وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود - جمعرات 17 جنوری 2019

لبنان کے صدر مقام بیروت میں قائم زیتونہ اسٹڈی سینٹرکی طرف سے جاری کتاب میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تعلقات بالخصوص اور موجودہ انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مکروہ کردار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ’اسرائیل نواز بیانیہ اور بھارتی مثال‘ کے عنوان سے یہ کتاب ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی اور حسام عمران کی مشترکہ تالیف ہے۔ کتاب میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے اتارو چڑھاؤ، رائے عامہ اور فیصلہ ساز اداروں کے دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ پر اثرات اور...

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود - پیر 10 دسمبر 2018

پاکستان پبلشرزاینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے تحت 14واں بین الاقوامی کتب میلہ جمعہ21دسمبرسے ایکسپوسینٹرکراچی میں سجے گا۔25دسمبر تک جاری رہنے والے عالمی کراچی کتب میلے کا افتتاح صوبائی وزیرتعلیم سردارعلی شاہ کریں گے،پاکستان پبلشرزاینڈبک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیزخالد کے مطابق کتب میلے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔پبلشرزاوربک سیلرزکے لیے ایکسپو سینٹر میں 330اسٹال مختص کیے گئے ہیں جو ایکسپوسینٹرکے ہال نمبرایک ،دواورتین میں دیے جائیں گے ۔کراچی بین الاقوامی کتب میلے میں کئی...

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود - جمعرات 08 نومبر 2018

جو گزاری نہ جاسکے ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے، انوکھے مصرعوں اور نت نئی تاویلوں کے شاعر جون ایلیا کی شاعری آج بھی زمانے کی تلخیوں اور بے اعتنائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔شاعر جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ، اترپردیش کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے، وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشک...

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے

استقبال کتب وجود - اتوار 03 جون 2018

لِقا (شعری مجموعہ) نام کتاب:لِقا(شعری مجموعہ) نامِ شاعر:حسنین بخاری موضوع:شاعری ضخامت:186 صفحات قیمت: 300 روپے ناشر:الحمد پبلی کیشنز، لاہور مبصر: مجید فکری حسنین بخاری کی شاعری کے باب میں محترم گلزار بخاری نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ شاعری شعور کے ساتھ ساتھ لاشعوری جذبات پر مشتمل ہوتی ہے اور کسی معاشرے کی ترجمان بھی، اور اب تک جو شاعری ہوچکی ہے اس میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ مزید کچھ لکھا جائے لیکن امکانات کا شعور کبھی نہیں رکتا۔اسی لئے شاعری کا سفر ہنوز جاری ہے۔ انگر...

استقبال کتب

استقبال کتب وجود - اتوار 27 مئی 2018

گستاخ بخاری کے دوتازہ حمدیہ و نعتیہ مجموعے ’’ارحم‘‘ اور ’’نعت خط‘‘ میرے پیشِ نظر گستاخ ؔبخاری کا حمدیہ مجموعہ ’’ اَرحم‘‘ ہے جو حمدیہ شاعری کے باب میں بے شمار حمدیہ اشعار کے گلدستہ کی مانند دل ودماغ تو کیا ، مرِی رُوح تک کی تاثیر میں روشنی کے چراغ جَلا رہا ہے۔ !اِس سے پہلے کہ ہم اُن کے حمدیہ اشعار سے مستفیض ہوں ضروری معلوم ہوتاہے کہ حمد اور حمد سے متعلق شعری ادب کی تاریخ وارتقا کا مختصر جائزہ لیں ۔ ہمیں اِس بات کو تو گرِہ میں باندھ لینا چاہیے کہ بحیثیت مسلمان ہم پر یہ فرض ع...

استقبال کتب

استقبال کتب وجود - اتوار 20 مئی 2018

نور سے نور تک (کلیاتِ حمد و نعت) نام کتاب:نور سے نور تک موضوع:حمد و نعت کلام:شاعر علی شاعر کمپوزنگ:رنگِ ادب کمپوزنگ سینٹر ضخامت:816 صفحات ناشر: راحیل پبلی کیشنز، اردو بازار، کراچی قیمت:750 روپے مبصر:مجید فکری اس وقت میرے ہاتھوں میں جناب شاعر علی شاعرؔ کی ایک ضخیم کتاب ’’کلیاتِ حمد و نعت‘‘ موجود ہے، جس کا عنوان ’’نور سے نور تک‘‘ ہے۔ اس کتاب کے سرورق کو دیکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں خانہ خدا کے طواف میں موجود ہوں اور اسی کے ساتھ گنبدِ خضرا بھی نظر آتا ہے جو مجھے...

استقبال کتب

نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے وجود - اتوار 13 مئی 2018

شگفتہ شفیق کی شاعری ہر ایک کو اپنی ہی داستان معلو م ہو تی ہے کہ ان کا شعر ی ا ظہا ر ان کی خو بصورت فکر کو نما یا ں کر تا ہے اور قاری کے د ل میں اتر تا چلا جا تا ہے شگفتہ شفیق کا پسند یدہ مو ضو ع شاعری میں محبت ہے اور محبت میں ہجر و فراق کو اُ نھو ں نے اپنے خو بصورت لہجے سے مجسم کر د یا ہے: خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے راکھ راہوں میں اُڑا دی ہم نے ہنستی مسکراتی ،پیار اور خلوص لٹاتی شگفتہ شفیق کے کیا اپنے کیا پرائے، سب ہی دیوانے ہیں اور ان دیوانوںمیں پاکستان، انڈیا، امریکہ، کی...

نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 13 مئی 2018

٭کاظم پاشا کے اعزاز میں منعقد تقریب بزم یاور مہدی کی 129 ویں تقریب TV کی معروف شخصیت کاظم پاشا کے اعزاز میں منعقد کی گئی جس کی صدارت عالمی شہرت یافتہ فنکار طلعت حسین نے کی ۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے طلعت حسین نے کہا کہ یاور مہدی کھلے دل کی پیار کرنے والی شخصیت ہیں۔ یہ ہماری تہذیبی روایت کا ستون ہیں۔ میں نے ریڈیو پاکستان سے ڈرامہ کرنا سیکھا جووقت میں نے ریڈیو میں دیکھا وہ ہماری تہذیب کا آخری وقت تھا۔ ریڈیو پاکستان کراچی آموز گاہ بھی تھی اور تربیت گاہ بھی جہاں سلیم اح...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 13 مئی 2018

1 بحر 100 غزلیں نام کتاب:1 بحر 100 غزلیں موضوع:شاعری شاعر:شاعر علی شاعرؔ ضخامت:224 صفحات قیمت:300 روپے ناشر:ظفر اکیڈمی، کراچی مبصر: مجید فکری پیش نظر مجموعۂ شاعری جناب شاعر علی شاعرؔ کا تخلیق کردہ ہے۔ جس میں شاعر موصوف نے ایک ہی بحر میں سو غزلیں کہہ کر اپنی انفرادیت کا ایک بیش بہا نمونۂ شاعری ادب اور ادب سے شغف رکھنے والے حضرات کے لئے تحفۂ خاص بنا کر پیش کردیا ہے۔یہ کتاب ظفر اکیڈمی نے اچھے گیٹ اَپ اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع کی ہے۔ موصوف متعدد کتابوں کے مصنف، ...

استقبال کتب

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 06 مئی 2018

٭’’ ورلڈ بک ڈے‘‘ پر آرٹس کونسل لائبریری کمیٹی اور سوشل اسٹوڈنٹس فورم کی تقریب سوشل اسٹوڈنٹس فورم اور آرٹس کونسل لائبریری کمیٹی کے اشتراک سے ’’ورلڈ بک ڈے‘‘ کے سلسلے میں پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ تقریب جناب سعید الظفر صدیقی نے کہا کہ پوری دنیا میں کتاب کی بڑی اہمیت ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز ریسرچ اور جدید علم پر مہارت ہے۔ جب تک مسلمانوں نے علم و حکمت پر عمل کیا، ہر میدان میں کامیابی حاصل کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی کتاب کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے طالب علموں کو...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 06 مئی 2018

نام کتاب:عالمی کہانیاں(تراجم) ترجمہ:ظفر قریشی ناشر:دی ریسرچ فورم، کراچی قیمت:600روپے مبصر :مجیدفکری جناب ظفر قریشی ایک سینئر صحافی ہیں جن کا تعلق روشنیوں کے شہر کراچی سے رہاہے مگروہ ایک طویل مدت سے بہ سلسلۂ روزگار دیارِ غیر میں تھے۔اس دوران انھوں نے انگریزی ادب کا خوب مطالعہ کیا ۔انگریزی ادب کی عمدہ اور نئی کہانیوں کو اُردوزبان میں ترجمہ کرکے نہ صرف اُردوادب کا دامن مالامال کر دیا ہے بلکہ تاریخ اُردو ادب میں اضافہ بھی کیا ہے۔’’عالمی کہانیاں‘‘کے عنوان سے انھوں نے اُن 15م...

استقبال کتب

استبال کتب وجود - اتوار 22 اپریل 2018

نام کتاب:روشنی کے خدوخال(نعتیہ مسدس) شاعر:رفیع الدین رازؔ ضخامت:224 صفحات قیمت: 500 روپے ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی مبصر:مجید فکری پیش نظر مجموعۂ نعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) روشنی کے خدوخال ممتاز شاعر رفیع الدین راز کا تخلیق کردہ ہے جو بہ شکل مسدس 23 ابواب پر مشتمل ہے جسے رنگِ ادب پبلی کیشنز نے خاص اہتمام سے شائع کیا ہے۔ کتاب کے اندرونی فلیپ پر ڈاکٹر سید محمد ابو الخیر کشفی کا مختصر مگر جامع تبصرہ بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی نے جس کتاب کا ب...

استبال کتب

آصف ثاقب وجود - اتوار 22 اپریل 2018

آصف ثاقب بات یہ بھی ہے ایک باتوں میں لوگ اعلیٰ ہیں نیچ ذاتوں میں کوئی مجھ سا غریب کیا ہو گا میں اکیلا ہوں کائناتوں میں میں اکیلا بہت اکیلا ہوں اب تو دینا ہے ہاتھ ہاتھوں میں روشنائی بنائی لکھنے کو چاند گھولا ہے کالی راتوں میں جانے کس کس کی ڈولیاں آئیں سب ستارے گئے براتوں میں کیسے لکھوں میں سرخ تحریریں خون کالا پڑا دواتوں میں جھوٹ اس میں نہیں کوئی ثاقب پیار سچا ملا دیہاتوں میں آصف رضارضوی اظہار میں پہلی سی وہ نفرت تو نہیں ہے یہ اور کوئی شے ہے، محبت تو ...

آصف ثاقب

ایک سلجھی ہوئی شاعرہ کی سلجھی ہوئی شاعری وجود - اتوار 15 اپریل 2018

یہ دسمبر 2008ء کی بات ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت دو روزہ قومی اہل قلم کانفرنس کے اختتام پر ایک مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرہ قومی سطح کا ہو تو شاعروں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اسی سے زیادہ تھے بہت سے چھوٹے بڑے شہروں کے شعرا طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے اپنے ’’ حلقہ داد رساں‘‘ کے ساتھ شریک بزم تھے۔ ایسے میں کراچی کی ایک منحنی سی نوجوان خاتون کو کسی فیاضانہ تعارف کے بغیر حمیرا راحت کے نام سے اسٹیج پر بلایا گیا۔ خاتون نے بڑی سادگی کے ساتھ دھیمی آواز میں (جوان کی جسام...

ایک سلجھی ہوئی شاعرہ کی سلجھی ہوئی شاعری

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 15 اپریل 2018

ایس ایم معین قریشی کی 25ویں کتاب کی تقریب رونمائی معروف ادیب، کالم نویس اور مزاح نگار ایس ایم معین قریشی کی 25ویں کتاب ’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ کی تقریب پذیرائی گزشتہ دنوں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوئی جس کی مجلس صدارت میں لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر، سردار یاسین ملک،عبدالحسیب خان اور میاں زاہد حسین شامل تھے۔ مہمان خصوصی محترمہ مہتاب اکبر راشدی تھیں اور معروف افسانہ نگار و کالم نویس محترمہ نسیم انجم اور معروف مزاح نگار محمد اسلام نے اظہارِ خیال کیا۔ نظامت کے فرا...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 15 اپریل 2018

کتاب:جدید اُردو افسانہ۔…کل اور آج (تنقید، تحقیق، تجزیہ) مصنف :شفیق احمدشفیق قیمت :300 روپے ناشر:ایکٹو لیٹریری سوسائٹی، کراچی شفیق احمدشفیق کی اب تک متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں ادراک، پس آئینہ، جدیدیت سے مابعد جدیدیت تک، فیض ایک عہد ساز شخصیت، مدحت خیر الوریٰ، چند ہم عصر ترقی پسند افسانہ نگار، نثر و تجزیہ، آئینہ دار، سوکھا ساون، فکر و فن کے محرکات، آہنگ نو، صبا اکبر آبادی، مقصدی شاعری، ایک جائزہ کا ناقدانہ تجزیہ شامل ہیں۔ اب ان کی کتاب جدید اردو افسانہ کل اور...

استقبال کتب

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 08 اپریل 2018

اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی کے زیراہتمام پاکستانی ادب کے عالمی ادب پر اثرات مذاکرہ اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت ملک کے نامور شاعر،ادیب ،ماہر تعلیم، ڈاکٹر شاداب احسانی نے کی۔ مہمان خاص راولپنڈی سے آئے ہوئے ادیب شاعر کرنل سعید آغاتھے۔اعزازی مہمان سید اوسط علی جعفری، ریحانہ احسان تھیں۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ عالمی ادب پر نظر ڈالی جائے تو چاہے بھوٹا ن کی رمز یہ شاعری ہویا بنگلہ دیش کا ادب ہو، نیپال کی لوک شاعری کی روایت سے جڑی ہوئی کوئی کتھا،...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 08 اپریل 2018

کتاب:تمھارے شہر کا موسم(شعری انتخاب) شاعر:نذیر قیصر قیمت:۵۰۰؍روپے ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی نذیر قیصر کا شمار ان شعرامیں ہوتاہے جن کو اللہ رب العزت نے شہرت سے نوازاہے۔ تمھارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں اک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے نذیر قیصر کی مشہورزمانہ غزل ہے۔زیرنظر کتاب ان کی منتخب غزلیات کا انتخاب ہے جسے نوجوان شاعر اسامہ امیر نے ترتیب دیاہے۔اس کتاب کا دیباچہ کراچی کے معروف شاعرو نقاد جناب سرورجاوید نے لکھا ہے جب کہ اقتباسات فیض احمد فیض،احمد ند...

استقبال کتب

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 01 اپریل 2018

حلقۂ اربابِ ذوق کراچی کی ہفتہ وار نشست 20 مارچ 2018 بروز منگل ، کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف شاعر میر احمد نوید صاحب نے کی جب کہ نشست میں شاعر علی شاعر صاحب نے مہمان ادیب کے طور پر شرکت کی۔ سب سے پہلے عباس ممتاز نے اپنی غزل "کوئی تو ایسی بھی گھڑی ہوگی" تنقید کے لیے پیش کی۔ شبیر نازش نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ غزل کے پانچوں اشعار سماعت کو بھلے لگتے ہیں، مصرعوں میں روانی بھی نظر آت...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 01 اپریل 2018

کتاب :میرے ہمدم مرے دوست(مضامین) مصنف:شاعرصدیقی قیمت:۵۰۰؍روپے ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی کتاب ’’میرے ہمدم مرے دوست‘‘جناب شاعرصدیقی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے ایسے شاعروں اورادیبوں پر لکھے ہیں جن سے وہ مل چکے ہیں اور ان کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہیں۔ان اشخاص میں اختر لکھنوی(سانحہ مشرقی پاکستان مرحوم کا نوحہ گر)،اخی بیگ(شعور تنگ نظر کے آئینے میں)،امیر حسین چمن(ایک روشن شخصیت) ، حبیب احسن(کم گو سخن ور) رشیدالزماں خلش کلکتوی (ایک انسان دوست شاعر) ...

استقبال کتب

انور شعور وجود - اتوار 25 مارچ 2018

بیس ویں صدی کے اُردو ادب میں جن سخن وروں نے اپنی شاعری کی بنیاد عہدِ موجود کے مسائل و افکار پر رکھی، اُن میں عہدِ حاضر کے چند سخن وروں کے بعد انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر، اہم اور سنجیدہ ہے۔ انور شعورؔ کی شاعری تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، شدید جذبات اور نازک احساسات کی آئینہ دار ہے۔ اِن کے شعر عام فہم، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناقدینِ فن و ہنر، ماہرینِ اُردو ادب اور قارئینِ شعر و سخن اِنھیں سہلِ ممتنع کا شاعر ماننے لگے ہیں۔ اِن کے پُرتاثیرا شعارپوری د...

انور شعور

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 25 مارچ 2018

مسلم کھتری ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام مشاعرہ گزشتہ دنوں نارتھ کراچی میں مسلم کھتری ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعر جناب اعجاز رحمانی نے کی جب کہ مہمان خصوصی معروف شاعر و ادیب اور اسکالر جناب سعید الظفر صدیقی اور مہمانِ اعزازی بزرگ شاعر محمد فاروق شاد تھے۔ نظامت کے فرائض جناب نظر فاطمی نے انجام دیے اور تلاوتِ قرآنِ پاک سے مشاعرے کا آغاز کیا اور سینئر شاعر جناب اکرام راضی نے نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پیش ...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 25 مارچ 2018

نام کتاب:نانگا پربت کا عقاب(سفر نامہ) موضوع:سفر نامہ مصنف:ندیم اقبال ضخامت:320 صفحات قیمت:800 روپے ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی مبصر:مجید فکری پیشِ نظر کتاب ندیم اقبال کے سفر نامہ سے متعلق ہے جسے خاصے اہتمام سے رنگ ادب پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔ موصوف کی سفرنامے سے متعلق یہ پہلی تحریر ہے جو کتابی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ چونکہ ندیم اقبال کی یہ پہلی کتاب ہے میں نے سمجھا کہ ان کی تحریر ناپختہ اور کچے پن کا شکار ہوگی مگر جب کتاب کی ورق گردانی کی تو پتہ چلا کہ یہ تو کوئی...

استقبال کتب

شبِ زندگی سے آگے وجود - اتوار 18 مارچ 2018

غلام حسین ساجد صابر ظفر سے میرے تعلق کو بیالیس برس ہونے کو آئے ہیں۔ شروع کے دوچار برسوں کے بعد ہم کبھی ایک شہر میں نہیں رہے مگر ان سے فکری نسبت کا رشتہ روزبروز مضبوط تر ہورہا ہے اور اس کا سبب ہے ان کی صلاحیت اور اس صلاحیت کی نمود کا ایک مسلسل اور لامختتم ظہور۔ اردو غزل کو موضوعاتی، فکری اور تجربی تنوع کے لیے اسے زرخیز کرنے میں صابر ظفر کا حصہ سب سے زیادہ ہے اور اس قدر تسلسل اور جمالیاتی صباحت کے ساتھ کہ اس پر صرف داد ہی دی جاسکتی ہے۔ ’’ ابتدا‘‘ سے ’’ لہو سے دستخط‘‘ تک کے اڑ...

شبِ زندگی سے آگے

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 18 مارچ 2018

بزمِ جہانِ حمد و نعت کا طرحی حمدیہ مشاعرہ بزمِ جہانِ حمد کے زیرِ اہتمام طرحی حمدیہ سلسلے کا ماہانہ مشاعرہ گزشتہ دنوں مدرسۂ حضرت علیؓ لیاقت آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت خیام العصر محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی آرٹس کونسل گورننگ باڈی کے رکن اور ممتاز افسانہ نگار رضوان صدیقی تھے۔ نظامت کے فرائض جناب طاہر سلطانی نے ادا کیے۔ تلاوت اور نعتِ رسول کی سعادت (وزیر اعظم ایوارڈ یافتہ قاری) حافظ نعمان طاہر نے حاصل کی۔ اس روح پرور حمدیہ مشاعرے کا آغاز طاہر سلطا...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 18 مارچ 2018

نام کتاب:اُردو شاعری کے فروغ میں مظفر گڑھ کے شعراء کا کردار مصنف:ظریف احسن ضخامت:112 صفحات قیمت:400 روپے ناشر:حرفِ زار انٹر نیشنل، کراچی مبصر: مجید فکری ظریف احسن صاحب کا مسکن تو کراچی میں ہے مگر ان کا دل مظفر گڑھ میں دھڑکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تک جتنی کتابیں تخلیق کی ہیں وہ سب مظفر گڑھ سے متعلق ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مظفر گڑھ ان کا جنم بھومی ہے۔ ان کے آباء و اجداد نے جب ہندوستان چھوڑا اور پاکستان کے لیے ہجرت کی تو مظفر گڑھ ہی میں پڑائو ڈالا۔ فکرِ مع...

استقبال کتب

جب بھی مسلمان اللہ اوررسول ﷺ کے نام پرمتحدہوئے کامیابی حاصل کی ‘پروفیسر احمدرفیق وجود - بدھ 14 مارچ 2018

معروف سیاست دان اور سابق صوبائی وزیر ایم ، اے رؤف صدیقی اور عبدالحسیب کی جانب سے بین الاقوامی شہرت یافتہ فلاسفر اور مفکر اسلام پروفیسر احمد رفیق اختر کے اعزازمیں تقریب کااہتمام ‘پروفیسراحمد رفیق نے خصوصی لیکچر دیا جس کا عنوان تھا ’’ قومی کردار اور روحانیت ‘‘ یہ لیکچر تاز زو لوجیکل گارڈن فیڈرل بی ایریا میں دیا گیا جہاں کثیر تعداد میں خواتین وحضرات موجود تھے انتظامیہ میں ظہیر خان ، ڈاکٹر محمد علی خالد ، شائق احمد کے نام بھی شامل تھے ۔ جبکہ مہمانوں میں سینیٹر فروغ نسیم خالد مقب...

جب بھی مسلمان اللہ اوررسول ﷺ کے نام پرمتحدہوئے کامیابی حاصل کی ‘پروفیسر احمدرفیق

خواتین کے عالمی دن پر خواتین مشاعرے کا اہتمام وجود - بدھ 14 مارچ 2018

یوم خواتین کے عالمی دن پر بروز جمعہ دو مارچ ریڈیو پاکستان کراچی نے ہمابیگ کے تعاون سے خواتین مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں شہر کی معروف اور مستند شاعرات نے شرکت کی. محترمہ اکرم خاتون اور محترمہ جسٹس ماجدہ رضوی بہ حیثیت مہمان خصوصی شریک ہوئیں ۔ ہمابیگ کی نظامت اور فاطمہ حسن کی صدارت میں جن شاعرات نے کلام پیش کیا ان کے اسم گرامی یہ ہیں عروج زہرہ، یاسمین یاس ، زینت لاکھانی، ناہید اعظمی، شائشتہ مفتی فرخ، ریحانہ احسان، عنبرین حسیب عنبر، ذکیہ غزل، رخسانہ صبا، سعدیہ حریم، شاہدہ حسن، ف...

خواتین کے عالمی دن پر خواتین مشاعرے کا اہتمام

آسمانِ ادب کا درخشاں ستارہارمؔ زہرا وجود - اتوار 11 مارچ 2018

ادب ایک آسمان ہے اس میں ہر ایک ستارہ اپنے حصے کی روشنی سے اس آسمان کی خوبصورتی اور دلکشی میں اضافہ کر رہا ہے۔اس میں ہر روز لاتعدار ستارے ہر شب نمودار ہوتے ہیں اور اپنے محدود وقت تک اپنی روشنی سے اہلِ زمین کو مستفید کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ایک ستارے کا وجود چھوٹاسا نظر آتا ہے اس کے باوجود اس کی موجودگی اپنے ہونے کا احساس اجاگر کرتی ہے۔ ستاروں کی روشنی سے ہی آسمان کی جاذبیت برقرار ہے۔ ستاروں کی حرکات سے مسافر اپنے راستے کا تعین کرتے ہیں۔ جس طرح کہا جاتاہے کہ علم ایک سم...

آسمانِ ادب کا درخشاں ستارہارمؔ زہرا

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 11 مارچ 2018

گزشتہ دنوں معرو ف شاعر ہ و ادیبہ شگفتہ شفیق نے ایک نئی بز م، بز مِ شگفتہ شفیق کی بنیا د ر کھی جس کے تحت شگفتہ شفیق صا حبہ نے اپنے ہا ں گلستا نِ جوہر ، کراچی میں ایک عمدہ شعر ی نشست کا ا ہتما م کیا ۔ جس میں چنیدہ ادبی شخصیا ت اور شعرا نے شر کت کی، معرو ف شاعر و اد یب جنا ب فیروز ناطق خسرو نے صدارت کی جنا ب ا کر م کنجا ہی کو مہما نِ ا عزازی بنا یا گیا۔ اکا د می ا د بیا ت سند ھ کے ر یجنل ڈا ئر یکٹر جنا ب قادر بخش سو مرو مہما نِ اعزازی تھے ۔ تقریب کی نظا مت کا فر یضہ قادرالکلا م ...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 11 مارچ 2018

کتاب:منزلِ مراد(ناول) ناول نگار:پروفیسر ہارون الرشید قیمت:300/- روپے ناشر:میڈیا گرافکس، کراچی پروفیسر ہارون الرشید کثیر التصانیف اور کثیر الجہات شخصیت ہیں۔ ان کی اب تک اُردو ادب (تاریخ و تنقید) کی 9؍ جب کہ دبستانِ مشرق پر 4 ؍اور ذہنی اور فکری جائزوں کی 9، شاعری کی 6 ؍کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ ’’زندگی نامہ‘‘ خود نوشت اور ’’اپنے لہو کی آگ میں‘‘،’’ منزل ہے کہاں تیری‘‘ کے بعد ’’منزلِ مراد‘‘ تیسرا ناول ہے جو کراچی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئ...

استقبال کتب

کتاب ہی کامیابی کی ضمانت ہے ‘ اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، اقبال یوسف وجود - بدھ 07 مارچ 2018

علم دیانت داری اور ایمانداری کا سبق سکھاتا ہے علم زندگی اور جہالت موت ہے ۔یہ بات سوشل اسٹوڈنٹس فورم اور نیو پورٹ یونیورسٹی کے تعاون سے منعقدہ سیمینار بعنوان ’’کتا ب کا میابی کی ضمانت ہے‘‘ سے صدارتی خطاب کر تے ہوئے سینئر صحافی ابرار بختیار نے کہی قبل ازیں فورم کے چیئر مین نفیس احمد خان نے خطبہ استقبالیہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ فورم تعلیم و صحت کے لیے خدمات انجام دے رہی ہے ہم گذشتہ 31سالوں سے اس شہر کراچی میں مثبت سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں ۔ ہم عملی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ہماری...

کتاب ہی کامیابی کی ضمانت ہے ‘ اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، اقبال یوسف

نسل نو کا رشتہ دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنا ہوگا، جسٹس (ر) انور ظہیر جمالی وجود - بدھ 07 مارچ 2018

بے ایمانی، بد عنوانی، سفارش، جعلی ڈگریوں قابلیت و ہنرمندی کی ناقدری کے موجودہ کلچر سے نجات ضروری ہے۔ روز مرہ زندگی میں سچائی ، پرہیزگاری، خلوص، امانت، اخلاقیات اور دوسروں کا خیال رکھنے کے اسلامی رجحانات کو فروغ دے کر ہم معاشرتی برائیوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ مساجد بہترین تربیت گاہ ہیں۔نسل نو کا رشتہ دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) انور ظہیر جمالی نے گذشتہ روز بزم کرن ( سوسائٹی فار دی پریونشن آف وے وارڈ نیس ) کے دسویں یوم ت...

نسل نو کا رشتہ دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنا ہوگا، جسٹس (ر) انور ظہیر جمالی

لیاقت علی عاصم ایک تازہ کار شاعر وجود - اتوار 04 مارچ 2018

لیاقت علی عاصمؔ کے اَب تک سات شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ وہ ۱۹۸۰ ء کی دہائی میں اُبھرنے والے نوجوان شعراء کی صف سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ لکھا ہے اور تخلیق کا یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ میں اُنھیں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ جامعہ کراچی میں ایم اے(اُردو) کے طالب علم تھے۔ ان کی شاعری کا پورا منظر نامہ میری نگاہ کے سامنے ہے۔ عاصمؔ نے جس زمانے میں غزل اور محض غزل کو تخلیق کا ذریعہ بنایا اُس وقت کراچی اور بعض دیگر شہروں میں بھی شاعری کے ذیل میں نئے نئے تجر...

لیاقت علی عاصم ایک تازہ کار شاعر

صابر ظفر وجود - اتوار 04 مارچ 2018

حصیب دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے رکوں تو منزلیں ہی منزلیں ہیں چلوں تو راستہ کوئی نہیں ہے کھلی ہیں کھڑکیاں ہر گھر کی لیکن گلی میں جھانکتا کوئی نہیں ہے کسی سے آشنا ایسا ہوا ہوں مجھے پہچانتا کوئی نہیں ہے ِ٭ ٭ دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے خواب ہی خواب فقط روح کی جاگیر ہوئے عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے یہ الگ دکھ ہے کہ ہیں تیرے ...

صابر ظفر

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 04 مارچ 2018

بزمِ سعید الاداب کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں ایک مشاعرے کا انعقاد بہ مقام کے ایم سی آفیسرز ایسوسی ایشن کلب (سٹی کلب) کراچی میں کیا گیا جس کی صدارت امریکا سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر رفیع الدین راز نے کی مہمانِ خصوصی کینیڈا سے تشریف لائی ہوئی معروف شاعرہ ذکیہ غزل تھیں جب کہ مہمانِ اعزازی سہ ماہی غنیمت کے مدیر جناب اکرم کنجاہی تھے۔ اس مشاعرے کی نظامت یاسر سعید صدیقی نے بھرپور انداز میں کی۔ مشاعرے میں مندرجہ ذیل شعرائے کرام نے اپنا خوب صوت کلام نذرِ سامعین کیا ، یاسر سعید صدیقی...

کراچی کی ادبی ڈائری

محمد اسلام کی کتاب ’’مزاح صغیرہ و کبیرہ‘‘کی رونمائی وجود - بدھ 28 فروری 2018

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی پریس اینڈ پبلی کیشن کمیٹی کے زیر اہتمام سینئر صحافی، طنزو مزا ح نگار اور کالم نگار محمد اسلام کی کتاب ’’مزاح صغیرہ و کبیرہ‘‘کی تقریب رونمائی گزشتہ روز منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی نے کی۔مہمان خصوصی ڈاکٹر پروفیسر صاحبزادہ فرید الدین قادری اور مہمان اعزازی جاوید رضا تھے۔ اظہار خیال کرنے والوں میں پریس اینڈ پبلی کیشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر سدوزئی، انوار علوی، زیب اذکار حسین، اخترسعیدی،عامر رضا نقوی اور نفیس احمد خان شامل تھے جب...

محمد اسلام کی کتاب ’’مزاح صغیرہ و کبیرہ‘‘کی رونمائی

باغِ سخن میں نئی بہار ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبرؔ وجود - اتوار 25 فروری 2018

علامہ سید سلیمان ندوی نے لکھا تھا۔ ’’شاعر دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ماں کے پیٹ سے شاعر ہو کر آتا ہے اور دوسرا وہ جو اپنے علم اور تجربے سے شاعر بن جاتا ہے۔ اس میں بہتر وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے شاعر ہو کر آتا ہے۔‘‘ ان جملوں کی روشنی میں اگر عنبریں حسیب عنبرؔ کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو باوثوق کہا جاسکتا ہے کہ عنبرؔ ماں کے پیٹ سے شاعرہ ہو کر آئی ہیں۔ کیوں کہ جو شخص اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر شاعری کرتا ہے، اسے آورد سے کام لینا پڑتا ہے اور اس کے فن میں کسی کی مدد شام...

باغِ سخن میں نئی بہار ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبرؔ

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 25 فروری 2018

حلقہ اربابِ ذوق کراچی کی ہفتہ وار نشست گزشتہ روز کانفرنس روم، ڈائیریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیااینڈ پبلی کیشنز پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف نقاد،شاعر اور افسانہ نگار عباس رضوی نے کی۔ یہ خصوصی اجلاس اردو کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر شبیرنازش کی پذیرائی کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ شبیرنازش کی شاعری پر سب سے پہلے سلمان ثروت نے ایک دلچسپ تمثیلی مضمون ''شبیرنازش…یہ سخن،یہ ناز یہ انداز آپ کا'' کے عنوان سے پیش کیا۔ اس کے بعد معروف شاعرہ سیماعباسی نے شبیر نازش ...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 25 فروری 2018

رسالہ: نظم کائنات(جنوری تا مارچ ۲۰۱۸ء) چیف ایڈیٹر:پروفیسر شاہین حبیب قیمت:۱۵۰؍روپے ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی نظم کائنات کا تازہ شمارہ جنوری تامارچ ۲۰۱۸ء شائع ہوگیا ہے ، یہ ایک علمی ، سائنسی اور تحقیقی مجلہ ہے جسے ماہر تعلیم محترمہ پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ(سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبۂ کیمیا،گورنمنٹ سرسید گرلز کالج،کراچی) نے ترتیب دیاہے،زیر نظر شمارہ سرسید احمد خان کے ۲۰۰ سالہ جشن پیدائش کے موقع پر ’’سائنسی ابلاغ نمبر‘‘ ہے ۔’’نظم کائنات‘‘ اسکولوں،کالجوں اور جامعات کے ط...

استقبال کتب

نشاط یاسمین خان وجود - اتوار 18 فروری 2018

مزاح لکھنا آسان نہیں… ایک مشکل فن ہے۔ پاکستانی ادب کی تاریخ میں چند نام ہی سامنے آتے ہیں جیسا کہ پطرس بخاری، ضمیر جعفری، شفیق الرحمٰن، ابن انشاء، مشتاق احمد یوسفی اور ڈاکٹر یونس بٹ۔ بہت سے لوگوں نے مزاح لکھنے کی کوشش کی لیکن مقبول عام نہیں ہوسکا۔ جب کہ مزاحیہ شاعری پر نظر ڈالی جائے تو اس میں بہت سے لوگ کامیاب ہوئے اور اپنا نام پیدا کیاجن میں انور مسعود، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، زاہد فخری، سلمان گیلانی، سرفراز شاہد، دلاور فگار، پروفیسرعنایت علی خان، بابا عبیر ابو ذری شامل ہیں...

نشاط یاسمین خان

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 18 فروری 2018

خوب صورت اور یاد گار ترین محفلِ شعر فروری بہ روز جمعہ خوب صورت اور صاحب اسلوب شاعر رفیع الدین رازؔ صاحب کی صدارت میں ادبی تنظیم لوحِ سخن کے زیرِ اہتمام محترم المقام جناب سرور غوری کی قیام گاہ پر خوب صورت محفلِ شعر منعقد کی گئی جس میں دلاورعلی آزر ، کاشف حسین غائر، توقیر تقی ، شاعر علی شاعر ، احمد جہاں گیر ، آزاد حسین آزاد ، ڈاکٹر عبدالمختار ، شاہزیب خان ، اسامہ امیر ، دانش حیات ، عبدالرحمٰن مومن اور راقم الحروف قاضی دانش صدیقی شامل تھے اس تقریب کی نظامت نوجوان نسل کے نمائ...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 18 فروری 2018

کتاب:نانگاپربت کے سو چہرے(سفرنامہ) سفرنامہ نگار:ڈاکٹر مزملہ شفیق قیمت:500/- روپے ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی ڈاکٹر مزملہ شفیق کا اس سے قبل بھی ایک’’ سفرنامۂ اسکردو‘‘ فیروز سنز، کراچی سے شایع ہو چکا ہے۔ ’’نانگا پربت کے سو چہرے ‘‘ان کا دوسرا سفر نامہ ہے جو مواد، طباعت اور پیش کش کے لحاظ سے بہت عمدہ اور خوب صورت ہے۔ اس سفر نامے کے متعلق جاننے کے لیے ناشر رنگِ ادب جناب شاعر علی شاعر کی رائے ملاحظہ فرماتے ہیں: ’’کہتے ہیں ایک لڑکی کو پڑھانا ،ایک خاندان کو پڑھانے کے مترادف...

استقبال کتب

درِ آئینہ کا شاعر…رفیع الدین رازؔ وجود - اتوار 11 فروری 2018

اُردو کی شعری اصناف میں غزل نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ غور سے دیکھیے تو غزل ہمارے آسمانِ ادب کا آفتاب ہے، باقی اصناف چاند ستاروں کی طرح ہیں۔ مرثیے کی وسعتِ بیان، رزمیہ طرزِ اظہار اور جذبات نگاری، قصیدے کا شکوہ،مثنوی کا شعری محاسن سے آراستہ کہانی پن، رباعی کافکری وقار اپنی جگہ لیکن غزل کا ایک شعر جس اختصار و ایجاز کے ساتھ زندگی کے کسی رنگ ، کیفیت یا حقیقت کا اظہار کرتا ہے، وہ منفرد اور حیرت ناک ہے۔ دوسری اصناف کے مقابلے میں غزل کے اشعار ہمیں اپنے دل سے زیادہ نزدیک محسوس ہ...

درِ آئینہ کا شاعر…رفیع الدین رازؔ

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 11 فروری 2018

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیر اہتمام اُردو کے معروف شاعر محسن نقوی کی یاد میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت نامور شاعر عرفان عابدی نے کی۔ مہمان خاص جناب افضال بیلہ اور فرحت اسرار تھیں۔ اس موقع پرتقریب کے صدر نے کہا کہ زندگی کو سمجھنا ایک اہم کام ہے مگر خود کو سمجھ کر دوسروں کو سمجھانا مشکل کام ہے۔ محسن نقوی نے اپنے مطالعے، مشاہدے اور تجربے پر اپنی شاعری کی بنیاد رکھی ہے ۔ محسن نقوی اپنے دورکے نئے لکھنے والوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ وہ ادب کا ایک چلتا پھرتا دبستان تھ...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 11 فروری 2018

کتاب:چوٹیں (افسانے) افسانہ نگار:عصمت چغتائی قیمت:۳۰۰؍روپے ناشر:علم و ادب پبلشرز اینڈ بک سیلرز،کراچی اُردو کی مشہور ومعروف افسانہ نگار عصمت چغتائی کے بہترین افسانوں کا انتخاب ’’چوٹیں‘‘ کے عنوان سے جناب نواز فتح بلوچ نے مرتب کیاہے جسے علم و ادب پبلشرزاینڈ بک سیلرز،کراچی نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں عصمت چغتائی کے سولہ (۱۶)بہترین افسانے ’’بھول بھلیاں‘‘، ’’ پنکچر‘‘ ، ’’ساس‘‘، ’’سفرمیں‘‘، ’’اس کے خواب‘‘، ’’جنازے‘‘، ’’لحاف‘‘، ’’بیمار‘‘، ’’میرا بچہ… کیوں رے کتے‘‘، ’’بچہ‘‘، ’’تل‘‘،...

استقبال کتب

امریکا سے آئے ہوئے معروف شاعر کالم نویس ہمدم کے اعزاز میں عشائیہ وجود - بدھ 07 فروری 2018

یوں تو دیار غیر سے بہت سے لوگ آتے اور جاتے ہیں مگر بہت ہی کم لوگ ہیں جنہیں اپنے ملک میں آنے کا انتظار ہوتا ہے اور وہ لوگ بھی اپنی مٹی کی خوشبو کی محبت میں لازمی آتے ہیں ان میں ایک معروف نغمہ نگار یونس ہمدم کا ہے شہر کراچی کی معروف تنظیم سٹی تھنکرز فورم نے خوبصورت محفل سجائی جو کے ڈی اے آفیسرز کلب میں منعقد ہوئی جس میں شہر کراچی کی وہ شخصیات شریک ہوئیں جو بذات خود انجمن کا درجہ رکھتی ہیں جن میں آغا مسعود حسین، دوست محمد فیضی، سید عادل ابراہیم، مختار عاقل ، رضوان صدیقی، مح...

امریکا سے آئے ہوئے معروف شاعر کالم نویس ہمدم کے اعزاز میں عشائیہ

بسیط فکری کینوس کی شاعرہ وجود - اتوار 04 فروری 2018

شعری معیارات کی مقتضیات میں تلون و تنوع کے خصائص کے پہلو بہ پہلو عصری رجحانات و میلانا ت اور دیگر فکری و فنی تلازمات شامل ہیں تاکہ یکسانیت کی مہیب صورتِ حال سے گریز کا التزام کیا جاسکے جن شاعر اور شاعرات کی قوتِ متخیلہ زر خیز نوعیت کی حامل ہوتی ہے جن کے ہاں کہنے کے لیے جذبات و احساسات کی پونجی وافر ہوتی ہے ان کے افکارو تخیلات کا اعادہ معدوم ہوتا ہے آج ہم حمیدہ کششؔ کی سخن سنجی کے حوالے سے رقمطراز ہیں جن کی کتاب بعنوان ’’سحرِ عشق‘‘ ہمارے پیشِ نظر ہے جن میں ان کی پچاس غزلیات جو...

بسیط فکری کینوس کی شاعرہ

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 04 فروری 2018

٭ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کے لیے ایوارڈ ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی بہ عنوان’’اُردو میں ترقی پسند تنقید کا تحقیقی مطالعہ‘‘لکھاتھا جس پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی تھی،اب اس مقالے کو انجمن ترقی اردو،کراچی نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے،جس پرڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایوارڈبرائے ۲۰۱۷ء سے نوازا ہے،ہم ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ٭جناب عقیل دانش کے اعزاز میں شعری نشست سینئر شاعراور عمارت کار کے مدیر...

کراچی کی ادبی ڈائری

استقبال کتب وجود - اتوار 04 فروری 2018

٭ رائو ریاض احمد کے حمد و نعتیہ مجموعوں کی اشاعت جہانِ حمد پبلی کیشنز اُردو بازار، کراچی کے پلیٹ فارم سے حال ہی میں حمد و نعت گو شاعر جناب رائو ریاض احمد کے دو مجموعہ ہائے کلام، حمدیہ مجموعۂ کلام ’’نمازِ عشق‘‘ اور نعتیہ مجموعۂ کلام ’’ماہتابِ نبوت‘‘ اشاعت پزیر ہوئے ہیں۔ ادارہ جہانِ حمد پبلی کیشنز کی یہ تخصیص ہے کہ وہ حمد و نعت کے فروغ اور ترویج و اشاعت میں برس ہا برس سے کام کر رہا ہے اور اب تک متعدد حمد و نعت کی خوب صورت اور دیدہ زیب کتابیں شایع کر چکا ہے۔ جہانِ حمد پبلی کی...

استقبال کتب

استقبال کتب وجود - اتوار 28 جنوری 2018

میگزین:عمارت کار ایڈیٹر:حیات رضوی امروہوی قیمت:۳۰۰؍روپے ناشر:اشاعات حیات،کراچی عمارت کار ایک موضوعاتی اور منفردادبی و معلوماتی میگزین ہے جس میں عمارت کاری کے حوالے سے نگارشات شائع کی جاتی ہیں،افسانے ہو یا شاعری،مضامین ہوں یا اشعار،انشائیے ہویا سفرنامے ،ہرتحریر میں عمارت اور عمارت کاری سے متعلق مواد ضرور شامل ہوگا اور یہی اس میگزین کی انفرادیت ہے اور اس کی دوسری انفرادیت یہ ہے کہ اس کے مدیر جناب حیات رضوی امروہوی ایک مایہ ناز اور پاکستان کے نامورعمارت کارہیں جو پاکستان خصو...

استقبال کتب

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 28 جنوری 2018

طرحی مشاعروں کے انعقاد سے ادبی دنیا میں نئے شعراکی تربیت ہوتی ہے جس میں انجمن بہارادب کا کردار قابل تحسین ہے اور اس کے لیے انجمن کے عہدہ داران بالخصوص پروفیسر نورسہارن پوری کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔یہ بات انجمن بہارادب کے زیر اہتمام طرحی سالانہ مشاعرہ جو گورنمنٹ ڈگری کالج برائے طلبا، نارتھ کراچی میں منعقد کیا گیا، کی صدارت کرتے ہوئے معروف شاعر جناب پروفیسر منظر ایوبی نے کہی۔مشاعرے کے مہمان خصوصی قمر وارثی جبکہ مہمانان اعزازی آصف رضا رضوی اور ڈاکٹر جاوید منظر صاحبان تھے۔نظامت...

کراچی کی ادبی ڈائری

نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ ؔ انعام صدیقی وجود - اتوار 21 جنوری 2018

جب ہم نئی نسل کی شاعری کی بات کرتے ہیں تو اس سے مرادیہ نہیں ہوتا کہ نئی نسل کی شاعری کرنے والے شاعر بھی نئی نسل سے ہوں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ نئی نسل کا شاعر نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی کرتاہو،نئی نسل کے مسائل کا ترجمان ہو،اب یہ نمائندگی اور ترجمانی کوئی بزرگ شاعر بھی کرسکتاہے اور ادھیڑ عمربھی اور نوجوان بھی۔اگر کوئی شاعر نئی نسل سے تعلق رکھتاہے اور وہ اپنے ہم عمروں اور ہم عصروں کے مسائل کی ترجمانی بھی کر رہاہے اور اُن کی نمائندگی بھی تو اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہ...

نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ  ؔ انعام صدیقی

پانی ……اعجاز رحمانی ؔ وجود - جمعرات 18 جنوری 2018

آسماں اپنی روش میں مبتلا آرزو کا گل کوئی کھلتا نہیں اب کوئی کیسے گزارے زندگی صاف پانی پینے کو ملتا نہیں

پانی  ……اعجاز رحمانی ؔ

پروین شاکر نوخیز جذبوں کی شاعرہ وجود - اتوار 07 جنوری 2018

بیسویں صدی میں اقبال اور جوش سے شروع ہونے والی اردونظم کی پرعظمت شاعری کا تسلسل نصف صدی کے بعد تک بغیر تعطل کے جاری رہا اور فیض گویا اس کلاسیکی روایت کے آخری امین ٹھہرے۔ 1950ء کی دہائی سے ذرا پہلے انگریزی شاعری کے براہ راست اثر کے تحت نظم کی نئی ہیئت آزاد نظم کی صورت میں وجود میں آئی جو اردو نظم کا تسلسل ہی تھا مگر ہیئت کی تبدیلی کے سبب سے افکار و خیال میں اور ان کے اظہار میں بھی تبدیلی بہرحال رونما ہوئی۔ آزاد نظم کی اس نئی روایت کا آغاز پاکستان میں ن م راشد اوربھارت میں غلام...

پروین شاکر  نوخیز جذبوں کی شاعرہ

استقبال کتب وجود - اتوار 31 دسمبر 2017

کتاب آبیل…(شگفتہ شاعری) کلام پروفیسر صفدر علی انشا قیمت 300 روپے ناشر ادارئہ انشا کراچی پروفیسر صفدر علی انشا جہاں ایک ادبی جریدہ انشا کے مدیر ہیں اور کالج میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں وہاں بہ حیثیت مزاحیہ شاعری ایک منفرد نام اور پہچان رکھتے ہیں۔ ان کا حال ہی میں مزاحیہ کلام پر مشتمل مجموعہ ’’آبیل…‘‘ کے نام سے شایع ہوا ہے، جس میں شگفتہ شاعری، قطعات، واسوخت، غزلیں اور نظمیں کی صورت میں شامل ہیں۔ پروفیسر صفدر علی انشا ایک سینئر شاعر ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی شگفتہ شاعری ...

استقبال کتب

ڈاکٹر پیرزادہ قاسمؔ وجود - اتوار 31 دسمبر 2017

ڈاکٹر پیرزادہ قاسمؔ لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی اس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھی عشق آثار تھی ہر راہ گزر اس کی تھی ہم بھٹک سکتے نہ تھے راہ بدلتے ہوئے بھی عشق ہے عشق، بہرحال نمو پائے گا یعنی جلتے ہوئے بھی اور پگھلتے ہوئے بھی زندگی تیرے فقط ایک تبسم کے لیے ہم کہ ہنستے ہی رہے درد میں ڈھلتے ہوئے بھی ایک مدت سے ہیں ہم عشق میں آوارہ بکار یعنی اک عمر ہوئی پھولتے پھلتے ہوئے بھی سلسلہ تجھ سے ہی تھا تیرے طلب گاروں کا برف ہوتے ہوئے بھی، آگ میں جلتے ہوئے ب...

ڈاکٹر پیرزادہ قاسمؔ

انتخاب غزل وجود - اتوار 24 دسمبر 2017

صابر ظفر صورتِ مرگ فقط راہ کی ٹھوکر نکلی زندگی تُو مرے اندازے سے کم تر نکلی دھوپ نے دکھ دیا لیکن مجھے تنہا نہ کِیا ایک پرچھائیں مرے جسم سے باہر نکلی تیرے چہرے سے کُھلا مجھ سے بچھڑنے کا ملال شکل اک اور تری شکل کے اندر نکلی صرف چکّر ہی نہیں پائوں میں زنجیر بھی ہے میری حالت ، مری قسمت سے بھی ابتر نکلی آتشِ کبر نکلتی ہی نہ تھی دل سے ظفرؔ چوبِ منبر کو جلایا تو یہ کافر نکلی اقبال خاورؔ وحشت ہے اک عجیب سی وحشت ہے اِن دنوں دیکھے تو کوئی دل کی جو حالت ہے اِن دنوں ہر روز...

انتخاب غزل

استقبال کتب وجود - اتوار 24 دسمبر 2017

گزشتہ دنوںمعروف شاعر جناب فیروز ناطق خسرو کے بہ یک وقت آٹھ شعری مجموعے منظر عام پر آئے،تاخیر ہوئی تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا،جناب فیروز ناطق خسرو پاکستان کے ایک سینئر شاعر ہیں پہلے انھوں نے اپنی تعلیم ،پھر ملازمت اور پھر اپنی عمر بھر کی شعری تخلیقات کو کتابی شکل میں شائع کرانے پر توجہ دی،آج ان کی آٹھ کتابیں گلشن ادب میں گل ہائے رنگ رنگ کے مترادف ہیں،مناسب معلوم ہوتاہے کہ تما م کتابوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے: ۱۔انتخاب کلام ناطق(ناطق بدایونی) ناطق بدایونی جناب فیروز ن...

استقبال کتب

استقبال کتب وجود - اتوار 17 دسمبر 2017

کتاب:اُردو ناول …تاریخ و ارتقا(تنقید) (آغاز سے اکیسویں صدی تک) مصنف:ڈاکٹر محمد اشرف کمال قیمت:۸۰۰؍روپے ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی ڈاکٹر محمد اشرف کمال کی دودرجن سے زائد تصانیف زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں،وہ ایک ماہر تعلیم ہیں اس لیے ان کی زیادہ تر کتابیں نصابی نوعیت کی ہوتی ہیں جو ریسرچ ورک میں کام آتی ہیں،’’اُردو ناول…تاریخ وارتقا‘‘ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس میں ناول کیا ہے،ناول کی اقسام،ناول کے فنی لوازمات، پلاٹ، کہانی، کردار، مکالمہ، منظر نگاری،زبان و بیان،اُرد...

استقبال کتب

پرانی دہلی کی زبانیں اور لہجے وجود - اتوار 10 ستمبر 2017

پرانی دہلی کی پیچیدہ گلیوں کے نام قدیم دستکاریوں اور تجارت کے اعتبار سے رکھے گئے ہیں ۔ جیسے سوئی والاں یعنی درزیوں کی گلی، پھاٹک تیلیاں یعنی تیل نکالنے والوں کی گلی، کناری بازار یعنی کنارا یا کڑھائی بازار، گلی جوتے والی یعنی موچیوں کی گلی، چوڑی والاں یعنی چوڑی بنانے والوں کے گھر، اور قصاب پورہ یعنی وہ جگہ جہاں قصائی اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔ کاریگر، تاجر اور محنت کش یہاں رہے، کام کیا اور کمایا۔ ایک وقت تھا کہ جب یہ گلیاں اردو کی ایک بڑی ہی مزیدار اور محاوراتی بولی سے گونج رہی ...

پرانی دہلی کی زبانیں اور لہجے

کتاب شناسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک فن وجود - هفته 17 دسمبر 2016

’’حافظ شیرازی کا یہ مصرعہ ؎فراغتے وکتابے وگوشہ چمنے‘‘ہر اس شخص کے حافظے کا جز ہے جسے کتابوں سے تعلق ہے، مشہورعربی شاعر متنبی کے شعر کا مصرعہ ہے:’’وخیر جلیس فی الزمان کتاب‘‘ یعنی زمانے میں سب سے بہتر ہم نشیں کتاب ہے۔ قلم اور کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ قرآن مجید میں قلم اور کتاب کی قسم کھائی گئی ہے:’’ن والقلم ومایسطرون‘‘ ۔آخری پیغمبر پر سب سے پہلی وحی جو آسمان سے نازل ہوئی اس میں پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا، گویا یہ امت،امت اقراء ہے اور کتاب اور قلم سے اس کا رشتہ ناقابل انفکاک ہے۔...

کتاب شناسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک فن

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر وجود - جمعرات 24 نومبر 2016

تحریر : شازیہ فاطمہ پروین شاکر اردو ادب کی انتہائی معروف اور معتبر شاعرہ تھیں وہ 24 نومبر 1952 ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں جبکہ 26 دسمبر 1994 ء میں راہی ٔملک ِعدم ہوئیں۔ پروین شاکر کا گھرانہ چونکہ خوشحال تھا لہٰذا اسے مفلسی اور بے زری اور محرومی کے دور سے نہیں گزرنا پڑا لیکن اس کا وژن اس قدر وسیع تھا ،اس میں ادراک کی اس قدر قوت تھی کہ اس نے اپنے ارد گرد کے ماحول میں موجود لڑکیوں اور خواتین کے ہر طرح کے جذبات و احساسات کو پوری طرح سے محسوس کرلیا تھا ۔اسی لیے جب یہ نازک اندام شا...

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر

ہلیری نے وائٹ ہاؤس میں بل کلنٹن کو مارا تھا، کتاب میں انکشاف وجود - جمعه 10 جون 2016

امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں ملازمت کرنے والے ایک اہلکار نے اپنی تازہ کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ جب بل کلنٹن امریکا کے صدر تھے تو ایک بار وہ اپنی اہلیہ ہلیری کلنٹن کے ہاتھوں اس بری طرح پٹے تھے کہ ان کی ایک آنکھ پر نیل پڑ گیا تھا۔ ہلیری کلنٹن رواں سال ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی امیدوار ہوں گی اور ایسے موقع پر ایک قریبی ملازم کے انکشافات پر مبنی کتاب کا آنا ان کی مہم کے لیے سخت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ گیری بائرن نامی سیکریٹ سروس ایجنٹ 90ء کی...

ہلیری نے وائٹ ہاؤس میں بل کلنٹن کو مارا تھا، کتاب میں انکشاف

دنیا کی مقبول ترین لغت اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب وجود - بدھ 13 اپریل 2016

گنیز ورلڈ ریکارڈز نے تصدیق کی ہے کہ سن ہوا ڈکشنری دنیا کی مقبول ترین لغت ہے اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بھی۔ لندن میں ایک تقریب کے دوران گنیز ورلڈ ریکارڈز نے اعلان کیا پہلی جدید چینی لغت سن ہوا ڈکشنری کے 28 جولائی 2015ء تک 567 ملین نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ایس وی پی ریکارڈز مارکو فریگاتی نے کہا کہ "گزشتہ سال میں ہماری ٹیم نے ان دو ریکارڈز کے لیے بڑے پیمانے پر تحقیقات کیں اور یہ تصدیق کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سن ہوا ڈکشنری دنیا کی مقبول ت...

دنیا کی مقبول ترین لغت اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب

"سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا" ندا فاضلی انتقال کرگئے نجم انوار - منگل 09 فروری 2016

معروف بھارتی شاعر اور نغمہ نگار ندا فاضلی کا 8 فروری کو بھارتی شہر ممبئی میں انتقال ہو گیا۔اُن کا اصل نام مقتدا حسن تھا۔ وہ 12 اکتوبر 1938 ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے تھے۔مگر دہلی منتقل ہوگیے اور تعلیم بھی وہیں پائی۔ ندا فاضلی کے والد بھی ایک شاعر تھے ۔ وہ 1960 ء کے فسادات میں قتل کردیئے گیے تھے۔ اُن کا پورا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا تھا، مگر ندا فاضلی بھارت میں ہی رہے۔ وہ مرزا غالب اور میرتقی میر دونوں سے متاثر تھے۔ ندا فاضلی کو بھارتی حکومت کی جانب سے پدم شری ، ساہتیہ اکیڈ...


پروفیسر خورشید احمد کی کتاب ’تحریکِ آزادیٔ کشمیر‘ شائع وجود - جمعه 05 فروری 2016

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے بانی سربراہ اور سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد کی نئی کتاب ”تحریکِ آزادیٔ کشمیر: بدلتے حالات اور پاکستان کی پالیسی“ شائع ہو گئی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے اشاعتی بازو ’آئی پی ایس پریس‘ کی شائع کردہ اس کتاب کا اجراء خصوصی طور پر امسال یومِ کشمیر کے موقع پر کیا گیا ہے۔ کتاب میں مصنف نے جموں و کشمیر کے مسئلہ کی تاریخی، اصولی اور آئینی نوعیت، اقوام متحدہ کی نااہلی اور عالمی طاقتوں کی بے حسی اور دو عملی کے ساتھ ساتھ خود حکومتِ پاکستان اور سو...

پروفیسر خورشید احمد کی کتاب ’تحریکِ آزادیٔ کشمیر‘  شائع

مجذوب کا رجز وجود - اتوار 25 اکتوبر 2015

احمد جاوید تنہ نا ھا یا ھو تنہ نا ھا یا ھو گم ستاروں کی لڑی ہے رات ویران پڑی ہے آگ جب دن کو دکھائی راکھ سورج سے جھڑی ہے غیب ہے دل سے زیادہ دید آنکھوں سے بڑی ہے گر نہ جائے کہیں آواز خامشی ساتھ کھڑی ہے لفظ گونگوں نے بنایا آنکھ اندھوں نے گھڑی ہے رائی کا دانہ یہ دنیا کوہ ساری یہ اڑی ہے وقت کے پاؤں میں کب سے پھانس کی طرح گڑی ہے کتنی بدرو ہے یہ ، تھو تھو تنہ نا ھا یا ھو طرفہ دام و رسن ایجاد! میں ہوں سیّاروں کا صیّاد از فلک تا بہ زمیں ہے گرم ہنگامۂ بے داد آتشی...

مجذوب کا رجز

ترکی میں اردو تدریس کے 100 سال کا جشن وجود - منگل 20 اکتوبر 2015

پاکستان اور ترکی کے درمیان ثقافتی تعاون اب ایک نئے سنگ میل پر پہنچ گیا ہے کیونکہ دونوں ملک ترکی میں اردو تدریس کے 100 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ 1915ء میں ترکی کی جامعہ استنبول کے دار الفنون، یعنی کلیہ ادبیات، میں اردو زبان و ادب کی تدریس کا باضابطہ آغاز ہوا تھا۔ اس تاریخی موقع پر جامعہ استنبول نے بلدیہ شہر کے تعاون سے ایک بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد کیا جس کا موضوع "ترکی اور مسلمانانِ برصغیر: ماضی سے حال تک نئے زاویے" تھا۔ سمپوزیم میں پاکستان، ترکی اور دنیا کے...

ترکی میں اردو تدریس کے 100 سال کا جشن

پاکستان کو بھارت پر حملے سے روکا، مسئلہ کشمیر حل کرانے کا وعدہ پورا نہیں کیا وجود - جمعه 16 اکتوبر 2015

بروس ریڈل نے اپنی تازہ کتاب میں سابق امریکی صدر جان ایف کینڈی (1961 تا 1963)کے سرد جنگ کے زمانے کے زیادہ خطرناک دور کے ایک فراموش شدہ بحران کی اندرونی کہانی پیش کی ہے ۔ بروس ریڈل کی کتاب"JFK's Forgotten Crisis" دراصل چین اور بھارت کے درمیان اُس جنگ کا اندرونی احوال بتاتی ہے جس میں پاکستان کے بھی کودنے کے خطرات پوری طرح موجود تھے۔ مصنف کے مطابق جان ایف کینیڈی کا دورِ صدارت عام طور پر کیوبا میزائل بحران کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ جب دنیا امریکا اور سوویٹ یونین کے مابین ایٹم...

پاکستان کو بھارت پر حملے سے روکا،  مسئلہ کشمیر حل کرانے کا وعدہ پورا نہیں کیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے علامہ شبلی نعمانی نمبر شایع کردیا وجود - جمعرات 08 اکتوبر 2015

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اردو تحقیقی جرنل مجلہ علوم اسلامیہ کا خصوصی شمارہ علامہ شبلی نمبر شائع ہو گیا ہے۔ اسے پروفیسر ظفر الا سلام نے مرتب کیا ہے ۔ جس میں علامہ شبلی کی شخصیت کے امتیازی پہلو، ان کی دینی منزلت اور علمی عظمت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ مجلے کے خصوصی شمارے میں علامہ کے علی گڑھ میں گزارے گیے ایام کا احاطہ کیا گیا ہے اور اُن کے افکار ِ تعلیم ، قدیم وجدید تعلیم پر اُن کا نقطہ نظر اور سرسید اور شبلی نعمانی کے تعلیمی نظریات کا ایک موازنہ بھی شامل کی...

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے علامہ شبلی نعمانی نمبر شایع کردیا

مستقبل کی زبان کون سی ہوگی؟ وجود - هفته 26 ستمبر 2015

لسانی اعتبار سے امریکا کو دنیا  پر ایک برتری حاصل ہے، ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں یعنی انگریزی اور ہسپانوی، دنیا بھر میں بھی سب سے زیادہ بولی جاتی ہیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی طلباء کو نئی زبانیں سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے؟ ماڈرن لینگویج ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں کی تعلیم حاصل کرنے والے امریکی طلباء کی تعداد میں ویسے ہی 4 سالوں میں ایک لاکھ کی کمی آئی ہے۔ وجہ سادہ سی ہے، فرانسیسی سیکھنے سے زیادہ بہتر اقتصادیات کی تعلیم کو...

مستقبل کی زبان کون سی ہوگی؟

خدائے سخن، رئیس المتغزلین میر تقی میر کا دوسو پانچواں یوم وفات وجود - اتوار 20 ستمبر 2015

محمد تقی المعروف میر تقی میر آج سے دوسو پانچ برس پہلے اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ مگر کہاں گئے تھے ۔ وہ اگلی کئی صدیوں تک زندہ ، تابندہ رہیں گے۔ اردو زبان میں اُن کے متعلق یہ جملہ بلاتردد بولا جاسکتا ہے کہ وہ اس زبان کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ اُن کے علاوہ اردو کی پوری شعری روایت میں کبھی ، کسی بھی شاعر کو خدائے سخن نہیں کہا گیا۔ میر تقی میر ۱۷۲۳ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔میر کی زندگی اور شاعری دونوں کو غم والم سے ایک خاص مناسبت رہی۔ میر کی ابتدائی تعلیم اُن کے والد کے دوست سید...

خدائے سخن، رئیس المتغزلین میر تقی میر کا دوسو پانچواں یوم وفات

ڈاکٹر عمران فاروق کی شاعری وجود - بدھ 16 ستمبر 2015

ڈاکٹر عمران فاروق کی زندگی میں اکثر اُن کا کلام بھی منظر عام پر آتا رہتا تھا۔ اگرچہ اُن کی شاعری پر نقاد سوال اُٹھاتے تھے۔ اور ایک طبقے میں یہ بات بھی مشہور تھی کہ ایم کیوایم کے مختلف رہنماؤں کے نام سے منظرعام پر آنے والی شاعری کچھ شعرائے کرام کے مرہونِ منت ہے، مگر ان تمام اعتراضات کے باوجود ڈاکٹر عمران فاروق کی شخصیت کا یہ پہلو بھی خاصے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ رکھتا تھا۔ ذیل میں اُن کی شاعری کے چند نمونے پیشِ خدمت ہے۔ کچھ نہیں بدلا کسی کے جانے یا آنے کے بعد ایک چہ...

ڈاکٹر عمران فاروق کی شاعری

اردو ہے میرا نام اقبال اشعر - بدھ 09 ستمبر 2015

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی میں میر کی ہم راز ہوں غالب کی سہیلی دکن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا سودا کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا ہے میر کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا میں داغ کے آنگن میں کِھلی بن کے چنبیلی اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی میں میر کی ہم راز ہوں غالب کی سہیلی غالب نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا حالی نے مروت کا سبق یاد دلایا اقبال نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا مومن نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی میں میر کی ہم...

اردو ہے میرا نام

شمس الرحمٰن فاروقی کا اعتراض اطہر علی ہاشمی - بدھ 09 ستمبر 2015

آج کل مذاکرات کا موسم ہے، چنانچہ ’’فریقین‘‘ کا لفظ بار بار پڑھنے اور سننے میں آرہا ہے۔ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ’’فریقین‘‘ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ مثلاً یہ پڑھنے اور ٹی وی پر سننے میں آرہا ہے ’’تینوں فریقین‘‘، ’’چاروں فریقین‘‘ یا پھر ’’دونوں فریقین‘‘۔ فریقین کہتے ہی دو فریقوں کو ہیں اور یہ فریق کی جمع ہے، لیکن ایسی جمع نہیں کہ فریقین تین، چار ہوجائیں۔ اگر دو سے زائد ہوں تو بہتر ہے کہ ’’تینوں فریق‘‘ یا ’’چاروں فریق‘‘ کہا اور لکھا جائے...

شمس الرحمٰن فاروقی کا اعتراض

مورچہ محمد طاہر - اتوار 06 ستمبر 2015

زبان کسی بھی تہذیب کا پہلا مورچہ ہے۔اردو محض زبان نہیں۔ اسی کے دم سے برصغیر میں مسلمانوں کے نظریاتی اور ثقافتی وجود کی ترتیب وتہذیب ہوئی۔یہ ہماری قومی خودی کا ایک قلعہ ہی نہیں ہماری اجتماعیت کو باندھے رکھنے کی ایک رسّی بھی ہے۔ تحریک ِ پاکستان میں اردو زبان کے مسئلے کو ایک بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ’’اردو ہندی تنازع‘‘ نے برصغیر کے مسلمانوں میں سب سے پہلے شکوک پیدا کئے تھے۔ یہ بات کسی اور نے نہیں تقسیم کے سب سے بڑے مخالف گاندھی نے کہی تھی کہ ’’یہ زبان ...

مورچہ

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب ارد...

رفاعی یا رفاہی

جامعہ تلاشی اطہر علی ہاشمی - هفته 05 ستمبر 2015

گزشتہ بدھ کو لاڑکانہ میں ایک اور صحافی قتل ہو گیا۔ ٹی وی چینل اب تک کے نمائندے نے اس کی خبر دیتے ہوئے مرحوم کو صحافیوں کے ’’ہر۔اول‘‘ دستے میں شمار کیا۔ ٹی وی چینل میں بیٹھے ہوئے افراد نے بھی تصحیح نہیں کی کیونکہ یہ لفظ بار بار سننے میں آیا۔ لاڑکانہ کا نمائندہ ہی نہیں ہم نے صحافت سے تعلق رکھنے والے اپنے دیگر ساتھیوں سے بھی ’’ہر۔ اوّل‘‘ سنا ہے۔ چلیے اول تک تو ٹھیک ہے لیکن کیا ان لوگوں نے کبھی یہ بھی غور کیا کہ یہ ’’ہر‘‘ کیا ہے؟ کیا یہ انگریزی کا HER ہے یا کچھ اور۔ ہم اپنے ساتھ...

جامعہ تلاشی

اولین اردو ’سلینگ‘ لغت، ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا منفرد کام وجود - هفته 05 ستمبر 2015

اردو کے غیر رسمی الفاظ ومحاورات کو بھی ’’سلینگ ‘‘ کے زمرے میں لینا کتنا صحیح ہے، یہ تو معلوم نہیں مگر اس موضوع پرایک شاہکار کا م ہو چکا ہے۔ شعبۂ اردو جامعہ کراچی سے وابستہ ڈاکٹر روف پاریکھ نے اردو کے غیر رسمی الفاظ و محاورات کی اولین لغت مرتب کر دی ہے۔جس میں مصنف نے سلینگ کے رائج تصور یا اس کی بنیادی خصوصیات کو بھی واضح کر دیا ہے۔مگر اُنہوں نے زبان میں رائج گالیاں، بے ہودہ، بازاری اور فحش الفاظ لغت میں شامل نہیں کئے ۔اگرچہ انگریزی کے لفظ ’’سلینگ‘‘ میں اس مفہوم کے تمام الفاظ ...

اولین اردو ’سلینگ‘ لغت، ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا منفرد کام

سرکاری سوال و جواب اور عدلیہ کے فیصلے اردو میں ہوں: منصفِ اعلیٰ عدالت عظمیٰ جواد ایس خواجہ وجود - منگل 01 ستمبر 2015

منصفِ اعلیٰ عدالت عظمیٰ جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ عدلیہ کے تمام فیصلے اور سرکاری سوال وجواب قومی زبان اردو میں ہوں ۔ وزیراعظم سمیت تمام منصفین قومی زبان میں حلف اُٹھائیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ ملک میں عدل وانصاف کا بول بالا ہواور عام سائل عدالت میں کھڑے ہو کر سکون محسوس کرے۔ اعلیٰ عدلیہ کے منصفیں عزت اور وقار سے زندہ رہیں۔ اور اپنے عمل سے معاشرے میں بلند مقام حاصل کریں ۔ اُنہوں نے وزیرآباد کے وکلاء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے تمام فیصلے اردو زبان ...

سرکاری سوال و جواب اور عدلیہ کے فیصلے اردو میں ہوں: منصفِ اعلیٰ عدالت عظمیٰ جواد ایس خواجہ

وہ میرا بیٹا نہ رہا ہوگا!!! وجود - جمعه 28 اگست 2015

پیرس میں میری ملاقات ایک مصور سے ہوئی جو داغستانی تھا۔ انقلاب کے کچھ ہی دن بعد وہ تعلیم کی غرض سے اٹلی چلا گیا۔وہیں اُس نے ایک اطالوی خاتون سے شادی کرلی اور ہمیشہ کے لئے بس گیا۔بے چارہ پہاڑی رسم ورواج کا ساختہ پرداختہ تھااِس لئے اِس نئے وطن میں بسنے اور وہاں کے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالنے میں اُسے خاصی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔خود کو اِس نئی دنیا کا عادی بنانے کے لئے اُس نے سیر وسیاحت کا سہارا لیا۔دور دراز ملکوں کی راجدھانیوں میں دل بہلانے کی کوشش کی، مگر جہاں بھی گیاوطن کی ی...

وہ میرا بیٹا نہ رہا ہوگا!!!

کچھ کوسنوں کے بارے میں وجود - جمعه 28 اگست 2015

’’خدا کرے تیرے بچے اُس زبان سے محروم ہو جائیں جو اُن کی ماں بولتی ہے۔‘‘ یہ کوسنا میں نے ایک عورت کو دوسری عورت کو دیتے ہوئے سنا ہے۔ جن دنوں میں اپنی نظم ’’پہاڑی عورت‘‘ لکھ رہا تھاتو مجھے کچھ کوسنوں کی ضرورت محسوس ہوئی جنہیں نظم میں ایک تند خو اور غصہ ور عورت کی زبان سے ادا کرنا تھا۔مجھے خبر ملی کہ بہت دور کسی پہاڑی گاؤں میں ایک ایسی عورت رہتی ہے جس کا کوسنے دینے میں پاس پڑوس میں کوئی جواب نہیں۔یہ خبر ملتے ہی میں اُس عجیب وغریب کردار سے ملنے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ وہ موسم...

کچھ کوسنوں کے بارے میں

آئی بات تمہاری سمجھ میں؟ وجود - جمعه 28 اگست 2015

ابو طالب ایک بار ماسکو گئے۔ سڑک پر انہیں کچھ معلوم کرنے کی ضرورت پڑی۔ غالباً بازار کا راستا۔انہوں نے ایک راہ گیر سے پوچھا۔ اب اسے اتفاق ہی کہئے کہ انہوں نے جس سے سوال کیا وہ انگریز تھا۔ ابوطالب کو اس پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ماسکو کی سڑکوں پر بہت سارے غیر ملکی گھومتے پھرتے مل جاتے ہیں۔انگریز ابوطالب کی بات نہ سمجھ سکا۔اُس نے خود اُن سے ہی سوالات شروع کر دیئے۔پہلے انگریزی زبان میں، پھر فرانسیسی میں، پھر ہسپانوی زبان میں، غرضیکہ اُس نے مختلف زبانوں میں انہیں اپنی بات سمجھا...

آئی بات تمہاری سمجھ میں؟

مکتبۂ فکر اور تقرری اطہر علی ہاشمی - جمعرات 27 اگست 2015

صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ ’’نہ تم باز آؤ، نہ ہم باز آئیں‘‘۔ ہم عوام کو مرد بنانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن یہ جو برقی ذرائع ابلاغ ہیں، یہ ہمارے مقابلے پر ڈٹے ہوئے اور عوام کو ’’مونث‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ ذرائع ابلاغ برق رفتار بھی ہیں اور چوبیس گھنٹے غلطی کا ابلاغ کرتے رہتے ہیں۔ سمع و بصر دونوں طرف سے حملہ آور ہیں۔ اس پر مستزاد جو سیاستدان ٹی وی چینلوں پر جلوہ فرما ہوتے ہیں وہ بھی عوام کو مونث ہی کہتے ہیں۔ حال یہ ہوگیا ہے کہ خود ہمارے بچے بھی یہی بولنے لگے ہیں کہ ’’عوام ...

مکتبۂ فکر اور تقرری

میں نے جانا ہے اطہر علی ہاشمی - منگل 25 اگست 2015

سردی خوب پڑ رہی ہے، تھرتھری چھوٹ رہی ہے، برسوں کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ کوئٹہ اور شمالی علاقوں کا حال جانے کیا ہو، ایسے میں گرما گرم کافی کا تصور ہی خوش آئند ہے۔ ایک مہمان سے پوچھا: چائے چلے گی یا کافی؟ جواب ملا: چائے کافی ہے۔ کافی پینے کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن بولنے اور لکھنے میں اس کا استعمال عموماً غلط ہوتا ہے۔ مثلاً آج کافی سردی پڑ رہی ہے، مضمون میں کافی غلطیاں ہیں یا وہ کافی شورہ پشت ہے۔ یہاں ’کافی‘ کا استعمال صحیح نہیں ہے۔ ’کافی‘ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: کام نکل جا...

میں نے جانا ہے

ظفر یاب محمد طاہر - جمعرات 20 اگست 2015

روایت کے مطابق کسی کتاب پر تبصرے کے لئے کتاب پڑھنا ضروری نہیں ۔مگر ایس ایم ظفر کی کتاب کے لئے یہ ممکن نہیں ۔ اگر چہ کتاب اُن کی کہانی خود اُن کی اپنی زبانی ہے ۔ مگر یہ کہانی کچھ اتنی بھی اُن کی نہیں ۔ یہ پورے ملک کی کہانی ہے۔ یہ اقتدارکی راہداریوں میں ہونے والی ’’شر‘‘گوشیوں کی سماعت ہے۔ یہ ایک ایسے سینیٹر کی کہانی ہے جو ملک کے نہایت ہی نازک ایّام میں مقتدر ایوانوں کے رازداں بنے اور پھر اُن ’’رازونیاز‘‘ کو قومی مسائل حل کرنے کی بنیادی جستجو میں بدلتے رہے ۔کہیں وہ کامیاب ہوئے ا...

ظفر یاب

کلاؤڈ کمپیوٹنگ سرٹیفکیٹس پر دنیا کی پہلی کتاب، تین پاکستانیوں نے تحریر کی وجود - اتوار 02 اگست 2015

تین پاکستانی مصنفیں نے کلاؤڈ کمپیوٹنگ سرٹیفکیٹس پر ایک مشترکہ کتاب لکھی ہے۔ جو اس موضوع پر دنیا میں لکھی گئی پہلی کتاب ہے۔کتاب کا نام "Deploying and Managing a Cloud Infrastructure" ہے۔ کلاؤڈ ایڈمنسٹریٹرز کی وسیع مانگ کے پیش نظر یہ کتاب آئی ٹی پروفیشنلز کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ چار سو چھپن صفحات پر مشتمل کتاب کے تین مصنفین میں عبدالسلام ، ظفر گیلانی اور سلمان الحق شامل ہیں۔ کتاب کے ایک مصنف نے وضاحت کی ہے کہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ مختلف سرورز پر ہوسٹ کی جانے والی سروسز ہیں۔ ...

کلاؤڈ کمپیوٹنگ سرٹیفکیٹس پر دنیا کی پہلی کتاب، تین پاکستانیوں نے تحریر کی
مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار