وجود

... loading ...

وجود

پاکستان بھنور میں آ چکا، سنگین مسائل کا حل نکالنا ہے، اسحاق ڈار

بدھ 28 دسمبر 2022 پاکستان بھنور میں آ چکا، سنگین مسائل کا حل نکالنا ہے، اسحاق ڈار

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا ڈیفالٹ ہونے کا کوئی چانس نہیں ، ثابت کر سکتا ہوں کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، یہ ماضی کا پاکستان نہیں، کیوں ڈیفالٹ کر جائے گا؟۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشکل حالات ضرور ہیں لیکن پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، زرِمبادلہ کے ذخائر کم ہیں مگر ڈیفالٹ کا خطرہ بالکل نہیں، یہ ملک رہے گا، ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا گیا ہے جس کے بعد کوئی ڈالر تو کوئی سونا خرید رہا ہے، پاکستان بھنور میں آ چکا ہے، جس سے نکالنا ہے، سنگین مسائل ہیں لیکن ہمیں ان کا حل نکالنا ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ کا رونا رونے والے کس کے لیے کام کر رہے ہیں؟ ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 2013 میں ادارے ایک ڈالر بھی نہیں دے رہے تھے، معاشی حالات انتہائی ابتر تھے، ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، کہا جا رہا تھا کہ الیکشن کے بعد 6 ماہ میں ملک ڈیفالٹ کر جائے گا، مگر ہم نے 3 سال میں معیشت کھڑی کر دی تھی۔ وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ سستی سیاست کے لیے ملک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، پاکستان کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا روکنا ہے، سیاسی مقاصد کے لیے ایسی باتیں کرنا درست نہیں، ڈالر کی ہمسایہ ملک کو اسمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے، ڈالر، گندم، کھاد کی اسمگلنگ روکنی ہے، جس کی ہدایت کر دی ہے، سرحدی علاقوں میں ڈالر کی اسمگلنگ کو روکنا ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم پیرس کلب نہیں جائیں گے، بانڈ ادائیگی کی افواہیں چلیں لیکن وہ ادا کر دیا گیا، معیشت ٹھیک کرنے کی ذمہ داری لی ہے، کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنانا، پاکستان کی معیشت ٹھیک کریں گے۔وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے تاجروں اور صنعت کاروں سے کہا کہ اپنی تجاویز چیئرمین ایس ای سی پی کے پاس جمع کرائیں، آپ آئیڈیاز شیئر کرتے رہیں، ہم ان پر غور کریں گے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے لیے ایف بی آر کی پالیسی کو بھی نرم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے ملکی معیشت کو بہتر سمت میں لے جایا جا سکتا ہے، دنیا کی پانچویں اسٹاک مارکیٹ اس وقت انتہائی مشکل میں ہے، خواہش ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کا گولڈن دور واپس آئے۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں ایس ای سی پی پر توجہ نہیں دی گئی، سب سے پہلے اسٹاک ایکسچینج اور ایس ای سی پی پر فوکس کیا، شفاف طریقے سے کام کا آغاز کیا، 2 ویک اینڈز لگا کر تمام عمل مکمل کیا، ایس ای سی پی اور سبسڈی لا میں ترامیم کیں، ایس ای سی پی میں 3 ڈائریکٹرز نہیں تھے، شفافیت سے یہ مرحلہ طے کیا۔ان کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت میں بہتری کے لیے کوشاں ہیں، ہمیں کارپوریٹ سیکٹر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ملکی معیشت کی بہتری میں اسٹاک مارکیٹ کا کلیدی کردار ہے، ہمارے گزشتہ دور میں پاکستان سٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیا کی بڑی مارکیٹ تھی، یقین ہے کہ پاکستان کا روشن مستقبل ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک سے گزشتہ ہفتے ملاقات کی، درآمدی ادائیگیوں کے لیے اسٹیٹ بینک کی پیشگی شرط ختم کر دی ہے، پاکستان کا مستقبل شاندار ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان کو وہاں لا کر کھڑا کیا ہے جو اس کا مقام نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈکٹیٹر آئی ایم ایف کا پروگرام پورا نہیں کر سکے، ن لیگ کی حکومت نے پروگرام پورا کیا تھا، شرحِ سود کا تعین اسٹیٹ بینک کرتا ہے، ترکیے میں بھی مہنگائی بلند ہے لیکن ان کی شرحِ سود 9 فیصد ہے، معیشت پر جو تجربے ہوئے ان کا میں جواب دہ نہیں ہوں، میں پاکستان کے ایشوز ہینڈل کر رہا ہوں۔وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ پوری دنیا کو مشکل معاشی حالات کا سامنا ہے، ملک کو سنگین مسائل سے نکالنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہو گا، حکومت اصلاحات کرتی ہے، کاروباری طبقہ بہتری کے لیے اقدامات کرتا ہے، ہماری اپنی کمزوریوں اور پالیسیوں کی وجہ سے ملک نیچے جاتا ہے، پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا روکنا ہو گا، ہم ایک ایک ارب ڈالر کے لیے بھاگ رہے ہیں، معیشت پر سیاست نہ کی جائے۔


متعلقہ خبریں


حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20لیٹر پیٹرول100 روپے قیمت پر دینے کا اعلان،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا، ٹرک، گڈز اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر سبسڈی ملے گی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے،وزیرپیٹرولیم، وزیر خزانہ...

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ وجود - جمعه 03 اپریل 2026

ایرانی اعلیٰ کمانڈر کی ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری ، دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے، ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا ، اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ زمی...

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم وجود - جمعه 03 اپریل 2026

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار عمران خان ، بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی سوالیہ نشان قرار،پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی، سیاسی صورتحال اور پیٹرول بحران سمیت متع...

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی وجود - جمعه 03 اپریل 2026

شہدا کی تعداد 1 ہزار 318 ہوگئی، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں پر تاڑ توڑ حملے کئے 48 فوجی زخمی ہونے کی اسرائیلی تصدیق، مجتبیٰ خامنہ ای کی حزب اللہ کو خراج تحسین پیش اسرائیل نے لبنان پر مزید فضائی حملے کئے، بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بمباری سے سولہ افراد شہید جبکہ چھبیس زخمی ہو...

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

کیس میں 2 مزید ملزمان اور 1 گواہ کا اضافہ ،آئندہ سماعت پر کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے گا چالان میں بانی پی ٹی آئی ودیگر ملزم نامزد ،تفتیشی افسر طبعیت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ک...

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا

عمران خان رہائی فورس کی تشکیل، آئینی عدالت نے سہیل آفریدی، حکومتسے جواب طلب کرلیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے، وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو،سماعت کے دوران عدالت کا استفسار سزا یافتہ انسان کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے، سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں،رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی ح...

عمران خان رہائی فورس کی تشکیل، آئینی عدالت نے سہیل آفریدی، حکومتسے جواب طلب کرلیا

سانحہ گل پلازہ، جاں بحق 61 خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ معاوضہ مل گیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

843 دکان داروں کو فی کس 5 لاکھ، 11 کیسز پر فیصلہ ہونا باقی، وزیراعلیٰ کو بریفنگ پلازہ پر کام جلد شروع کیا جائے،متاثرہ تاجروں کیلئے مالی امداد کیلئے 600 ملین مختص سانحہ گل پلازا میں جاں بحق ہوئے افراد میں سے 61 خاندانوں کو فی کیس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیدیا گیا 11 کیسز پر فیصلہ...

سانحہ گل پلازہ، جاں بحق 61 خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ معاوضہ مل گیا

بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی رہائی فورس لانچ ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو گئی پی ٹی آئی نے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے عمران رہائی فورس کے منصوبے کو مسترد کر دیا،ذرائع بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟ تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار ہوُگئی، وزیر اعلیٰ خیبر ...

بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار

دہشت گردوں ،پشت پناہی کرنیوالوں کو نہیں چھوڑیں گے،صدرمملکت،وزیراعظم وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

زرداری،شہباز ،وزیرداخلہ ودیگر کا دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کو خراج تحسین حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہے،صدر،وزیراعظم صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف،وزیرداخلہ محسن نقوی ودیگر نے خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر ...

دہشت گردوں ،پشت پناہی کرنیوالوں کو نہیں چھوڑیں گے،صدرمملکت،وزیراعظم

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ وجود - بدھ 01 اپریل 2026

پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ

مضامین
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

مریم ،نسیم اورعزیزی وجود جمعه 03 اپریل 2026
مریم ،نسیم اورعزیزی

بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا وجود جمعرات 02 اپریل 2026
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا

مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے! وجود جمعرات 02 اپریل 2026
مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے!

ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟ وجود جمعرات 02 اپریل 2026
ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر