... loading ...
ب نقاب /ایم آر ملک
کیا ہم ناکام ریاست کی بد مست وحشت کا شکار ہیں ؟
یہ تشدد اور ریاستی جبر کا رستہ ہے ،زندگی اس مقام پر لوگوں کو لارہی ہے جہاں بغاوت واجب ہی نہیں ناگزیر بھی ہوجاتی ہے ،ہم ایک غیر
معمولی عہد میں جی رہے ہیں ،جہاں سانسوں کی قیمت محکوم طبقات کو چکانی پڑتی ہے ،بڑھتے ہوئے معاشی و سیاسی بحران نے فارم 47کے
حکمرانوں کو سوچنے ،سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کردیا ہے ،ان کے پاگل پن ،وحشت اور جنون نے بے گناہ افراد کا کبھی ڈی چوک ،کبھی مرید کے ،کبھی بالاکوٹ میں قتل عام کیا۔ چکوال میں سی سی ڈی کی گولیوں کا شکار بننے والی معصوم روح یہ سوال پوچھتی ہے ۔اک عرصہ سے حکومتی
جگادری سی سی ڈی کے قاتل جتھے کو ہیرو بناکر پیش کر رہے ہیں ،مریم نواز کی یہ پولیس سیاسی مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ پر مامور ہے ،خون اور
بربریت کا کھیل ہے کہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔
کیا حقائق کو مسخ کرنا ،اجتماعی شعور کو متذبذب،ابہام کا شکار رکھنا اور خوف و ہراس کی فضا کو بر قرار رکھنا حکمرانی کا وصف ہے ؟
ایک شدید عوامی رد عمل سوشل میڈیا پر سامنے آیا ،انتشار اور افراتفری کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے ،سرمایہ دار میڈیا کے لے پالک ملازم
ایک مکروہ جعلی قیادت کو اُبھارنے کی مصنوعی کوششوں ،اس کے بھیانک ماضی اور دولت کی چمک سے مرعوب ہوکر ،کالے دھن میں ملوث
ریاستی اداروں کی جعلسازیوں کے بے نقاب ہوجانے کی وجہ سے ایک بار پھر اپنی روایت کی خار دار آغوش میں پناہ لینے پر مجبور نظر آتے ہیں،
بغض ِ عمران میں عدلیہ کو نئی زبانیں اور پرانے الفاظ عطا کئے جا چکے ہیں ،بلوچستان کی نسل در نسل لڑی جانے والی حقوق کی تحریک میں ہر
سیکھنے اور سمجھنے والے شخص کیلئے نشانیاں موجود ہیں مگر اس آدمی کو کوئی نہیں سمجھا سکتا جو سمجھنا نہ چاہتا ہو اور اسے کوئی نہیں سکھا سکتا جسے نہ سیکھنے کی
تنخواہ ملتی ہو ۔
اقتدار اور لوٹ مار کی اس ہوس ناکی کے ماحول میں سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی کی ملکیت کے سوال کو سب سے زیادہ اُبھارا جارہا
ہے ، 78برسوں کے قابضین اپنے تسلط کی ڈولتی کشتی کو دیکھ کر نئے نئے حربوں کے کھلاڑی بن چکے ہیں ،بھتہ خوری اور لوٹ مار میں مسلح
سانجھے داروں سے بجٹ پاس کرالیا گیا ،جب معاشی زوال ایک مالیاتی انہدام کی طرف بڑھ رہا ہو ،ملکی سالمیت اور بقا خطرے میں ہو تو ایسی
سیاسی فضا میں سرمایہ دارانہ نقطہ نظر سے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ مضحکہ خیزلگتا ہے ، 28ویں ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں
کی بات ہورہی ہے مگر ان کے مشیروں کو کون سمجھائے کہ صوبے اور اضلاع بنانے کیلئے صحت مند معیشت اور ترقی کرتی ہوئی صنعت کی
ضرورت ہوتی ہے ،معیشت کی حالت اس قریب المرگ بوڑھے مریض جیسی ہے جو کسی ہسپتال کے وارڈ میں بستر پر بے یارومددگار پڑا ہو اور
اس کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہ ہو ،جاہل سیاست دان ہر وقت بھینس کی طرح لفظ ”صوبہ ”کی جگالی کرتے نظر آتے ہیں ۔ رجیم چینج
اور فارم 47کی حکمرانی کوعمران خان کے خوف نے امریکی سامراج کی کاسہ لیسی ،ٹیکس چوری ،بد عنوانی ،چاپلوسی میں انسانیت کے معیار
سے بھی نیچے گرنے پر مجبور کردیا ہے ،ایک جوکر وزیر اعظم کو کسی انتہائی بد شکل ہیجڑے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جو محض اپنی ضرورت اور لذت
کے اوچھے اور بھونڈے ترین ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے ،بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دینے کو نوبل امن انعام کیلئے منتخب کرنے کے
خواہشمندوں کی استدعا کو ٹرمپ نے مسترد کردیا ہے ،ٹرمپ اس پراکسی جنگ کو پاکستانی ریاست کو زیادہ سے زیادہ مطیع رکھنے اور ماضی کے
قول و قرار کی یاد دہانی کیلئے بطور پریشر برقرار رکھنے کا خواہاں نظر آتا ہے ،غربت کی لاش پر ناچتے حالیہ بحران نے اس نظام کی غیر طبعی موت کا
عندیہ دے دیا ہے ،ایک مرتے ہوئے نظام کی نمائندہ فکر ،فلسفہ اور دانش بھی علالت اور غلاظت کی دلدل میں گردن تک دھنس چکے ! سرمائے
کی آمریت کو مروجہ طریقوں سے مسلط رکھنے کی تدابیر سے محرومی نوشتہ دیوار ہے ،تحفظاتی سوچ حاوی ہورہی ہے ،غیر یقینی اور عدم استحکام
نے نظام کا تانا بانا ادھیڑ کر رکھ دیا ہے ،تمام تضادات قابل مصالحت ہوتے ہیں مگر بحران اور زوال کی شدت مصالحت کے ہر عمل کو سبوتاژ
کردیتی ہے ۔کبھی کبھی ندامت اور خجالت طاقت کی رعونت میں ضم ہوکر وحشت اور بربریت کی شکل اختیار کر لیتی ہے ،جس کا مظاہرہ کشمیر
میں ہم دیکھ رہے ہیں ،دو بڑی پارٹیوں کے گماشتے کشمیریوں کے مسیحا بننے کی کوشش کررہے ہیں ،نفرتوں کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے ،
بربریت کا کونسا باب ہے جو نہیں لکھا جارہا۔ مگر ٹی وی ٹاک شوز اور اخباری کالموں کی سطروں اور شہ سرخیوں سے کب تک خون ٹپکتا رہے گا ،
اس خونی ڈرامے کی اور کتنی اقساط ابھی باقی ہیں یہ وہ سوال ہیں جو نوجوانوں کی سہمی ہوئی آنکھوں میں باآسانی پڑھے جاسکتے ہیں ان تمام
محرومیوں ،اذیتوں اور بربادیوں کا جواب مجتمع شدہ شکل میں کسی بھی وقت سیاسی افق پر نمودار ہوگا ،کیونکہ معاشرے ناانصافی کے بغیر زیادہ
دیر نہیں چلتے ، حتمی فیصلہ اوپر والا کرتا ہے جس کا وقت آپہنچا شاید !
٭٭٭