لیتے ہیں کہ کچھ بچنے نہ پائے۔ مسافر بسوں سے اتار کر بھی سب کو جمع کر کے تلاشی لی جاتی ہے اسے جامع قسم کی تلاشی سمجھا جا سکتا ہے۔ جامع کا مطلب مکمل، حاوی، شامل، محیط، وسیع وغیرہ کے علاوہ عربی میں اس کا مطلب جمع کرنے والا، تکمیل کرنے والا بھی ہے۔ شاید اسی لیے فوج میں ایک عہدہ جمع دار کا بھی ہوتا تھا۔ ہم نے یہ عہدہ خاکروبوں کو دے دیا۔ جو فضلہ جمع کرتے ہیں۔ ایسے کام ہم نے اور بھی کیے ہیں مثلا مہتر، خلیفہ، چوکیدار وغیرہ۔ مہتر فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے سب سے بڑا بزرگ، سردار، آقا، مالک، امیر وغیرہ۔ ایران میں میئر کو مہتر کہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا ایک لطفیہ مشہور ہے۔ تہران کے میئر لاہور آئے تو ان کا تعارف مہتر تہران کے طور پر کرایا گیا۔ علامہ نے اپنے دوست کا تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ یہ مہتر لاہور ہیں۔ (غالباً شہاب الدین تھے) اب جو سمجھتے تھے کہ برعظیم میں مہتر کسے کہتے ہیں وہ زیرلب مسکرا دیے۔ ہم نے مہتر کا درجہ بھی بھنگیوں کو دے دیا۔ خلیفہ نائیوں کو کہا جانے لگا۔ چوکیدار کسی فوجی چوکی کا انچارج ہوتا تھا۔ اب آپ فوجی چوکی یا پولیس چوکی کے انچارج کو چوکیدار کہہ کر تو دیکھیں یا لانس نائیک، نائیک کو جمع دار کہیں اور نتیجہ کا انتظار کریں۔

ہمارے اپنے ساتھی جامعہ تلاشی لکھتے ہیں۔ اردو کی خبر ایجنسیاں بھی جامعہ تلاشی پر اصرار کرتی ہیں۔ ہم پوچھ بیٹھتے ہیں کہ جامہ کا نام تو بتائیں۔ یہ جامعہ کراچی ہے یا جامعہ اردو۔ یہ جامعہ تلاشی ہے اور ’’جامہ‘‘ ایسا نامانوس لفظ نہیں۔ لوگ جامے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ پاجامہ بالکل ہی متروک نہیں ہوا۔ اب بھی نظر آجاتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے طنزاً کہا تھا کہ مسلمانوں کی ثقافت کیا ہے لوٹا اور پاجامہ۔ ہم نے اس کو دل پر لے لیا۔ چنانچہ اب لوٹا بھی متروک ہوا اور پاجامہ بھی۔ لوٹے یا تو سیاست میں رہ گئے یا کچھ مسجدوں میں اب بھی مٹی کے لوٹے نظر آجاتے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک خبر میں عملی جامع بھی پڑھا۔ فلاں تجویز کو عملی جامع نہیں پہنایا گیا۔

بیڑا (ب پر زبر) جہازوں کا ہوتا ہے۔ انگریزی میں فلیٹ کہلاتا ہے۔ بیڑا غرق بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن بعض لوگ پورا بیٹرا اٹھا لیتے ہیں جو ناممکن ہے۔ جو اٹھایا جاتا ہے وہ بِیڑا (ب کے نیچے زیر جسے کسرہ بھی کہتے ہیں) ہے بیڑا پان کا ہوتا ہے جسے گلوری بھی کہتے ہیں۔ وضع دار قسم کے پنواڑی اب بھی گلوری یا بیڑا بنا کر گاہک کو دیتے ہیں۔ لاہور کی فوڈ اسٹریٹ میں تو ایک صاحب بڑا اہتمام کرتے ہیں اور بیڑا بنا کر منہ میں دیتے ہیں تا کہ گاہک کے ہاتھ خراب نہ ہوں۔ دراصل ہوتا یوں تھا کہ راجے، مہاراجے یا حکمران جب کسی اہم مہم پر کسی کو بھیجنا چاہتے تھے تو اپنے افسران کو جمع کر کے ان کے سامنے ایک تھال میں بیڑے رکھ دیا کرتے تھے۔ ان میں سے جو بھی آگے بڑھ کر بیڑا اٹھا لیتا تھا وہ مہم سر کرنے کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ اس سے بیڑا اٹھانے کا محاورہ ایجاد ہو گیا۔

بعض مرکب الفاظ میں زبردستی ’’واؤ‘‘ شامل کر دیا جاتا ہے۔ السلام علیکم کے بارے میں تو ہم لکھ ہی چکے ہیں۔ ایک اور لفظ ہے ’’چاق ‘ چوبند‘‘۔ اس کو بھی ہمارے بھائی چاق و چوبند لکھتے ہیں اور بعض لوگ تو اس کو چاک بھی کر دیتے ہیں یعنی چاک و چوبند۔ اب یہ چاک گریباں کا چاک ہے یا وہ چاک (Chalk) جس سے تختۂ سیاہ پر لکھا جاتا ہے۔ گریباں چاک پر بڑا اچھا سا شعر یاد آگیا جو ہم پڑھوائے بغیر نہیں رہیں گے!

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو، ہم ہیں پریشاں تم سے زیادہ
چاک کیے ہیں ہم نے عزیزو، چار گریباں تم سے زیادہ

شعر اچھا ہے لیکن یہ پتا نہیں چل رہا کہ دوسرے نے کتنے گریباں چاک کیے جس سے چار گریباں زیادہ پھاڑے گئے۔ گریباں سینے والی کی تو انگلیاں شل ہو جاتی ہوں گی۔ بہرحال چاق چوبند کے بیچ میں واؤ نہیں ہے۔ ایسے اور بھی کچھ الفاظ ہیں جو فی الوقت ذہن میں نہیں ہیں۔

پچھلے دنوں ایک خاتون اینکر اچھی اردو بولنے کے شوق میں کہہ رہی تھیں ’’یک نہ شَد، دو شَد‘‘ شین پر زبر لگا کر (بالفتح) کسی نے ان کو ٹوکا بھی نہیں کیونکہ جب پروگرام دوبارہ پیش ہوا تب بھی شد پر سے پیش غائب ہی تھا۔


متعلقہ خبریں


فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

لالچ مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - جمعرات 05 نومبر 2015

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر دوسرے مضمون نگار نے بھی لالچ کو مونث ہی ثابت کیا ہے (بہشت کی لالچ)۔ اب آپ ہی بتائیے، ہم کس کی بات مانیں؟ ہماری تو اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ لالچ مذکر ہے، مونث نہیں۔ ...

لالچ مذکر یا مونث؟

نقص ِامن یا نقضِ امن اطہر علی ہاشمی - هفته 31 اکتوبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا حلف بھی اردو میں لیا ہے۔ سرکاری سطح پر قومی زبان اردو کی جب اہمیت مسلّم ہوجائے گی تو اردو بولنے، لکھنے میں بھی بہتری آئے گی۔ چین سے تعلقات کے پیش نظر چینی زبان سکھانے کا سرکاری اہتمام کیا جارہا ہے تو...

نقص ِامن یا نقضِ امن

امرت سر اطہر علی ہاشمی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو یکجا کردیا۔ دیکھا جائے تو کوئی شخص اُس وقت تک پوری طرح نہیں ڈوبتا جب تک اس کا سر نہ ڈوبے۔ چُلّو بھر پانی میں ڈوبنا محاورہ تو ہے لیکن عملاً ممکن نہیں۔ ممکن ہے خان صاحب کو یہ کہنا اچھا نہ لگا ہو کہ ’’سر ...

امرت سر

اینچا تانی کی کھینچا تانی اطہر علی ہاشمی - پیر 12 اکتوبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال معروف شاعر ظفر اقبال کے ’’اقبال زادے‘‘ ہیں۔ اردو سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام کرتے ہیں۔ پروگرام کی نوعیت تو کچھ اور ہے تاہم درمیان میں آفتاب اقبال اردو کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بتایا کہ ’’کھینچا تانی‘‘ اصل میں اینچا تانی ہے۔ کپڑا بُنتے ہوئے دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے دو دھاگے چلتے ہیں جو اینچا تانی کہلاتے ہیں۔ یقینا یہ الفاظ لغت میں موجود ہیں۔ اسی کو تانا بانا بھی کہا ج...

اینچا تانی کی کھینچا تانی

بیرون ممالک اطہر علی ہاشمی - بدھ 16 ستمبر 2015

چلیے، آغاز اپنی غلطی سے کرتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ آئندہ بھی کریں گے۔ پچھلے شمارے میں سرزد ہونے والے سہو کی نشاندہی روات سے ایک ذہین شخص ذہین احمد نے کی ہے۔ روات اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، ممکن ہے اب بڑا شہر ہوگیا ہو، اسلام آباد کی قربت کا فائدہ ضرور ہوا ہوگا۔ پچھلے شمارے میں ہم نے ’’بانگ دہل‘‘ استاد دامن کے دامن میں ڈال دی تھی۔ یہ معرکتہ الآرا مجموعہ استاد امام دین گجراتی کا ہے جن کا ایک شعر یہ ہے: تیری اماں نے پکائے مٹر مام دینا تو کوٹھے پہ چڑھ ...

بیرون ممالک

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار