وجود

... loading ...

وجود

سانحہ مری،متحدہ اپوزیشن کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

منگل 11 جنوری 2022 سانحہ مری،متحدہ اپوزیشن کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

متحدہ اپوزیشن نے مری سانحہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک انتظامی اور بدترین نااہلی و نالائقی کا مجرمانہ فعل ہے جس کی کوئی معافی نہیں ، وزیر اعظم صاحب اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں، ایک وزیر نے بیان دیا معیشت اتنی ترقی کررہی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مری جا رہے ہیں اور مہنگے ہوٹل میں رہ رہے ہیں اور جب حادثہ ہوا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، ایک نیرو اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں انتظامی امور کی آڑ میں بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا، مری میں حادثہ ہو چکا تھا ،ان کو قطعاً علم نہیں تھا،یہ قتل عام کیا ہے ،قوم خون انہیں معاف نہیں کرے گی۔ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت تقریباً پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔شہباز شریف نے کہاکہ مری کے اندوہناک سانحے پر یہ ایوان بحث کرنا چاہتا ہے ایوان میں اس کی اجازت دی جائے،منی بل پر بحث اگلے روز رکھی جائے جس پر اسد قیصر نے کہاکہ جی بالکل منی بل پر اگلے روزہی بحث ہو گی مری سانحے پر بحث کی جائیگی۔ بحث کے آغاز پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مری سانحے پر وزیراعظم عمران خان کی ٹوئٹ پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے مری حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ موسم کی حالت دیکھے بغیر بڑی تعداد میں لوگوں نے مری کا رخ کیا، ضلعی انتظامیہ شہریوں کے رش اور بے مثال برفباری کے لیے تیار نہیں تھی۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مری میں پیش آنے والے سانحے میں 23 افراد کے جاں بحق ہونے پر پورے ایوان کی طرف سے تعزیت کرتا ہوں، وہاں برفباری جاری تھی اور گاڑیوں میں 20 گھنٹے لوگ پھنسے رہے تاہم کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ معصوم بچے، جوان اور بزرگ دم توڑ گئے اور 20 گھنٹے انہیں کسی نے نہیں پوچھا، میں سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ کوئی قدرتی حادثہ تھا یا یا انسانوں کا قتل عام تھا، حقیقت یہ ہے کہ وہاں کوئی انتظام نہیں تھا، ٹریفک پولیس موجود نہیں تھی اور برف ہٹانے کی ذمے دار سی ایم ڈبلیو بھی موجود نہیں تھی۔انہوںنے کہاکہ وہ لوگ اپنی جان کی بھیک مانگتے رہے لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، یہ ایک انتظامی اور بدترین نااہلی و نالائقی کا مجرمانہ فعل ہے جس کی کوئی معافی نہیں ہے، جب محکمہ موسمیات نے ان کو خبردار کردیا تھا کہ شدید برفباری ہونے والی ہے تو حکومت نے کیا انتظامات کیے تھے۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر مری میں بے پناہ رش تھا تو مزید سیاحوں کو جانے سے روکنے کے لیے انہوں نے کیا انتظامات کیے، کیا انہوں نے ریڈ الرٹ جاری کیا کیونکہ محکمہ موسمیات کی وارننگ کے بعد اس کی شدید ضرورت تھی۔انہوںنے کہاکہ یہ پہلا موقع تو نہیں تھا کہ مری میں اتنی برف پڑی ہو یا سیاحوں کا اتنا رش ہو، یہ تو پچھلے دو سال کووڈ کی وجہ سے لوگ مری اور دوسرے پہاڑوں پر نہ جا سکے لیکن اب انہوں نے ملکہ کوہسار کا رخ کیا تو ان کی انتظامی نااہلی سے یہ خوشی کا موقع غم میں بدل گیا جس پر پورا پاکستان اشکبار ہے لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔انہوں نے کہا کہ ٹوئٹ کی جاتی ہے کہ انتظامیہ تیاری نہیں تھی، اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔انہوںنے کہاکہ ایک وزیر نے بیان دیا کہ معیشت اتنی ترقی کررہی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مری جا رہے ہیں اور مہنگے ہوٹل میں رہ رہے ہیں اور جب یہ حادثہ ہوا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، ایک نیرو اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں انتظامی امور کی آڑ میں بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا، مری میں حادثہ ہو چکا تھا اور ان کو قطعاً علم نہیں تھا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مری اور دیگر سیاحتی مقامات پر ہر سال ہزاروں لوگ تفریح کرنے جاتے ہیں، چھوٹے موٹے سائل حل کیے جاتے ہیں، مری میں احتیاطی تدابیر وضع کی جاچکی ہیں جس پر ہر سال عمل ہوتا تھا، نمک کا اسٹاک رکھا جاتا تھا، مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اربوں روپے کی مشینری وہاں منگوا کر رکھی اور سی ایم ڈبلیو سمیت اداروں کو فنڈ دیے جاتے تھے تاکہ سڑک کی مرمت کی جائے، یہ سب ایس او پیز موجود تھے، فنڈز تقسیم کیے جاتے تھے لیکن اس سال اس کا دور دور تک نام و نشان موجود نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح انہوں نے پاکستان کی معیشت تباہ و برباد کی، بالکل اسی طرح انہوں نے مری کے واقعے کو ڈیل کیا ہے، یہ ایک مجرمانہ فعل ہے، ان 23 افراد کی موت کی 100فیصد ذمے دار یہ حکومت ہے اور انہوں نے یہ قتل عام کیا ہے اور قوم یہ خون انہیں معاف نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ کتنا بڑا سنگین مذاق ہے کہ واقعے کی تحقیقات کیلئے سرکاری افسران پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے، قصور واقعہ پر سب نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم اب ان کی بدترین مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں 23 افراد اللہ کو پیارے ہو گئے اور یہ سرکاری افسران کی کمیٹی بنا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ قتل معاف نہیں ہو گا اور پوری اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سپیکر صاحب کا شکریہ کہ سانحہ مری پر بحث کرانے کا فیصلہ کیا ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد کے اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی مری لوگوں کی مدد نہ کی جاسکے ۔ انہوںنے کہاکہ سب کو یاد ہوگا وزیر اعظم کی ایک رشتہ دار چترال پھنس گئی تھیں تو فوج کا ہیلی کاپٹر بھیجا گیا تھا ،مری میں ہونے والے واقعہ کا کوئی تو نوٹس لیتا ۔ انہوںنے کہاکہ ایک وزیر ایک روز قبل لاکھوں لوگوں کے مری جانے کا جشن منارہا تھا ،اس قسم کی منافقت پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔ انہوںنے کہاکہ ایک دن قبل وہ وزیر کیا کہہ رہا تھا ایک دن بعد کیا کہہ رہا تھا ،پی ٹی آئی والے جب سے اقتدار میں آئے ہیں، مرنے والوں کو ہی موردالزام ٹھہراتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہزارہ برادری کی لاشوں پر بلیک میل ہونے کا بیان دیدیا ،وزیر اعظم اب کہتا ہے کہ انتظامیہ نے غیر ذمہ داری دکھائی ۔ انہوںنے کہاکہ عدالتی تحقیقات کا پوری اپوزیشن مطالبہ کرتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے کہاکہ مری سانحہ ڈیزاسٹر نہیں بلکہ غفلت کا نتیجہ ہے،اگر حکومت بروقت اقدامات کرتی تو ایسا سانحہ نہ ہوتا،ماضی میں بھی برفباری کے واقعات ہوئے لیکن کوئی اموات نہیں ہوئیں کیونکہ انتظامیہ تیار تھی،قدرتی آفات کے لئے تیار ہونا حکومت کی ذمہ داری ہے،چیف منسٹر پنجاب نے خود تسلیم کیا کہ میں ابھی سیکھ رہا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ سی ایم نے سیکھنے سیکھنے میں اتنی جانیں لے لیں،، مزید سیکھنے کے لئے کتنی جانیں چاہئیں،اب تو موسم کی پیشگوئی پہلے سے ہی ہوجاتی ہے،اتنی بڑی غفلت تھی جس سے پاکستان کا دنیا میں امیج خراب ہوا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نیوکلیئر پاور اور ساتواں بڑا ملک ہیں لیکن برف سے لوگوں کو نہیں بچاسکے،جو لوگ بچوں کے ساتھ گاڑیوں میں پھنسے تھے ان کی موت کیسے ہوئی، سوچیں جب کوئی ریسپانس نظر نہیں آتا ہوگا ان کی کیا حالت ہوگی،آج تو پوری کابینہ ایوان میں ہونی چاہیے تھی۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کو پہلی تقریر کرنا چاہئے تھی اپنی ناکامی ماننی چاہئے تھی،حکومت کا رویہ غیرسنجیدہ ہے کیونکہ پارلیمنٹ کو اس کی حثیت نہیں دی جارہی،ذوالفقار بھٹو کو تختہ دار پر لے کر جارہے تھے لیکن اس نے جمہوریت پر سودا بازی نہیں کی۔ انہوںنے کہاکہ بینظیربھٹو نے پارلیمان کے عزت و احترام کے لئے جان دی،پارلیمان کو روز اول سے پارلیمان نہیں سمجھا گیا،حکومت کنٹینر سے ہی نہیں اتری۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے جس بدھ کو سوالوں کے جواب دینے کا اعلان کیا تھا وہ بدھ کب آئے گا،وزیراعظم غلام بنانے کے لئے ضرور آئیں گے جس دن آئی ایم ایف کا مطالبہ پورا کرنا ہوگا،اپنے لوگوں کی شہادت پر تعزیت کے لئے نہیں آئیں گے،یہ قوم اپنے ہاتھوں سے خوشی خوشی زنجیر پہننے کو تیار ہے،وزرا کو احساس ہے لیکن یہ مجبور ہیں۔اجلاس کے دور ان حکومتی اتحادی خالد مگسی اور اسلم بھوتانی کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اسپیکر نے چیف وہپ عامر ڈوگر کو منانے کیلئے بھیج دیا۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن صلاح الدین نے کہاکہ مری میں 23 افراد کی ہلاکت افسوسناک واقعہ ہے،پورا پاکستان سوگوار اور اشک بار ہے،حکومت یا اپوزیشن کی جانب سے اس واقعہ پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے،مری کی تحصیل انتظامیہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،این ڈی ایم اے پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،حکومت کو محکمہ موسمیات وارننگ کے بعد طوفانی برفباری پر ریڈ الرٹ جاری کرنا چاہیے تھا۔ انہوںنے کہاکہ پھنسے لوگوں نے ریسکیو سے بار بار درخواست کی لیکن کوئی مدد کیلئے نہیں پہنچا،مری کے حالات میں ہیلی کاپٹر سروس ممکن نہیں تھی۔ انہوںنے کہاکہ سیاحت انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکی ہے،حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہے،سانحہ مری جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔جے یو آئی کے مولانا اسعد محمودنے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام نے مری میں اپنی رضاکارانہ تنظیم کو ریلیف پہنچانے کی ہدایت کی،مدارس اور مساجد میں پھنسے ہوئے لوگوں کی انصارالاسلام نے خدمت کی،یہ وہی انصارالاسلام کے رضاکار ہیں جن پر پنجاب حکومت نے پابندی لگائی،میں حکومتی وزیر کی قومی اسمبلی میں تقریر پر کہوں گا انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہوںنے کہاکہ ہم حکومت سے غیر معمولی قدم کی توقع نہیں کررہے کہ یہ ذمہ داری قبول کرینگے،وزیراعظم کو ایوان میں قوم سے سہولیات نہ دینے پر معافی مانگنی چاہیے تھی،الیکشن ہارنے پر ووٹرز کو جاہل اور مہنگائی ہونے پر کہا جاتا ہے کہ دوسرے ممالک میں بھی مہنگائی ہے،سانحہ مری کا الزام پرانی حکومتوں پرنہیں ڈالنا چاہیے تھا۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن سانحہ مری پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعلی پنجاب 24 گھنٹوں کے بعد مری آئے،وزیراعلی کے دورہ کے بعد بھی فوری کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔اسلم بھوتانی نے کہاکہ سانحہ مری پر پورا ملک اشکبار ہے۔ انہوںنے کہاکہ گوادر اور دیگر علاقوں میں بارش سے کم تباہی نہیں ہوئی،بلوچستان حکومت جو کرتی تھی وہ کیا، وفاقی حکومت پیکج دے۔انہوںنے کہاکہ جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے ہیں ان کی داد رسی ہوسکے۔ انہوںنے کہاکہ گوادر سی پیک کا جھومر ہے،65 ارب ڈالر چین کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، گوادر کے غریب لوگوں کی مدد کی جائے۔آزاد رکن محمد اسلم بھوتانی نے کہاکہ اہل بلوچستان کی طرف سے سانحہ مری پر اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔ تحریک انصاف کے صداقت علی عباسی نے کہاکہ مری سانحے کا عینی شاہد ہوں اور وہاں موجود رہا ،جب یہ طوفان آیا تو پندرہ درخت اور بجلی کے کھمبے گر گئے اور شاہرہ بند ہو گئی ،اس روز کے دونوں جانب گھنا جنگل تھا وہاں پہنچنا مشکل تھا ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد کا ٹول پلازہ شام کو بند کر دیا گیا تھا، گاڑیوں میں لوگوں نے ہیٹر چلائے اور اموات ہوئیں ،اس سارے عمل میں ریسکیو آپریشن جاری رہا نمک کی سپلائی جاری رہی ،اسے مشین کے بغیر نہیں نکالا جا سکتا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ جھیکا گلی وہ جگہ ہے جہاں اپوزیشن لیڈر نے ڈیڑھ ارب روپے کا پارکنگ پلازہ منظور کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ڈیڑھ ارب میں شیخ انصر کو پلازے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ کہا گیا عام برف باری تھی مگر یہ برف باری عام نہیں تھی ،راستے بند ہوگئے ،کلڈنہ سے باڑیاں تک سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں ،گاڑیوں پر برف پڑ گئی جو ہٹائی نہ گئی ۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے اپنے ایک منظور نظر شیخ انصر کو ڈیڑھ ارب روپے کا مری پارکنگ پلازہ بنانے کا ٹھیکہ دیا جو آج بھی وجود نہیں رکھتا ،شیخ انصر عزیز کو پھر میئر اسلام آباد بنایا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعلی پنجاب نے مری کو ضلع بنانے اور دو پارکنگ پلانے بنانے کا اعلان کیا ہے ،مقامی لوگوں نے مشکل وقت میں لوگوں کی مدد کی ،مری ترقیاتی اتھارٹی بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔آغا حسن بلوچ نے کہاکہ انتظامیہ کی نا اہلی کے باعث سانحہ مری رونما ہوا،حکومت بڑے دعوے کرتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ گوادر اور دیگر اضلاع میں بارشوں سے تباہی آئی ہے،وفاقی حکومت گوادر کے فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے،گوادر میں لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت گوادر کے متاثرہ افراد کیلئے معاشی پیکج کا اعلان کرے،ریکوڈک بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہے،ہمیں ریکوڈک کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ دیا جاتا تب ہی بات بنے گی۔صلاح الدین ایوبی نے کہاکہ سانحہ مری پر پوری قوم سوگوار اور افسردہ ہے،حضرت عمر کے دور میں بیت المال سے غریبوں کی فلاح کی گئی،بلوچستان میں سیلابی ریلے میں تباہی ہوئی ہے،وفاقی حکومت بلوچستان کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان کرے۔شنیلا رتھ نے کہاکہ مارے جانے والوں کے لواحقین کی مالی امداد خاطر خواہ ہونی چاہئے۔ریاض فتیانہ نے کہا کہ پاکستان میں ہائی ویز یا شاہرات پر کہیں ایمرجنسی لین نہیں بنائی گئی،قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے ٹورسٹ پولیس بنائی جائے،متبادل سائٹس بھی ہونے چاہئیں، وادی سون سکیسر کو ڈویلپ کیا جائے،بلدیاتی اداروں کے ذریعہ ہوٹلوں کی سرٹیفیکیشن یقینی بنائی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ایمرجنسی صورتحال کے حوالے سے ٹورسٹوں کو معلومات دی جائیں،نئے یوتھ ہاسٹلز بنائے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے ذریعہ دو اور تھری اسٹارز ہوٹل بنائے جائیں،جیوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔مولانا عبد الاکبر چترالی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی نے برفباری کے بعد مری میں ریلیف کیلئے فوری اقدامات کیے،محکمہ موسمیات نے 6 جنوری کو مری میں شدید برفباری کی پیشین گوئی کی،مری میں 23 شہادتوں کی ذمہ دار وفاقی اور پنجاب حکومت ہے۔انہوںنے کہاکہ کہاں تھے کمشنر، این ڈی ایم اے اور دیگر ادارے؟،آفات کی صورت میں کیا ادارے صرف تنخواہیں لیں گے اور عوام مرتے رہیں گے؟۔انہوںنے کہاکہ حکومت کو شہدا کے لواحقین سے معافی مانگنی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ سانحہ مری میں شہید افراد کیلئے 50،50 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ پولیس کا اے ایس آئی بھی امداد لینے میں ناکام رہا،آئی جی اپنے اہلکار کو نہیں بچا سکے تو عوام کو کیسے بچائیں گے؟ہوٹل انتظامیہ ایک رات کیلئے 50 ہزار روپے مانگ رہی تھی۔ انہوںنے کہاکہ سانحہ مری پر ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تحقیقات کرے۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہاکہ سانحہ مری میں دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے،گزشتہ حکومتوں میں بھی سانحات ہوئے،سانحہ مری کی تحقیقات جاری ہیں،ملوث افراد جو سزا دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ مری میں برفباری کے وقت ایس او پیز کو معطل کیا گیا،شدید برفباری میں لائن مینوں کو کھمبوں پر چڑھایا گیا،ناہموار راستوں کے باوجود بجلی کی بحالی کا عمل شروع کیا گیا،مری میں گیس کی فراہمی میں بھی فوری اضافہ کیا گیا،بجلی اور گیس کے عملے نے فوری اقدامات کیے،حکومت سیزن میں ہوٹلوں میں ایڈوانس بکنگ پر عملدرآمد کرائے،اس سے لوگوں کا رش کم ہوگا۔انہوںنے کہاکہ مری 1890 کے ڈھانچے ہر چل رہا ہے،مری کو فوری ضلع بنایا جائے ،مری کے ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا،گیس دستیابی کے لحاظ سے گیس کے نئے کنکشنز دیں گے،کورونا کے دوران مستحق افراد کو سبسڈیز دی گئی ہیںپوائنٹ سکورنگ کی بجائے مثبت بحث کی جانی چاہیے۔میر منور تالپور نے کہاکہ شکر ہے مری سندھ میں نہیں ورنہ اس کی ذمہ داری بھی ہم پر لگ جاتی،عوام کو ہوٹل والوں نے خوب لوٹا، کمروں کے رینٹ بہت زیادہ کردئے گئے،حکومت کہاں تھی جب مری میں برف پڑ رہی تھی،برفانی طوفان سے نمٹنے کے انتظامات کیوں نہیں کیے گئے،مری واقعہ کی وجہ سے ہزاروں لوگ ٹراما میں ہیں۔ عامر ڈوگر نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فنانس بل پر(آج) منگل اور کل(بدھ) کوایوان میں بحث کرائی جائے گی ،قومی اسمبلی نے منگل کا نجی کارروائی کا ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک منظور کرلی۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) منگل کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔


متعلقہ خبریں


نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر