وجود

... loading ...

وجود

سانحہ مری،متحدہ اپوزیشن کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

منگل 11 جنوری 2022 سانحہ مری،متحدہ اپوزیشن کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

متحدہ اپوزیشن نے مری سانحہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک انتظامی اور بدترین نااہلی و نالائقی کا مجرمانہ فعل ہے جس کی کوئی معافی نہیں ، وزیر اعظم صاحب اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں، ایک وزیر نے بیان دیا معیشت اتنی ترقی کررہی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مری جا رہے ہیں اور مہنگے ہوٹل میں رہ رہے ہیں اور جب حادثہ ہوا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، ایک نیرو اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں انتظامی امور کی آڑ میں بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا، مری میں حادثہ ہو چکا تھا ،ان کو قطعاً علم نہیں تھا،یہ قتل عام کیا ہے ،قوم خون انہیں معاف نہیں کرے گی۔ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت تقریباً پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔شہباز شریف نے کہاکہ مری کے اندوہناک سانحے پر یہ ایوان بحث کرنا چاہتا ہے ایوان میں اس کی اجازت دی جائے،منی بل پر بحث اگلے روز رکھی جائے جس پر اسد قیصر نے کہاکہ جی بالکل منی بل پر اگلے روزہی بحث ہو گی مری سانحے پر بحث کی جائیگی۔ بحث کے آغاز پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مری سانحے پر وزیراعظم عمران خان کی ٹوئٹ پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے مری حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ موسم کی حالت دیکھے بغیر بڑی تعداد میں لوگوں نے مری کا رخ کیا، ضلعی انتظامیہ شہریوں کے رش اور بے مثال برفباری کے لیے تیار نہیں تھی۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مری میں پیش آنے والے سانحے میں 23 افراد کے جاں بحق ہونے پر پورے ایوان کی طرف سے تعزیت کرتا ہوں، وہاں برفباری جاری تھی اور گاڑیوں میں 20 گھنٹے لوگ پھنسے رہے تاہم کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ معصوم بچے، جوان اور بزرگ دم توڑ گئے اور 20 گھنٹے انہیں کسی نے نہیں پوچھا، میں سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ کوئی قدرتی حادثہ تھا یا یا انسانوں کا قتل عام تھا، حقیقت یہ ہے کہ وہاں کوئی انتظام نہیں تھا، ٹریفک پولیس موجود نہیں تھی اور برف ہٹانے کی ذمے دار سی ایم ڈبلیو بھی موجود نہیں تھی۔انہوںنے کہاکہ وہ لوگ اپنی جان کی بھیک مانگتے رہے لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، یہ ایک انتظامی اور بدترین نااہلی و نالائقی کا مجرمانہ فعل ہے جس کی کوئی معافی نہیں ہے، جب محکمہ موسمیات نے ان کو خبردار کردیا تھا کہ شدید برفباری ہونے والی ہے تو حکومت نے کیا انتظامات کیے تھے۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر مری میں بے پناہ رش تھا تو مزید سیاحوں کو جانے سے روکنے کے لیے انہوں نے کیا انتظامات کیے، کیا انہوں نے ریڈ الرٹ جاری کیا کیونکہ محکمہ موسمیات کی وارننگ کے بعد اس کی شدید ضرورت تھی۔انہوںنے کہاکہ یہ پہلا موقع تو نہیں تھا کہ مری میں اتنی برف پڑی ہو یا سیاحوں کا اتنا رش ہو، یہ تو پچھلے دو سال کووڈ کی وجہ سے لوگ مری اور دوسرے پہاڑوں پر نہ جا سکے لیکن اب انہوں نے ملکہ کوہسار کا رخ کیا تو ان کی انتظامی نااہلی سے یہ خوشی کا موقع غم میں بدل گیا جس پر پورا پاکستان اشکبار ہے لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔انہوں نے کہا کہ ٹوئٹ کی جاتی ہے کہ انتظامیہ تیاری نہیں تھی، اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔انہوںنے کہاکہ ایک وزیر نے بیان دیا کہ معیشت اتنی ترقی کررہی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مری جا رہے ہیں اور مہنگے ہوٹل میں رہ رہے ہیں اور جب یہ حادثہ ہوا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، ایک نیرو اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں انتظامی امور کی آڑ میں بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا، مری میں حادثہ ہو چکا تھا اور ان کو قطعاً علم نہیں تھا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مری اور دیگر سیاحتی مقامات پر ہر سال ہزاروں لوگ تفریح کرنے جاتے ہیں، چھوٹے موٹے سائل حل کیے جاتے ہیں، مری میں احتیاطی تدابیر وضع کی جاچکی ہیں جس پر ہر سال عمل ہوتا تھا، نمک کا اسٹاک رکھا جاتا تھا، مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اربوں روپے کی مشینری وہاں منگوا کر رکھی اور سی ایم ڈبلیو سمیت اداروں کو فنڈ دیے جاتے تھے تاکہ سڑک کی مرمت کی جائے، یہ سب ایس او پیز موجود تھے، فنڈز تقسیم کیے جاتے تھے لیکن اس سال اس کا دور دور تک نام و نشان موجود نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح انہوں نے پاکستان کی معیشت تباہ و برباد کی، بالکل اسی طرح انہوں نے مری کے واقعے کو ڈیل کیا ہے، یہ ایک مجرمانہ فعل ہے، ان 23 افراد کی موت کی 100فیصد ذمے دار یہ حکومت ہے اور انہوں نے یہ قتل عام کیا ہے اور قوم یہ خون انہیں معاف نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ کتنا بڑا سنگین مذاق ہے کہ واقعے کی تحقیقات کیلئے سرکاری افسران پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے، قصور واقعہ پر سب نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم اب ان کی بدترین مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں 23 افراد اللہ کو پیارے ہو گئے اور یہ سرکاری افسران کی کمیٹی بنا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ قتل معاف نہیں ہو گا اور پوری اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سپیکر صاحب کا شکریہ کہ سانحہ مری پر بحث کرانے کا فیصلہ کیا ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد کے اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی مری لوگوں کی مدد نہ کی جاسکے ۔ انہوںنے کہاکہ سب کو یاد ہوگا وزیر اعظم کی ایک رشتہ دار چترال پھنس گئی تھیں تو فوج کا ہیلی کاپٹر بھیجا گیا تھا ،مری میں ہونے والے واقعہ کا کوئی تو نوٹس لیتا ۔ انہوںنے کہاکہ ایک وزیر ایک روز قبل لاکھوں لوگوں کے مری جانے کا جشن منارہا تھا ،اس قسم کی منافقت پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔ انہوںنے کہاکہ ایک دن قبل وہ وزیر کیا کہہ رہا تھا ایک دن بعد کیا کہہ رہا تھا ،پی ٹی آئی والے جب سے اقتدار میں آئے ہیں، مرنے والوں کو ہی موردالزام ٹھہراتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہزارہ برادری کی لاشوں پر بلیک میل ہونے کا بیان دیدیا ،وزیر اعظم اب کہتا ہے کہ انتظامیہ نے غیر ذمہ داری دکھائی ۔ انہوںنے کہاکہ عدالتی تحقیقات کا پوری اپوزیشن مطالبہ کرتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے کہاکہ مری سانحہ ڈیزاسٹر نہیں بلکہ غفلت کا نتیجہ ہے،اگر حکومت بروقت اقدامات کرتی تو ایسا سانحہ نہ ہوتا،ماضی میں بھی برفباری کے واقعات ہوئے لیکن کوئی اموات نہیں ہوئیں کیونکہ انتظامیہ تیار تھی،قدرتی آفات کے لئے تیار ہونا حکومت کی ذمہ داری ہے،چیف منسٹر پنجاب نے خود تسلیم کیا کہ میں ابھی سیکھ رہا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ سی ایم نے سیکھنے سیکھنے میں اتنی جانیں لے لیں،، مزید سیکھنے کے لئے کتنی جانیں چاہئیں،اب تو موسم کی پیشگوئی پہلے سے ہی ہوجاتی ہے،اتنی بڑی غفلت تھی جس سے پاکستان کا دنیا میں امیج خراب ہوا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نیوکلیئر پاور اور ساتواں بڑا ملک ہیں لیکن برف سے لوگوں کو نہیں بچاسکے،جو لوگ بچوں کے ساتھ گاڑیوں میں پھنسے تھے ان کی موت کیسے ہوئی، سوچیں جب کوئی ریسپانس نظر نہیں آتا ہوگا ان کی کیا حالت ہوگی،آج تو پوری کابینہ ایوان میں ہونی چاہیے تھی۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کو پہلی تقریر کرنا چاہئے تھی اپنی ناکامی ماننی چاہئے تھی،حکومت کا رویہ غیرسنجیدہ ہے کیونکہ پارلیمنٹ کو اس کی حثیت نہیں دی جارہی،ذوالفقار بھٹو کو تختہ دار پر لے کر جارہے تھے لیکن اس نے جمہوریت پر سودا بازی نہیں کی۔ انہوںنے کہاکہ بینظیربھٹو نے پارلیمان کے عزت و احترام کے لئے جان دی،پارلیمان کو روز اول سے پارلیمان نہیں سمجھا گیا،حکومت کنٹینر سے ہی نہیں اتری۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے جس بدھ کو سوالوں کے جواب دینے کا اعلان کیا تھا وہ بدھ کب آئے گا،وزیراعظم غلام بنانے کے لئے ضرور آئیں گے جس دن آئی ایم ایف کا مطالبہ پورا کرنا ہوگا،اپنے لوگوں کی شہادت پر تعزیت کے لئے نہیں آئیں گے،یہ قوم اپنے ہاتھوں سے خوشی خوشی زنجیر پہننے کو تیار ہے،وزرا کو احساس ہے لیکن یہ مجبور ہیں۔اجلاس کے دور ان حکومتی اتحادی خالد مگسی اور اسلم بھوتانی کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اسپیکر نے چیف وہپ عامر ڈوگر کو منانے کیلئے بھیج دیا۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن صلاح الدین نے کہاکہ مری میں 23 افراد کی ہلاکت افسوسناک واقعہ ہے،پورا پاکستان سوگوار اور اشک بار ہے،حکومت یا اپوزیشن کی جانب سے اس واقعہ پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے،مری کی تحصیل انتظامیہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،این ڈی ایم اے پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،حکومت کو محکمہ موسمیات وارننگ کے بعد طوفانی برفباری پر ریڈ الرٹ جاری کرنا چاہیے تھا۔ انہوںنے کہاکہ پھنسے لوگوں نے ریسکیو سے بار بار درخواست کی لیکن کوئی مدد کیلئے نہیں پہنچا،مری کے حالات میں ہیلی کاپٹر سروس ممکن نہیں تھی۔ انہوںنے کہاکہ سیاحت انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکی ہے،حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہے،سانحہ مری جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔جے یو آئی کے مولانا اسعد محمودنے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام نے مری میں اپنی رضاکارانہ تنظیم کو ریلیف پہنچانے کی ہدایت کی،مدارس اور مساجد میں پھنسے ہوئے لوگوں کی انصارالاسلام نے خدمت کی،یہ وہی انصارالاسلام کے رضاکار ہیں جن پر پنجاب حکومت نے پابندی لگائی،میں حکومتی وزیر کی قومی اسمبلی میں تقریر پر کہوں گا انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہوںنے کہاکہ ہم حکومت سے غیر معمولی قدم کی توقع نہیں کررہے کہ یہ ذمہ داری قبول کرینگے،وزیراعظم کو ایوان میں قوم سے سہولیات نہ دینے پر معافی مانگنی چاہیے تھی،الیکشن ہارنے پر ووٹرز کو جاہل اور مہنگائی ہونے پر کہا جاتا ہے کہ دوسرے ممالک میں بھی مہنگائی ہے،سانحہ مری کا الزام پرانی حکومتوں پرنہیں ڈالنا چاہیے تھا۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن سانحہ مری پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعلی پنجاب 24 گھنٹوں کے بعد مری آئے،وزیراعلی کے دورہ کے بعد بھی فوری کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔اسلم بھوتانی نے کہاکہ سانحہ مری پر پورا ملک اشکبار ہے۔ انہوںنے کہاکہ گوادر اور دیگر علاقوں میں بارش سے کم تباہی نہیں ہوئی،بلوچستان حکومت جو کرتی تھی وہ کیا، وفاقی حکومت پیکج دے۔انہوںنے کہاکہ جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے ہیں ان کی داد رسی ہوسکے۔ انہوںنے کہاکہ گوادر سی پیک کا جھومر ہے،65 ارب ڈالر چین کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، گوادر کے غریب لوگوں کی مدد کی جائے۔آزاد رکن محمد اسلم بھوتانی نے کہاکہ اہل بلوچستان کی طرف سے سانحہ مری پر اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔ تحریک انصاف کے صداقت علی عباسی نے کہاکہ مری سانحے کا عینی شاہد ہوں اور وہاں موجود رہا ،جب یہ طوفان آیا تو پندرہ درخت اور بجلی کے کھمبے گر گئے اور شاہرہ بند ہو گئی ،اس روز کے دونوں جانب گھنا جنگل تھا وہاں پہنچنا مشکل تھا ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد کا ٹول پلازہ شام کو بند کر دیا گیا تھا، گاڑیوں میں لوگوں نے ہیٹر چلائے اور اموات ہوئیں ،اس سارے عمل میں ریسکیو آپریشن جاری رہا نمک کی سپلائی جاری رہی ،اسے مشین کے بغیر نہیں نکالا جا سکتا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ جھیکا گلی وہ جگہ ہے جہاں اپوزیشن لیڈر نے ڈیڑھ ارب روپے کا پارکنگ پلازہ منظور کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ڈیڑھ ارب میں شیخ انصر کو پلازے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ کہا گیا عام برف باری تھی مگر یہ برف باری عام نہیں تھی ،راستے بند ہوگئے ،کلڈنہ سے باڑیاں تک سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں ،گاڑیوں پر برف پڑ گئی جو ہٹائی نہ گئی ۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے اپنے ایک منظور نظر شیخ انصر کو ڈیڑھ ارب روپے کا مری پارکنگ پلازہ بنانے کا ٹھیکہ دیا جو آج بھی وجود نہیں رکھتا ،شیخ انصر عزیز کو پھر میئر اسلام آباد بنایا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعلی پنجاب نے مری کو ضلع بنانے اور دو پارکنگ پلانے بنانے کا اعلان کیا ہے ،مقامی لوگوں نے مشکل وقت میں لوگوں کی مدد کی ،مری ترقیاتی اتھارٹی بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔آغا حسن بلوچ نے کہاکہ انتظامیہ کی نا اہلی کے باعث سانحہ مری رونما ہوا،حکومت بڑے دعوے کرتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ گوادر اور دیگر اضلاع میں بارشوں سے تباہی آئی ہے،وفاقی حکومت گوادر کے فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے،گوادر میں لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت گوادر کے متاثرہ افراد کیلئے معاشی پیکج کا اعلان کرے،ریکوڈک بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہے،ہمیں ریکوڈک کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ دیا جاتا تب ہی بات بنے گی۔صلاح الدین ایوبی نے کہاکہ سانحہ مری پر پوری قوم سوگوار اور افسردہ ہے،حضرت عمر کے دور میں بیت المال سے غریبوں کی فلاح کی گئی،بلوچستان میں سیلابی ریلے میں تباہی ہوئی ہے،وفاقی حکومت بلوچستان کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان کرے۔شنیلا رتھ نے کہاکہ مارے جانے والوں کے لواحقین کی مالی امداد خاطر خواہ ہونی چاہئے۔ریاض فتیانہ نے کہا کہ پاکستان میں ہائی ویز یا شاہرات پر کہیں ایمرجنسی لین نہیں بنائی گئی،قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے ٹورسٹ پولیس بنائی جائے،متبادل سائٹس بھی ہونے چاہئیں، وادی سون سکیسر کو ڈویلپ کیا جائے،بلدیاتی اداروں کے ذریعہ ہوٹلوں کی سرٹیفیکیشن یقینی بنائی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ایمرجنسی صورتحال کے حوالے سے ٹورسٹوں کو معلومات دی جائیں،نئے یوتھ ہاسٹلز بنائے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے ذریعہ دو اور تھری اسٹارز ہوٹل بنائے جائیں،جیوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔مولانا عبد الاکبر چترالی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی نے برفباری کے بعد مری میں ریلیف کیلئے فوری اقدامات کیے،محکمہ موسمیات نے 6 جنوری کو مری میں شدید برفباری کی پیشین گوئی کی،مری میں 23 شہادتوں کی ذمہ دار وفاقی اور پنجاب حکومت ہے۔انہوںنے کہاکہ کہاں تھے کمشنر، این ڈی ایم اے اور دیگر ادارے؟،آفات کی صورت میں کیا ادارے صرف تنخواہیں لیں گے اور عوام مرتے رہیں گے؟۔انہوںنے کہاکہ حکومت کو شہدا کے لواحقین سے معافی مانگنی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ سانحہ مری میں شہید افراد کیلئے 50،50 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ پولیس کا اے ایس آئی بھی امداد لینے میں ناکام رہا،آئی جی اپنے اہلکار کو نہیں بچا سکے تو عوام کو کیسے بچائیں گے؟ہوٹل انتظامیہ ایک رات کیلئے 50 ہزار روپے مانگ رہی تھی۔ انہوںنے کہاکہ سانحہ مری پر ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تحقیقات کرے۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہاکہ سانحہ مری میں دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے،گزشتہ حکومتوں میں بھی سانحات ہوئے،سانحہ مری کی تحقیقات جاری ہیں،ملوث افراد جو سزا دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ مری میں برفباری کے وقت ایس او پیز کو معطل کیا گیا،شدید برفباری میں لائن مینوں کو کھمبوں پر چڑھایا گیا،ناہموار راستوں کے باوجود بجلی کی بحالی کا عمل شروع کیا گیا،مری میں گیس کی فراہمی میں بھی فوری اضافہ کیا گیا،بجلی اور گیس کے عملے نے فوری اقدامات کیے،حکومت سیزن میں ہوٹلوں میں ایڈوانس بکنگ پر عملدرآمد کرائے،اس سے لوگوں کا رش کم ہوگا۔انہوںنے کہاکہ مری 1890 کے ڈھانچے ہر چل رہا ہے،مری کو فوری ضلع بنایا جائے ،مری کے ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا،گیس دستیابی کے لحاظ سے گیس کے نئے کنکشنز دیں گے،کورونا کے دوران مستحق افراد کو سبسڈیز دی گئی ہیںپوائنٹ سکورنگ کی بجائے مثبت بحث کی جانی چاہیے۔میر منور تالپور نے کہاکہ شکر ہے مری سندھ میں نہیں ورنہ اس کی ذمہ داری بھی ہم پر لگ جاتی،عوام کو ہوٹل والوں نے خوب لوٹا، کمروں کے رینٹ بہت زیادہ کردئے گئے،حکومت کہاں تھی جب مری میں برف پڑ رہی تھی،برفانی طوفان سے نمٹنے کے انتظامات کیوں نہیں کیے گئے،مری واقعہ کی وجہ سے ہزاروں لوگ ٹراما میں ہیں۔ عامر ڈوگر نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فنانس بل پر(آج) منگل اور کل(بدھ) کوایوان میں بحث کرائی جائے گی ،قومی اسمبلی نے منگل کا نجی کارروائی کا ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک منظور کرلی۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) منگل کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر