وجود

... loading ...

وجود

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع

هفته 23 اپریل 2022 مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

حال ہی میں میڈیا میں تاریخ کی ایک کتاب جدلیہ الرواق کے کافی چرچے ہیں۔ اس کتاب میں جزیرہ نما عرب میں مساجد کی تعمیر کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کتاب میں مسجد حرام کے مختلف ادوار میں ہونے والی تعمیر اور توسیع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خاص طور پرمسجد حرام کی عثمانی دور میں ہونے والی تعمیر اور توسیع کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ تاہم اس کتاب میں دور عثمانی میں مسجد حرام کی تعمیر کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود باطل خیالات اور من گھڑت کہانیوں کا بھی رد کیا گیا ہے۔مسجد حرام کی ترک عثمانی دور میں ہونے والی توسیع و تعمیر کو فروغ دینے کے لیے جدلیات، فرضی اور بے بنیاد حربوں کا سہارا لیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مسجدِ حرام کا حصہ بننے والی راہداریوں کی تعمیر خلافتِ راشدہ کے دور سے شروع ہوئی اور عباسی خلافت میں ان راہ داریوں کی تعمیر مکمل شکل تک پہنچی۔ جہاں تک عثمانی خلافت کا زمانہ ہے تو اس میں مسجد حرام اور اس کی راہ داریوں میں کوئی قابل ذکر توسیع نہیں ہوئی اور نہ ہی عثمانی خلافت میں مسجد حرام کے مرکزی حصے میں توسیع کی گئی۔ صرف مسجد میں ضروری مرمت کے کام کی حد تک اس دور میں کام ہوتا رہا ہے۔ یحیی محمود بن جنید کی تصنیف کردہ کتاب جدلیہ الرواق کو دار الغرب الاسلامی پبلیکیشن نے شائع کیا ۔ کتاب میں مسجد حرام کی توسیع اور اس کے مختلف حصوں کی تعمیرکے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کی تاریخی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد حرام کی تعمیرکا آغاز خلافتِ راشدہ کے دور میں ہوا اورعباسی دور میں اس نے حتمی شکل اختیار کی۔ مسجد حرام کا جو ڈیزائن عباسی خلافت تک مکمل ہوا وہ موجودہ سعودی مملکت کے قیام تک قائم رہا۔ آل سعود کے دور حکومت میں مسجد حرام کی تعمیر اور توسیع کو خصوصی توجہ حاصل ہوئی۔ اگرچہ ماضی میں کئی سلاطین اور حکمرانوں نے مسجد حرام کی دیکھ بھال میں اپنا اپنا کردار ادا کیا مگر اس کی جو شکل اور ڈیزائن خلیفہ مہدی کے دور میں تھا وہ چلتا رہا۔ 984ھ میں ترک سلطان سلیم اور اس کے بیٹے سلطان مراد کے دور میں مسجد حرام میں کوئی خاص توسیع نہیں ہوئی البتہ انہوں نے مسجد حرام کے بوسیدہ ہونے والے حصوں کی مرمت کرائی اور حرم مکی کی تزئین کرائی گئی۔ مسجد کی اونچی دیواروں کی وجہ سے اس کے ستون کم زور ہوگئے تھے۔ ان کی دوبارہ تعمیر بھی ترک دور میں عمل میں لائی گئی اور لکڑی کی چھت کی جگہ گنبد بھی ترکوں نے بنوائے۔ مسجد حرام کی تشکیل اسلام کی تاریخ میں کئی مراحل سے گزری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ خانہ کعبہ کے ارد گرد جگہ پر تھی۔ پھر عمر ابن الخطاب اور عثمان ابن عفان رضی اللہ عنمہا نے اسے وسیع کیا اور عبداللہ ابن زبیر کے دور حکومت میں اس کی دیکھ بھال کی گئی اور اسے اموی دور میں خلیفہ عبدالملک ابن مروان کے ہاتھوں تیار کیا گیا۔ اس کے بیٹے الولید اور عباسی خلیفہ ابو جعفر نے اس میں اضافہ کیا۔ یہاں تک کہ عباسی خلیفہ مہدی کے دور میں مسجد حرام میں بڑی توسیع کی گئی اور مسجد کا رقبہ دُگنا کیا گیا۔ عباسیوں نے اس کے بعد معمولی اضافہ کیا لیکن عظیم الشان مسجد کا فن تعمیر اور اس کی شکل، طرز تعمیر اور تعمیراتی کردار چودھویں صدی ہجری کے وسط تک مہدی کے دور میں جو تھا اسی پر قائم رہا۔ ابن جبیر کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ عباسی طرز تعمیر المہدی ساتویں صدی ہجری تک مربوط رہا۔ اس بات کی نشاندہی مشہور سیاح ابن بطوطہ کی بیان کردہ تفصیل سے بھی ہوتا ہے۔ ابن بطوطہ کا کہنا تھا کہ مسجد حرام نویں صدی ہجری تک اپنے پرانے ڈھانچے پر قائم رہی۔ دسویں صدی ھجری میں عثمانی ترکوں نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ان کے دور میں صرف تزئین و آرائش اور بحالی و مرمت کا کچھ کام ہوا۔


متعلقہ خبریں


کینیڈا میں پہلی بار مشیر برائے اینٹی اسلامو فوبیا کی تقرری وجود - جمعه 27 جنوری 2023

کینیڈا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خطرے سے نمٹنے کے لئے کینیڈین حکام نے پہلی بار خصوصی نمائندہ برائے اینٹی اسلامو فوبیا کو مقرر کر دیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈین حکومت حالیہ برسوں میں ملک میں پے در پے مسلم کمیونٹیز کے ارکان کو نشانہ بنانے کے سلسلہ وار حملوں کے بعد ...

کینیڈا میں پہلی بار مشیر برائے اینٹی اسلامو فوبیا کی تقرری

سندھ ہائیکورٹ، بابر غوری کی حفاظتی ضمانت منظور وجود - جمعه 27 جنوری 2023

سندھ ہائی کورٹ نے حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالتِ عالیہ نے 10 دن کے لیے بابر غوری کی حفاظتی ضمانت منظور کی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بابر غوری 30 جنوری کو وطن واپس پہنچیں گے۔انسدادِ دہشت گر...

سندھ ہائیکورٹ، بابر غوری کی حفاظتی ضمانت منظور

باجوہ فیملی ڈیٹا لیک کیس، تین ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور وجود - جمعه 27 جنوری 2023

اسلام آباد کی خصوصی عدالت جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی فیملی کے ڈیٹا لیک کیس میں 3 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ جمعہ کو اسپیشل جج سینٹرل اعظم خان نے ملزمان کی پچاس پچاس ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ایف بی آر ملازمین...

باجوہ  فیملی ڈیٹا لیک کیس، تین ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور

پرویزالہٰی کا فواد کے بھائی فیصل چودھری کو ٹیلیفون، بیان پر معذرت وجود - جمعه 27 جنوری 2023

پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے فواد چودھری کے بھائی فیصل چودھری کو ٹیلی فون کر کے گرفتاری والے بیان پر معذرت کی ہے۔ پرویز الہٰی نے کہا کہ فواد چودھری اور ان کے خاندان سے برسوں پر محیط احترام و عقیدت کا رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کے نادانستہ بیان سے فواد چودھری اور...

پرویزالہٰی کا فواد کے بھائی فیصل چودھری کو ٹیلیفون، بیان پر معذرت

اسلامو فوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، سوئیڈن وجود - جمعه 27 جنوری 2023

عالم اسلام کے شدید دباؤ پرسوئیڈن نے ملک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والوں کو اسلاموفوبیا کا شکار قرار دے دیا۔ پاکستان میں سوئیڈن کے سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوئیڈش حکومت اسلاموفوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ بیان میں مزید ک...

اسلامو فوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، سوئیڈن

فواد چودھری کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پراڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا وجود - جمعه 27 جنوری 2023

اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کے کیس میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چو دھری کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پراڈیالہ جیل بھجوا دیا۔ جمعہ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمد راجہ نے فواد چودھری کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرکی...

فواد چودھری کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پراڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا

محسن نقوی کی تقرری، راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا نوٹیفکیشن،سپریم کورٹ میں چیلنج وجود - جمعه 27 جنوری 2023

پاکستان تحریک انصاف نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تقرری اور راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جبکہ الیکشن کمیشن کے ممبر بابر حسن بھروانہ اور اکرام اللہ خان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن غیرآئینی قرار دینے کی استدعا بھی کی ...

محسن نقوی کی تقرری، راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا نوٹیفکیشن،سپریم کورٹ میں چیلنج

ایلون مسک ٹوئٹر پر اپنا نام تبدیل کر کے مشکل میں پڑ گئے وجود - جمعرات 26 جنوری 2023

سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سربراہ ایلون مسک ٹوئٹر پر اپنا نام تبدیل کر کے مشکل میں پڑ گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایلون مسک نے ٹوئٹر پر اپنا نام تبدیل کر کے مسٹر ٹوئٹ کیا جس کے بعد اب وہ اسے تبدیل نہیں کر پا رہے۔ ٹوئٹر پر ایلون مسک نے ہنسنے کا ایموجی ا...

ایلون مسک ٹوئٹر پر اپنا نام تبدیل کر کے مشکل میں پڑ گئے

مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم روکنے کی کوشش، امریکا کا موقف سامنے آ گیا وجود - جمعرات 26 جنوری 2023

بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے حوالے سے بنائی گئی برطانوی نشریاتی ادارے کی دستاویزی فلم دکھانے پر پابندی اور اسے روکنے کے خلاف امریکا کا بیان سامنے آ گیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے کی 2 حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم (India: The Modi Question) میں دعوی کیا گیا ہ...

مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم روکنے کی کوشش، امریکا کا موقف سامنے آ گیا

ماہ فروری ایک انوکھا مہینہ! ہفتہ کے تمام ایام چار چار مرتبہ آئیں گے وجود - جمعرات 26 جنوری 2023

ماہ فروری ایک انوکھا مہینہ! ہفتہ کے تمام ایام چار چار مرتبہ آئیں گے۔ چند روز بعد شروع ہونے والا ماہ فروری سال 2023ء کا ایک انوکھا مہینہ ہوگا اس مہینے میں ہفتے کے تمام ایام چار چار مرتبہ آئیں گے۔ ماہ فروری کی ابتداء بدھ کے دن سے ہو گی اس طرح بدھ، جمعرات،جمعہ،ہفتہ، اتوار، پیراور من...

ماہ فروری ایک انوکھا مہینہ! ہفتہ کے تمام ایام چار چار مرتبہ آئیں گے

ڈالر بے لگام، 11 روپے 11 پیسے اضافہ،انٹربینک میں 242 روپے کا ہو گیا وجود - جمعرات 26 جنوری 2023

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے قدری  بدستور جاری ہے جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ۔ کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 11 روپے 11 پیسے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد امریکی کرنسی 242 روپے پر ٹریڈ کر رہی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں بھ...

ڈالر بے لگام، 11 روپے 11 پیسے اضافہ،انٹربینک میں 242 روپے کا ہو گیا

الیکشن کمیشن نے کراچی کی 3 یو سیز میں جماعت اسلامی کی درخواست پر انتخابی نتائج روک دیے وجود - جمعرات 26 جنوری 2023

 کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں 3 یو سیز میں بے ضابطگیوں کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست پر نتائج روک دیے گئے۔ جمعرات کو الیکشن کمیشن میں صفورا  ٹاؤن کی 2 اور چنیسر ٹاؤن کی ایک یونین کونسل میں بے ضابطگیوں کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں وکیل حسن جاوید نے دلائل...

الیکشن کمیشن نے کراچی کی 3 یو سیز میں جماعت اسلامی کی درخواست پر انتخابی نتائج روک دیے

مضامین
تصور نو کانفرنس وجود جمعه 27 جنوری 2023
تصور نو کانفرنس

بے سہارا ملکی معیشت کا سہارا کون بنے گا؟ وجود جمعرات 26 جنوری 2023
بے سہارا ملکی معیشت کا سہارا کون بنے گا؟

ملک! ہائے میرا ملک!! وجود بدھ 25 جنوری 2023
ملک! ہائے میرا ملک!!

بھارت کی دولت امیروں کے قبضے میں وجود بدھ 25 جنوری 2023
بھارت کی دولت امیروں کے قبضے میں

جعلی مقابلے سے جعلی انصاف تک! وجود منگل 24 جنوری 2023
جعلی مقابلے سے جعلی انصاف تک!

کراچی پر قبضے کا کھیل ؟ وجود پیر 23 جنوری 2023
کراچی پر قبضے کا کھیل ؟

اشتہار

تہذیبی جنگ
کینیڈا میں پہلی بار مشیر برائے اینٹی اسلامو فوبیا کی تقرری وجود جمعه 27 جنوری 2023
کینیڈا میں پہلی بار مشیر برائے اینٹی اسلامو فوبیا کی تقرری

اسلامو فوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، سوئیڈن وجود جمعه 27 جنوری 2023
اسلامو فوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، سوئیڈن

سڑک چوڑی کرنے کا بہانہ، بھارت میں ایک اورتاریخی مسجد شہید وجود پیر 16 جنوری 2023
سڑک چوڑی کرنے کا بہانہ، بھارت میں ایک اورتاریخی مسجد شہید

رابطہ عالم اسلامی اور کلاک ٹاورز انتظامیہ میں سائنسی و ثقافتی تعاون کا معاہدہ وجود اتوار 08 جنوری 2023
رابطہ عالم اسلامی اور کلاک ٹاورز انتظامیہ میں سائنسی و ثقافتی تعاون کا معاہدہ

نیدرلینڈز، سال 2022 میں محمد دوسرا سب سے زیادہ مقبول نام رہا وجود اتوار 08 جنوری 2023
نیدرلینڈز، سال 2022 میں محمد دوسرا سب سے زیادہ مقبول نام رہا

بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

اشتہار

شخصیات
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیّد مودودی کی بیٹی انتقال کر گئیں وجود پیر 16 جنوری 2023
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیّد مودودی کی بیٹی انتقال کر گئیں

اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت وجود جمعرات 12 جنوری 2023
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت

حکیم محمد سعید کو ہمارے قومی شعور نے طاق نسیاں پر رکھ دیا! وجود پیر 09 جنوری 2023
حکیم محمد سعید کو ہمارے قومی شعور نے طاق نسیاں پر رکھ دیا!
بھارت
مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم روکنے کی کوشش، امریکا کا موقف سامنے آ گیا وجود جمعرات 26 جنوری 2023
مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم روکنے کی کوشش، امریکا کا موقف سامنے آ گیا

مقبوضہ کشمیر میں راہول گاندھی کی آمد سے قبل دھماکا، ہلاکتوں کا خدشہ وجود اتوار 22 جنوری 2023
مقبوضہ کشمیر میں راہول گاندھی کی آمد سے قبل دھماکا، ہلاکتوں کا خدشہ

بھارت کی 1 فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک وجود منگل 17 جنوری 2023
بھارت کی 1 فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

خلیجی اخبار نے آزادی صحافت کا گلا گھوٹنے کے مودی سرکار کے اقدامات پر آواز اٹھا دی وجود پیر 09 جنوری 2023
خلیجی اخبار نے آزادی صحافت کا گلا گھوٹنے کے مودی سرکار کے اقدامات پر آواز اٹھا دی
افغانستان
پاکستانی سفارت خانے پر حملے میں ملوث داعش کا ایک گروہ کارروائی کے دوران مارا گیا،ذبیح اللہ مجاہد وجود جمعرات 05 جنوری 2023
پاکستانی سفارت خانے پر حملے میں ملوث داعش کا ایک گروہ  کارروائی کے دوران مارا گیا،ذبیح اللہ مجاہد

طالبان کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کی ملازمت پر بھی پابندی وجود اتوار 25 دسمبر 2022
طالبان کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کی ملازمت پر بھی پابندی

طلبا کے احتجاج پر طالبان نے ایک ہفتے کے لیے یونی ورسٹیاں بند کر دیں وجود اتوار 25 دسمبر 2022
طلبا کے احتجاج پر طالبان نے ایک ہفتے کے لیے یونی ورسٹیاں بند کر دیں
ادبیات
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت وجود جمعرات 12 جنوری 2023
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت

کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع