... loading ...
محمد آصف
علم و فضل کی دنیا ایک بار پھر سوگوار ہے ۔ ایک ایسی عظیم شخصیت، جس نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، امت کی رہنمائی، معاشرتی اصلاح اور علمی تحقیق کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی، آج ہمارے درمیان موجود نہیں رہی۔ ِنَّا لِلَّٰہِ وَِنَّا ِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ استاذ الاساتذہ، قبلہ مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر نے لاکھوں دلوں کو غمزدہ کر دیا ہے ۔ آپ کا وصال صرف ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ علم، حکمت، اعتدال اور اخلاص کے ایک روشن باب کا اختتام ہے ۔
مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمہ اللہ کا شمار ان جلیل القدر علماء میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی علمی بصیرت،فقہی مہارت اور متوازن طرزِ فکر کے ذریعے دینِ اسلام کی حقیقی روح کو عام کیا۔ آپ نے ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں مسائل کا حل پیش کیا اور امت کو شدت پسندی، تعصب اور انتہا پسندی سے دور رہنے کی تلقین فرمائی۔ آپ کی شخصیت علم و عمل، تقویٰ و اخلاص اور حلم و بردباری کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی علمی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع تھا۔ درس و تدریس کے میدان میں آپ نے ہزاروں طلبہ کی تربیت فرمائی۔ آپ کے شاگرد آج ملک و بیرونِ ملک مختلف علمی و دینی اداروں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔آپ نہ صرف ایک عظیم استاد تھے بلکہ ایک بہترین مربی اور مخلص راہنما بھی تھے ۔ آپ کی مجالس علم وحکمت کا خزانہ ہوتی تھیں جہاں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی علمی و عملی تشنگی بجھانے کے
لیے حاضر ہوتے تھے ۔
مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمہ اللہ کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی اعتدال پسند اور تحقیقی فکر تھی۔ آپ نے ہمیشہ اختلافی مسائل میں توازن، تحمل اور وسعتِ نظر کا مظاہرہ کیا۔ آپ کے فتاویٰ جذبات کے بجائے دلائل اور تحقیق پر مبنی ہوتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے فیصلوں اور آراء کو عوام و خواص دونوں حلقوں میں غیر معمولی اعتماد حاصل تھا۔ آپ نے اپنی علمی بصیرت سے نہ صرف پیچیدہ دینی مسائل کو آسان بنایا بلکہ لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت اور اعتماد بھی پیدا کیا۔ معاشرتی اصلاح کے میدان میں آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ خصوصاً خاندانی اور ازدواجی مسائل کے حل میں آپ کی کوششیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ایسے بے شمار خاندان جو غلط فہمیوں، غصے ، جذباتی فیصلوں یا شرعی مسائل سے ناواقفیت کے باعث ٹوٹنے کے قریب تھے ، آپ کی حکمت، تحقیق اور مخلصانہ رہنمائی سے دوبارہ یکجا ہوئے ۔ آپ نے خاندان کے ادارے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہر ممکن کوشش کی کہ گھرانے بکھرنے کے بجائے مضبوط ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہزاروں خاندان آپ کے لیے دعاگو ہیں اور آپ کے احسانات کو فراموش نہیں کر سکتے ۔
آپ نے ہمیشہ دین کو آسانی، رحمت اور خیر خواہی کے ساتھ پیش کیا۔ آپ کا طرزِ گفتگو نرم، مدلل اور دلنشین تھا۔ آپ اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ بھی احترام اور حسنِ اخلاق کا معاملہ کرتے تھے ۔ یہی اوصاف آپ کو عوام الناس کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کرتے تھے ۔ آپ نے کبھی شہرت، منصب یا دنیاوی مفادات کو اپنا مقصد نہیں بنایا بلکہ ساری زندگی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور امت کی بھلائی کے لیے کام کیا۔
مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمہ اللہ کی زندگی نوجوان نسل کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقی عالم وہ ہے جو علم کے ساتھ حلم، تحقیق کے ساتھ اعتدال اور دین کے ساتھ خدمتِ خلق کو بھی اپنائے ۔ آج جب معاشرہ مختلف فکری اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے ، ایسے میں آپ کی تعلیمات اور افکار ہماری رہنمائی کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔آپ کے وصال سے پیدا ہونے والا خلا بلاشبہ آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا۔ علمی دنیا ایک ایسے چراغ سے محروم ہو گئی ہے جس کی روشنی سے ہزاروں لوگ مستفید ہو رہے تھے ۔ تاہم اہلِ علم کی حقیقی زندگی ان کے افکار، شاگردوں، علمی آثار اور خدمات کے ذریعے جاری رہتی ہے ۔ مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمہ اللہ کا علمی فیضان بھی ان شاء اللہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا رہے گا اور لوگ آپ کے کام سے استفادہ کرتے رہیں گے ۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کی زندگی سے سبق حاصل کریں۔ علم کو تحقیق کے ساتھ، اختلاف کو احترام کے ساتھ اور دین کو محبت و اعتدال کے ساتھ پیش کرنے کی روایت کو آگے بڑھائیں۔ یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔ اگر ہم ان کے مشن کو جاری رکھنے کی کوشش کریں، معاشرے میں اصلاح، اتحاد اور خیر خواہی کے جذبے کو فروغ دیں تو یقیناً یہ ان کے لیے صدقئہ جاریہ بنے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو دنیا میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے منتخب فرمایا ہوتا ہے ۔ مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمہ اللہ بھی انہی خوش نصیب ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دین کی خدمت اور امت کی فلاح کے لیے وقف کیے رکھا۔ ان کی وفات اگرچہ اہلِ علم اور عوام دونوں کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے ، لیکن ان کی خدمات، ان کا کردار اور ان کی علمی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ۖ کے صدقے مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے ، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے ، ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے ، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان، شاگردوں، متعلقین اور تمام عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے ۔آمین یا رب العالمین۔
٭٭٭٭