وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

بھارت نے حملے کی کوشش کی تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا،عمران خان

هفته 18 دسمبر 2021 بھارت نے حملے کی کوشش کی تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا،عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پراجاگر کریں گے،بھارت نے حملے کی کوشش کی تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا، بی جے پی کی حکومت بھارت اورخطے کیلئے خطرناک ہے مجھے خدشہ ہے بی جے پی حکومت کی موجودگی میں پاک بھارت ایٹمی جنگ نہ چھڑجائے، نائن الیون میں کوئی افغان شہری ملوث نہیں تھا لیکن افغانستان پرامریکا کی مسلط کردہ جنگ ایک جنونی عمل تھا۔الجزیزہ ٹی وی کو دئیے گئے تفصیلی انٹرویومیں عمران خان نے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں نام نہادجنگ کے نام پر20سال تک قبضہ کیے رکھا، سمجھ نہیں آیا امریکی افغانستان میں کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا اس کے بعد امریکا صدمے میں ہے، افغانستان میں 2001 سے بھی زیادہ بدتر صورتحال پیدا ہوگئی ہے، افغان حکومت کے مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈالنے پر امریکا شدیدغم وغصہ میں ہے، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ عوام امداد کی منتظر ہیں اور امریکا کو اب افغان عوام کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہیے۔افغانستان میں صورتحال خراب ہوئی تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوگا، افغانستان کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے پاکستان اپنی قومی سلامتی کا کیسے تحفظ کرسکتا ہے، عالمی برادری نے افغان عوام کی مدد نہ کی تو خطے میں بحران پیدا ہوسکتا ہے، افغانستان میں بحران سے شدت پسند تنظیمیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں،افغانستان کی امداد کیلئے عالمی برادری کو آگے آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1989میں سوویت یونین افغانستان سے گیا تو بحران کی صورتحال پیدا ہوئی، ہم نے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو جگہ دی، پاکستان میں پہلے ہی 30لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔مسئلہ کشمیر پر عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ کشمیری کھلی جیل میں رہ رہے ہیں، 9لاکھ بھارتی فوج نے کشمیریوں کو کھلی جیل میں قید کر رکھا ہے، مسئلہ کشمیر اسلامی تعاون تنظیم میں اٹھایا اور اسلامی ممالک سے بات چیت کی، مگر مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ اپنے تعلقات ہیں اور آپ ان سے کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے، پاکستان مسئلہ کشمیر ہر فورم پر اجاگر کرتا رہے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اگر حملے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا، بھارت میں بی جے پی کی فاشسٹ حکومت قائم ہے، بھارت کے لوگ باشعور مگر وہاں جنونیوں کی حکومت قائم ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے مثبت مذاکرات کی بات کی لیکن اب ان سے اچھے کی امید نہیں، عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نوٹس لیناچاہیے، بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ،بھٹو اورشریف خاندان نے وسائل کا ناجائز استعمال کیا۔عمران خان نے کہا کہ ہم ملک کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں، ہمارا مقابلہ دو ایسے خاندانوں سے ہے جودولت سے مالا مال ہیں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ بھٹو اورشریف خاندان سیاست نہیں خاندانی نظام قائم کرناچاہتے ہیں جبکہ پاکستان کی بدحالی کے ذمہ دار بھی یہی دونوں خاندان ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا اورکرپشن ملک کو تباہ کردیتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ بانیان پاکستان کے مقاصد میں فلاحی ریاست کا ذکر تھا، ترقی پزیر ممالک اس لیے غریب ہیں کیوں کہ ان کے حکمران، اشرافیہ اور وزرائے اعظم پیسہ لوٹتے ہیں، جب کسی ملک کا وزیراعظم ملکی دولت لوٹتا ہے تو ملک معاشی طور پر کمزور ہوتا ہے، میں کرپشن سے پاک پاکستان کا خواہاں ہوں، اس وقت کرپٹ مافیا سے جنگ ہے، جب ملک میں 2کرپٹ پارٹیوں کا راج ہو تو تیسری کا جدوجہد کے باوجود آنا مشکل ہوجاتاہے۔وزیراعظم نے کہاکہ میں سیاست میں پیسہ بنانے کے لیے نہیں آیا بلکہ مشن کے تحت آیا ہوں، کچھ کرنا اور دینا چاہتاہوں، میری سوچ کے حامل لوگوں کو سیاست میں آنا چاہیے، وہ جوپیسہ بنانے کے لیے سیاست کا انتخابات کرتے ہیں ان کو مسترد کرنا چاہیے، میں کرپشن کے خلاف ہوں، کرپٹ عناصر کا تعلق میری ہی جماعت سے کیوں نہ ہو کارروائی ہونی چاہیے، شوگر کمیشن اس لیے قائم کیا گیا کہ کرپٹ عناصر کی نشاندہی ہو۔عمران خان نے کہا کہ ہم اقتدار میں آئے توکارکردگی اچھی تھی، کورونا آیا تو ہر شے متاثر ہوئی، پاکستان 3 قسم کے تعلیمی نظام میں تقسیم ہے، سرکاری اسکولز میں اردو، پرائیویٹ میں انگریزی اور مدارس میں اور نظام تعلیم ہے، ہم نے ملک میں یکساں نظام تعلیم کومتعارف کروایا اور اس پر مزید کام جاری ہے، اپنے ملک کو مدینہ کی ریاست کے طرز پر دیکھنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں پاکستان کا سب سے زیادہ فنڈ جمع کرنے والا شخص ہوں جبکہ میرے والد نے پاکستان کی اپنی نوعیت کی پہلی انجینئرنگ کنسلٹنسی فرم قائم کی۔انہوں نے کہا کہ جیت سے زیادہ ہارہمیں غلطیوں سے سیکھنا سکھاتی ہے ۔اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چینی اسکینڈل پر حکومت حرکت میں آئی جبکہ وزیروں کیخلاف بدعنوانی کیالزامات سامنے آئے تو خود شفاف تحقیقات کرونگا۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام فوبیا کے خلاف دنیا کے ہرفورم پر بات کی، ہم اپنا مذہبی احساس رکھتے ہیں، مغربی ممالک کو ہمارے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، اسلام فوبیا پر بولا لوگوں کوسمجھ آیا، اس سے پہلے کسی پلیٹ فارم پر بات نہیں ہوئی تھی، قران پاک میں حضرت محمد ۖ کی تعلیمات کی پیروی کا حکم دیاگیا ہے، ہماری زندگی کی کامیابی حضرت محمد ۖکی تعلیمات کی پیروی سے جڑی ہے، مغرب سمیت ہر ملک کو کسی کی مذہب کی توہین سے گریز کرنا چاہیے، ہم لوگ حضرت محمد ۖ پر جان قربان کرتے ہیں لہذا ان کے حوالے سے جذبات حساس ہیں۔انہوں نے کہا کہ نبی ۖکو رول ماڈل سمجھتا ہوں جبکہ نوجوانوں کو نبی کریم ۖ کی تعلیمات سے خودکوسنوارناہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم اشرف المخلوقات ہیں، سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، رحمت العالمین ۖ اتھارٹی سے نوجوانوں کی رہنمائی بھی ہوگی، میں 10 فیصد مغرب زدہ ایلیٹ کلاس کی نمائندگی نہیں کرسکتا، پاکستان کے 90 فیصد لوگ شلوار قمیض پہنتے ہیں میں ان کانمائند ہ ہوں، اس لیے شلوار قمیض پہنتا ہوں، میں نے اقتدار کے 3 سال بہت مصروف گزارے ہیں، میری کوئی سوشل زندگی نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑی مناظر ہیں، سویٹزرلینڈ، آسٹریا سمیت دنیا میں کہیں وہ خوبصورتی نہیں جو پاکستان میں ہے، جنگلات کا خاتمہ اور درختوں کی کٹائی ماحولیاتی تنزلی کی وجہ بنا، 10بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا، ہم اب تک ڈھائی ارب درخت لگا چکے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ بھائی کی کمی ہمیشہ محسوس کرتا رہتا ہوں، ہمیشہ سے خواہش رہی میرا کوئی بھائی ہو، 20سال تک کرکٹ کھیلی، کھیل آپ کو مشکل حالات سے لڑنا سکھاتا ہے، آپ کی ناکامی بہترین استاد ہے جو آپ کو مقابلہ کرنا سکھاتی ہے، ورلڈکپ جیتنے کے بعد اطمینان کا احساس ہوا، مجھے سیاست اور عالمی معاملات سے ہمیشہ دلچسپی رہی۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی وفات کے بعد کینسر اسپتال بنانے کا فیصلہ کیا،میرے والدین محب وطن پاکستانی تھے، والدہ پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طور پر دیکھناچاہتی تھیں۔ والدہ کے انتقال کے بعد میرا رجحان روحانیت کی طرف بڑھا۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر