وجود

... loading ...

وجود
وجود

سلیم احمد: چند مسائل و احوال

هفته 02 ستمبر 2023 سلیم احمد: چند مسائل و احوال

عزیزابن الحسن

(اردو ادب کے نقاد سلیم احمد مرحوم یکم ستمبر 1983 کو اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے،  زیر نظر تحریر اُن کے یوم وفات کی مناسبت سے شامل کی گئی)

میرٹھ جو ایک شہر تھا وہ شہر جہاں اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کی پہلی چنگاری بھڑکی تھی۔ اسی شہر میں بچھی ایک منڈلی جس کے کچھ افراد آگے چل کر اپنے اپنے انداز کے منفرد لوگ ہوئے۔ منڈی کے گرو پروفیسر کرّارحسین خاکسار تحریک کے بچھڑے ہوئے لوگوں کی ایک بیٹھک سجائے بیٹھے ہیں۔ اس منڈلی کے مستقل بیٹھک کاروں میں مستقبل کے بڑے نقاد محمد حسن افسانہ نگار محمد حسن عسکری، شاعر و نقاد سلیم احمد اور اردو میں اپنے انداز کے واحد افسانہ و ناول نگار انتظار حسین ہیں۔ کرار صاحب ان میں میں سب سے بڑے ہیں۔ باقیوں کی عمریں بیس پچیس سال سے زیادہ نہیں۔ انتظار حسین نے اس وقت کچھ لکھنا شروع کیا تھا، اس بارے میں تو پتہ نہیں۔ سلیم احمد کچھ ابتدائی قسم کی غزلیں نظمیں لکھتے تھے جن پر اقبال کے اثرات تھے۔ محمد حسن عسکری اسی عمر میں ہی اپنے افسانوں اور اپنی تنقید کے سبب ہندوستان گیر شہرت حاصل کر رہے تھے جس نے انہیں نہ دیکھا ہوتا وہ بمشکل ہی تسلیم کرتا کہ محمد حسن عسکری یہ ہیں۔
میرٹھ کے اس چھوٹے سے شہر کی منڈلی کے ان بیٹھک کاروں کو دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ مستقبل میں پاکستانی کلچر پر سنجیدگی سے سوچنے والے چند اہم نام، ‘پاکستانی مزاج’ کی تنقید و ادب کے خدوخال متعین کرنے والے اہم ترین نقاد، اور حال اور ماضی کی تہذیب کے سمندر میں تخلیقی غوطہ زنی کرنے والے اپنے انداز کے واحد افسانہ و ناول نگار اسی منڈلی میں سے اٹھنے والے ہیں۔اسی میرٹھ میں پیش آنے والے ایک واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سراج منیر نے لکھا تھا کہ ایک دفعہ عسکری صاحب انتظار حسین اور سلیم احمد کسی لمبی سڑک پر ٹہل میں مصروف تھے کہ شرنارتھیوں کا ایک گروہ کرپانے لہراتا آگیا۔ انتظار حسین کی تو ان کو دیکھ کر گھگی بندھ گئی۔ عسکری نے مذاق میں کہا کوئی ہے جو جا کے ان سے چھیڑ چھاڑ کرے۔ سلیم احمد بے خوفی سے آگے بڑھے اور جا کے ایک شرنارتھی کی کرپان پکڑی اور اس کی دھار پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا
“کیوں سردار جی بیچتے ہو؟”
اس سے قبل کہ کرپان سردار کچھ کہتا سلیم احمد واپس عسکری کے پاس آگئے۔
اس کے بعد سلیم احمد کا ساری زندگی یہی وطیرہ رہا تنقید کے میدان میں جہاں کوئی شرنارتھی سامنے آتا سلیم احمد آگے بڑھتے پوچھتے “کیوں بھئی بیچتے ہو؟” اور پھر شرنارتھی کو پیچ و تاب میں چھوڑ واپس عسکری کے پاس پہنچ جاتے۔ آج بھی ایسے موقعوں پر انتظار حسین کی گِھگی بندھ جاتی ہے۔ سلیم احمد کے نڈر پن اور بے جھجک ہونے کے کچھ واقعات انتظار حسین نے سلیم احمد کے انتقال پر لکھے اپنے مضمون “ادھوری تصویریں ” اور اپنی یادوں کی کتاب “چراغوں کا دھواں “اور “جستجو کیا ہے؟”میں بھی پیش کیے ہیں۔
ادب اور تنقید کے بارے میں ان مشاہیرِ میرٹھ کے خیالات بہت کچھ یکساں ہیں لیکن مذہب تہذیب اور کلچر کے حوالے سے انتظار حسین بعد میں قدرے مختلف راہ نکالتے نظر آئے۔ سلیم احمد سے وابستہ یادوں والے مذکورہ مضمون کے آخر میں جہاں انتظار حسین نے سلیم احمد کے خطوط کے کچھ اقتباسات دیے ہیں وہاں انتظار حسین کی الگ ہوتی ہوئی آواز صاف محسوس ہوتی ہے۔ راقم کے خیال میں یہی وہ زمانہ تھا جب سلیم احمد نے جسارت اخبار میں اپنا وہ معروف سلسلہ مضامین شروع کیا جو بعد میں “اسلامی نظام مسائل اور تجزیئے ” کے عنوان سے الگ کتابی صورت میں شائع ہوئے اور جن کی وجہ سے بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ یہاں سلیم احمد اپنے سابقہ ادبی خیالات سے مختلف نقطہ نظر کے حامل نظر آتے ہیں۔ انتظار حسین اس حد تک تو نہیں گئے لیکن گمان یہ ہے کہ انہیں بھی سلیم احمد کی یہ ذہنی رو کچھ خوش نہ آئی تھی۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سلیم احمد کے انتقال پر انتظار حسین نے “ادھوری تصویریں “کے عنوان سے جو مختصر سے تاثرات لکھے تھے سلیم احمد کی شخصیت اور ادبی تصورات سے آگاہی کے لیے وہ یہاں نقل کردیے جائیں تاکہ ایک طرف تو ان دونوں دوستوں کے ماضی کے مشترک ورثے کے بارے میں آگاہی ہوجائے اور کچھ ان سوالات میں آئے اشاروں کنایوں کا پس منظر بھی سامنے آجائے۔ علاوہ ازیں ہم کوشش کریں گے کہ سلیم احمد کے جوابات میں جو مسائل آئے ہیں بعد میں ان پر الگ سے بھی کچھ روشنی ڈال دی جائے۔ تو پہلے پیش ہے انتظار حسین کی “ادھوری تصویریں “
“بہت کوشش سے کچھ دھندلی تصویریں ذہن میں ابھرتی ہیں۔ فی الحال وہی سہی۔
پہلی تصویر۔ فیض عام انٹر کالج میں ایک ادبی شام۔ ایک کم عمر طالب علم چپ چاپ سا بیٹھا ہے باری آنے پر شعر سناتا ہے۔ رنگِ اقبال میں رنگے ہوئے قطعات۔
دوسری تصویر۔ وہی طالب علم خاکی کرتا پائجامہ، کاندھے پہ بیلچہ، چپ راست، چپ راست، چپ راست۔
یہ تصویر بھی اپنا آگا پیچھا بتائے بغیر دھندلا جاتی ہے۔
تیسری تصویر۔ بیلچہ غائب، خاکی کرتا پائجامہ ندارد، وہی عام سا سفید کرتا پائجامہ، یاروں کی منڈلی جمی ہوئی ہے۔ لطیفہ بازی ہو رہی ہے۔ منڈلی میں کوئی شاعر، کوئی ہاکی کا کھلاڑی، کوئی قاری، میرا اس منڈلی میں کیسے گزر ہوا۔ اس نوخیز سے کہ نام سلیم احمد تخلص ہنر رکھتا ہے کیسے تعارف ہوا کیسے ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا۔ کچھ یاد نہیں آتا۔ میرا فیض عام سے کیا تعلق۔ میں میرٹھ کالج کی مخلوق ہوں مگر ایسی مخلوق جو کسی ٹکڑی کسی منڈلی میں شامل نہیں ہے۔ ہاں اب اس منڈلی سے مانوس ہوتا چلا جا رہا ہوں۔
یہ تصویر بھی جلدی دھندلا جاتی ہے جو نئی تصویر ابھرتی ہے اس میں شاموں کا طور بدلا ہوا ہے اب شہر میں عسکری صاحب وارد ہو چکے ہیں ہم حیران ہو کر دیکھتے ہیں کہ اچھا یہ حر امجادی اور جھلکیاں والے محمد حسن عسکری ہیں۔ پھر ان کے قریب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تو اب شامیں عسکری صاحب کے لیے وقف ہیں۔ روز بلا ناغہ ان کے ہمراہ لمبی ٹہل ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس ٹہل کی ایک منزل ٹھہرتی ہے۔ کرار صاحب کا گھر جس کا مردانہ علامہ مشرقی سے بچھڑے ہوئے نوجوان خاکساروں کا مہمان خانہ بھی ہے۔ ہفت روزہ الامین، کا دفتر بھی اردو میں ایم اے کرنے والوں کا کلاس روم بھی اور یاروں دوستوں کی بیٹھک بھی۔ تو روز شام کو ہم گھومتے پھرتے وہاں پہنچتے۔ لمبی بیٹھک کی۔ رات پڑے واپس۔
اچانک روز و شب کا رنگ بدلتا ہے۔ قریب و دور سے فسادات کی خبریں آرہی ہیں۔ میرٹھ کی فضا کشیدہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ گڑھ مکیٹشر کے سانحے کے رد عمل میں یہاں ابھی پچھلے دنوں ایک فساد بھی ہو چکا ہے۔ سو اب فضا میں بہت تناتنی ہے۔ دن تو خیریت سے گزرتا ہے مگر شام کے بعد کا کوئی اعتبار نہیں کہ کس وقت اکیلے وکیلے آدمی کے ساتھ کیا واردات گزر جائے۔ سو زندگی کا یہ طور ٹھہرا ہے کہ دن دن میں باہر کے سارے کاموں سے فراغت حاصل کی اور شام ہوتے ہوتے لپک جھپک اپنے اپنے گھروں کو واپس۔ پھر اپنے اپنے گھروں میں بند، اپنے اپنے محلے میں مقید۔ مسلمان کی مجال نہیں کہ شام کے بعد ہندوؤں کے کسی بازار سے گزر جائے، کسی محلے میں قدم رکھے۔ ادھر ہندو کی ہمت نہیں کہ مسلمانوں کے محلے میں گزر کرے۔ مگر عسکری صاحب کے گھر کا انوکھا جغرافیہ ہے۔ ہندوؤں کا لمبا بازار۔ دائیں بائیں دکانوں کے عقب میں ہندو گھر۔ ایک نکڑ پر جا کر ایک گلی آتی ہے جس میں تین چار مسلمان گھر ہیں انہیں میں ایک گھر عسکری صاحب کا ہے۔ ہم بہت کوشش کرتے ہیں کہ شام سے پہلے اٹھ لیں۔ مگر کرار صاحب کی گفتگو ہمیں باندھے رکھتی ہے۔ تحصیل والی سڑک کے نکڑ پر پہنچتے پہنچتے رات ہو جاتی ہے۔ پھر عسکری صاحب اپنی راہ اور میں اور سلیم اپنی راہ کہ ہم خیر نگر سے ادھر گھنٹہ گھر کے پار اس علاقے میں رہتے ہیں جو خالصتاً مسلمان علاقہ ہے ”یار سلیم، یہ راستہ تو بہت خطرناک ہے۔ کہیں اردو ادب کا نقصان نہ ہو جائے“۔ عسکری صاحب کو نکڑ پر چھوڑ کر واپس ہوتے ہوئے میں نے کہا۔
سلیم نے قہقہہ لگایا۔ ”اردو ادب خطرے میں ہے“۔
رفتہ رفتہ ہم سنجیدہ ہوتے گئے۔ پھر ہم نے طے کیا کہ کل سے ہم عسکری صاحب کو ان کے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔
دوسرے دن ہم اپنے پروگرام پر عمل کرتے ہیں۔ بازار کے نکڑ پر پہنچ کر عسکری صاحب ہم سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم ساتھ لگے چلے جا رہے ہیں۔ دکانیں تیزی سے بند ہوتی چلی رہی ہیں۔ لوگ کتنی تیزی میں ہیں۔ جب ہم واپس ہوتے ہیں تو پورا بازار بند ہو چکا ہے۔ سڑک اندھیر ہے۔ دور تک کوئی آدمی نظر نہیں آتا۔ ہاں ایک نکڑ پر اپنے پرانے ٹھکانے پر گول گپوں والا اپنا خوانچہ جمائے بیٹھا ہے۔ چند نوجوان گول گپے کھانے میں مصروف ہیں۔
”انتظار، گول گپے کھائیں“۔
”پاگل ہوئے ہو۔ بس چلے چلو“۔
سلیم میری ایک نہیں سنتا آگے بڑھ کر خوانچے کے پاس جا کھڑا ہوتا ہے۔ اب ایک دونا اس کے ہاتھ میں ہے۔ ایک دونا میرے ہاتھ میں۔ سلیم گول گپے کھاتے کھاتے پھریری لیتا ہے اور لطیفہ سنانا شروع کر دیتا ہے۔ ارد گرد کھڑے گاہک تیز نظروں سے ہم دونوں کو دیکھتے ہیں۔
”یہ تم نے کیا حرکت کی“۔ وہاں سے آگے نکل کر میں نے باز پرس کی۔
”یار اب تو ہمیں روز ہی اس راستے سے گزرنا ہے میں نے سوچا کہ گربہ کشتن روز اول پہلے ہی دن ہم ان پر جتا دیں کہ ہم ڈرنے والی مخلوق نہیں ہیں“۔
یہ تصویر بھی دھندلا جاتی ہے۔ اس کے ساتھ پورا میرٹھ میرے حافظے میں دھندلا جاتا ہے۔ اب جو تصویر ابھرتی ہے اس میں میرٹھ کہیں نہیں ہے۔ا سپیشل ٹرین دوڑی چلی جا رہی ہے۔ ہم مشرقی پنجاب سے گزر رہے ہیں۔ میں ہوں، سلیم ہے، سلیم کی منڈلی کے کچھ دانے، سلیم کے افرادِ خاندان، عسکری صاحب کے افراد خاندان، حسن مثنیٰ، صولت، رفعت۔ خوف ہمارا ہم سفر ہے دن تو جیسے تیسے گزر جاتا ہے۔ رات سو اندیشوں وسوسوں کے ساتھ آتی ہے۔ پوری ٹرین کے اندر اندھیرا ہے۔ ہدایت ہے کہ دیا سلائی بھی نہ جلائی جائے۔ کھڑکیاں بند رکھی جائیں۔ مگر سلیم سگریٹ پئے بغیر زیادہ دیر نہیں رہ سکتا۔ ماچس گھستا ہے۔ اندھیرے میں بیٹھے مسافر شور مچاتے ہیں۔ ماچس بجھاؤ۔ ماچس بجھاؤ۔ سلیم کی سگریٹ پینے کی طلب پوری ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے۔اب گاڑی کسی ا سٹیشن پر نہیں رک رہی۔ اسٹیشن آنے پر تیزی سے گزرتی ہے۔ مگر غیر آباد مقامات سے گزرتے ہوئے کبھی کچھوے کی چال چلتی ہے، کبھی رک کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ حفاظتی دستہ نیچے اتر کر دور تک سرچ لائٹوں سے ارد گرد کا جائزہ لیتا ہے۔ گاڑی پھر چل پڑی ہے۔
اس مرتبہ گاڑی بیچ جنگل میں رکی ہے۔ حفاظتی دستے کا کوئی سپاہی ہمارے کمپارٹمنٹ کے آس پاس نظر نہیں آتا۔ مکمل سناٹا۔ دل زور زور سے دھڑک رہے ہیں۔ ہم گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن صاف سن سکتے ہیں۔ اندھیرے میں ایک سرگوشی۔ ”حملہ ہونے والا ہے“۔ اور اچانک سلیم احمد رواں ہو جاتا ہے۔ ”یار ایک لطیفہ یاد آ گیا“۔ ایک لطیفہ دوسرا لطیفہ۔ غضبناک آنکھیں اندھیرے میں سلیم کو گھور رہی ہیں جیسے اسے کھا جائیں گی۔ مگر سلیم رواں ہے۔ ہماری محفل زعفراں زار بن جاتی ہے۔
”آپ لوگوں کو شرم آنی چاہیے“۔ اندھیرے میں ایک غصیلی آواز۔
”کس بات پر“؟ سلیم معصومیت سے پوچھتا ہے۔
ایک بوڑھی عورت جس نے اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر اپنا سفید برقعہ اتار کر الگ رکھ دیا ہے۔ سمجھاتی ہے۔ ”بیٹے یہ ایسی باتوں کا وقت نہیں ہے۔ کلمہ پڑھو“۔
بوڑھی عورت کے اس مکالمے کے ساتھ تصویر دھندلا جاتی ہے۔ بعد کا سفر بالکل یاد نہیں آ رہا۔ بس اتنا یاد ہے کہ مغلپورہ اسٹیشن پر پہنچ کر ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے تھے۔ ہٰذا فراق بینی و بینکم۔ پاکستان آ گیا۔ میری اپنی راہ۔ سلیم کی اپنی راہ۔ میں لاہور میں۔ سلیم کراچی کی طرف۔
میں اپنے پرانے دھرانے کاغذ ٹٹول رہا ہوں۔ شاید خط کا کوئی پرزہ نکل آئے اور اس سے مجھے اس زمانے کی کچھ باتیں یاد آجائیں۔ ہاں ایک پرزہ نکل آیا۔
”تم سے ملے ہوئے اتنے دن گزر گئے کہ اب بے انتہا ملنے کو جی چاہتا ہے یہاں کے ماحول کو تم جانتے ہی ہو۔ کوئی اتنا بھی نہیں کہ جس کے پاس ایک آدھ گھنٹہ بیٹھ کر گپ ہی مار لوں۔ ایک وہی جمیل صاحب۔ انہیں کو اوڑھ لو یا بچھا لو۔ کہاں میرٹھ کی زندگی کہاں یہ دن شماری۔ بس یوں سمجھ لو کہ جس طرح بن پڑ رہی ہے کاٹ رہا ہوں۔ اس حالت میں تم لوگوں کو خط لکھتا ہوں اور اس کا جواب نہیں آتا تو سخت غصہ آتا ہے۔ اور مایوسی سی ہوتی ہے“۔

میں حیران ہوتا ہوں۔ وہ تو اپنی پوری منڈلی کو لے کر کراچی پہنچا تھا۔ سعید بور، امید فاضلی، قیام الدین وغیرہ وغیرہ۔ ویسے ٹھیک بھی ہے۔ اکھڑ کر جمنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ لو چند ہی سال بعد کا ایک پرزہ بر آمد ہو گیا۔ ارے اب تو یار میرے کے تیور ہی بدلے ہوئے ہیں “۔
میرٹ کا تعلیمی ادبی و ثقافتی ماحول، سلیم احمد کا مزاج، ان کا ابتدائی شعری شعور، اٹھان و رجحان، ان کی ادبی تربیت میں پروفیسر کرار حسین اور محمد حسن عسکری کے اثرات اور ان دونوں اساتذہ سے ان کے تعلق کا ایک مکمل اور جاندار تذکرہ سابقہ سطور میں آگیا ہے۔
سلیم احمد کی منفرد شاعرانہ حیثیت کا آغاز ان کی بیاض سے ہوتا ہے۔ بیاض کی شاعری کے بارے میں ہمارے ایک استفسار کے جواب میں احمد جاوید نے بتایا کہ جب بیاض شائع ہوئی تو اس کے پس منظر پر جمال پانی نے ایک طویل مضمون لکھا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ عسکری نے اس خاص رنگ کی شاعری کی طرف سلیم احمد کو کیوں لگایا تھا اور اس سے وہ کیا کام لینا چاہتے تھے۔ چونکہ جمال پانی پتی کا وہ مضمون تو اب دستیاب نہیں اس لیے ہماری درخواست پر احمد جاوید نے ان معاملات پر کچھ روشنی ڈالی تھی جو درج ذیل ہے:
“محمد حسن عسکری نے ۰۶۹۱ء کے لگ بھگ سلیم بھائی کو بعض فراموش شدہ روایتی شعری اسالیب کی طرف متوجہ کیا اور ان کے ذمے یہ کام لگایا کہ وہ ان کی تجدید اور بازیافت کی کوشش کریں۔اس سلسلے میں عسکری صاحب باقاعدگی سے روایتی غزل کے کچھ منتخب حصے سلیم بھائی کے ساتھ مل کر پڑھتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ سلیم بھائی کم از کم ان لہجوں کو زندہ کرنے میں جان لڑائیں۔کبھی کہتے تھے کہ سودا کے رنگ میں غزل لکھ کر لاؤ، کبھی آتش کے، کبھی ذوق کے۔سلیم احمد نے کوئی دو تین برس اپنے استاد کے منصوبے پر پوری یکسوئی کے ساتھ کام کیا۔بیاض اسی زمانے کی غزلوں کا مجموعہ ہے جس کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس کی بیشتر غزلیں عسکری صاحب کی ہدایت پر اور ان کی سخت گیر نگرانی میں لکھی گئیں۔انھوں نے کچھ نکات بنائے تھے جنھیں پیشِ نظر رکھ کر سلیم بھائی کو غزل گوئی کا ایک نیا دور شروع کرنا تھا۔ان میں سے دوچار مجھے یاد ہیں۔
۱۔ بڑی شاعری میں تہذیب کی روزمرہ سطحوں کو پورا اظہار نہیں ملتا۔بعض عمومی نفسیاتی رویے اور زبان کی محاوراتی تشکیلات بھی بڑے شاعروں کی توجہ سے محروم رہ جاتی ہیں۔اسی طرح مبالغے کے بہت سے اسالیب ایسے ہیں جو دوسرے درجے کی شاعری ہی میں ملتے ہیں۔ لفظ کی کچھ رعایتیں، صنعتیں اور نسبتیں بھی یہیں پائی جاتی ہیں۔شعری روایت دراصل اسی دوسرے درجے کی شاعری کے تسلسل سے عبارت ہے۔بڑی شاعری تو انفرادیت کا مظہر ہوتی ہے جس کا تسلسل ممکن نہیں۔اگر اردو کی شعری روایت کو زندہ رکھنا ہے تو میر و غالب نہیں، آتش و ناسخ کے رنگ کو پھیکا پڑنے سے بچانا ہوگا۔
۲۔ روایتی شاعری کے احیا کے لیے غزل میں ان عناصر کو ابھارنا ضروری ہے:مبالغہ/پھکڑ پن /معاملہ بندی / ہوسناکی / محاورہ بندی / طنز / ہجو / غصہ وغیرہ۔۔
۳۔ کچھ چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔جیسے تغزل، متانت، تفکر، المیہ کیفیات وغیرہ۔ اسی طرح داخلیت سے بھی پرہیز کرنا ہے۔
۴۔ لفظوں کو بول چال کی زبان سے قریب رکھنا ہے۔
۵۔ شعر میں کوئی بڑی یا گہری بات بھلے سے نہ ہو، مزہ ضرور ہونا چاہیے۔
۶۔ بڑے خیالات اور گہرے المیہ احساسات بھی ایک چونچال پن کے ساتھ بیان ہونے چاہئیں۔
سلیم احمد پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ وہ عسکری کے مشورے پر “ذاتی شاعری” کرنا چھوڑنے یا شاعری ذاتی جذبات، ذاتی تجربے اور ذاتی زندگی کا اظہار وغیرہ کے تصور سے نکل کر اظہار کے تمام سانچوں پر اور تمام اسالیب پر دسترس حاصل کرنے کی مشق بہم پہنچانے کے لیے یہ کام کر رہے تھے۔ اس مشق میں جب انہیں شعر کو مزے دار بنانے اور قافیہ استعمال کرنے پر قدرت حاصل ہوگئی تو پھر عسکری نے انہیں غم و غصے اور طنز ٹھٹھول کے اسالیب اور ہجویہ کیفیات کو برتنے کا کہا۔ اس مشق کا سب سے بڑا فائدہ سلیم احمد کو یہ ہوا کہ وہ شاعری میں مختلف انسانی تجربات کے اظہار پر دسترس حاصل کرنے اور تجربات کی اس نوعیت کو دریافت کرنے کے قابل ہوئے جو انفعالی نہیں ہے۔ یعنی ہر قسم کا تجربہ ہر قسم کا خیال ہر قسم کا احساس جو ماحول میں آ رہا ہو، ادیب شاعر اس کے آگے جس طرح سپرانداختہ ہو جاتے ہیں اور اور ان کے اندر اس کے خلاف کوئی کشمکش کوئی مزاحمت اور کوئی بیکار نہیں پیدا ہونے پاتی تو سلیم محمد کو بتایا گیا کہ یہ شے شاعر کے لیے خطرناک ہے۔ شاعر کو ماحول کا معمول نہیں بلکہ اس کا عامل اور اس کے مقابلے میں فعال ہونا چاہیے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بیاض کی شاعری میں یہ کام بڑے وافر طور پر ہوا ہے۔
انتظار حسین کا کہنا ہے کہ فراق کی کیفیاتی شاعری کے اثر سے جب وہ نکلے ہیں تو سلیم احمد کی غزل میں “تعقلی رنگ”نمایاں ہوتا چلا گیا ہے۔ یہ ایک اعتبارسے سلیم احمد کا “اپنا” رنگ تھا جس میں ان کی تہذیبی فکر اور مذہبی خیالات کا بھی کچھ اثر تھا اور یہ تب پیدا ہوا جب انہوں نے عسکری کے “لکھنوی طرز” کے منصوبے پر مزید کام کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر انہیں اپنے استاد کا عتاب بھی سہنا پڑا تھا۔ چونکہ یہ سارا عمل شعوری اور فعالی تھا اسی لیے انہوں نے وہ مشہور جملہ لکھا تھا کہ “شاعری شعور کی اولاد ہے “چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکائی کی زیادہ تر شاعری میں میں بیاض کا سا کیفیاتی رنگ مدھم اور نقاد سلیم احمد کا تہذیبی اضطراب و تعقلی رنگ غالب آگیا ہے۔
70 کی دہائی میں عسکری اور سلیم احمد میں سیاسی اختلافات ہو چکے تھے۔ عسکری سیاسی طور پر بھٹو کی طرف تھے جبکہ سلیم احمد اپنے تہذیبی اور مذہبی تصورات کی امکانی عمل پیرائی کے لیے جماعت اسلامی کی سیاست کی طرف مائل ہوگئے تھے۔ سلیم احمد صدق دل سے یہ سمجھتے تھے کہ عسکری اور وہ پاکستان کو جن تہذیبی تصورات کا قلعہ دیکھنا چاہتے ہیں اس آرزو کی تشکیل پیپلز پارٹی کی سیاست میں ممکن نہیں ہے جبکہ اس کے برعکس اس ساری صورتحال کو سرمایہ دار ملکوں اور امریکی زرپرستی کے پس منظر میں دیکھتے ہوئے عسکری ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت میں یہ امکان پاتے تھے کہ وہ پاکستان کو امریکہ کی غلامی سے نکالنے کا کام کر سکتا ہے اور جس کی صلاحیت کسی اور میں نہیں ہے۔ سلیم احمد کو سیاسی مضامین لکھنے کی طرف عسکری نے ہی لگایا تھا۔ مگر سلیم محمد نے جس اخبار میں یہ مضامین لکھنے شروع کیے وہ عسکری کو سخت ناپسند تھا۔ شاید اسی لیے وہ ناراضگی جس کا آغاز پہلے بیاض کے زمانے والی شاعری نہ کرنے کے سبب ہوا تھا اس میں بتدریج شدت آتی گئی اور عسکری نے مظفر علی سید کے ذریعے سلیم احمد کو اپنی خفگی سے مطلع کیا۔ اس پر سلیم احمد نے جو جملہ کہا وہ ایک طرف اپنے مرشد کے لیے ادب و احترام اور دوسری طرف اس سے بیچ میدان کی پنجہ آزمائی کا بہترین نمونہ ہے۔ سلیم احمد نے کہا کہ
“صاحب دو مسئلے ہیں:یا تو وہ (عسکری) حکم دے دیں کہ یہ بند کردو، میں آج ہی اس کو بند کردوں گا اور زندگی بھر ادھر لوٹ کر نہیں آؤں گا۔ یا مجھے قائل کردیں “!
مگر عسکری نے نہ حکم دیا اور نہ قائل کیا! یہی وہ مقام تھا کہ مرشد اور مسترشد کے مابین اس یک طرفہ اختلاف کی خلیج اتنی حائل ہو گئی اور سلیم احمد کو زندگی کے اس سب سے بڑے المیے سے دوچار ہونا پڑا کہ عسکری صاحب کے انتقال سے دو اڑھائی سال پہلے سے ان کی باہمی ملاقات اور بات چیت تقریباً بند ہوگئی!
ان کے بعض دوستوں کے خیال میں آخر آخر اپنی ادبی سرگرمیوں میں سلیم احمد خود کو تنہا محسوس کرنے لگے تھے۔ ان کا تخلیقی تعلق اپنے زمانے کے ادیبوں اور شاعروں سے بن نہیں رہا تھا تھا۔ ہاں دوستی ان کی سب سے بہت گہری تھی مگر ان کا تخلیقی اور فکری تعلق جس آدمی سے تھا وہ آدمی (محمد حسن عسکری) اپنی سیاسی وابستگی کے سبب ان سے روٹھ چکا تھا! دیکھا جائے تو اس معاملے میں عسکری بھی “تنہا” ہی تھے۔ ان کے دور آخر کے تمام خطوط دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عسکری کی سب سے گہری دوستی اگرچہ ڈاکٹر آفتاب احمد سے تھی مگر ان دونوں کے مابین کوئی فکری اتحاد نہیں تھا۔ فکری اتحاد ان کا اگر کسی سے ہوسکتا تھا تو وہ ڈاکٹر اجمل اور سلیم احمد تھے۔ مگر اجمل صاحب ان سے دور لاہور میں تھے اور سلیم احمد اگرچہ کراچی میں تھے مگر ان سے انہوں نے خود بندھن توڑ لیا تھا۔
بیاض کے بعد سلیم احمد نے جس طرح کی شاعری کی اس کے پس منظر میں ایک دفعہ انتظار حسین نے ان سے پوچھا تھا کہ اب تم جس طرح کے ذہنی مشاغل میں میں پڑ گئے ہو اس سے یوں لگتا ہے کہ ادب تمہارے لیے کچھ ضمنی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور تم کچھ “مفکراسلام” ٹائپ شے بنتے جارہے ہو! آگے چل کے اسی بات کا انتظار حسین ایک اور طرح سے استفسار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے تنقیدی مضامین میں تو تم اپنے عہد اور پاکستان کی سیاسی و تہذیبی صورتحال سے بہت شغف رکھتے نظر آتے ہو لیکن جب تم شعر کہتے ہو تمہاری شاعری کا کوئی بہت زیادہ تعلق باہر کی ادبی دنیا سے نظر نہیں آتا کیوں؟ اس ذیل میں سلیم احمد نے جو جواب دیا وہ تو آپ مصاحبے میں پڑھیں گے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ ادب کو اپنے تہذیبی سر چشموں سے جوڑ کر دیکھنے اور اپنے دور میں اس تصورِ ادب پر اثر انداز ہونے والے عوامل و اسباب کا مطالعہ کرنے والے کسی بھی “مفکر ادیب”کے لیے صرف ادب کے اندر بند رہنا تادیر ممکن نہیں رہتا۔ اپنے ذہنی سفر کے دوران زندگی تہذیب اور سیاست کے مابین تعلق کے اسباب کی تلاش میں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ماورائے ادب جانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ صرف سلیم احمد کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ ان کے استاد محمد حسن عسکری کا معاملہ بھی یہی تھا۔ اس امر کو ہم ٹی ایس ایلیٹ کے طرز احساس کے انقطاع والے مسئلے کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں جہاں وہ کہتا ہے کہ طرز احساس کے انقطاع کے اسباب صرف چند شاعروں کے ساتھ ہی نہیں جڑے ہوتے بلکہ ان کے اسباب کی کھوج میں تاریخ اور سیاست کی صدیوں پرانی جڑوں میں ا ترنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں اہم بات یہ بھی ہے کہ عسکری ہوں یا سلیم احمد دونوں ماورائے ادب جانے کے بعد بتدریج ادب کی طرف لوٹ رہے تھے۔ اپنی طویل نظم مشرق
(جو اس مصاحبے کے وقت تک ابھی شائع نہیں ہوئی تھی) کے بارے میں تو سلیم احمد نے خود ہی کہہ دیا ہے کہ اس میں وہ اپنے ماحول سے بہت زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ طنز غصے اور کرودھ جیسا بپھرا سمندر جیسے ذیل کے مصروں میں ہے اس کا جواب ان کی معاصر شاعروں میں کہیں بھی نہیں ہے
”میں ہار گیا ہوں ”
میں نے اپنے گھر کی دیواروں پر لکھا ہے
”میں ہار گیا ہوں ”
میں نے اپنے آئینے پر کالک مل دی ہے
اور تصویروں پر تھوکا ہے
ہارنے والے چہرے ایسے ہوتے ہیں
میری روح کے اندر اک ایسا گہرا زخم لگا ہے
جس کے بھرنے کے لیے صدیاں بھی نا کافی ہیں
میں اپنے بچے اور کتے دونوں کو ٹیپوؔ کہتا ہوں
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک نفرت دے دو
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک غصہ دے دو
ایسی نفرت ایسا غصہ
جس کی آگ میں سب جل جائیں
۔۔۔۔۔میں بھی!!
کیا یہ غیظ و غضب اور جلال و قہرمانی کا وہی اسلوب نہیں جس کی مشق بیاض والی غزلوں کے دور میں ہوئی تھی اور جس کی سماجی معنویت آ کے اب مشرق میں کھلی تھی؟لیکن اکائی کے مقابلے میں کہ اس کا مسئلہ کسریت ہے ان کی غزلوں کی آخری کتاب چراغ نیم شب کے اندر بھی ایک شہر آشوبی کیفیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ ذیل کے اشعار ملاحظہ کیجئے:۔

مگر چراغ نیم شب کی غزلوں میں اس کا عکس زیادہ شعری تجربے کے ساتھ آیا۔

غنیم وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں

پرانی کشتیاں ہیں میرے ملاحوں کی قسمت میں
میں ان کے بادباں سیتا ہوں اور لنگر بناتا ہوں

یا پھر تیز ہوا کے شور والی غزل

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں
مجھ سے سنا نہیں گیا تیز ہوا کے شور میں

کشتیوں والے بے خبر بڑھتے رہے بھنور کی سمت
اور میں چیختا رہا تیز ہوا کے شور میں

میری زبانِ آتشیں لو تھی مرے چراغ کی
میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں

اور یہ عجیب وغریب شعر بھی

محلے والے میرے کار بے مصروف پہ ہنستے ہیں
میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

چراغ نیم سے کی غزلیں ایسے اشعار سے بھری ہوئی ہیں جن میں اپنے سماج اور گردوپیش سے جڑے ہونے کا احساس بھی شدید ہے اور جو جمالیاتی کیفیت آفرینی میں بھی کسی سے کم نہیں۔ اس شاعری کی موجودگی میں ہمیں ذاتی طو رپر انتظار حسین کے اس خیال سے زیادہ اتفاق نہیں کہ آخر آخر میں سلیم احمد کا شعری تجربہ اپنے ماحول معاشرت، سماج اور لوگوں سے لاتعلق ہو گیا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس دور میں سلیم احمد ادبی محسوسات اور تہذیبی تعقل کی جس سطح پر پہنچ چکے تھے ان کی ادبی برادری میں کوئی اور تو خیر ان کے قریب کیا پہنچتا خود انتظار حسین کو بھی ان تہذیبی تصورات سے کوئی شغف نہ رہ گیا تھا حالانکہ قیام پاکستان کے بعد کے کچھ عرصہ تک عسکری اور سلیم احمد کی طرح وہ بھی پاکستان اور پاکستانی تہذیب و ثقافت کے مسئلے پر ترقی پسندوں سے خاصے الجھتے رہے تھے۔ افسوس کہ انتظار حسین کی وہ ساری سرگرمیاں تنقیدی مضامین تک تو رہیں مگر ان کے تخلیقی شعور کا حصہ نہیں بن پائیں۔ چلئے پھر بھی، کسی زمانے سلیم احمد کے اس اضطراب کو محسوس کرنے اور اس پر سوال اٹھانے والے انتظارحسین تو کم سے کم موجود تھے آج تو ان مسائل کا شعور رکھنے والے بھی بہت کم رہ گئے ہیں۔
اوپر میں نے جو کہا ادب کو تہذیب کے آئینے میں دیکھنے اور تہذیبی شکست و ریخت کو ادب میں منعکس دیکھنے والا ہر صاحب فکر نقاد کچھ وقت کے لیے ماورائے ادب ان اسباب کی کھوج میں اپنے وقت سماج سے سے ضرور علیحدہ ہوتا ہے مگر پھر وہ واپس بھی پلٹتا ہے جیسا کہ عسکری کے بارے میں ایک سے زیادہ گواہیاں ہیں کہ وہ واپس ادب کی طرف پلٹ رہے تھے اور ماورائے ادب سرچشموں سے سیراب ہونے والی آنکھ سے ادب کو دیکھنا چاہتے تھے کہ موت نے انہیں مہلت نہ دی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ سلیم احمد کے ساتھ بھی ہوا۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر وجود هفته 15 جون 2024
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر

دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی! وجود هفته 15 جون 2024
دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی!

رات کاآخری پہر وجود هفته 15 جون 2024
رات کاآخری پہر

''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی وجود هفته 15 جون 2024
''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی

بجٹ اور میراثی وجود جمعه 14 جون 2024
بجٹ اور میراثی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر