وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
دلچسپ مقامات، دلچسپ معلومات وجود - اتوار 18 فروری 2018

ایفل ٹاور1889ء کو پیرس کی ایک نمائش کے لیے تیار کیا گیا تھا اس وقت ایفل ٹاور کو مستقل طور پر تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔1909ء میں ایفل ٹاور کو مسمار کر دیا جانا تھا لیکن پھر اس کو ایک بہت بڑے ریڈیو اینٹینا کے طور پر استعمال کرنے پر غور کیا گیا اور اس کو مسمار کرنے کا حکم خارج کر دیا گیا۔2011ء میں ایفل ٹاور پیسے دے کر دیکھے جانے والی دنیا کی مقبول ترین جگہ تھی اس سال تقریباً 6.98ملین لوگوں نے ایفل ٹاور کی سیر کی۔دوسری عالمی جنگ کے دوران جب ہٹلر پیرس پہنچا تو فرانسیسی لوگ...

دلچسپ مقامات، دلچسپ معلومات

انارکلی کا معمہ وجود - اتوار 18 فروری 2018

مغلوں کی تعمیر کردہ عظیم الشان عمارات جہاں مرقع کاری اور کاریگری کے مبہوت کر دینے والے عناصر سے مزین ہیں وہاں اپنے اندر مختلف انسانی جذبات یعنی‘ نفرت‘ محبت‘ حسد‘ انتقام‘ انصاف‘ اور سازش وغیرہ کی سینکڑوں داستانوں کو بھی سموئے ہوئے ہیں۔ محبت کی داستانوں میں سب سے مشہور کہانی انارکلی ہے جسے سچی محبت کے جذبے نے لازوال بنا دیا ہے۔ انارکلی اور شہزادہ سلیم (جہانگیر) کے عشق کی داستان ایک ختم نہ ہونے والی بحث میں تبدیل ہو گئی ہے۔تاریخ دانوں اور عوام کی آراء بالکل مختلف ہیں۔ ان مختلف ...

انارکلی کا معمہ

شہرمیں دوڑتی گاڑیوں کے بیچ سائیکلیںِ اسٹاک ہوم کی پہچان ہیں وجود - اتوار 18 فروری 2018

اسٹاک ہوم کی طرف روانہ ہوا تو ایسا نہیں لگا کہ کسی اور ملک گیا ہوں کیوں کہ اسکینڈے نیویا کا عمومی مزاج ایک جیسا ہے۔ صاف ستھرا ماحول، اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ، عوامی ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام، ایک ہی طرز کے ٹرانسپورٹ کارڈ، جیب پھاڑ قسم کی مہنگائی، امن و شانتی ایسی کہ لوگوں کے چہروں سے چھلکتی ہوئی محسوس ہو، دکھاوے سے ذرا دور سادہ دکھائی دینے والی اکثریت، گاڑیوں کے ساتھ ساتھ دوڑتی بھاگتی سائیکلیں اور ایک عجب سی خماری جو آسودگی کے بعد خود بخود چہرے کا حصہ بن جاتی ہے، جو باہ...

شہرمیں دوڑتی گاڑیوں کے بیچ سائیکلیںِ اسٹاک ہوم کی پہچان ہیں

دنیا کی چند خوبصورت جھیلیں وجود - اتوار 11 فروری 2018

دنیا میں قدرت میں بہت سے خوبصورت مقامات تخلیق کیے ہیں جن میں بعض مقامات ایسے ہیں جن کو دیکھ کر قدرت کی کاری گرمی پر انسان رشک کر اٹھتا ہے ۔ ایسی ہی مقامات کچھ مقامات ایسے ہیں جنہیں ہم جھیل کا نام دیتے ہیں ، جھیلوں کا وجود پانی کے کسی جگہ پر ٹہرنے یا پھر کٹاؤ یا راستہ بنانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔زیرنظرمضمون میں بھی ہم نے چند خوبصورت جھیلوں کی معلومات اکٹھا کیا ہے جوقارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔ پلی ویس جھیل Plitvice Lakes یہ جھیل کروشیا ( Croatia ) میں واقع ہے ۔ یہ...

دنیا کی چند خوبصورت جھیلیں

ملیرکنڈ وجود - اتوار 11 فروری 2018

یوں پاک سرزمین کاچپہ چپہ دیکھنے کے قابل ہے ۔ لیکن قدرت بعض ایسے مقامات بھی پاکستان کوعطاء کیے جن کی مثال دیناناممکن ہے ۔ کراچی کی ساحلی پٹی ویسے توساراسال سیاحوں کی توجہ کامرکزبنی رہتی ہے لیکن موسم گرمامیں یہاں پرتفریح کے لیے آنیوالوں کاہجو م ہوتاہے اگریہ کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ سمندرکے سامنے انسانوں کاسمندرنظرآتاہے ۔ہاکس بے ہویاگڈانی ہرجانب لوگ لوگ ہی لوگ نظرآتے ہیں ۔یہی نہیں سی یواورکلفٹن کے ساحل پربھی اتنارش نظرآتاہے کہ الامان والحفیظ ۔یہی نہیں صوبہ بلوچستان میں پھیلے ...

ملیرکنڈ

پاکستان کاخوبصور ت مقام اور دنیاکی خطرناک چوٹی ’’نانگاپربت‘‘ وجود - اتوار 04 فروری 2018

پاکستان کی پہچان نانگا پربت اپنے حسن کے جلوے بکہیرتا پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان کے ضلع استور میں واقع ہے ۔ دنیا کی نویں اور پاکستان میں K-2 کے بعد دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو سلسلہ کوہ ہمالیہ میں واقع ہے ۔ سطح سمندر سے اسکی بلندی تقریباً 8126 میٹر یا 26,660 فٹ ہے، سال بہر برف سے ڈہکی یہ چوٹی اپنے اندر بے پناہ حسن اور کشش رکہتی ہے اور خاص طور پر چودہویں کی رات کو جب چاند اپنے پورے جوبن پرہوتا ہے اور کہکشائیں اس سے باتیں کرتی ہیں تو اسکی خوبصورتی انسانی عقل کو حیرت میں مبتلا ک...

پاکستان کاخوبصور ت مقام اور دنیاکی خطرناک چوٹی ’’نانگاپربت‘‘

بلوچستان کے ضلع خضدارکی اہم زیارت’’لاہوت لامکاں‘‘ وجود - اتوار 04 فروری 2018

بلوچستان کے ضلع خضدارکے علاقے وڈھ میں ایک اہم زیارت ’’لاہوت لامکاں ‘‘کہلاتی ہے اس جگہ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائنات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیاگیاتھااورکچھ روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کواسی جگہ اتاراگیاتھا۔ یہ وجہ ہے کہ مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ ہرسال یہاں دشوارگزارراستہ طے کرکے آتے ہیں ۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہوربزرگ شاہ بلاول نورانی کامزاربھی ہے کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے ہوئے اس سلسلے کاپہلاپڑائومحبت فقیرکے مزارپرہوتاہے ۔ اس کے بارے م...

بلوچستان کے ضلع خضدارکی اہم زیارت’’لاہوت لامکاں‘‘

سوات کے موسم اور نباتات وجود - اتوار 04 فروری 2018

وادی سوات دریائے سوات اور اس کے معاونین دریاووں کے نکاس کا علاقہ ہے۔ اس میں زرخیز سیلابی مٹیپائی جاتی ہے۔سوات میں وسیع پیمانے پر کاشتکاری کی جاتی ہے۔ یہ اپنے گھنے جنگلوں اور مختلف النوع پھولوں اور پھلوں کی فصلوں کے لیے مشہور ہے۔ چاول، گندم، مکئی، جو، دالیں، سرسوں، گنا اور مسور یہاں کی بڑی فصلیں رہی ہیں۔ بہت اوپر کے علاقوں میں صرف ایک فصل ہوتی ہے جب کہ وادی خاص میں دو فصلیں ہوتی ہیں۔ یہ سارا کا سارا علاقہ اتنا زرخیز ہے کہ اچھی فصلوں کے حصول کے لیے کوئی زیادہ محنت درکار نہیں ہو...

سوات کے موسم اور نباتات

رمسیس الثانی کا 3200 سال قدیم مجسمہ نئے عجائب گھر منتقل وجود - پیر 29 جنوری 2018

مصر نے جمعرات کو رمسیس دوم کا دیوہیکل مجسمہ قاہرہ کے نئے عجائب گھر میں رکھنے کے لیے منتقل کر دیا ہے۔مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ رمسیس دوم کا مجسمہ قاہرہ کے عجائب گھر میں ہونے سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔رمسیس دوم کا 3200 سالہ قدیم دیوہیکل مجسمہ گرینڈ میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ کئی سالوں کی تاخیر کے بعد یہ عجائب گھر اگلے ایک سال میں پبلک کے لیے کھول دیا جائے گا۔اس 83 ٹن وزنی مجسمے کو 400 میٹر کے فاصلے پر خاص طور پر تیار کیے گئے آہنی فریم میں منتقل کیا گ...

رمسیس الثانی کا 3200 سال قدیم مجسمہ نئے عجائب گھر منتقل

پاکستا ن کاسردصحرا’’کٹپانا ‘‘بنی نوع انسان کے لیے عجوبہ وجود - اتوار 21 جنوری 2018

صحرا جس کے نام سے گرمی دھوپ۔ پیاس اور تاحدِ نگاہ ریت کا احساس ابھر کر سامنے آجاتا ہے لیکن اللہ تعالی نے کائنات میں ایسی بھی صحرا تخلیق کی ہے جو گرم نہیں بلکہ سرد ہے اور بنی نوع انسان کے لیے ایک عجوبے کی حثیت رکھتا ہے اور ایسی ہی تخلیق دیکھ کر وہ اللہ رب العزت کا متصرف ہوجاتا ہے۔ یہ ہمارے لیے خوش نصیبی اور فخر کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دنیا کا سب سے خوبصورت خطہ عطاء کیا ہے جن میں سے ایک ــــ پہچان پاکستان گلگت بلتستان بھی ہے۔ اس خوبصورت اور دلکش خطے کا تو کیا ہ...

پاکستا ن کاسردصحرا’’کٹپانا ‘‘بنی نوع انسان کے لیے عجوبہ

کرہ ارض پرموجودہ حیرت انگیزممالک‘کئی کی آبادانگلیوں پرگنی جاسکتی ہے وجود - اتوار 21 جنوری 2018

دنیامیں کئی ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی کراچی سے بھی کم ہے لیکن معاشی اعتبارسے کئی بڑے ممالک سے بہت آگے ہے جن میں کویت اوربرنائی دارالسلام قابل ذکرہیں لیکن اگریہ کہاجائے توسب کوحیرت ہوگی کہ دنیامیں کئی ممالک ایسے بھی ہیں جن کی آبادی کراچی کی کسی کچی بستی میں رہنے والو ںکی تعدادسے بھی کم ہے ۔بلکہ ایک ملک توایسابھی جس کی آبادی کسی گنجا ن آبادی والے محلے سے بھی کم ہی ہے ۔یہاں ایسے ممالک کے بارے میں لکھاجارہاہے جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ آپ نے کبھی سنانہیں ہوگا۔ان ممالک ...

کرہ ارض پرموجودہ حیرت انگیزممالک‘کئی کی آبادانگلیوں پرگنی جاسکتی ہے

نلتر جھیل قدرت کی صناعی کانادر ثبوت وجود - اتوار 07 جنوری 2018

رمضان رفیق شاہراہِ قراقرم پر چلاس سے ہنزہ کی طرف جائیں تو نومل نامی علاقے سے نلتر نامی جھیل کی سمت جانے کیلیے جیپ کرائے پر حاصل کی جاسکتی ہے اِس جھیل کے لیے جیپیں جاتی ہیں۔ یہ جھیل کیا ہے قدرت کی صناعی کا نادر ثبوت ہے ،کبھی کبھی تو سوچتا ہوں کہ کیا اِسے جھیل بھی کہنا چاہیے یا ابسٹرکٹ آرٹ کا قدرتی نمونہ؟ پہلی نظر میں ہَرا رنگ جھیل کے رنگ پر غالب نظر آتا ہے، اگلی نظر میں کہیں دور ایک نیلگوں رنگ کا بھی احساس ہوتا ہے، کہیں کہیں قوس قزاح کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے، ایسی جگہ جو ...

نلتر جھیل قدرت کی صناعی کانادر ثبوت

بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی وجود - اتوار 07 جنوری 2018

شہلا حیات بھارت کاہر شہر اپنے انواع واقسام کے کھانوں میں ایک دوسرے سے جدا شناخت رکھتاہے، اگرچہ اب بھارت کے ہر بڑے شہر میں بھارت کے مختلف شہروں کے مشہور اورمرغوب کھانے بھی بآسانی دستیاب ہوتے ہیں لیکن ان کھانوں کے ان کے شہروں میں جس اہتمام کے ساتھ پکایا جاتاہے، دوسرے شہروں میں وہ ذائقہ حاصل نہیں ہوپاتا، کھانوں کے اعتبار سے بھارت کے وہ شہر زیادہ مشہور ہیں جہاں نوابوں اورراجہ مہاراجائوں کے حکمرانی رہی ہے کیونکہ ان کو طرح طرح کے کھانوں کاجنون کی حد تک شوق تھا ،یہی وجہ ہے کہ بھار...

بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی

نیوزی لینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے پرندے کی دریافت وجود - پیر 18 دسمبر 2017

ماہرین کا خیال کہ ابتدا میں اس نسل کے پرندوں کا سائز چھوٹا تھا لیکن چونکہ یہ سمندر کے کنارے رہتے تھے۔ انہیں اڑنے کے بغیر ہی خوراک مل جاتی تھی۔ چنانچہ کاہلی اور سستی کے باعث ان کا وزن اور حجم بڑھنا شروع ہوگیا اور پھر آنے والی نسل دیو قامت بن گئی۔نیوزی لینڈ میں سائنس دانوں کو زمانہ قبل از تاریخ کے ایک دیو قامت پرندے کی باقیات ملی ہیں جن کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ پرندہ اپنی ساخت میں آج کے پینگوئن جیسا تھا لیکن قدو قامت اور وزن میں اس سے کئی گنا بڑا تھا۔جاری ہونے والے بیان م...

نیوزی لینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے پرندے کی دریافت

نیوزی لینڈ: سرسبزپہاڑوں‘دیدہ زیب جھرنوں ‘حسین وادیوں اور ہردم برستے ساون کی سرزمین وجود - اتوار 17 دسمبر 2017

ابو خضر دلفریب پہاڑوں، دیدہ زیب جھرنوں، حسین وادیوں، ہر دم برستے ساونوں، تاحدِ نگاہ سرسبز چراگاہوں، آئینہ نما جھیلوں، اِٹھلاتے بل کھاتے دریاؤں، رنگ برنگے پھولوں اور چہچہاتے خوش رنگ پرندوں کی سرزمین نیوزی لینڈ کو کرہ ارض پر ایک محفوظ، محبوب اور خوبصورت ترین خطہ زمین تصور کیا جاتا ہے۔ 2017 کے ’’گلوبل پیس انڈیکس‘‘ (Global Peace Index) کے مطابق نیوزی لینڈ کو دنیا کو دوسرا محفوظ ترین ملک قرار دیا گیا جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ’’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘‘ (Corruption Perception ...

نیوزی لینڈ: سرسبزپہاڑوں‘دیدہ زیب جھرنوں ‘حسین وادیوں اور ہردم برستے ساون کی سرزمین

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ وجود - اتوار 17 دسمبر 2017

ظریف بلوچ مکران کے ساحلی علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں اور یہاں سمندری معدنیات کے وسیع ذخائر زمانہ قدیم سے موجود ہیں جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکران کے سمندر میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ جیوانی سے گڈانی تک پھیلا ہوا سمندر تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے ایک اہم خطہ ہے۔ ساحلِ مکران کے دیدہ زیب حسن میں ایک جزیرہ ’’اسٹولا‘‘ بھی شامل ہے۔ اسٹولا جزیرہ تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جزیرہ نہ صرف قدرتی حسن کے دلفریب مناظر ک...

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

ہزارہ ڈویژن کا خوبصورت گاؤں ’’سری کوٹ‘‘ وجود - اتوار 29 اکتوبر 2017

پرویرقمر ہری پور جو کہ ہزارہ ڈویژن کا اہم شہر ہے۔ صوبہ خیبر پختوانخواہ میں واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس شہر کا فاصلہ تقریباً 65 کلومیٹر ہے۔ ہری پور شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر سر سبز و شاداب پہاڑی سلسلے میں ایک پر فضا اور خوبصورت پہاڑ کے بالکل ٹاپ پر سری کوٹ کا گاؤں موجود ہے۔ جو کہ اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ ساتھ نہایت ہی اعلیٰ مذہبی سید گھرانے کی د جکر معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ سری کوٹ کے لفظی معنی ’’پہاڑ کی اونچائی پر گاؤں ‘‘ کے ہے۔ چوکہ لفظ سری کے معنی اونچا ...

ہزارہ ڈویژن کا خوبصورت گاؤں ’’سری کوٹ‘‘

ایمسٹرڈیم، نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں وجود - اتوار 29 اکتوبر 2017

رمضان رفیق میں نے اب تک تین بار ایمسٹرڈیم دیکھا ہے، دو دفعہ دوستوں کے ساتھ اور ایک بار اکیلے۔ ایمسٹرڈیم کے رنگوں میں کچھ ایسا خاص ہے جو آدمی کو بیزار ہونے ہی نہیں دیتا۔ پہلی بار دیکھا تو یہ شہر پہلی نظر میں ہی اچھا لگا۔ اْس وقت ہم ایک بس کے ذریعے پیرس سے ایمسٹرڈیم آئے تھے۔ بس میں گزرے اِن چند گھنٹوں کے دوران مجھے ایک ڈچ خاتون کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کا اتفاق ہوا۔ اْس ملاقات میں ہی ایمسٹرڈیم کے خوبصورت ہونے کا یقین سا ہو گیا تھا۔ اگلی دفعہ میرے منہ سے ایمسٹرڈیم کی خوبصو...

ایمسٹرڈیم، نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں

سندھ کے ریگزار میں گلزار کا سماں ۔۔فقیر کاآستانہ وجود - اتوار 22 اکتوبر 2017

اختر حفیظ فطرت سے انسان کا رشتہ صدیوں پر محیط ہے۔ پتوں سے اپنا جسم ڈھانپنے، غاروں کو گھر بنا کر رہنے والا انسان اور دریاؤں کو مقدس ماننے والا انسان ترقی کرتا کرتا اِن فطری رنگوں بلکہ زندگی کے حقیقی رنگوں سے دور ہوتا چلا گیا۔مگر اِسی ترقی کی دوڑ نے انسان کو کافی تنہا اور حقیقی سکون سے عاری بھی کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بناوٹی آسائشی چیزوں میں گھرے رہنے کے باوجود بھی ہمیشہ ذہنی و جسمانی تسکین میں تلاش رہتا ہے جو صرف فطرت اور فطری رنگوں میں پیوستہ ہوتی ہے۔ 18ویں صدی کے فرانسیس...

سندھ کے ریگزار میں گلزار کا سماں ۔۔فقیر کاآستانہ

ہندوؤں کا مقدس شہر بنارس پسماندگی کی تصویر صبا حیات - اتوار 22 اکتوبر 2017

وارانسی، کاشی یا بنارس شہر کا ہندو مذہب میں بڑا مقام ہے جہاں زندگی روزانہ موت سے گلے ملتی نظر آتی ہے۔ہندو مذہب میں بنارس کی خاص اہمیت ہے اور ادب میں صبح بنارس کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔یہ شہر صدیوں سے دریائے گنگا کے کنارے آباد ہے اور یہاں دور دراز سے سیاحوں کی آمد کی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ہندو مذہب میں اس شہر اور اس دریا کا اہم مقام ہے۔ کہتے ہیں کہ یہاں غسل کرنے سے پاپ یعنی گناہ دھل جاتے ہیں ۔ اس لیے یہاں ا شنان کرنے والوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔یہاں مندروں کی کثرت ہے اور لوگ ...

ہندوؤں کا مقدس شہر بنارس پسماندگی کی تصویر

بھارت کے ریگستان میں نخلستان زین آباد وجود - اتوار 22 اکتوبر 2017

سلمیٰ حسین سندھ کے مشہور شہر تھرپارکر سے متصل بھارتی ریاست زین آباد 1919 میں قائم کیاگیا تھا۔کچھ مغربی بھارت کا ریگستانی علاقہ ہے جس کی سرحد پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر سے ملتی ہے۔ زین آباد اسی ریگستان میں ایک چھوٹی سی ریاست رہی ہے۔زین آباد کی جھیل پورے بھارت بلکہ برصغیر میں مشہور رہی ہے اس نہر میں دیسی اور بدیسی دونوں قسم کے پرندے پائے جاتے ہیں ۔ 1919 میں زین خان نے اپنے بزرگوار کے وطن ڈاس ڈا کو خیرباد کہا اور احمد نگر کے سلطان کی دی ہوئی جاگیر اور 12 ہزاری منص...

بھارت کے ریگستان میں نخلستان زین آباد

1965 ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں کامتاثرہ شہر عمر کوٹ وجود - اتوار 15 اکتوبر 2017

وقار احمد جنگوں کی تاریخ کا المیہ رہا ہے کہ آیا یہ نامکمل ہوتی ہیں یا پھر جھوٹی ہوتی ہیں۔ ہیروز اور فتوحات کی عظیم کہانیوں میں اکثر میدان جنگ کی زد میں آنے والے ایک عام آدمی کا درد کہیں کھو سا جاتا ہے۔1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران عمرکوٹ، سندھ کے باسیوں کا تذکرہ ہمارے اسکولوں کی نصابی کتابوں میں کہیں نہیں ملتا۔ مجھے 1965 اور 1971 کی جنگوں کی یہ غیر تحریری کہانیاں اس چھوٹے، گرد آلود شہر کی حالیہ سیر کے موقعے پر زبانی سننے کو ملیں۔ عمرکوٹ سندھ کے مشرقی حصے میں...

1965 ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں کامتاثرہ شہر عمر کوٹ

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے قریب واقع خوبصورت علاقہ پیر لاکھا وجود - اتوار 15 اکتوبر 2017

ببرک کارمل جمالی اب کی بار سیر و تفریح کی غرض سے ہماری منزل ایک ایسا مقام تھا جہاں لوگ نہیں بستے بلکہ ملک میں بسنے والے لوگوں کا علاج کرنے والی جگہ بستی ہے۔ ہماری یہ منزل بلوچستان کے ضلع جھل مگسی سے صرف بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے ’’پیر لاکھا‘‘ کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کے باسی اسے ’’ٹھار لاکھا ٹھار‘‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ ’’ٹھار لاکھا ٹھار‘‘ سندھی زبان کا جملہ ہے جس کا مطلب ہے ’’اے لاکھو میرے جسم کو ٹھنڈا کردیں ٹھنڈا۔‘‘ یہاں موجود چشمے کا پانی نہانے والے کے جسم کو ٹ...

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے قریب واقع خوبصورت علاقہ پیر لاکھا

وادی حراموش… دلفریب و دلکش… گلگت بلتستان وجود - اتوار 08 اکتوبر 2017

پرویز قمر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسے خوبصورت و دلکش خطے عطاء کئے ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور ساری دنیا کے لوگوں باالخصوص قدرتی حسن و رعنائی سے محبت کرنے والوں کو اپنی جانب کھنچتے ہیں ۔ انہی پرکشش وادیوں میں سے ایک وادی حراموش ہے۔وادی حراموش پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان میں اپنے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔وادی حراموش گلگت شہر کے شمال میں سطح سمندر سے4578 میٹر بلند ہے گلگت شہر سے وادی حراموش کا فاصلہ تقریباً78 کلو میٹر ہے جس طرح حراموش قدرتی حسن سے مالا مال ہے اسی...

وادی حراموش… دلفریب و دلکش… گلگت بلتستان

مضامین
یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

کل۔چر وجود اتوار 28 نومبر 2021
کل۔چر

بھارتی معاشرہ تباہی کے دھانے پر وجود اتوار 28 نومبر 2021
بھارتی معاشرہ تباہی کے دھانے پر

عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے وجود هفته 27 نومبر 2021
عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے

جارحیت کے خلاف قانون وجود هفته 27 نومبر 2021
جارحیت کے خلاف قانون

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام