... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
ایک لمحے کے لیے تصور کریں!!
آپ کے موبائل پرایک پیغام آئے، مختصر سا، سرد، بے رحم”۔ آپ کی موت میں اب صرف 11سال، 3ماہ اور 2دن باقی ہیں” ۔ تو پھرکیا ہوگا؟ آدمی کیلئے پوری دنیااچانک بدل جائے گی، بازار ویسے ہی کھلے ہوں گے ، سڑکوں پر ٹریفک بھی چل رہی ہوگی، سیاستدان پھر بھی تقریریں کر رہے ہوں گے ، مگر انسان کے اندر سب کچھ ٹوٹ چکا ہوگا، کیونکہ انسان کی سب سے بڑی طاقت ہی اُس کی لاعلمی ہے ، وہ اس لیے خواب بناتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے ابھی بہت وقت پڑا ہے ، وہ اس لیے ظلم کرتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ حساب ابھی دور ہے ، وہ اس لیے معاف نہیں کرتا کیونکہ اسے لگتا ہے زندگی لمبی ہے ، مگرجس دن موت ”راز ” نہیں رہے گی، اُس دن انسان پہلی بارسچ مچ زندہ ہوگا۔
سوچیے ۔۔۔۔!!
اگرایک باپ کو معلوم ہوکہ اس کے پاس صرف دو سال باقی ہیں، توکیا وہ پھر بھی اپنے بچوں کو وقت دینے کے بجائے صرف پیسہ کمانے میں لگا رہے گا؟ اگرکسی حکمران کو پتہ ہو کہ اگلے پانچ سال بعد وہ قبرمیں ہوگا، توکیا وہ پھربھی قوم کا خزانہ لوٹے گا یا رات کے آخری پہر اپنے گناہوں کی فائلیں کھول کر روئے گا؟ اگرکسی امیرکواپنی آخری تاریخ نظرآرہی ہو، توکیا اُس کے لان بڑے ہوں گے یا سجدے لمبے ؟ شاید اُس دن بینکوں سے زیادہ مسجدیں آباد ہوجائیں، شاید اُس دن لوگ گھڑیاں کم اور رشتے زیادہ دیکھیں، شاید اُس دن نفرتیں اتنی بے وقعت لگیں کہ انسان سونے سے پہلے ہراُس شخص کو معاف کردے جس نے اُس کا دل توڑا تھا، کیونکہ ” موت جب اچانک نہیں رہتی، تو زندگی فخرنہیں، مہلت لگنے لگتی ہے ”۔
مگرذرا ٹھہریے ۔۔۔۔!!
ممکن ہے ہم انسانوں کو بہت زیادہ اچھا سمجھ رہے ہیں، کیونکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موت کی تاریخ جان لینے کے بعد انسان پہلے سے زیادہ خطرناک ہوجائے ، جس شخص کو معلوم ہو کہ وہ ابھی تیس سال نہیں مرے گا، شاید وہ پہلے سے زیادہ بے خوف ہو جائے ، وہ قانون سے نہیں ڈرے گا، بیماری سے نہیں ڈرے گا، حادثوں سے نہیں ڈرے گا، وہ سمجھے گا، جب موت لکھی ہی ایک مخصوص دن پر ہے ، تو پھر مجھے کون مار سکتا ہے ؟ اور شاید یہی یقین دنیا کو تباہ کردے ۔ لوگ گولیوں کے سامنے ہنسنے لگیں، جنگیں بڑھ جائیں، جرائم میں اضافہ ہوجائے ، کچھ لوگ اپنی ”محفوظ ” تاریخ کے گھمنڈ میں خدا تک کو بھول جائیں۔ تصور کریں!! ایک سیاستدان کو معلوم ہو کہ وہ اگلے پندرہ سال زندہ رہے گا، پھروہ الیکشن بھی جیتے گا، خزانے بھی لوٹے گا، مخالفین کو بھی کچلے گا، کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ ابھی قبراُس سے بہت دور ہے ۔اوردوسری طرف ایک غریب مزدور، جسے پتا ہو کہ اس کے پاس صرف چھ ماہ باقی ہیں، شاید پہلی بارزندگی سے سوال کرے ، میں نے ساری عمر روٹی کمائی، مگرجینا کب تھا؟ یہاں آکرانسان دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ ایک وہ جو موت کی تاریخ جان کر بہتر ہوجائیں گے اور دوسرے وہ، جو مزید بے رحم ہوجائیں گے ، کیونکہ اصل مسئلہ موت نہیں ،اصل مسئلہ انسان کا دل ہے ، وہی دل جو قبرستان میں کھڑے ہوکر بھی دنیا کے منصوبے بناتا ہے ، وہی دل جو جنازہ پڑھ کر بھی وراثت کے حساب شروع کردیتا ہے اور وہی دل جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ” ایک دن مرنا ہے ”، پھر بھی ایسے جیتا ہے جیسے ہمیشہ رہنا ہو۔
اورشاید سب سے خوفناک منظروہ ہوگا، جب محبتوں کے اندر بھی ” موت کی تاریخ ” داخل ہوجائے گی۔ سوچیے ، ایک لڑکی کو معلوم ہو کہ جس شخص سے وہ محبت کرتی ہے ، وہ صرف تین سال بعد مرجائے گا، کیا وہ پھر بھی اُس سے شادی کرے گی؟ یا اپنے دل کو سمجھا دے گی کہ اتنی مختصر خوشی کے بعد اتنا بڑا غم نہیں چاہیے ؟ اور اگرایک ماں کو پہلے دن ہی بتا دیا جائے کہ اُس کا بچہ صرف دس سال زندہ رہے گا، تو وہ اُس کے ہرقہقہے کے پیچھے رونے لگے گی، وہ اُس کی سالگرہ مناتے ہوئے بھی اندر سے ٹوٹ رہی ہوگی، کیونکہ بعض اوقات اچانک بچھڑ جانا کم تکلیف دیتا ہے ، بہ نسبت اُس بچھڑنے کے جس کی الٹی گنتی انسان روز دیکھ رہا ہو، شاید اُس دنیا میں لوگ محبت سے ڈرنے لگیں، کیونکہ انسان ہمیشہ اُن چیزوں سے زیادہ محبت کرتا ہے ، جو اُسے ہمیشہ کے لیے ملنے کی امید دیتی ہیںاورپھرکاروبار بھی بدل جائیں گے ۔ انشورنس کمپنیاں ختم ہو جائیں گی۔ ڈاکٹرز کے کلینک خالی ہونے لگیں گے ۔ نجومی بے روزگار ہوجائیں گے ، کیونکہ جب موت کی تاریخ پہلے ہی معلوم ہو، تو انسان قسمت نہیں، صرف باقی دن گنتا ہے ، مگر ایک سوال پھر بھی باقی رہے گا، اگر انسان کو اپنی موت کی تاریخ معلوم ہوجائے ، تو کیا وہ واقعی بدل جائے گا؟ یا پھر وہی کرے گا جو آج کررہا ہے ؟ کیونکہ سچ تو یہ ہے ، ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں مرنا ہے ، فرق صرف اتنا ہے کہ ہمیں تاریخ معلوم نہیںاورشاید یہی لاعلمی انسانیت پرخدا کا سب سے بڑا رحم ہے ۔
شاید اسی لیے موت کا وقت انسان سے چھپایا گیا ہے کیونکہ اگر انسان کو اپنی آخری تاریخ معلوم ہوجائے ، تو زندگی ” زندگی ” نہیں رہے گی۔ایک مسلسل الٹی گنتی بن جائے گی، لوگ کیلنڈرپردن نہیں، اپنی سانسیں کاٹ رہے ہوں گے ، ہرطلوعِ آفتاب خوشی نہیں، ایک دن کم ہونے کا اعلان لگے گا، ہر سالگرہ جشن نہیں، موت کے قریب ہونے کی رسید بن جائے گی اورتب انسان سمجھ پائے گا کہ اصل سکون لمبی زندگی میں نہیں تھا، بلکہ اُس خوش فہمی میں تھا کہ ابھی بہت وقت باقی ہے ۔
سوچیے ۔۔۔۔!!
اگرآپ کو آج شام بتایا جائے کہ آپ کے پاس صرف ایک سال باقی ہے ، تو کیا آپ وہی انسان رہیں گے ؟ کیا آپ پھر بھی نفرتیں پالیں گے ؟ کیا آپ پھر بھی انا کے بت اٹھائے پھریں گے ؟ کیا آپ پھر بھی صرف پیسہ جمع کرتے رہیں گے ، جبکہ وقت ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل رہا ہو؟ شاید نہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ انسان کو موت کی تاریخ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ قبریں روزبتا رہی ہیں کہ آخری انجام کیا ہے ، جنازے روز اعلان کرتے ہیں کہ اگلی باری کسی کی بھی ہوسکتی ہے ، سفید ہوتے بال، کمزور ہوتا جسم، گزرتی عمر۔ سب چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ سفر مختصر ہے ، مگر انسان عجیب مخلوق ہے ، وہ دوسروں کو مرتے دیکھتا ہے اور خود کو ” استثنا ” سمجھ لیتا ہے ۔ شاید اگر موت تاریخ بتا کر آتی تو دنیا بدل جاتی، مگر شاید اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے ، جو انسان صرف موت کی تاریخ جان کربدلتا ہے ، کیا وہ واقعی زندہ انسان ہے ؟
٭٭٭