وجود

... loading ...

وجود

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم خلاف آئین ہونے پر حکومت سے جواب مانگ لیا

بدھ 20 جولائی 2022 سپریم کورٹ نے نیب ترامیم خلاف آئین ہونے پر حکومت سے جواب مانگ لیا

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر نیب ترامیم خلاف آئین ہونے پر حکومت سے جواب طلب کر لیا جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ آئین میں کسی بھی شخص کا وقار ایبسلیوٹ ہے، ان تمام سوالات کی بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے تھی، میری ذاتی رائے ہے کہ یہ معاملہ واپس پارلیمنٹ کو جائے گا، اس قانون پر حکم امتناعی نہیں دے سکتے،،چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی مفاد عامہ اور ملک کی خاطرذاتی ترجیحات پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، کیا آپ کی جماعت نے ایسا لائحہ عمل بنایا کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالا جا سکے؟۔سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل تھے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیر قانون کا کہنا ہے ہر ترمیم کی سپورٹ میں عدالتی فیصلے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے۔ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں متصادم تو ہیں لیکن ان کے مطابق نہیں، بہت سے ترامیم کو جلد بازی میں منظور کیا گیا ہے۔ ترامیم کے بعد کسی کو فائدہ پہنچانے پر کیس نہیں بنے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مخصوص فرد کیلئے بنے قانون کو عدالت کالعدم کر سکتی ہے، سرکار کا کام آگے بڑھنا چاہیے اور فیصلہ سازی ہونی چاہیے، نیب قانون کی وجہ سے سرکاری افسران فیصلہ کرنے سے ڈرتے ہیں، جو ترامیم بنیادی حقوق کے خلاف نہیں، انہیں الگ رکھنا ہوگا۔ کرپشن کرنے والے کو سزا ہونی چاہیے نہ کہ اس کا کیا گیا کوئی ضروری فیصلہ ہی واپس ہوجائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین میں کسی بھی شخص کا وقار ایبسلیوٹ ہے، ان تمام سوالات کی بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے تھی، میری ذاتی رائے ہے کہ یہ معاملہ واپس پارلیمنٹ کو جائے گا، اس قانون پر حکم امتناعی نہیں دے سکتے۔پی ٹی آئی نے نیب ترامیم کا ملزمان کو فائدہ پہنچانے کو عدالتی فیصلے سے مشروط کرنے کی استدعا کی جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن کی جانب سے پی ٹی آئی کی استدعا کی مخالفت کی گئی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ریلیف عدالتی فیصلے سے مشروط ہوتو حکومت کو کیا مسئلہ ہے؟۔پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کئی مقدمات میں ٹرائل کورٹس میں ریلیف کی درخواستیں آچکی ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ اگر ترامیم کالعدم ہوئیں تو ملنے والا فائدہ واپس ہوجائے گا،فائدہ ملنے کے بعد واپس ہونے سے قانونی چارہ جوئی شروع ہوجائے گی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ترامیم چیلنج ہوچکی ہیں، مناسب ہوگا پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ احتساب عدالت میں زیر التوا ء کیسز کو موجودہ کیس کے فیصلے سے مشروط کر دیتے ہیں۔اس موقع پر عدالت نے کیس کی سماعت 29 جولائی دن 11 بجے تک کے لیے ملتوی کردی، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا۔اس سے قبل دوران سماعت سربراہ پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث صاحب، آپ نے درخواست پر بڑی محنت کی ہے،وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ محنت تو انہوں نے بھی بڑی کی ہے جنہوں نے ترامیم کیں۔چیف جسٹس پاکستان نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ وزیر قانون کا کہنا ہے نیب قانون کی ہر ترمیم کی سپورٹ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے، کیا ایسا ہی ہے؟ جواب میں وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہے، ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متصادم تو ہیں لیکن ان کے مطابق نہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ بہت سی ترامیم کو جلد بازی میں منظورکیا گیا ہے، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ کیا یہ قانون سازوں کا کام نہیں تھا کہ نیب قانون بنائے جائیں؟ عدالتوں نے متعدد بار کہا کہ نیب قوانین بنائے جائیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون میں موجودہ ترامیم کرکے بنیادی حقوق سلب کیے گئے،پارلیمان کل قرار دے کہ قتل جرم نہیں ہے تو کیا ایسا ہونے دیا جائے؟۔جسٹس منصور نے اس پر کہا کہ اگر پارلیمنٹ قتل کے جرم پر سزائے موت ختم کردے تو عدالت کیا کرسکتی ہے؟ کیا عدالت پارلیمنٹ کو کہہ سکتی ہے کہ سزائے موت ختم نہ کی جائے؟۔جسٹس اعجازالااحسن نے ریمارکس میں کہا کہ 2022 کی نیب ترامیم کو 1985 سے موثر کیا گیا، 2022 کی ترامیم کوماضی سے موثر کرنے سے پرانے کیسز پر فرق پڑے گا۔پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سزائے موت ختم کرنے کا معاملہ مختلف ہے، جہاں کرپشن اور قومی خزانے کا معاملہ ہو وہاں بات بنیادی حقوق کی آتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے کہا کہ نیب قانون کا تعلق صرف پبلک آفس ہولڈرز سے نہیں ہے، سرکار کا کام آگے بڑھنا چاہیے، نیب کے قانون نے بہت سے معاملات میں رکاوٹ بھی پیدا کی ہے، خاص طور پر بیوروکریسی پر نیب قانون کا بڑا اثر پڑا ہے،مخصوص فرد کیلئے بنے قانون کوعدالت کالعدم کرسکتی ہے۔جسٹس منصور نے کہا کہ فیصلہ سازملکی مفاد کے فیصلوں سے اس لیے ڈرتے تھے کہ نیب نہ پکڑلے، نیب قانون نے ہمیں پیچھے بھی دھکیلا ہے، یہی وقت ہے کہ ہم ان سب قوانین کو بغوردیکھیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں مخصوص افراد کیلئے ہوئی قانون سازی عدالت کالعدم قرار دے چکی ہے،کرپشن کرنے والے کو سزا ہونی چاہیے نا کہ اس کا کیا گیا ضروری فیصلہ ہی واپس ہو جائے۔جسٹس منصور نے کہا کہ کیا نیب نے آج تک ملکی ترقی میں کردار ادا کیا ہے یا فیصلہ سازی کو روکا ہے؟ اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال ہوتا ہے یا نہیں، ہر حکومت اپنی اپوزیشن کے خلاف نیب کو استعمال کرتی ہے۔پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت اعتماد کی بنیاد پر ہے، اگر فیصلہ ساز عوام کا اعتماد توڑیں تو ان سے سوال کا حق ہونا چاہیے، ایسے تو پبلک آفس ہولڈر کہے گا کہ میں جیسے چاہوں حکومت چلاوں کسی کو جوابدہ نہیں،آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف قانون سازی بھی کالعدم ہوجاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں وجود اتوار 15 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں

اگلے ہدف کی بازگشت وجود اتوار 15 مارچ 2026
اگلے ہدف کی بازگشت

بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر