وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

دل کا رستہ بھول گیا!

منگل 09 جون 2026 دل کا رستہ بھول گیا!

بے لگام / ستارچوہدری

شہرکے داخلی راستے پرایک خوبصورت تختی لگی ہوئی تھی ۔” خوش آمدید !! یہ کامیاب لوگوں کا شہرہے ”۔ تختی جھوٹ نہیں بولتی تھی۔ واقعی یہ کامیاب لوگوں کا شہر تھا،یہاں بڑے بڑے گھر تھے جن کے دروازے ریموٹ سے کھلتے تھے ،لمبی لمبی گاڑیاں تھیں جن کی قیمت میں کئی غریب خاندان پوری زندگی گزار سکتے تھے ،ہر دوسرے شخص کے نام کے ساتھ کوئی نہ کوئی بڑا عہدہ لکھا تھا،کسی کے پاس کمپنی تھی، کسی کے پاس فیکٹری، کسی کے پاس طاقت، کسی کے پاس شہرت۔۔ باہرسے دیکھنے والا شاید یہی سمجھتا کہ دنیا کی ساری خوشیاں اسی شہرمیں جمع ہوگئی ہیں۔ مگراس شہر کا ایک عجیب مسئلہ تھا، یہاں رات بہت مہنگی تھی، لوگ دن بھردولت کماتے تھے اوررات بھرنیند تلاش کرتے تھے ۔ بستروں کی قیمت لاکھوں میں تھی مگر نیند مفت ہونے کے باوجود نایاب تھی،سونے کے کمروں میں خاموشی تھی لیکن دلوں میں شور برپا تھا،لوگ تھکن سے چورہوتے تھے مگرآنکھیں بند کرنے کے بعد بھی دماغ دوڑتا رہتا تھا۔ کسی کو کاروبار ڈوبنے کا خوف تھا، کسی کو عہدہ چھن جانے کا ڈر تھا، کسی کو اپنی شہرت کے ختم ہونے کی فکر تھی۔ اور کچھ ایسے بھی تھے جو سب کچھ حاصل کر لینے کے بعد یہ سوچ سوچ کر پریشان تھے کہ اب اگلا ہدف کیا ہو گا۔ اس شہر میں ڈاکٹر بہت کامیاب تھے ، کیونکہ مریض بہت زیادہ تھے ، فرق صرف اتنا تھا کہ بیماریوں کے نام بدل گئے تھے ، اب لوگ بخار سے کم اور بے چینی سے زیادہ بیمار ہوتے تھے ، ان کے جسم صحت مند تھے مگر روحیں مسلسل تھکی ہوئی محسوس ہوتی تھیں، شاید اسی لیے اس شہرمیں قہقہوں کی آوازکم اورموبائل فون کی گھنٹیاں زیادہ سنائی دیتی تھیں۔ اورعجیب بات یہ تھی کہ جتنا کوئی شخص کامیاب ہوتا جاتا، اتنا ہی اکیلا ہوتا جاتا۔یہ شہرترقی کی دوڑ جیت چکا تھا، مگر ایسا لگتا تھا کہ کہیں راستے میں خوشی اس سے بچھڑ گئی تھی۔
اس شہرمیں ایک اورچیز بھی بہت قیمتی تھی۔” وقت ”۔ مگرعجیب بات یہ تھی کہ سب لوگ وقت بچانے میں لگے ہوئے تھے اورپھر بھی کسی کے پاس وقت نہیں تھا، ایک باپ صبح سویرے گھر سے نکلتا تھا،اس کے بچوں کے کمرے میں دنیا کے مہنگے ترین کھلونے موجود تھے ، ہرسال نئے تحفے آتے تھے ، نئی سائیکل آتی تھی، نیا موبائل آتا تھا، مگر بچوں کی ایک خواہش ہمیشہ ادھوری رہتی تھی، وہ چاہتے تھے کہ ان کا باپ ایک شام صرف ان کے ساتھ گزار لے ، لیکن باپ سمجھتا تھا کہ وہ ان کے لیے مستقبل بنا رہا ہے ، اور بچے سمجھتے تھے کہ ان کا حال ان سے چھن رہا ہے ۔ایک گھر میں بوڑھے والدین رہتے تھے ، ان کے بیٹے نے ان کے لیے بہترین دوائیں خرید رکھی تھیں، آرام دہ بستر بھی تھا، ایئرکنڈیشنر بھی تھا، ہرسہولت موجود تھی، صرف ایک چیز کی کمی تھی، بیٹے کی موجودگی، بوڑھی ماں اکثر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی اور باپ گھڑی کی طرف، مگر گھڑی کی سوئیاں تو واپس آ سکتی ہیں، گزرے ہوئے لمحے نہیں۔شہرکے ایک کونے میں ایک کامیاب میاں بیوی رہتے تھے ، دونوں کے پاس بہترین نوکریاں تھیں، بہترین گاڑی تھی، بہترین گھر تھا، بس ان کی گفتگو بہترین نہیں تھی، وہ ایک ہی میزپر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے لیکن نظریں ایک دوسرے کے چہروں پرنہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرینوں پر ہوتی تھیں، دنیا ان کے رابطوں سے متاثر تھی، مگر وہ خود اپنے رشتے سے کٹتے جا رہے تھے ۔ اس شہر میں دوستوں کی فہرستیں بہت لمبی تھیں، سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے ، مگر جب رات کے آخری پہردل بوجھل ہوتا، تو اکثر لوگوں کے پاس ایک بھی ایسا شخص نہیں ہوتا تھا جسے فون کرکے کہا جا سکے ”مجھے تمہاری ضرورت ہے ”۔یہاں لوگوں نے وقت بچانے کے لیے تیز گاڑیاں بنائیں، تیز انٹرنیٹ بنایا، تیز مشینیں بنائیں، ہر کام کو تیز کر دیا، مگر زندگی کہیں پیچھے رہ گئی، لوگ منزلوں تک تو جلد پہنچ گئے ، لیکن ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ بھول گئے ۔ اور شاید یہی اس شہر کا سب سے بڑا المیہ تھا، یہاں ہرشخص زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف تھا، مگر کسی کے پاس زندگی جینے کی فرصت نہیں تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس شہر میں ایک نئی صنعت بھی جنم لے چکی تھی۔” خوشی کی صنعت ”۔لوگ خوشی حاصل نہیں کر پاتے تھے ، اس لیے اسے خریدنے کی کوشش کرتے تھے ، کسی نے نیا گھر خرید لیا، کسی نے نئی گاڑی لے لی، کسی نے بیرونِ ملک چھٹیاں گزار لیں، کسی نے شہرت اکٹھی کر لی، ہر شخص کو یقین تھا کہ شاید اگلی چیز، اگلی کامیابی، اگلی خریداری اسے وہ سکون دے دے گی جس کی اسے تلاش ہے ، مگرعجیب بات یہ تھی کہ خوشی ہر بار ایک قدم آگے کھڑی ملتی، وہ قریب آتی دکھائی دیتی تھی مگر ہاتھ نہیں آتی تھی، اس شہرکے بازار دن بدن بڑے ہوتے جا رہے تھے اور دل دن بدن چھوٹے ، لوگ چیزیں جمع کر رہے تھے ، لمحے نہیں، وہ تصویریں محفوظ کر رہے تھے ، یادیں نہیں، ہرخوشی کو کیمرے میں قید کیا جا رہا تھا، مگرخود خوشی کہیں آزاد گھوم رہی تھی۔ ایک نوجوان تھا جس نے اپنی زندگی کا ہرامتحان بہترین نمبروں سے پاس کیا، اچھی یونیورسٹی، اچھی نوکری، اچھا عہدہ، وہ کامیابی کی سیڑھی پر مسلسل اوپر چڑھتا رہا، پھر ایک دن وہ اپنے دفتر کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک سوال آیا، میں آخر کس کے لیے دوڑ رہا ہوں؟ یہ سوال خطرناک تھا، کیونکہ اس شہر میں لوگ دوڑنے کی وجہ تو جانتے تھے ، رکنے کی وجہ نہیں، چنانچہ اس نے بھی باقی لوگوں کی طرح اس سوال کو ذہن سے نکال دیا اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا، یہ شہرسوال پوچھنے والوں کو پسند نہیں کرتا تھا، یہاں صرف نتائج کی قدر تھی، کسی کے پاس یہ جاننے کا وقت نہیں تھا کہ کامیابی کی قیمت کیا ادا کی جا رہی ہے ، کسی نے اپنی صحت دی تھی، کسی نے اپنے رشتے ، کسی نے اپنی نیند۔۔ اور کسی نے اپنا سکون۔ مگر چونکہ سب یہی کر رہے تھے ، اس لیے کسی کو یہ سودا عجیب نہیں لگتا تھا، آہستہ آہستہ اس شہر کے لوگوں نے ایک خطرناک غلط فہمی کو سچ مان لیا تھا۔”انہوں نے کامیابی کو خوشی سمجھ لیا تھا، حالانکہ دونوں ہمیشہ ایک ہی راستے پر نہیں چلتے ”۔
پھرایک دن اس شہر میں ایک عجیب واقعہ ہوا، ایک بوڑھا آدمی مرگیا، وہ نہ کوئی مشہور شخصیت تھا، نہ بڑا سرمایہ دار، نہ کسی بڑی کمپنی کا مالک، اس کی موت کی خبر کسی اخبار کی سرخی نہ بن سکی،مگراس کے جنازے میں شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھے ، وجہ یہ تھی کہ اس بوڑھے کے پاس وہ چیز تھی جو پورے شہرمیں نایاب ہوچکی تھی۔ ” سکون ”۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ زیادہ امیر نہیں تھا، مگرہمیشہ مطمئن رہتا تھا، اس کے پاس وقت بھی تھا، دوست بھی، خاندان بھی اورمسکراہٹ بھی، وہ شام کو اپنے پوتوں کے ساتھ کھیلتا تھا، پڑوسیوں کے ساتھ بیٹھتا تھا، پرانے دوستوں کو یاد رکھتا تھا اوررات کو سکون سے سوجاتا تھا، جنازے سے واپسی پربہت سے لوگوں کے دلوں میں پہلی بارایک سوال پیدا ہوا۔ کامیاب کون تھا؟ وہ لوگ جو پوری زندگی دولت، عہدوں اورشہرت کے پیچھے بھاگتے رہے ؟ یا وہ بوڑھا آدمی جوخاموشی سے زندگی جیت گیا؟ شاید مسئلہ یہ نہیں
تھا کہ اس شہرکے لوگ کامیاب تھے ،مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے کامیابی کی تعریف غلط منتخب کرلی تھی، انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ بڑا گھر، بڑا بینک بیلنس اوربڑا عہدہ ہی کامیابی ہے ، حالانکہ کامیابی شاید یہ بھی ہے کہ آپ کے بچے آپ سے بات کرنا چاہیں، آپ کے والدین آپ کو دیکھ کرخوش ہوں، آپ کے دوست آپ کو یاد کریں، آپ رات کو بے فکری سے سو سکیں۔ اورآئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے نظریں نہ چرا سکیں۔ اس شہرکی سڑکیں آج بھی روشن ہیں، عمارتیں آج بھی بلند ہیں، گاڑیاں آج بھی مہنگی ہیں، مگر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے ترقی کرتے کرتے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے ، سوائے اس ایک چیز کے جس کے لیے یہ ساری دوڑ شروع کی گئی تھی۔
” خوشی ”۔اور شاید جدید دنیا کا سب سے بڑا طنز یہی ہے کہ انسان چاند تک پہنچ گیا، مگر اپنے دل تک پہنچنے کا راستہ بھول گیا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

عشقِ رسول ۖ کی تجدید وجود پیر 08 جون 2026
عشقِ رسول ۖ کی تجدید

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت وجود پیر 08 جون 2026
ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

گائے کی سیاست اور مسلمان وجود اتوار 07 جون 2026
گائے کی سیاست اور مسلمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر