... loading ...
محمد آصف
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ، مگر ان نعمتوں میں زبان کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔زبان صرف گفتگو کا ذریعہ
نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، اخلاق، تربیت اور کردار کا آئینہ دار بھی ہے ۔ انسان اپنے خیالات، احساسات اور جذبات کو الفاظ کے ذریعے
دوسروں تک پہنچاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زبان کا حسن انسان کی عظمت اور اس کی تربیت کا سب سے نمایاں پہلو سمجھا جاتا ہے ۔ اگر زبان
نرم، شیریں اور مہذب ہو تو وہ دلوں کو جیت لیتی ہے ، جبکہ سخت اور تلخ زبان محبتوں کو نفرت میں بدل دیتی ہے ۔ اسی لیے اسلام نے حسنِ
اخلاق کے ساتھ حسنِ کلام پر بھی بہت زور دیا ہے ۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔ یہ مختصر مگر جامع حکم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان کی گفتگو
اس کے کردار کی ترجمان ہوتی ہے ۔ نرم لہجہ، شائستہ انداز اور باوقار گفتگو نہ صرف انسان کی عزت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں
محبت، امن اور بھائی چارے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ ایک اچھی زبان انسان کے علم اور تربیت دونوں کا پتہ دیتی ہے ۔ حُسنِ زبان کا مطلب
صرف خوبصورت الفاظ ادا کرنا نہیں بلکہ سچائی، نرمی، برداشت، احترام اور حکمت کے ساتھ گفتگو کرنا ہے ۔ بعض لوگ بظاہر بہت تعلیم یافتہ
ہوتے ہیں مگر ان کی گفتگو میں سختی، غرور اور بدتمیزی پائی جاتی ہے ، جبکہ کچھ لوگ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی شائستہ گفتگو سے دوسروں
کے دل موہ لیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل حسن انسان کے الفاظ اور رویّے میں ہوتا ہے ۔
نبی کریم ۖ کی سیرتِ مبارکہ حسنِ زبان کا بہترین نمونہ ہے ۔ آپ ۖ ہمیشہ نرم لہجے میں گفتگو فرماتے ، دوسروں کی عزت کرتے اور
کبھی کسی کو سخت الفاظ سے تکلیف نہ دیتے ۔ آپ ۖ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زبان کا درست استعمال ایمان کی علامت ہے ۔ ایک مومن کی زبان دوسروں کے لیے راحت، سکون اور
محبت کا ذریعہ ہونی چاہیے ، نہ کہ تکلیف اور اذیت کا سبب۔
انسان کی تربیت میں زبان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ بچے سب سے پہلے اپنے والدین اور گھر کے ماحول سے گفتگو سیکھتے ہیں۔
اگر گھر میں نرمی، احترام اور محبت بھری زبان استعمال کی جائے تو بچے بھی انہی خوبیوں کو اپناتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر گھر کا ماحول
جھگڑوں، گالی گلوچ اور سخت الفاظ سے بھرا ہو تو بچے بھی انہی منفی عادات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے والدین اور اساتذہ پر یہ ذمہ داری
عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو اچھے اخلاق اور مہذب گفتگو کی تربیت دیں۔معاشرے کی اصلاح میں بھی حسنِ زبان نہایت اہم کردار ادا کرتا
ہے ۔ نرم اور مثبت گفتگو دشمنی کو دوستی میں بدل سکتی ہے ۔ ایک مسکراہٹ کے ساتھ ادا کیے گئے اچھے الفاظ غمزدہ انسان کے دل کو سکون پہنچا
سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے لوگوں نے اپنی شخصیت اور گفتار کے ذریعے لاکھوں دلوں کو متاثر کیا۔ اچھا مقرر یا داعی صرف علم
کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوتا بلکہ اس کی شائستہ زبان اور دلنشین انداز بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں زبان کے غلط استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا، سیاسی مباحث، گھریلو جھگڑوں اور
روزمرہ زندگی میں تلخ کلامی عام ہو چکی ہے ۔ لوگ ایک دوسرے کی عزت کرنے کے بجائے تمسخر، طنز اور بدزبانی کو معمول سمجھنے لگے ہیں۔
حالانکہ الفاظ کے زخم جسمانی زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ ایک سخت جملہ کسی انسان کے دل کو عمر بھر کے لیے زخمی کر سکتا ہے ۔ اسی
لیے کہا جاتا ہے کہ تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا زخم آسانی سے نہیں بھرتا۔
حسنِ زبان انسان کو معاشرے میں عزت و وقار عطا کرتا ہے ۔ خوش اخلاق اور نرم گفتار لوگ ہر دل عزیز ہوتے ہیں۔ لوگ ان کے قریب
رہنا پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کی گفتگو دلوں کو سکون دیتی ہے ۔ اس کے برعکس بدزبان اور سخت مزاج انسان سے لوگ دور بھاگتے ہیں۔ اس
لیے کامیاب زندگی کے لیے اچھی گفتگو بے حد ضروری ہے ۔اسلام نے غیبت، جھوٹ، چغلی، طعنہ زنی اور گالی گلوچ سے سختی کے ساتھ منع کیا
ہے ۔ یہ تمام برائیاں زبان ہی کے ذریعے پھیلتی ہیں اور معاشرے میں فساد پیدا کرتی ہیں۔ قرآن و حدیث میں بار بار زبان کی حفاظت کی
تلقین کی گئی ہے کیونکہ زبان انسان کو عزت بھی دلا سکتی ہے اور رسوا بھی کر سکتی ہے ۔ اگر انسان سوچ سمجھ کر بولے اور اپنے الفاظ میں نرمی پیدا
کرے تو بہت سے جھگڑے اور مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
ادب اور تہذیب بھی حسنِ زبان کا اہم حصہ ہیں۔ بڑوں سے احترام سے بات کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، اختلاف کے باوجود مہذب
انداز اپنانا اور دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا ایک مہذب انسان کی پہچان ہے ۔ آج دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اخلاق،
برداشت اور شائستگی کو اپناتی ہیں۔ حسنِ زبان صرف دنیاوی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ آخرت میں بھی نجات کا سبب ہے ۔ نبی کریم ۖ نے
فرمایا: جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے ۔ یہ فرمان ہمیں سکھاتا ہے کہ زبان کا
بہترین استعمال یہی ہے کہ انسان اچھے الفاظ ادا کرے ، دوسروں کی دلجوئی کرے اور اگر اچھی بات نہ کر سکے تو خاموشی اختیار کرے ۔
مختصر یہ کہ زبان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور انسان کی شخصیت کا سب سے نمایاں حصہ ہے ۔ حسنِ زبان انسان کو مہذب، باوقار اور
محبوب بناتا ہے جبکہ بدزبانی انسان کی شخصیت کو داغدار کر دیتی ہے ۔ ایک اچھا معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب افراد اپنی زبان کی
حفاظت کریں، دوسروں کے جذبات کا احترام کریں اور محبت و خیرخواہی کے ساتھ گفتگو کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی گفتگو میں نرمی، سچائی،
احترام اور اخلاق کو اختیار کریں تاکہ ہماری زبان لوگوں کے لیے رحمت اور سکون کا ذریعہ بنے ۔ یہی حقیقی تربیت اور ایک کامیاب انسان کی
علامت ہے ۔