وجود

... loading ...

وجود

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

بدھ 10 جون 2026 سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

ریاض احمدچودھری

آپریشن بلیو اسٹار کو 42 سال گزر نے کے باوجود سکھ برادری کی اجتماعی یادداشت سے یہ واقعہ محو نہیں ہوا، امرتسر سے لے کر لندن، ٹورنٹو، کیلیفورنیا، میلبورن اور دنیا بھر میں آباد سکھ تارکینِ وطن کی بڑی آبادیوں تک اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔اگرچہ بھارتی فوجی کارروائی سے اکال تخت کو شدید نقصان پہنچا، تاہم سکھ سیاسی شعور اور شناخت اس سانحے کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھری۔اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر جون 1984 میں شروع کیا گیا آپریشن بلیو اسٹار محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ سکھوں کے مذہبی اور سیاسی مرکز پر ایک وسیع مسلح آپریشن تھا۔ اس کارروائی کی قیادت میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار نے کی، جس میں ٹینکوں، توپ خانے اور فوج کی متعدد بٹالینوں کو استعمال کیا گیا۔
جون 1984 میں بھارتی فوج نے اکال تخت میں داخل ہو کر کارروائی کی، جبکہ پنجاب بھر کے 41 دیگر گردواروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی حکام کے مطابق اس کارروائی میں 493 افراد ہلاک ہوئے، تاہم بعض آزاد ذرائع اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی، جن میں خواتین، بچے اور یاتری بھی شامل تھے۔سکھ برادری اس واقعے کو اپنی مذہبی شناخت کی بے حرمتی، اعتماد شکنی اور ریاستی تشدد کے طور پر یاد کرتی ہے۔ اس دوران ہلاک ہونے والے جتھے دار سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ، بھائی امرک سنگھ اور میجر جنرل شبیگ سنگھ سکھ مزاحمت کی علامت بن گئے۔اس فوجی کارروائی کے بعد بھارتی فوج کے بعض سکھ اہلکاروں میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا اور مختلف مقامات پر بغاوت اور احتجاجی واقعات رپورٹ ہوئے، جنہیں اس دور کے اہم نتائج میں شمار کیا جاتا ہے۔خالصتان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ علیحدہ ریاست کا مطالبہ ماضی کے سیاسی تنازعات، انصاف کی عدم فراہمی اور ریاستی پالیسیوں کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔
دوسری جانب بھارتی حکومت خالصتان تحریک کو ملک کی سالمیت کے خلاف قرار دیتی ہے اور اس کی مخالفت کرتی ہے۔خالصتان کے حامی تنظیموں کی جانب سے حالیہ برسوں میں مختلف ممالک میں ریفرنڈم نما سرگرمیوں اور مہمات کا انعقاد کیا گیا، جنہیں وہ سکھ برادری کی رائے کا اظہار قرار دیتے ہیں، جبکہ بھارت ان سرگرمیوں کو غیر قانونی اور غیر نمائندہ قرار دیتا ہے۔سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ، جو دمدمی ٹکسال کے سربراہ تھے، سکھ مذہبی اقدار اور حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے آنند پور صاحب قرارداد کی حمایت کی اور دھرم یدھ مورچہ میں اہم کردار ادا کیا۔میجر جنرل شبیگ سنگھ بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ افسر تھے جنہیں مختلف جنگی خدمات پر اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ بھنڈرانوالہ کے قریبی ساتھی بن گئے اور آپریشن بلیو اسٹار کے دوران مارے گئے۔آپریشن بلیو اسٹار آج بھی سکھ تاریخ، بھارتی سیاست اور جنوبی ایشیا کے سیاسی مباحثوں میں ایک نہایت حساس اور متنازع باب سمجھا جاتا ہے، جس کے اثرات کئی دہائیوں بعد بھی مختلف شکلوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
سکھ علیحدگی پسند تحریک جو 80ء کی دہائی کے اوائل میں بہت پرجوش اندازمیں شروع ہوئی اور اگلے دس پندرہ برسوں میں کچل دی گئی لیکن بھارت میں غیر ہندووں کے ساتھ بہیمانہ اور امتیازی سلوک نے سکھوں کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ان کا ہندوؤں کے ساتھ کسی صورت گزارا ممکن نہیں ہے۔ جس کے بعد یہ تحریک اب ایک بارپھر اٹھ کھڑی ہوئی ہے لیکن ایک نئے انداز اور نئے جوش وخروش کے ساتھ اور منزل آزاد مملکت خالصتان ہی ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر گذشتہ کئی برسوں سے یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان خالصتان علیحدگی پسند تحریک کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان پر الزام عائد کرنے والے ہمیشہ یہ سچ جان بوجھ کر فراموش کردیتے ہیں کہ آپریشن بلیوسٹار کے اثرات سکھوں پر ابھی تک ویسے ہی تازہ ہیں وہ نہ اسے بھول سکتے ہیں نہ بھولنے کی کوشش کرتے ہیں کو بھول رہے ہیں۔ کیونکہ کوئی قوم اپنے ساتھ اس قدر بڑی زیادتی اور ظلم کو بھلانہیں سکتی بالخصوص سکھ قوم ایسا کرہی نہیں سکتی۔ ایسی قوم کے انتقامی جذبات ہی کسی بڑی تحریک کی بنیاد بن جاتے ہیں اسے کسی دوسری قوم یا ادارے کی مدد کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
شدت پسندی کے خلاف برطانوی حکومت کی کمیشن کی رپورٹ میں واضح طور پرکہا گیا ہے کہ بھارت کے اندر خالصتان تحریک کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔ بھارت نے خالصتان تحریک کو دہشت گرد قرار دیا جس پر سکھ ناراض ہوئے۔ سکھ بھارتی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔برطانیہ میں مقیم ہندوؤں اور سکھوں کے درمیان بھی تناؤ موجود ہے۔ اوورسیز سکھ کمیونٹی اپنی شناخت سے متعلق زیادہ حساس ہیں۔ وہ خالصتان تحریک کے حوالے سے سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ گولڈن ٹیمپل حملے کے بعد سے خالصتان کے مطالبے میں شدت آئی ہے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا کا رویہ بھی سکھ علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔سکھوں کی اکثریت اب الگ ملک کا قیام چاہتی ہے۔
بھارت میں کالعدم قرار دی گئی سکھوں کی تنظیم “سکھ فار جسٹس”نے2020 شروع ہوتے ہی ریفرنڈم کی سرگرمیاں تیز کر دیں مگر کورونا وائرس کی وجہ سے حالات اس قابل نہیں کہ ایسا ریفرنڈم کرایا جائے تاہم سکھوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ حالات درست ہوتے ہی ریفرنڈم کرایا جائیگا اور اس میں دنیا بھر سے کم از کم پچاس لاکھ سکھ حصہ لیں گے جب کہ اس وقت ان کے پاس رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 30لاکھ سے زائد ہے۔ ریفرنڈم کا نتیجہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔اس ریفرنڈم کے تحت پنجاب کی سکھ قوم سے پوچھا جائے کہ ” وہ آزادمملکت خالصتان کے حق میں ہے یا بھارت کے ساتھ ہی زندگی بسر کرناچاہتی ہے”؟سکھ قوم سمجھتی ہے کہ وہ یہاں کے پرانے باسی ہیں۔ یہ ان کا تاریخی وطن ہے۔ ان کا ایک الگ مذہب ہے اس لئے وہ ایک الگ مملکت میں رہنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ امریکا، برطانیہ، جرمنی اورکینیڈا میں مقیم سکھ غیرمعمولی طورپر ‘ریفرنڈم 2020ء ‘ کی تحریک میں سرگرم کردار اداکررہے ہیں، وہ بڑے مظاہرے اور دیگرپروگرام منعقد کررہے ہیں۔
80ء اور90ء کے عشروں میں بھارتی حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آکر 90 فیصد سکھوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا رخ کیاتھا، بعدازاں انھوں نے اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلا لیا۔ وہ سکھ نوجوان بھی یہاں آگئے جنھیں بھارت میں بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی زمینیں اور جائیدادیں فروخت کرکے بیرون ملک مقیم ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اب بیرون ملک مقیم یہ سکھ پورے جوش وخروش سے ‘ریفرنڈم2020ء ‘ کے لئے تحریک چلارہے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر