... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روم کی ایک تاریک جیل میں قید وہ بوڑھا شخص صرف ایک انسان نہیں تھا، وہ انسانی تاریخ کا وہ زخمی چہرہ تھا جو ہر دور میں کسی نہ کسی شکل
میں زندہ رہا ہے۔ اس کا جرم کوئی قتل، چوری یا بغاوت نہیں تھا، اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے ظلم کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کر دیا تھا۔ طاقت کے ایوان ہمیشہ سے سچ بولنے والوں سے خوف کھاتے آئے ہیں، کیونکہ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں مگر ایک سچا جملہ پوری سلطنت کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔ اسی خوف میں بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے بھوکا مار دیا جائے، تاکہ اس کی آواز بھی آہستہ آہستہ اس کے جسم کی طرح کمزور ہو کر ختم ہو جائے۔ لیکن تاریخ اکثر ظالموں کے منصوبوں پر انسانیت کے آنسو گرا دیتی ہے۔کئی دن گزر گئے۔ جیل کی دیواریں خاموش تھیں مگر موت اب تک اس بوڑھے کے قریب نہیں آئی تھی۔ سپاہی حیران تھے کہ آخر وہ زندہ کیسے ہے۔ پھر ایک رات اندھیرے کے پردے میں ایک راز نے جنم لیا۔ اس کی بیٹی، جو خود شاید بھوک، خوف اور سماج کے طعنوں میں جیتی تھی، اپنے باپ کو زندہ رکھنے کے لیے اپنا دودھ پلا رہی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں تاریخ صرف ایک واقعہ نہیں رہی بلکہ انسانی روح کی سب سے دردناک تصویر بن گئی۔ دنیا نے اس واقعے کو”Roman Charity”کا نام دیا، مگر حقیقت میں یہ ”انسانی بے بسی” کا سب سے بڑا استعارہ تھا۔یہاں سوال صرف بھوک کا نہیں تھا۔ بھوک تو تاریخ میں ہمیشہ موجود رہی ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ ایک معاشرہ آخر کتنا سفاک ہو سکتا ہے کہ ایک باپ کو زندہ رہنے کے لیے اپنی بیٹی کے سامنے اس حد تک مجبور ہونا پڑے؟ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں تھی، یہ پوری انسانی تہذیب کا نوحہ تھا۔ کیونکہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو وہ انسان سے صرف روٹی نہیں چھینتا، وہ اس کی عزت، اس کی خودداری، اس کے خواب اور اس کی خاموش مسکراہٹیں بھی چھین لیتا ہے۔
انسانی تاریخ دراصل طاقت اور بے بسی کی مسلسل جنگ کا نام ہے۔ مصر کے اہرام ہوں یا روم کی سلطنت، منگولوں کی یلغار ہو یا نوآبادیاتی قوتوں کی حکومتیں، ہر دور میں حکمرانوں نے انسان کے جسم پر حکومت کرنے کی کوشش کی، مگر سب سے خطرناک دور وہ تھے جہاں انہوں نے انسان کی روح کو قید کرنا چاہا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان صرف تلوار سے نہیں مرتا، وہ تب بھی مر جاتا ہے جب اس کی عزت کو زندہ رہنے کے لیے قربان ہونا پڑے۔ فیودور دوستوئیفسکی نے کہا تھا:”انسان ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی المیہ حقیقت ہے”۔شاید اسی لیے معاشرے آہستہ آہستہ ظلم کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں زنجیروں کی آواز بھی معمول لگنے لگتی ہے۔”Roman Charity”کا واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسانی رشتے صرف محبت نہیں، مزاحمت بھی ہوتے ہیں۔ وہ بیٹی صرف اپنے باپ کو دودھ نہیں پلا رہی تھی، وہ ظلم کے خلاف آخری انسانی اعلان تھی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ طاقت کے ایوان انسان کو بھوکا رکھ سکتے ہیں مگر انسانیت کو مکمل طور پر مار نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جابر بادشاہوں کے نام اکثر نفرت سے لیے جاتے ہیں، مگر محبت اور قربانی کے چھوٹے چھوٹے لمحے صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو شاید جیلوں کی شکل بدل گئی ہے، مگر انسان کی بے بسی اب بھی زندہ ہے۔ کہیں غربت انسان کو اپنی عزت بیچنے پر مجبور کرتی ہے، کہیں جنگیں بچوں سے ان کا بچپن چھین لیتی ہیں، کہیں طاقتور طبقات عام انسان کی سانسوں تک پر قابض نظر آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ظلم تاج پہن کر آتا تھا، آج وہ نظام، معیشت، طاقت اور خاموشی کے لباس میں آتا ہے۔تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ انسان بار بار وہی ظلم دہراتا ہے جس کے خلاف اس کے آباؤ اجداد نے چیخیں ماری تھیں۔ ہر دور اپنے آپ کو مہذب کہتا ہے مگر ہر دور میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جنہیں زندہ رہنے کے لیے اپنی عزت، اپنی محبت یا اپنی خاموشی قربان کرنا پڑتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں تہذیب کی چمکتی ہوئی عمارتیں اندر سے کھوکھلی محسوس ہونے لگتی ہیں۔اور شاید انسانیت کی اصل آزمائش بھی یہی ہے: ایک معاشرہ کتنا ترقی یافتہ ہے، اس کا فیصلہ اس کی عمارتیں، سڑکیں یا فوجیں نہیں کرتیں؛ اس کا فیصلہ یہ کرتا ہے کہ وہاں ایک کمزور انسان کتنی عزت کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے۔ کیونکہ جب انسان کو زندہ رہنے کے لیے اپنی روح تک بیچنی پڑے، تو سمجھ لیجیے تہذیب ابھی مکمل نہیں ہوئی، صرف طاقت جدید ہوئی ہے۔پاکستان کی تاریخ کو اگر صرف جنگوں، انتخابات، آمریتوں اور حکومتوں کی تبدیلی کے طور پر پڑھا جائے تو شاید ہم اس ملک کی اصل کہانی کبھی نہ سمجھ سکیں۔ اس سرزمین کی سب سے بڑی داستان دراصل عام انسان کی خاموش اذیت ہے۔ وہ اذیت جو کبھی اخبار کی سرخی نہیں بنتی، کبھی پارلیمنٹ کی تقریر میں جگہ نہیں پاتی، اور کبھی طاقت کے ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔
روم کی اُس جیل میں قید بوڑھا شخص اور اس کی بیٹی کا واقعہ، جسے تاریخ”Roman Charity”کے نام سے یاد کرتی ہے، صرف ایک قدیم داستان نہیں بلکہ آج کے پاکستانی سماج کا آئینہ بھی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جیلوں کی دیواریں نظر نہیں آتیں، مگر کروڑوں لوگ پھر بھی قید ہیں؛ غربت کی قید، ناانصافی کی قید، طبقاتی ذلت کی قید، اور اُس خاموش خوف کی قید جس میں انسان آہستہ آہستہ اندر سے مرنے لگتا ہے۔پاکستان شاید دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں انسان زندہ رہنے کے لیے مسلسل اپنی عزت، خواب اور احساسات گروی رکھتا ہے۔ یہاں ایک مزدور صبح گھر سے صرف روزگار کی تلاش میں نہیں نکلتا، وہ اپنی انسانیت بچانے نکلتا ہے۔ ایک کسان صرف فصل نہیں اگاتا، وہ اپنے بچوں کی بھوک کے خلاف جنگ لڑتا ہے۔ ایک نوجوان صرف ڈگری حاصل نہیں کرتا، وہ اپنے وجود کے حق میں دلیل تلاش کرتا ہے۔ مگر اس پورے سفر میں سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز غربت نہیں، بے بسی ہے۔ وہ بے بسی جو انسان کو آہستہ آہستہ خاموش کر دیتی ہے۔یہ ملک قیام کے وقت ایک خواب تھا۔ ایک ایسا خواب جس میں انصاف، برابری اور عزت کی امید تھی۔ مگر تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ یہ ہوتا ہے کہ جب خواب طاقتور طبقوں کے ہاتھوں یرغمال بن جائیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک اس ریاست کے عام انسان نے شاید ہی کبھی خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کیا ہو۔ کبھی مارشل لا کے سائے، کبھی جاگیردارانہ نظام، کبھی سرمایہ دارانہ استحصال، کبھی مذہبی انتہاپسندی، اور کبھی سیاسی اشرافیہ کی بے حسی نے اس قوم کی روح کو مسلسل زخمی کیا۔ یہاں طاقت ہمیشہ چند ہاتھوں میں سمٹتی گئی اور اکثریت صرف تماشائی بنتی گئی۔Roman Charityکی اصل دردناکی یہ تھی کہ ایک باپ کو زندہ رہنے کے لیے اپنی بیٹی کے سامنے اس حد تک مجبور ہونا پڑا۔ پاکستان کا المیہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ یہاں کروڑوں باپ ہر روز اپنی بے بسی کے سامنے شکست کھاتے ہیں۔ کوئی باپ دوا نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچے کو مرتا دیکھتا ہے، کوئی قرض کے بوجھ تلے اپنی بیٹی کی عزت اور خواب قربان کرتا ہے، کوئی نوجوان نوکری نہ ملنے پر اپنی صلاحیتوں سمیت ڈپریشن کی اندھیروں میں دفن ہو جاتا ہے۔ یہ صرف معاشی بحران نہیں، یہ انسانی وقار کا بحران ہے۔
پاکستانی سماج کی سب سے بڑی ٹریجڈی شاید یہ ہے کہ یہاں ظلم صرف طاقتور نہیں کرتا، معاشرہ بھی خاموش رہ کر اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہم ایک ایسے سماج میں بدل چکے ہیں جہاں انسان کی قیمت اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کی حیثیت، تعلقات اور دولت سے لگائی جاتی ہے۔ یہاں ایک غریب آدمی قانون کے سامنے بھی کمزور ہے اور سماج کے سامنے بھی۔ یہاں سچ بولنے والا اکثر غدار کہلاتا ہے اور چاپلوسی کرنے والا کامیاب انسان۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشرے میں آہستہ آہستہ احساسِ محرومی صرف معاشی نہیں رہا، وجودی بنتا جا رہا ہے۔ لوگ صرف روٹی کے لیے نہیں، اپنی شناخت اور عزت کے لیے بھی لڑ رہے ہیں۔فیض احمد فیض نے شاید ایسے ہی وقتوں کے لیے لکھا تھا:”نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے” یہ صرف شاعری نہیں، پاکستان کے اجتماعی شعور کی تصویر ہے۔ یہاں طاقتور طبقات ہمیشہ یہ چاہتے رہے کہ عام انسان سر جھکا کر چلے، سوال نہ کرے، خواب نہ دیکھے، اور اپنی قسمت کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لے۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب کسی قوم کے اندر خاموش درد حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر وہ صرف سیاسی بحران نہیں رہتا، تہذیبی بحران بن جاتا ہے۔پاکستانی انسان کی سب سے بڑی المیہ حقیقت شاید یہی ہے کہ وہ مسلسل دو متضاد دنیاؤں میں زندہ ہے۔ ایک طرف مذہب، اخلاقیات، بھائی چارے اور انسانیت کے بڑے بڑے دعوے ہیں، دوسری طرف بھوک، ناانصافی، کرپشن اور طبقاتی جبر کی سفاک حقیقت۔ یہاں انسان کو نصیحتیں بہت ملتی ہیں مگر انصاف کم ملتا ہے۔ یہاں قربانی کا درس عام آدمی کو دیا جاتا ہے جبکہ آسائشیں اشرافیہ کے حصے میں آتی ہیں۔ یہی تضاد معاشرے کے اندر ایک خاموش نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ پیدا کرتا ہے۔اور شاید سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ پاکستانی سماج آہستہ آہستہ درد کا عادی ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی خبر بنتی ہے، پھر معمول بن جاتی ہے۔ بیروزگاری پر شور ہوتا ہے، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ کسی غریب کی خودکشی چند دن زیرِ بحث رہتی ہے، پھر لوگ اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں معاشرے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ زندہ قومیں صرف سانس نہیں لیتیں، وہ ظلم پر ردِعمل بھی دیتی ہیں۔آج پاکستان کو صرف معاشی اصلاحات یا سیاسی نعروں کی ضرورت نہیں، اسے انسان کو دوبارہ انسان سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس ملک کی اصل ترقی اُس دن شروع ہوگی جب ایک غریب آدمی اپنی عزت بچانے کے لیے مجبور نہ ہوگا، جب ایک نوجوان اپنے خوابوں سے مایوس نہیں ہوگا، جب ایک ماں اپنے بچوں کی بھوک سے خوفزدہ نہیں ہوگی، اور جب طاقتور طبقے یہ سمجھیں گے کہ ریاست صرف محلات، وزارتوں اور کاروباری سلطنتوں کا نام نہیں بلکہ اُن کروڑوں خاموش انسانوں کا نام بھی ہے جو اس ملک کو اپنے خون اور پسینے سے زندہ رکھتے ہیں۔کیونکہ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ سلطنتیں ہمیشہ باہر سے نہیں ٹوٹتیں، وہ اُس دن اندر سے گرنا شروع ہو جاتی ہیں جب عام انسان اپنی ہی سرزمین پر خود کو بے عزت، بے بس اور غیر ضروری محسوس کرنے لگے۔
٭٭٭