... loading ...
یہ کوئی راز نہیں کہ ہمارے ملک کا شمار پانی کی شدید قلت کے شکار ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ قلت دونوں حوالوں سے ہے: پینے کے لیے وافر پانی دستیاب نہیں اور آب پاشی کے لیے بھی۔ اور یہ بھی روزِ روشن کی مانند عیاں حقیقت ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بحران کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اور اس سے بڑی تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اس بحران کا ادراک نہیں ہو پا رہا‘ اور اگر ادراک ہے تو اس قلت کو دور کرنے کے لیے کوئی ٹھوس کام یا اقدام ہوتا نظر نہیں آتا۔ بالقصد یا نادانستہ طور پر ایک ایسے مسئلے سے نظریں چْرانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ جو پہلے ہی خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکا ہے اور اگر اب بھی اس معاملے پر مناسب توجہ نہ دی گئی تو بلاشبہ یہ خود کشی کے مترادف اقدام ہو گا۔
یہ بحران کس قدر سنگین ہو چکا ہے‘ اس کا اندازہ تین چار روز قبل سامنے آنے والی اس تحقیقی رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے‘ جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے تینوں بڑے آبی ذخائر خالی ہو چکے ہیں اور تربیلا، منگلا اور چشمہ آبی ذخائر میں اس وقت صرف 45 ہزار ایکڑ فٹ پانی موجود ہے۔ پاکستان زرعی و دیگر قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ پانی جیسے انمول خزانے سے بھی مالا مال ہے‘ لیکن بدقسمتی سے اور بروقت مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت پانی کی قلت کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت دستیاب پانی کی مقدار 5000 کیوبک میٹر فی کس تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ کم ہو کر تقریباً 1000 کیوبک میٹر فی کس ہو چکی ہے۔ اس کی دو بنیادی ترین وجوہ‘ آبادی میں بے تحاشا اضافہ‘ اور پانی جمع کرنے کے لیے درکار ذخائر کی کمی ہے۔ ماہرین کے مطابق دستیاب پانی کا 90 فیصد سے زائد زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کی قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ بھی زراعت ہی ہے۔
ربیع کی فصلوں کے لیے دستیاب نہری پانی میں 20 فیصد تک کمی کی پیش گوئی کی گئی تھی‘ لیکن موسمِ ربیع کے آغاز میں ہی ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں صوبہ پنجاب میں نہری پانی کی قلت تقریباً 40 فیصد بتائی گئی۔ پانی کی اس شدید قلت کے باعث گندم، آلو، مکئی، گنا اور چارہ کاشت کرنے والے کسان متاثر ہو رہے ہیں؛ تاہم گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والی بارشوں کے ذریعے قدرت نے ہماری زراعت کو تباہی سے بچا لیا ہے۔ اب ہو سکتا ہے کہ گندم یا دیگر فصلوں کی مجموعی ملکی پیداوار میں کوئی بڑی کمی واقع نہ ہو‘ لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسانوں کی مالی حالت ابتر ہو رہی ہے کیونکہ کاشتکار نہری پانی کی قلت کے باعث اپنی فصلوں کو ٹیوب ویل چلا کر سیراب کر رہے ہیں جس سے نہ صرف زرعی لوازمات پر آنے والی لاگت میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی گرتی جا رہی ہے۔
آبی و زرعی ماہرین کا موقف ہے کہ اگر اس بحران پر ہنگامی بنیادوں پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ دہشتگردی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر نئے ڈیمز اور دوسرے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ دے‘ دستیاب پانی کا بہتر اور موثر استعمال یقینی بنائے، نہری اور کھیت کی سطح پر پانی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کرے، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید ٹیکنالوجی (ڈرپ، سپرنکلر آبپاشی، لیزر لینڈ لیولنگ، ٹنل فارمنگ وغیرہ) کو فروغ دے اور معاشرے میں ہر سطح پر پانی کے کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کے لیے شعور اجاگر کرے۔
ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...
وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...
اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...
سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...
سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...
متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...