وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ایبٹ آباد دنیا کے حسین ترین مناظرسے دل موہ لینے والا شہر

اتوار 04 مارچ 2018 ایبٹ آباد دنیا کے حسین ترین مناظرسے دل موہ لینے والا شہر

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی سرزمین دنیا کے حسین ترین مناظرسے بھری پڑی ہے ،اور حکومت کی جانب سے ان علاقوں پر مناسب توجہ نہ دئے جانے کے باوجود ان علاقوں کودنیا کے حسین ترین مناظرکاحامل مقام قراردیا جاسکتا ہے ، ایبٹ آباد کا شمار بھی ایسے ہی علاقوں میں ہوتا ہے ،ایبٹ آباد کاشمار پاکستان کے حسین ترین شہروں میں ہوتا ہے اور یہ غالباً پاکستان کے ان چند شہروں میں سے ایک ہے جو اب بھی قدیم روایات اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیںیہاں قدیم روایات سے میری مراد قبائلی یا تہذیبی روایات سے نہیں ہے کیونکہ تہذیبی روایات اور قبائلی طور طریقے تو پاکستان کے چپے چپے پر موجود ہیں اور صدیوں سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ، یہاں قدیم روایات سے میری مراد نظم و ضبط سے متعلق روایات سے ہے ۔

ایبٹ آباد ہمارے ملک کاایک ایسا شہر ہے ، جہاں زندگی میں نظم وضبط موجود ہے ، گزشتہ سال موسم گرما کے دوران مجھے تین مرتبہ ایبٹ آباد جانے کا اتفاق ہوا،ایبٹ آباد کی پہلی ہی سیر کے دوران ہی لوگ اس شہر کے حسن کے اسیر ہوجاتے ہیں، بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یہ شہر برطانوی فوج کے میجر جیمز ایبٹ نے 1853 میں آباد کیا تھا ، اور ان ہی کے نام پر اس کا نام ایبٹ آباد رکھا گیا ۔

آج اس شہر کا شمار ملک کے جدید ترین شہروں میںہوتا ہے ،قیام پاکستان سے قبل چند ہزار نفوس پر مشتمل اس شہر کی آبادی اب 10لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس شہر میں تمام بڑے ہوٹل اور فوڈ پوائنٹس موجود ہیں ، جن میں مکڈونلڈ ، کے ایف سی، بیسٹ ویسٹرن اور پرل کانٹی نینٹل شامل ہیں ، اس کے علاوہ دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بھی یہاں دفاتر موجود ہیں ،اس شہر کی خوبی یہ ہے کہ اس شہر میں آج بھی برطانوی دور کی اچھی روایات پر عمل کیا جاتا ہے اور یہاں صرف برطانوی دور میں تعمیر کی گئی عمارتیں ہی نہیں ہیں بلکہ تعلیمی اعتبار سے بھی اس شہر کے تعلیمی اداروں کا معیار ملک کے دوسرے بہت سے شہروں سے بہتر ہی نہیں بلکہ اعلیٰ ہے ۔

ایبٹ آباد میں چھائونی کا علاقہ اب بھی میجر ایبٹ کے دور کی تعمیر کردہ عمارتوں پر ہی مشتمل نظر آتا ہے وہی بڑے بڑے بنگلے ، یورپی طرز کی اونچی عمارتیں ، برٹش کلب ، چرچ اور برطانوی دور کا قبرستان سب کچھ ویسا ہی ہے ۔

ایبٹ آباد کو شمالی علاقوںمیں داخل ہونے کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے ، اسلام آ باد سے شمال کی جانب کم وبیش دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع اس شہر کے چاروں طرف خوبصورت اور سرسبز پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آتی ہیں،یہاں جنگلات سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں سے آنے والی ہوا میں بھی ایک خاص قسم کی خوشبو ہوتی ہے ۔

ایبٹ آباد صوبہ سرحد کا موسم گرما کا دارالحکومت ہے موسم گرما میں صوبائی حکومت کے تمام کام اسی شہر سے ہوتے ہیں،اس شہر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ جہاں موسم سرما میں ملک کے دوسرے پہاڑی شہر سخت سردی کی وجہ سے ویران ہوجاتے ہیں وہیں اس شہر کی رونق میں کوئی کمی نہیں آتی کیونکہ اس شہر کا موسم نسبتاً معتدل ہوتا ہے ۔اس شہر میں خوبصورت باغیچے اور پارک ہیں اور سڑک کے دونوں جانب اونچے اونچے درختوں کی قطار نظر آتی ہے ،یہاں بڑے بڑے سرسبز میدان ہیں جہاں گولف ، پولو ، ہاکی اور فٹبال کھیلا جاتا ہے ۔

ایبٹ آباد کا شہر سطح سمندر سے کم وبیش 4300 فٹ کی بلندی پر واقع ہے تاہم یہ شہر مری کی پہاڑیوں سے نیچے ہے ، لیکن اس کے باوجود اس شہر میں گلگت کے پہاڑی علاقے کی تمام خوبیاں موجود ہیں ،اور شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے باوجود ایبٹ آباد اب بھی شمالی علاقوں کو جانے کے لیے راہداری کی حیثیت رکھتا ہے ۔اس شہر سے کوئی بھی ہنزہ ، گلگت، اسکردواور قراقرم کے سلسلے میں کوہستان تک جاسکتا ہے ۔یہاں سے سوات ، دیر ، چترال اور کوہ ہندو کش کے سلسلے تک بھی جایا جاسکتا ہے اور ناران، جھیل سیف الملوک ، شوگران، کوہ ہمالیہ کے بابو سر پاس بھی جایا جاسکتا ہے ۔وادی نیلم ، لیپا اور وادی جہلم بھی ایبٹ آباد سے منسلک ہیں ۔

ہزارہ کے علاقے سے برآمد ہونے والے سکوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ پہلی صدی قبل مسیح سے آباد چلا آرہا ہے لیکن ایبٹ آباد کا شہر میجر جیمز ایبٹ نے 1853 میں آباد کیا۔میجر جیمز ایبٹ کو 1853 میں اس علاقے کا ڈپٹی کمشنر بنا کر بھیجا گیا تھا اور ان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اس خوبصورت لیکن دشوار گزار علاقے پر برطانیا کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے انتظامی بنیاد رکھیں۔اس مقصد کے لیے میجر جیمز نے اس پورے علاقے کا پیدل دورہ کیا اور مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا بالآ خر اس نے ایک جگہ جو کہ سطح سمندر سے کم وبیش 4120 فٹ بلندی پر واقع تھی اور چاروں طرف سے برف پوش پہاڑوں سے گھری ہوئی تھی اپنے خیمے گاڑنے کی ہدایت کی۔یہ ایسی جگہ تھی جہاں پورے سال قیام ممکن تھا اور شمالی علاقوں سے اس کا فاصلہ دنوں کا نہیں بلکہ گھنٹوں کا تھا۔

میجر جیمز برطانوی فوج کے ان اعلیٰ افسران میں شامل تھا جس نے اس خطے پر برطانوی حکومت کو مضبوط ومستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔اس نے مقامی حالات ، روایات ، تاریخ مقامی لوگوں کی عادات و اطوار کا اچھی طرح مشاہدہ کیا وہ اس پورے ضلع کے لوگوں کی عادات اور پسند و ناپسند سے اچھی طرح واقف تھا۔ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر ہونے کے ساتھ ہی وہ ایک اچھا محقق، زبان دان ، مورخ اور ماہر ارضیات بھی تھا ۔یہی وجہ ہے کہ میجر ایبٹ کے دورے کی رپورٹیں جنھیں اس کے سفر نامے بھی کہہ سکتے ہیں آج بھی انڈیا آفس لائبریری میں محفوظ ہیں ۔میجر ایبٹ کم وبیش 8 سال تک اس علا قے میں رہا جس کے بعد اس کے تبادلے کے احکامات آگئے اپنے تبادلے کے احکام پر وہ بہت رنجیدہ ہوا اور اس نے ایک نظم کہی جو آج بھی ایبٹ آباد کے کئی تاریخی مقامات پر اس کے اردو ترجمے کے ساتھ آویزاں نظر آتی ہے ۔اس نے اس نظم میں بڑے حسرت بھر ے لہجے میں لکھا ہے کہ مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب میں یہاں آیا تھا اور میری ناک میں اس خطے کی خوشبو دار ہوا گئی تھی جس نے میرا تن من معطر کردیا تھا۔میرے لیے یہ جگہ خوابوں کی سرزمین ہے ،پہلی ہی نظر میں میں اس جگہ کے حسن کا اسیر ہوگیا تھا،میں اس بات پر بہت خوش تھا کہ مجھے یہاں بھیجا گیا ، 8سال دیکھتے ہی دیکھتے گزر گئے اس تیزی سے گزرے کہ پتہ ہی نہیں چلا ۔آہ ایبٹ آباد میں آج تجھے چھوڑ کر جارہا ہوں اور اب شاید تیری ہوائوں کی سنسناہٹ کبھی میرے کانوں سے نہیں ٹکرائے گی ،میرے آنسو تیرے لیے تحفے کے طور پر پیش ہیں۔میں تجھے بڑے بوجھل دل کے ساتھ الوداع کہتا ہوں،میرے ذہن سے تیری یادیں کبھی محو نہیں ہوں گی ۔

اس شہر میں جگہ جگہ میجر ایبٹ کے دور کی یادگاریں ملتی ہیں،یہاں اس دور کے تیار کردہ سرسبز گہوارے ہیں ، ہرے بھرے راستے اور پگڈنڈیاں ہیں جو پہاڑوں پر جانے کے لیے بنائے گئے تھے اور اب تک موجود ہیں ۔اس سے مزید شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے آپ اوگی کے قریب سیاہ پہاڑوں کی جانب جاسکتے ہیں اور مانسہرہ کے قریب بریری کے پہاڑیوں کی چٹانوں پر اشوک کے زمانے کی تحریر دیکھ سکتے ہیں ۔یا پھر کسی اونچی پہاڑی پر بیٹھ کر الیاسی مسجد کا نظارہ بھی کرسکتے ہیں۔یہاں سیاحوں کی دلچسپی کی سب سے زیادہ مشہور جگہ ٹھنڈیانی ہے جسے مقامی زبان میں ٹھنڈی جگہ کہتے ہیں ۔

ایبٹ آباد میں ملک کے کئی معروف تعلیمی ادارے موجود ہیں جس کی وجہ سے ایبٹ آباد کو سیکھنے کا شہر اور شہر علم بھی کہا جاتا ہے اس کے علاوہ یہ شہر آبادگاروں کا شہر بھی کہلاتا ہے کیونکہ یہ وہ شہر ہے جہاں مقامی آبادی کے علاوہ افغان ، کشمیری ، اور ملک کے دیگر علاقوں کے لوگوں کے علاوہ بڑی تعداد میں دہلی کی برادری کے لوگ بھی آباد ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو 1857 کی جنگ آزادی کے دوران دہلی چھوڑ کر اس شہر میں آئے اور پھر یہیں کے ہورہے ، اس کے علاوہ یہاں بوہری برادری کے لوگ بھی موجود ہیں ، یہاں مسیحی برادری کے لوگ بھی خاصی تعداد میں رہتے ہیں ۔شہر میں ہر مذہب کے عبادت خانے ہیں جن میں بہائی مذہب کا ایک بہائی ہوم بھی موجود ہے ، اس شہر میں تمام مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں ۔یہاں کے لوگوں میں صبر وتحمل بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں ۔ملک کی بہت سی معروف شخصیات کا تعلق اسی شہر سے رہا ہے جن میں ایوب خاں ، یحیٰ خاں ، اور ایئر مارشل اصغر خاں شامل ہیں ۔

اگرچہ بہت سے اہم اور بااثر لوگ اب بھی اس شہر میں رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس شہر کے چاروں طرف موجود پہاڑیوں پر سے درختوں کی بے تحاشہ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے اس شہر کے موسم پر کافی منفی اثرات پڑے ہیں اور اب یہ شہر پہلے کے مقابلے میں زیادہ گرم ہوگیا ہے اور اس کی مخصوص ہوا سے وہ خوشبو غائب ہوتی جارہی ہے جو اس شہر کی پہچان تھی جس کی وجہ سے ایک دفعہ اس شہر میں آنے والا شخص کبھی اس کو بھلا نہیں پاتا تھا۔اس صورت حال کی وجہ سے اب اس شہر میں جہاں لوگ پنکھے بھی گھروں میں نہیں لگواتے تھے اب ایئر کنڈیشنر اس شہر کی بھی ضرورت بن گئے ہیں ۔کاش جنگلات کی اس چوری کو روکنے کا کوئی موثر انتظام کیا جاسکتا ۔


متعلقہ خبریں


برہنہ حالت میں ویڈیوبنانے کے الزام میں17 افراد کے خلاف مقدمہ درج وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

سرگودھا روڈ یوسف چوک کے قریب چوری کے الزام میں 2 محنت کش خواتین کومبینہ طورپرتشدد کا نشانہ بنانے برہنہ کرکے بازارمیں گھسیٹنے اوربرہنہ حالت میں ویڈیوبنانے کے الزام میں17افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جن میں فیصل'ظہیرانور،عثمان اور فقیرحسین وغیرہ5نامزداور12نامعلوم شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سی پی او ڈاکٹرعابد خان اورایس ایس پی انوسٹی گیشن کے موقع پر پہنچنے کے بعد ایس ایچ اوتھانہ ملت ٹائون رضوان شوکت بھٹی نے ملزموں کوگرفتارکیا ۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارن...

برہنہ حالت میں ویڈیوبنانے کے الزام میں17 افراد کے خلاف مقدمہ درج

لاہور کے بلدیاتی انتخابات میں کلین سوئپ کریں گے،آصف علی زرداری وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین و سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پنجاب میں پوری قوت کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گے،بلدیاتی الیکشن میں میدان کسی کے لئے خالی نہیں چھوڑیں گے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو لاہور سمیت پورے پنجاب میں مضبوط کریں گے،1979 کی طرح لاہور کے بلدیاتی انتخابات میں کلین سویپ کریں گے۔آصف علی زرداری لاہور میں چند روز قیام کرنے کے بعد واپس کراچی روانہ ہو گئے۔آصف زرداری نے بلاول ہائوس لاہور میں قیام کے دوران حلقہ ا...

لاہور کے بلدیاتی انتخابات میں کلین سوئپ کریں گے،آصف علی زرداری

کسٹم انٹیلی جنس کا جامع کلاتھ مارکیٹ میں چھاپہ، اسمگلنگ شدہ کپڑا ضبط، احتجاج وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

تاجروں کی جانب سے سخت احتجاج بھی کام نہ آیا، کسٹم انٹیلی جنس نے جامع کلاتھ مارکیٹ سے کروڑوں مالیت کے کپڑا ضبط کرلیا۔کراچی کی مشہور جامع کلاتھ مارکیٹ میں کسٹم انٹیلی جنس نے چھاپہ مارا، جس کے دوران انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چھاپہ غیر قانونی اشیا کی موجودگی کی اطلاع پر مارا گیا۔فریسکو چوک پر کسٹم کارروائی کے خلاف تاجر سڑکوں پر نکل آئے۔ مقامی تاجروں کے احتجاج کے باعث فریسکو چوک میدان جنگ بن گیا۔ احتجاج کے دوران فائرنگ اور پتھرا کے نتیجے میں دو افراد ...

کسٹم انٹیلی جنس کا جامع کلاتھ مارکیٹ میں چھاپہ، اسمگلنگ شدہ کپڑا ضبط، احتجاج

اگلی وبا کورونا سے زیادہ مہلک ہوسکتی ہے، موجد آکسفورڈ کورونا ویکسین وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

آکسفورڈ آسٹرا زینیکا ویکسین کی شریک موجد نے کہا ہے کہ آئندہ وبائیں کرونا وائرس سے بھی زیادہ مہلک ہو سکتی ہیں اس لئے کرونا سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رچرڈ ڈمبلبی لیکچر میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سارہ گلبرٹ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پہلا یا آخری موقع نہیں جس میں کسی وائرس کے سبب ہماری زندگیاں یا معاشی صورتحال متاثر ہوئی ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ اگلی وبا سے اس سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ وہ اس سے بھی زیادہ مہلک یا متعدی ہو سکتی ہے۔سارہ کے مطابق ہم ایسی صورتحال کی اجازت نہیں دے...

اگلی وبا کورونا سے زیادہ مہلک ہوسکتی ہے، موجد آکسفورڈ کورونا ویکسین

خواتین یا بچوں کے مقابلے میں مرد کووڈ کو زیادہ پھیلاتے ہیں، تحقیق وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ خواتین یا بچوں کے مقابلے میں مرد کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو زیادہ پھیلاتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کی اس تحقیق کا اصل مقصد پرفارمنگ آرٹ کے ذریعے کووڈ 19 کے پھیلائو کو دیکھنا تھا۔مگر محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ خواتین یا بچوں کے مقابلے میں مرد کورونا کے وائرل ذرات کو زیادہ پھیلاتے ہیں۔تحقیق میں 75 سے زیادہ افراد کو شامل کیا...

خواتین یا بچوں کے مقابلے میں مرد کووڈ کو زیادہ پھیلاتے ہیں، تحقیق

اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور میانمار کے نمائندوں کی شمولیت ...

اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی

پاکستان 41 سال بعد افغانستان پراو آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی کررہا ہے،ترجمان دفتر خارجہ وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 19دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اجلاس میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کوشرکت کی  دعوت دی ہے۔ یورپی یونین ، اقوام متحدہ اور اس کی امدادی ایجنسیوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اجلاس میں جرمنی، جاپان، کینیڈا اورآسٹریلیا کو بھی شرکت کی دعوت دی ج...

پاکستان 41 سال بعد افغانستان پراو آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی کررہا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

کراچی پر پھر بجلی گرادی،صارفین کیلئے 3روپے 75پیسے مہنگی وجود - منگل 07 دسمبر 2021

کراچی کے صارفین کیلئے بجلی 3روپے 75مہنگی کر دی گئی اس حوالے سے نیپرا نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی ستمبر کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ مد میں مہنگی کی گئی ،اضافہ دسمبر کے بجلی بلوں میں وصول کیا جائے گا ،نیپرا نے ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کیلئے نومبر میں سماعت کی تھی۔

کراچی پر پھر بجلی گرادی،صارفین کیلئے 3روپے 75پیسے مہنگی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس،نیب سے ریکوریز کی تفصیلات طلب وجود - منگل 07 دسمبر 2021

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اگلا ان کیمرہ اجلاس چھ جنوری کو طلب کرتے ہوئے نیب سے ریکوریز کی تفصیلات مانگ لیں جبکہ چیئر مین نیب نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ترین ادارہ ہے، اس بارے میں کسی کو کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے، نیب کا چار سال کا آڈٹ ہو چکا ہے، ایک دو بار جائز وجوہات کی بنیاد پر پی اے سی میں پیش نہیں ہوسکا، نیب اپنے آپ کو قانون سے بالا تر نہیں سمجھتا، میں چیئرمین نیب ہوں، مغلیہ بادشاہ نہیں ہوں،نیب احتساب کیلئے ہر وقت تیار ہے جس پر چیئر مین پی اے سی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ...

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس،نیب سے ریکوریز کی تفصیلات طلب

سپریم کورٹ کا سندھ میں 25 ہزار روپے اجرت کیخلاف حکم امتناع وجود - منگل 07 دسمبر 2021

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ میں 25 ہزار روپے اجرت کے خلاف حکم امتناع دیدیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سندھ میں کم از کم اجرت 25 ہزار روپے مقرر کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے حکم امتناع دیتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹسز جاری کردیئے۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کم از کم اجرت کے مقرر طریقہ کار پر معاونت کریں، سندھ کابینہ نے 25 جون کو 25 ہزار روپے کم از کم ا...

سپریم کورٹ کا سندھ میں 25 ہزار روپے اجرت کیخلاف حکم امتناع

رانا شمیم نے پیرتک بیان حلفی جمع نہ کرایا تو فرد جرم عائد کرینگے،اسلام آباد ہائیکورٹ وجود - منگل 07 دسمبر 2021

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیان حلفی کیس میں کہا ہے کہ اگر پیر تک رانا شمیم کا بیان حلفی نہ آیا تو ان پر فرد جرم عائد کریں گے۔منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی تو رانا شمیم ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ پرائیویٹ ڈاکومنٹ تھا اس نے پبلش کرنے کے لیے نہیں رکھا تھا ، رانا شمیم نے کہا کہ پبلش ہونے کے بعد اس سے رابطہ کیاگیا ، خبر دینے والے صحافی کا کہنا ہے کہ اس نے خبر ش...

رانا شمیم نے پیرتک بیان حلفی جمع نہ کرایا تو فرد جرم عائد کرینگے،اسلام آباد ہائیکورٹ

بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود - منگل 07 دسمبر 2021

بھارت میں مغل دور میں قائم ہونے والی تاریخی بابری مسجد کو شہید ہوئے 29 برس کا عرصہ گزر گیا، بابری مسجد کو بھارتی انتہاپسند ہندو جماعت وشو اہندو پریشد اور بھارتی جنتا پارٹی کے کارکنوں اور حمایتیوں نے حملہ کر کے مسمار کر دیا تھا۔وشوا ہندو پریشد، راشٹریہ سویم سنگھ اور بی جے پی 1980 سے ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک چلا رہی تھیں۔ 6 دسمبر1992 کو انہی انتہاپسندہندو جماعتوں نے ایودھیا میں ایک ریلی نکالی جس نے پر تشدد صورت اختیار کر لی ، نتیجے میں بابری مسجد ...

بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

مضامین
غم و شرمندگی وجود بدھ 08 دسمبر 2021
غم و شرمندگی

گامیرے منوا وجود بدھ 08 دسمبر 2021
گامیرے منوا

گوادر دھرنا اورابتر گورننس وجود بدھ 08 دسمبر 2021
گوادر دھرنا اورابتر گورننس

تندور بنتی دنیا وجود بدھ 08 دسمبر 2021
تندور بنتی دنیا

کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

اشتہار

افغانستان
اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی وجود بدھ 08 دسمبر 2021
اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی

طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز