... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
شہرکے داخلی راستے پرایک خوبصورت تختی لگی ہوئی تھی ۔” خوش آمدید !! یہ کامیاب لوگوں کا شہرہے ”۔ تختی جھوٹ نہیں بولتی تھی۔ واقعی یہ کامیاب لوگوں کا شہر تھا،یہاں بڑے بڑے گھر تھے جن کے دروازے ریموٹ سے کھلتے تھے ،لمبی لمبی گاڑیاں تھیں جن کی قیمت میں کئی غریب خاندان پوری زندگی گزار سکتے تھے ،ہر دوسرے شخص کے نام کے ساتھ کوئی نہ کوئی بڑا عہدہ لکھا تھا،کسی کے پاس کمپنی تھی، کسی کے پاس فیکٹری، کسی کے پاس طاقت، کسی کے پاس شہرت۔۔ باہرسے دیکھنے والا شاید یہی سمجھتا کہ دنیا کی ساری خوشیاں اسی شہرمیں جمع ہوگئی ہیں۔ مگراس شہر کا ایک عجیب مسئلہ تھا، یہاں رات بہت مہنگی تھی، لوگ دن بھردولت کماتے تھے اوررات بھرنیند تلاش کرتے تھے ۔ بستروں کی قیمت لاکھوں میں تھی مگر نیند مفت ہونے کے باوجود نایاب تھی،سونے کے کمروں میں خاموشی تھی لیکن دلوں میں شور برپا تھا،لوگ تھکن سے چورہوتے تھے مگرآنکھیں بند کرنے کے بعد بھی دماغ دوڑتا رہتا تھا۔ کسی کو کاروبار ڈوبنے کا خوف تھا، کسی کو عہدہ چھن جانے کا ڈر تھا، کسی کو اپنی شہرت کے ختم ہونے کی فکر تھی۔ اور کچھ ایسے بھی تھے جو سب کچھ حاصل کر لینے کے بعد یہ سوچ سوچ کر پریشان تھے کہ اب اگلا ہدف کیا ہو گا۔ اس شہر میں ڈاکٹر بہت کامیاب تھے ، کیونکہ مریض بہت زیادہ تھے ، فرق صرف اتنا تھا کہ بیماریوں کے نام بدل گئے تھے ، اب لوگ بخار سے کم اور بے چینی سے زیادہ بیمار ہوتے تھے ، ان کے جسم صحت مند تھے مگر روحیں مسلسل تھکی ہوئی محسوس ہوتی تھیں، شاید اسی لیے اس شہرمیں قہقہوں کی آوازکم اورموبائل فون کی گھنٹیاں زیادہ سنائی دیتی تھیں۔ اورعجیب بات یہ تھی کہ جتنا کوئی شخص کامیاب ہوتا جاتا، اتنا ہی اکیلا ہوتا جاتا۔یہ شہرترقی کی دوڑ جیت چکا تھا، مگر ایسا لگتا تھا کہ کہیں راستے میں خوشی اس سے بچھڑ گئی تھی۔
اس شہرمیں ایک اورچیز بھی بہت قیمتی تھی۔” وقت ”۔ مگرعجیب بات یہ تھی کہ سب لوگ وقت بچانے میں لگے ہوئے تھے اورپھر بھی کسی کے پاس وقت نہیں تھا، ایک باپ صبح سویرے گھر سے نکلتا تھا،اس کے بچوں کے کمرے میں دنیا کے مہنگے ترین کھلونے موجود تھے ، ہرسال نئے تحفے آتے تھے ، نئی سائیکل آتی تھی، نیا موبائل آتا تھا، مگر بچوں کی ایک خواہش ہمیشہ ادھوری رہتی تھی، وہ چاہتے تھے کہ ان کا باپ ایک شام صرف ان کے ساتھ گزار لے ، لیکن باپ سمجھتا تھا کہ وہ ان کے لیے مستقبل بنا رہا ہے ، اور بچے سمجھتے تھے کہ ان کا حال ان سے چھن رہا ہے ۔ایک گھر میں بوڑھے والدین رہتے تھے ، ان کے بیٹے نے ان کے لیے بہترین دوائیں خرید رکھی تھیں، آرام دہ بستر بھی تھا، ایئرکنڈیشنر بھی تھا، ہرسہولت موجود تھی، صرف ایک چیز کی کمی تھی، بیٹے کی موجودگی، بوڑھی ماں اکثر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی اور باپ گھڑی کی طرف، مگر گھڑی کی سوئیاں تو واپس آ سکتی ہیں، گزرے ہوئے لمحے نہیں۔شہرکے ایک کونے میں ایک کامیاب میاں بیوی رہتے تھے ، دونوں کے پاس بہترین نوکریاں تھیں، بہترین گاڑی تھی، بہترین گھر تھا، بس ان کی گفتگو بہترین نہیں تھی، وہ ایک ہی میزپر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے لیکن نظریں ایک دوسرے کے چہروں پرنہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرینوں پر ہوتی تھیں، دنیا ان کے رابطوں سے متاثر تھی، مگر وہ خود اپنے رشتے سے کٹتے جا رہے تھے ۔ اس شہر میں دوستوں کی فہرستیں بہت لمبی تھیں، سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے ، مگر جب رات کے آخری پہردل بوجھل ہوتا، تو اکثر لوگوں کے پاس ایک بھی ایسا شخص نہیں ہوتا تھا جسے فون کرکے کہا جا سکے ”مجھے تمہاری ضرورت ہے ”۔یہاں لوگوں نے وقت بچانے کے لیے تیز گاڑیاں بنائیں، تیز انٹرنیٹ بنایا، تیز مشینیں بنائیں، ہر کام کو تیز کر دیا، مگر زندگی کہیں پیچھے رہ گئی، لوگ منزلوں تک تو جلد پہنچ گئے ، لیکن ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ بھول گئے ۔ اور شاید یہی اس شہر کا سب سے بڑا المیہ تھا، یہاں ہرشخص زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف تھا، مگر کسی کے پاس زندگی جینے کی فرصت نہیں تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس شہر میں ایک نئی صنعت بھی جنم لے چکی تھی۔” خوشی کی صنعت ”۔لوگ خوشی حاصل نہیں کر پاتے تھے ، اس لیے اسے خریدنے کی کوشش کرتے تھے ، کسی نے نیا گھر خرید لیا، کسی نے نئی گاڑی لے لی، کسی نے بیرونِ ملک چھٹیاں گزار لیں، کسی نے شہرت اکٹھی کر لی، ہر شخص کو یقین تھا کہ شاید اگلی چیز، اگلی کامیابی، اگلی خریداری اسے وہ سکون دے دے گی جس کی اسے تلاش ہے ، مگرعجیب بات یہ تھی کہ خوشی ہر بار ایک قدم آگے کھڑی ملتی، وہ قریب آتی دکھائی دیتی تھی مگر ہاتھ نہیں آتی تھی، اس شہرکے بازار دن بدن بڑے ہوتے جا رہے تھے اور دل دن بدن چھوٹے ، لوگ چیزیں جمع کر رہے تھے ، لمحے نہیں، وہ تصویریں محفوظ کر رہے تھے ، یادیں نہیں، ہرخوشی کو کیمرے میں قید کیا جا رہا تھا، مگرخود خوشی کہیں آزاد گھوم رہی تھی۔ ایک نوجوان تھا جس نے اپنی زندگی کا ہرامتحان بہترین نمبروں سے پاس کیا، اچھی یونیورسٹی، اچھی نوکری، اچھا عہدہ، وہ کامیابی کی سیڑھی پر مسلسل اوپر چڑھتا رہا، پھر ایک دن وہ اپنے دفتر کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک سوال آیا، میں آخر کس کے لیے دوڑ رہا ہوں؟ یہ سوال خطرناک تھا، کیونکہ اس شہر میں لوگ دوڑنے کی وجہ تو جانتے تھے ، رکنے کی وجہ نہیں، چنانچہ اس نے بھی باقی لوگوں کی طرح اس سوال کو ذہن سے نکال دیا اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا، یہ شہرسوال پوچھنے والوں کو پسند نہیں کرتا تھا، یہاں صرف نتائج کی قدر تھی، کسی کے پاس یہ جاننے کا وقت نہیں تھا کہ کامیابی کی قیمت کیا ادا کی جا رہی ہے ، کسی نے اپنی صحت دی تھی، کسی نے اپنے رشتے ، کسی نے اپنی نیند۔۔ اور کسی نے اپنا سکون۔ مگر چونکہ سب یہی کر رہے تھے ، اس لیے کسی کو یہ سودا عجیب نہیں لگتا تھا، آہستہ آہستہ اس شہر کے لوگوں نے ایک خطرناک غلط فہمی کو سچ مان لیا تھا۔”انہوں نے کامیابی کو خوشی سمجھ لیا تھا، حالانکہ دونوں ہمیشہ ایک ہی راستے پر نہیں چلتے ”۔
پھرایک دن اس شہر میں ایک عجیب واقعہ ہوا، ایک بوڑھا آدمی مرگیا، وہ نہ کوئی مشہور شخصیت تھا، نہ بڑا سرمایہ دار، نہ کسی بڑی کمپنی کا مالک، اس کی موت کی خبر کسی اخبار کی سرخی نہ بن سکی،مگراس کے جنازے میں شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھے ، وجہ یہ تھی کہ اس بوڑھے کے پاس وہ چیز تھی جو پورے شہرمیں نایاب ہوچکی تھی۔ ” سکون ”۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ زیادہ امیر نہیں تھا، مگرہمیشہ مطمئن رہتا تھا، اس کے پاس وقت بھی تھا، دوست بھی، خاندان بھی اورمسکراہٹ بھی، وہ شام کو اپنے پوتوں کے ساتھ کھیلتا تھا، پڑوسیوں کے ساتھ بیٹھتا تھا، پرانے دوستوں کو یاد رکھتا تھا اوررات کو سکون سے سوجاتا تھا، جنازے سے واپسی پربہت سے لوگوں کے دلوں میں پہلی بارایک سوال پیدا ہوا۔ کامیاب کون تھا؟ وہ لوگ جو پوری زندگی دولت، عہدوں اورشہرت کے پیچھے بھاگتے رہے ؟ یا وہ بوڑھا آدمی جوخاموشی سے زندگی جیت گیا؟ شاید مسئلہ یہ نہیں
تھا کہ اس شہرکے لوگ کامیاب تھے ،مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے کامیابی کی تعریف غلط منتخب کرلی تھی، انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ بڑا گھر، بڑا بینک بیلنس اوربڑا عہدہ ہی کامیابی ہے ، حالانکہ کامیابی شاید یہ بھی ہے کہ آپ کے بچے آپ سے بات کرنا چاہیں، آپ کے والدین آپ کو دیکھ کرخوش ہوں، آپ کے دوست آپ کو یاد کریں، آپ رات کو بے فکری سے سو سکیں۔ اورآئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے نظریں نہ چرا سکیں۔ اس شہرکی سڑکیں آج بھی روشن ہیں، عمارتیں آج بھی بلند ہیں، گاڑیاں آج بھی مہنگی ہیں، مگر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے ترقی کرتے کرتے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے ، سوائے اس ایک چیز کے جس کے لیے یہ ساری دوڑ شروع کی گئی تھی۔
” خوشی ”۔اور شاید جدید دنیا کا سب سے بڑا طنز یہی ہے کہ انسان چاند تک پہنچ گیا، مگر اپنے دل تک پہنچنے کا راستہ بھول گیا۔
٭٭٭