... loading ...
اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ ارکان ایوان میں لائیں گے اور 172 سے زائد ووٹ لیں گے۔ اس بات کا اعلان سابق صدر آصف علی زرداری، قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی قراردادکی ضرورت کیوں پڑی اس پر بات کریں گے سلیکٹڈ وزیراعظم نے ملک کیساتھ جو کچھ کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، بیروزگاری نے ملک میں بصیرے کر رکھے ہیں عام آدمی کیلئے اپنا جسم بحال رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور پی ٹی آئی حکومت نے سی پیک کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ سال مل کر تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا تھا جس کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ کل ہماری مشاورت ہوئی تھی اور تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم آج ہم نے تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اور آج ہر شخص منگائی اور بیروزگاری سے تنگ ہے۔ کیا مہنگائی بیرونی سازش کی وجہ سے ہوئی ؟قائد حزب اختلاف نے کہا کہ خارجہ محاذ پر بھی حکومت ناکام ہو چکی ہے جبکہ وزیر اعظم نے حالیہ تقریر کے دوران یورپی ممالک کو بھی ناراض کر دیا،ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمارا بہترین دوست ہے جبکہ میلسی میں تقریر کے دوران انتہا کردی اور بیٹھے بٹھائے ہمارے یورپی یونین اور دوسرے ممالک کو ناراض کردیا، سب کو پتہ ہے کہ پاکستان یورپ اور شمالی امریکا میں اربوں ڈالر کی تجارت کرتا ہے اور آپ نے بیٹھے بٹھائے کارتوس چلا دیے، انہوں نے جو زبان استعمال کی وہ انہیں زیب نہیں دیتی۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر بدترین انتقام کیا گیا۔ ہم نے فیصلے ذاتی مفاد کے لیے نہیں کیے بلکہ پاکستانی عوام کے لیے کیے ہیں اور یہ کہنا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے سراسر غلط ہے۔ بی اے پی سے کہا ہے کہ ہمارا ساتھ دیں۔ ان سے میری اور آصف علی زرداری کی بھی بات ہوئی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ وزارت عظمی اور آئندہ انتخابات سے متعلق متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ فیصلہ ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا اور یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کی خواہشات اور دعاوں کا عکاس ہے، آج ہم نے تحریک عدم اعتماد اسپیکر کے دفتر میں جمع ہو چکی ہے۔پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ(پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں اس حکومت سے کوئی خوش فہمی نہیں تھی، جب سے انہوں نے این جی اوز کے ذریعے سے مغربی تہذیب کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی تو ہم نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ پاکستانی نہیں ہے، یہ کسی بیرونی ایجنڈے کا ایجنٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2018 انتخابات کے ایک ہفتے کے اندر اندر ایک متفقہ موقف تیار کر لیا تھا کہ الیکشن ناجائز ہوا ہے، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے اور ہم اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے بعد تحریک کا آغاز ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی ریلیوں اور مارچ سے ان سلیکٹڈ حکمرانوں کے اصل چہروں کو بے نقاب کیا ہے، ہم قوم کے سامنے شرمندہ نہیں ہیں، ہم نے جو کہا تھا وہ ایک ایک بات حقیقت بن کر عام آدمی کے سامنے موجود ہے اور ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ ملک انحطاط کی طرف گیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ جب 17-2018 کا بجٹ پیش کیا جا رہا تھا جو تو شرح نمو ساڑھے پانچ فیصد تھی اور اگلے سال سالانہ ترقی کا تخمینہ ساڑھے چھ فیصد لگایا گیا تھا لیکن یہ حکومت ہماری سالانہ ترقی کا تخمینہ صفر سے بھی نیچے لے آئی، ملک کی معیشت کمزور ہو گئی اور معیشت کمزور ہونے کے بعد اب کوئی ملک آپ کو پیسہ دے کر ضائع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ان کا کہنا تھاکہ آج اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے اور اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں، ان کی بساط لپٹ چکی ہے اور اب کوئی آئیڈیل باتیں ان کے لیے سودمند نہیں ہوسکتیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ اپوزیشن ملک کے مفاد پر متحد ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت چین کے ساتھ رابطے میں رہی اور سی پیک کی طرف بڑھ رہی تھی، مسلم لیگ کی حکومت نے یہ نہیں کہا کہ پیپلز پارٹی نے غلط کیا بلکہ فروغ دیا اور ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھی اور چین جیسے ملک کے ذریعے دنیا سے تجارت کا شاہراہ دیا، ہم نے اتنے بڑے دوست کو مایوس کردیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کو مستحکم بنانا چاہتے ہیں، جکسی ادارے سے بھی کوئی دشمنی نہیں لیکن ان کے فیصلوں اور رویوں سے اختلاف کا جب بھی موقع آیا ہے تو اس کو چھپایا بھی نہیں ہے، برملا اور بصداحترام اختلاف رائے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو چکی ہے، ہم کامیابی پر یقین رکھتے ہیں اور تحریک عدم اعتماد ان نااہلوں اور نالائقوں کے خلاف کامیاب ہو گی اور قوم عنقریب نجات کی خوشخبری سنے گی۔سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ کسی کو بھی حق نہیں کہ وہ کسی کی زبان بند کرے۔ صحافت جمہوریت کا بڑا ستون ہے ، ہمارے دور میں بھی مجھ پر الزامات لگے میں نے برداشت کیا اپوزیشن کے دوستوں نے سوچااب نہیں توکبھی نہیں ایسا سلسلہ چل رہا تھا کہ ہم نے کہا مزید بگڑے گا کوئی بنابھی نہیں سکے گا۔انہوں نے کہا کہ مشاورت کے بعد فیصلہ کیاکوئی پارٹی تنہامسائل سے نہیں نکال سکتی مل کر کام کیا، ان دوستوں کو بھی مدعوکریں گے جو ہم سے دورہیں آنیوالی نسلوں کوموجودہ مشکل سے آزادی دلائیں گے ہم سب مل کر آنے والی نسلوں کوموجودہ مشکل سے آزادی دلائیں گے۔ سابق صدر نے دعوی کیا کہ تحریک عدم اعتماد میں172 سے زیادہ ووٹ لیں گے یہ چاہتے میں ان کوتعدادبتادوں کیا نام بھی بتادوں ان کے لوگ ان سے ناراض ہے،حلقوں میں کیاجواب دیں گے ماضی میں اسٹیبلشمنٹ میرے خلاف تھی پھر بھی تحریک ناکام کی غلام اسحاق نے ہماری حکومت ختم کی لیکن اب میں نے صدر کے پاس اختیار ہی نہیں چھوڑا۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...