وجود

... loading ...

وجود

مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع

اتوار 24 مئی 2026 مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع

ریاض احمدچودھری

بھارت میں ایک اور تاریخی مسجد مندر قرار، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے نے ہلچل مچادی۔مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع بھوج شالا کمپلیکس کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلم برادری کے درمیان تنازع کا مرکز رہا ہے۔ بھارت کی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک اہم اور متنازع فیصلے میں تاریخی ‘کمال مولہ مسجد’ کو ہندو دیوی کا مندر قرار دے دیا، جس کے بعد علاقے میں سیاسی اور مذہبی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع بھوج شالا کمپلیکس کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلم برادری کے درمیان تنازع کا مرکز رہا ہے۔ مسلمان اس مقام کو کمال مولہ مسجد قرار دیتے ہیں جبکہ ہندو تنظیمیں دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ مسجد ایک قدیم مندر کی جگہ پر قائم کی گئی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ مقام دراصل ہندو دیوی واگ دیوی سے منسوب مندر ہے، جس کے بعد ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی گئی۔ فیصلے کے بعد بڑی تعداد میں ہندو کارکن بھگوا جھنڈے لے کر مقام پر پہنچ گئے اور مذہبی رسومات ادا کیں جبکہ عارضی مورتی بھی نصب کی گئی۔دوسری جانب مسلم کمیونٹی نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی نسلوں سے اس مسجد میں عبادت کرتے آئے ہیں اور عدالت کا فیصلہ ان کے مذہبی حقوق کے خلاف ہے۔78 سالہ موذن محمد رفیق جو گزشتہ 50 برس سے مسجد میں اذان دیتے رہے ہیں نے کہا کہ ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن ہماری مسجد ہم سے چھین لی جائے گی۔
عدالت نے آثارِ قدیمہ کے بھارتی ادارے ASI کی سروے رپورٹ کو بنیاد بنایا، تاہم کئی ماہرین تاریخ اور قانونی ماہرین نے اس سروے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ معروف مؤرخین کا کہنا ہے کہ سیاسی دباؤ کے تحت تاریخی مقامات کی مذہبی حیثیت تبدیل کی جارہی ہے۔بھارتی رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بابری مسجد کیس کے بعد شروع ہونے والے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے اور اس سے بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور بعد ازاں رام مندر کی تعمیر کے بعد بھارت میں کئی تاریخی مساجد کے حوالے سے اسی نوعیت کے دعوے سامنے آچکے ہیں، جن میں گیان واپی مسجد اور شاہی عیدگاہ مسجد کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ یہ مقام دھار شہر میں واقع ہے اور بھوج شالا کمپلیکس کے نام سے جانا جاتا ہے، جو کئی دہائیوں سے ملکیتی اور مذہبی تنازع کا شکار رہا ہے،مسلم برادری یہاں عرصہ دراز تک جمعہ کی نماز ادا کرتی رہی ہے جبکہ 2003 کے ایک معاہدے کے تحت ہندوؤں کو منگل کے روز مخصوص عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔ حالیہ عدالتی فیصلے نے اس صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔فیصلے کے بعد بھوج شالا کمپلیکس میں ہندو تنظیموں نے زعفرانی جھنڈے لہرا دیے اور دیوی کی عارضی مورتی رکھ کر مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر علاقے میں سخت سیکیورٹی تعینات رہی۔
1935 کے برطانوی دور کے سرکاری ریکارڈ میں اس مقام کو واضح طور پر مسجد قرار دیا گیا تھا اور اسے مستقبل میں بھی مسجد ہی قرار دیا گیا تھا، عدالت نے اس نوٹیفکیشن کو موجودہ قانونی حیثیت میں قابلِ قبول نہیں سمجھا،مسلم فریق نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وکلاء کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ قانون اور تاریخی شواہد کے برعکس ہے۔
بھارت کی ریاست اترپردیش کی ایک عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کو حکم دیا ہے کہ وہ بنارس میں ایک مندر سے متصل مسجد کا سروے کر کے رپورٹ دے کہ کیا مندر کے کچھ حصے کو منہدم کر کے وہاں مسجد تعمیر کی گئی تھی یا نہیں۔دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بنارس میں واقع کاشی وشو ناتھ مندر سے متصل گیان واپی مسجد پہلے مندر کا ہی حصہ تھی جسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے کہنے پر منہدم کر کے یہاں مسجد تعمیر کی گئی۔ایودھیا کی بابری مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کی طرح اس عبادت گاہ پر بھی صدیوں سے تنازع چلا آرہا ہے۔مسلمان تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔سول جج آشوتوش تیواری نے چند روز قبل ایک وکیل وجے شنکر رستوگی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے محکمہ آثار قدیمہ کو ہدایت دی کہ وہ سروے سے قبل ایک پانچ رْکنی کمیٹی بنائے جس میں اقلیت سے بھی دو افراد کو شامل کیا جائے۔عدالت کے مطابق صرف محکمہ آثار قدیمہ کا سروے ہی عدالت کے سامنے حقائق لا سکتا ہے جس سے ہندو اور مسلمانوں دونوں کی تشفی ہو جائے گی اور یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔ 1991 میں بھی ہندوؤں نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اْنہیں مسجد کے اندر پوجا کی اجازت دی جائے۔ لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے اس پر حکمِ امتناع جاری کر دیا تھا۔لیکن درخواست گزار وجے شنکر رستوگی نے دسمبر 2019 میں مقامی سول عدالت میں اپیل دائر کی اور مسجد کے سروے کا مطالبہ کیا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع وجود اتوار 24 مئی 2026
مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع

کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟ وجود اتوار 24 مئی 2026
کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟

ایک دن کا وزیراعظم وجود اتوار 24 مئی 2026
ایک دن کا وزیراعظم

اسرائیل کی مکروہ چال وجود هفته 23 مئی 2026
اسرائیل کی مکروہ چال

مودی کی عالمی سطح پر سبکی وجود هفته 23 مئی 2026
مودی کی عالمی سطح پر سبکی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر