وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

هفته 02 مئی 2026 بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

ریاض احمدچودھری

بھارتی سپریم کورٹ نے اقلیتوں سے متعلق متنازع فیصلہ سناتے ہوئے سماجی امتیاز کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔بھارت میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایک اور متنازعہ پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے مذہب کی بنیاد پر شہری حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام یا عیسائیت اختیار کرتا ہے تو وہ شیڈولڈ کاسٹ (ایس سی) کا درجہ کھو دے گا۔ بھارتی قانون کے تحت شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ صرف ہندو، سکھ اور بدھ مت کے پیروکاروں تک محدود ہے، جبکہ دیگر مذاہب اختیار کرنے والوں کو اس زمرے میں شامل نہیں کیا جاتا۔یہ فیصلہ ایک ایسے کیس کے بعد سامنے آیا جس میں ایک بھارتی شہری نے عیسائیت اختیار کرنے کے بعد اپنے قانونی تحفظات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار، جو ایک پادری بھی تھے، نے مؤقف اختیار کیا کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد انہیں شدید تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، جس پر انہوں نے عدالت سے انصاف کی اپیل کی۔تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مذہب کی تبدیلی کے ساتھ ہی افراد شیڈولڈ کاسٹ سے وابستہ مراعات، جن میں سرکاری نوکریوں میں کوٹہ، تعلیمی مواقع اور سیاسی نمائندگی شامل ہیں، کا دعویٰ نہیں کر سکیں گے۔
عالمی ماہرین اور انسانی حقوق کے مبصرین نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مذہب تبدیلی کے قوانین کو اقلیتوں، خصوصاً عیسائی برادری، کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق شہری حقوق کو مذہب سے مشروط کرنا بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کے منافی ہے، جو تمام شہریوں کو برابری اور امتیاز سے پاک حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہ صرف اقلیتوں کیلئے مشکلات میں اضافہ کرے گا بلکہ یہ مودی حکومت کی ان پالیسیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے جنہیں ناقدین اقلیتوں کے خلاف متعصبانہ قرار دیتے ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ایک بار پھر ملک میں اقلیتوں کے حقوق، آئینی برابری اور مذہبی آزادی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
امریکا کے ادارے یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی قوانین اور سماجی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو عدم تحفظ کا سامنا ہے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پہلی بار ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے خلاف سخت اقدامات کی سفارش کی ہے۔ ان اداروں کے مبینہ کردار کے باعث امریکا کو ان کے اثاثے منجمد کرنے اور ذمہ دار افراد پر سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
بھارت میں ریاستی پالیسیوں اور بعض قوانین نے اقلیتوں کے لیے ایک مشکل اور غیر محفوظ ماحول پیدا کر دیا ہے۔ بعض ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں جن کے تحت اقلیتوں کے افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسند ہجوم کی جانب سے مسلمانوں اور عیسائیوں پر حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں جبکہ کئی مواقع پر ریاستی اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔اس سے قبل بھی عالمی تنظیمیں جیسے ایمنسٹی، ہیومن رائٹس واچ، اور فریڈم ہاؤس اپنی رپورٹس میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم مودی کے دورِ حکومت میں مذہبی عدم رواداری کے حوالے سے بھارت کو عالمی سطح پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ماہرین اور انسانی حقوق کے مبصرین بھی بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں اور اسے عالمی سطح پر توجہ طلب مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔یو ایس سی آئی آر ایف نے رپورٹ میں جن امور پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے، ان میں شہریت ترمیمی قانون سب سے اہم ہے۔ اس میں کہا گیا ہے،”دہلی میں ہونے والے فسادات کے دوران ہندو ہجوم کو کلین چٹ دی گئی اور مسلمانوں پر انتہائی طاقت کا استعمال کیا گیا۔” رپورٹ میں کہا گیا ہے،”آسام میں تیار کیے گئے بڑے حراستی مراکز آنے والے دنوں میں مزید تباہی پھیلائیں گے۔”بین الامذاہب شادیوں کو روکنے کے لیے اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں لاگو کیے گئے قوانین پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی کمیشن کا کہنا ہے،”بین مذاہب رشتوں کو ہدف بنایا گیا ہے اور اسے غیر قانونی بنانے کی وجہ سے غیر ہندوؤں پر ہونے والے حملوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور ان کی گرفتاریاں بھی بڑی تعداد میں ہو رہی ہیں۔”
گزشتہ برس مارچ میں نئی دہلی میں تبلیغی جماعت کے مرکز کے خلاف حکومتی کارروائیوں اور بیانات کے سلسلے میں رپورٹ میں کہا گیا،”کووڈ انیس وبا کے آغاز میں اپنے پیٹرن کو جاری رکھتے ہوئے حکومت کے نمائندوں اور عہدیداروں نے نفرت انگیز بیان بازی کی اور مذہبی اقلیتوں (مسلمانوں) کو نشانہ بنایا گیا۔”
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید وجود هفته 02 مئی 2026
بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر