وجود

... loading ...

وجود

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

منگل 16 جون 2026 ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

بے لگام / ستار چوہدری

میں نے پانچ سال ایک خواب کے ساتھ گزارے ، ایک کتاب لکھی، ایک خیال کو الفاظ دیے ، ایک امید کو صفحات میں قید کیا،کتاب کا
نام رکھا ” پاکستان بچاؤ ”۔یہ کوئی ناول نہیں تھا، نہ شاعری کا مجموعہ، نہ یادداشتوں کی کتاب، یہ ایک سوال تھا، ایک تجویز تھی، ایک خواہش تھی
کہ شاید ہم اپنے ملک کو بہتر بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ سکیں۔تقریب کی تاریخ طے ہوئی، مقررین سے رابطے ہوئے ، کتابیں
ان کے گھروں تک پہنچائی گئیں، وقت لیا گیا، سب کچھ تیار تھا۔لیکن پھر ایک عجیب دن طلوع ہوا،وہ دن جس نے مجھے صرف ایک تقریب کے بارے میں نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کے بارے میں بھی بہت کچھ سکھا دیا۔کوئی مقرر نہ آیا۔ نہ جانے کیوں ؟ مجھے تقریب ملتوی
کرنا پڑی۔ایک دوست نے پوچھا!! اگر کوئی کتاب کی تقریب میں نہ آئے تو کیا کتاب ناکام ہو جاتی ہے؟ میں نے مسکرا کر کہا، اگر ایسا ہوتا
تو دنیا کی آدھی بڑی کتابیں کبھی زندہ نہ رہتیں، کتابوں کی قسمت ہالوں میں نہیں لکھی جاتی، وہ قارئین کے دلوں میں لکھی جاتی ہے ، ایک
تقریب ملتوی ہو سکتی ہے ، ایک تاریخ بدل سکتی ہے ، ایک پروگرام منسوخ ہو سکتا ہے ، مگر ایک خیال کو کیسے ملتوی کیا جا سکتا ہے؟ ایک خواب کو
کیسے روکا جا سکتا ہے ؟ ایک لفظ کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ میں نے اپنی میز پر رکھی کتاب کو دیکھا تو اچانک احساس ہوا کہ کل بھی یہ کتاب یہی
تھی، آج بھی یہی ہے ، اس کے صفحات کم نہیں ہوئے ، اس کے الفاظ مٹ نہیں گئے ، اس کے خواب مر نہیں گئے ،اس کے خیالات ختم نہیں
ہوئے ۔ پھر آخر نقصان کیا ہو؟ صرف اتنا کہ سفر میں ایک رکاوٹ آ گئی۔اور رکاوٹیں منزلوں کو ختم نہیں کرتیں، صرف مسافروں کا امتحان لیتی
ہیں۔ میرے گاؤں کے ایک بزرگ کہا کرتے تھے ، بیٹا!!اگر پہلی دستک پر دروازہ نہ کھلے تو یہ مت سمجھنا کہ گھر خالی ہے ،کبھی کبھی اندر والوں
کو آنے میں وقت لگ جاتا ہے ۔ شاید خیالات کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ، کچھ خیالات فوراً قبول نہیں کیے جاتے ، کچھ خواب فوراً نہیں سمجھے جاتے ، مگر ۔۔۔اگر ان میں سچائی ہو تو وہ اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں۔
پانچ سال۔۔ یہ کوئی پانچ دن یا پانچ مہینے نہیں تھے ، پانچ سال انسان کی زندگی میں ایک طویل عرصہ ہوتے ہیں، پانچ سال میں بچے
جوان ہو جاتے ہیں، دوست بدل جاتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں۔ اور بعض اوقات انسان خود بھی بدل جاتا ہے ۔ مگر کچھ خواب ایسے
ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے ، یہ کتاب بھی میرے لیے کچھ ایسی ہی تھی، میں جب بھی پاکستان کے
مسائل دیکھتا، دل میں ایک سوال اٹھتا۔ کیا ہم صرف شکایت کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ کیا ہمارا کام صرف خرابیوں کی نشاندہی کرنا
ہے ؟ یا پھر ہمیں حل بھی تلاش کرنے چاہئیں؟ شاید اسی سوال نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ میں نے تعلیم کے بارے میں سوچا، عدلیہ کے
بارے میں سوچا، سکیورٹی کے بارے میں سوچا، معیشت کے بارے میں سوچا، سیاحت، معدنیات، بندرگاہیں، آئین، طرزحکومت، دہشت
گردی و دیگر مسائل کے بارے میں سوچا۔ اور پھر جو کچھ سمجھ سکا، جو کچھ سیکھ سکا، اسے صفحات پر منتقل کرتا گیا۔مجھے معلوم تھا کہ ہر شخص میری
بات سے اتفاق نہیں کرے گا، اختلاف تو علم کی دنیا کا حسن ہوتا ہے ، میری خواہش صرف اتنی تھی کہ گفتگو شروع ہو، لوگ سوچیں، سوال
کریں، اپنی رائے دیں۔ اور اگر میری کسی تجویز سے بہتر تجویز موجود ہو تو اسے سامنے لائیں۔ پھر وہ دن آیا جس کا انتظار تھا،اور پھر وہی ہوا
جو شاید میرے منصوبے میں شامل نہیں تھا، تقریب ملتوی کرنا پڑی، ایک لمحے کے لیے دل ضرور بوجھل ہوا، لیکن پھر میری نظر ان چند دوستوں
پر پڑی جو اس دن آئے تھے ، وہ لوگ جو نہ مقرر تھے ، نہ مہمانِ خصوصی۔نہ ان کے پاس بڑی تقریریں تھیں، نہ بڑے عہدے ، وہ صرف مخلص
لوگ تھے ۔ اور بعض اوقات چند مخلص لوگ، ایک بھرے ہوئے ہال سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ زندگی ہمیشہ
ہمیں وہ نہیں دیتی جس کی ہم توقع کرتے ہیں، لیکن اکثر وہ ہمیں وہ ضرور دے دیتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے ۔ اور شاید اس دن
مجھے بھی ایک سبق درکار تھا۔
اس دن مجھے ایک اور بات بھی سمجھ آئی، ہم میں سے اکثر لوگ کامیابی کو بہت غلط طریقے سے ناپتے ہیں، ہم کرسیوں کو گنتے ہیں، لوگوں کو
گنتے ہیں، تالیوں کو گنتے ہیں، تعریفوں کو گنتے ہیں،مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جس مقصد کے لیے سفر شروع کیا تھا، وہ ابھی بھی زندہ ہے یا نہیں۔
میں رات کو گھر واپس آیا تو الماری میں پڑی کتاب پر نظر پڑی، وہ خاموش تھی، مگر اس کی خاموشی میں ایک عجیب سا سوال تھا، کیا تم نے مجھے
اس لیے لکھا تھا کہ ایک تقریب ہو جائے ؟ میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر مجھے خود ہی جواب مل گیا۔ نہیں۔ میں نے یہ کتاب کسی تقریب کے
لیے نہیں لکھی تھی، میں نے یہ کتاب اس امید کے ساتھ لکھی تھی کہ شاید کوئی نوجوان اسے پڑھے گا، شاید کوئی استاد اس کے کسی خیال پر غور
کرے گا، شاید کوئی طالب علم اس کے کسی صفحے پر رک جائے گا، شاید کوئی شخص مجھ سے اختلاف کرے گا اور ایک بہتر راستہ تجویز کرے گا،
اور یہ سب کچھ ابھی بھی ممکن ہے ، کیونکہ ملتوی تقریب ہوئی تھی، کتاب نہیں۔ میں آج بھی وہی شخص ہوں جس نے پانچ سال پہلے یہ سفر
شروع کیا تھا۔ میرے پاس آج بھی وہی قلم ہے ، وہی خیالات ہیں، وہی خواب ہیں، وہی خواہش ہے کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ ،تعلیم
یافتہ، منصف اور محفوظ ملک بنے ، اگر ایک دروازہ بند ہو جائے تو خواب ختم نہیں ہوتے ، اگر ایک راستہ رک جائے تو سفر ختم نہیں ہوتا، اگر
ایک تقریب ملتوی ہو جائے تو خیالات مر نہیں جاتے ، زندگی کا شاید سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ منزل تک پہنچنے والے لوگ رکاوٹوں کا ماتم
نہیں کرتے ، وہ ان کے اردگرد سے گزرنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔
آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو میرے دل میں کسی کے لیے شکوہ نہیں ہے ، نہ کسی سے ناراضی ہے ۔ کیونکہ زندگی نے مجھے یہ سکھا دیا
ہے کہ ہر شخص اپنی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے ۔اور ہر انسان اپنے حالات کا قیدی بھی ہو سکتا ہے ۔ ہاں، ایک لمحے کے لیے مایوسی ضرور ہوئی تھی۔
لیکن پھر میں نے سوچا کہ اگر ایک ملتوی ہونے والی تقریب میرے حوصلے کو ختم کر دے تو پھر پانچ سال کی محنت کا مطلب ہی کیا رہ جاتا ہے؟ آخر میں نے یہ سفر کسی ہال تک پہنچنے کے لیے تو شروع نہیں کیا تھا، میں نے یہ سفر ایک خیال کے لیے شروع کیا تھا۔ اور خیالات کا سفر
تاریخوں کا محتاج نہیں ہوتا، آج بھی کتاب میرے سامنے موجود ہے ، اس کے صفحات ویسے ہی ہیں، اس کے الفاظ ویسے ہی ہیں، اس کے
خواب ویسے ہی ہیں۔ اور پاکستان کے لیے میری امید بھی ویسی ہی ہے ، اس لیے میں اس واقعے کو ناکامی نہیں سمجھتا، یہ صرف راستے میں
آنے والا ایک موڑ تھا، ایک سبق تھا، ایک یاد دہانی تھی کہ دنیا میں کسی کو راستے نہیں دیے جاتے ، راستے بنانے پڑتے ہیں، کبھی تنہا چل کر، کبھی
چند مخلص دوستوں کے ساتھ چل کر۔ اور کبھی خاموشی سے اپنے خوابوں پر یقین قائم رکھ کر۔ شاید چند سال بعد مجھے یہ دن یاد بھی نہ رہے ، شاید
مجھے یہ بھی یاد نہ رہے کہ کون آیا تھا اور کون نہیں آیا تھا، لیکن مجھے یقین ہے کہ مجھے ایک بات ضرور یاد رہے گی، میں نے ایک خواب دیکھا تھا،
میں نے اس خواب کو الفاظ دیے تھے ۔ اور جب راستے میں پہلی بڑی رکاوٹ آئی تو میں نے خواب چھوڑنے کے بجائے سفر جاری رکھنے کا
فیصلہ کیا تھا۔ کیونکہ تقریبیں ملتوی ہو سکتی ہیں، تاریخیں بدل سکتی ہیں، لوگ بدل سکتے ہیں، مگر جو خواب قوموں کی بھلائی کے لیے دیکھے
جائیں، وہ اتنی آسانی سے نہیں مرتے ۔ اور میں آج بھی یقین رکھتا ہوں کہ اگر نیت سچی ہو، خیال سچا ہو اور قلم دیانت دار ہو، تو وقت ایک دن
ضرور گواہی دیتا ہے ۔ آخرکار، کتابوں کا فیصلہ ہجوم نہیں کرتا۔وقت کرتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر