وجود

... loading ...

وجود

سوگ

جمعه 01 مئی 2026 سوگ

بے نقاب /ایم آر ملک
کیامتوسط طبقہ، جو کبھی جمہوریت کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، اب محض اپنی سلامتی کی فکر میں مصروف ہو کر حساسیت، سوال اٹھانے کی ہمت اور
اجتماعی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ گیا ہے؟یہ سوال کئی روز سے ذہن میں کھلبلی مچا کر بہت کچھ اُتھل پتھل کرڈالتا ہے ۔
دنیا اور وقت میں جاری ، غیر یقینی، الجھنوں اور دباؤ کے اس دور میں انسان کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کیا کیا جائے۔ جو فہم و
بصیرت کبھی مددگار اور رہنما لگتی تھی، وہ اب ناکافی محسوس ہونے لگی ہے۔ حالات کے اس تیزی سے بدلتے منظرنامے میں اکثر لوگ، خاص
طور پر وہ جو ایماندار اور حساس ہیں، بے عملی یا عمل سے کنارہ کشی کو بہتر سمجھنے لگے ہیں۔وہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے خود کو الگ تو کر رہے ہیں،
مگر کوئی مزاحمت نہیں کر رہے۔ یہ ایک طرح کی اجتماعی کمزوری ہے جس میں لوگ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خاموشی کی پناہ میں جا چھپے ہیں۔
دنیا اور سماج ان کی سمجھ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ چپ رہنا ہی عافیت ہے۔ نتیجتاً ظلم، ناانصافی، تشدد اور جبر کے بڑھتے
مظاہر پر دل تو تڑپتا ہے مگر زبان بند رہتی ہے۔یہ محض کسی جھگڑے یا مصیبت سے بچنے کی چال نہیں، بلکہ اپنی حساسیت، انصاف پسندی اور عقلِ سلیم کو مفلوج کر دینے جیسا رویہ ہے۔ بہت سے لوگ، جو کبھی دوسروں کی بھلائی کے خواہاں تھے، اب دوسروں کو بھی یہی مشورہ دیتے
نظر آتے ہیں کہ ‘وقت خراب ہے، خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔’ اس طرح جینے کی آرزو اب صرف بچنے کی خواہش میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔
اسی خاموش قبولیت کا ایک اور چہرہ متوسط طبقہ ہے، وہ طبقہ جو کبھی سوال اٹھانے والا، جمہوریت کا ستون سمجھا جاتا تھا۔ آج وہی طبقہ،
خاص طور پر دانشور طبقہ نہ تو عوام دشمن ،انسانی حقوق دشمن پالیسی کے اثرات پر بات کر رہا ہے، نہ اپنی خودمختاری پر بڑھتے حملوں کے خلاف
آواز اٹھا رہا ہے۔یہ سب اس سوچ کے تحت ہو رہا ہے کہ ‘سوال کرنے یا مزاحمت کرنے سے کیا بدل جائے گا؟’ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ ‘پھر جینے سے کیا بدلتا ہے؟’ اگر جمہوریت کو درک ہوتے دیکھ کر بھی ہم کچھ نہ کریں تو کیا ہم واقعی زندہ ہیں؟ آج وہی متوسط طبقہ، جس نے جمہوریت کے سب سے زیادہ فائدے اٹھائے، خاموشی سے اسی جمہوریت کو بکھرتے دیکھ رہا ہے۔ یہ اخلاقی احسان فراموشی کی انتہا ہے۔ اور اسی کے ساتھ یہ اجتماعی ذمہ داری اور سماجی شعور سے دستبرداری کا اعلان بھی ہے۔جب کسی معاشرے کے زیادہ تر لوگ یہ یقین کر لیں کہ وہ ناانصافی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے، کہ ان کا فریضہ صرف تماشائی بنے رہنا ہے، کہ ان کی واحد ترجیح اپنی ذاتی سلامتی ہے،دوسروں پر ہونے والے ظلم پر اس کا احساس دم توڑ دے ، تو ایسا معاشرہ دراصل بیمار ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسا معاشرہ اپنے ضمیر، اپنے احساس اور اپنی عقل سے محروم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ نہ خود کو بچا پاتا ہے، نہ اپنے اردگرد کی انسانیت کو۔
عام تاثر یہ ہے کہ حقیقت صرف ایک ہوتی ہے مگر اسے سمجھنے کے طریقے مختلف۔ لیکن دراصل ہر زاویہ نظر ایک نئی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔ دانش میں جو تخلیق ہوتی ہے، وہ صرف موجود حقیقت کا عکس نہیں ہوتی، بلکہ ایک نئی حقیقت کا اضافہ بھی کرتی ہے۔دانشور اپنے تخیل اور مشاہدے سے وہ حقیقتیں تخلیق کرتے ہیں جو عام آنکھ نہیں دیکھ پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کام میں انسان اور سماج کے وہ پہلو سامنے آتے ہیں جو روایتی علم یا سیاست کے دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔ دانشور کئی پرتوں اور تصادموں سے بنی ایک جیتی جاگتی دنیا تخلیق کرتا ہے۔ اس کے پاس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے ،یہ حقیقتیں، جب باہم گفتگو کرتی ہیں، تو زندگی کو گہرائی اور وسعت عطا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایک محب وطن دانشور کی سوچ آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہے ۔۔ کیونکہ اس نے زندگی کی پیچیدگیوں، سوالوں اور اضطراب کے لیے ہمیشہ جگہ بنائے رکھی۔شورش کاشمیری کو دیکھ لیں ،مولانا محمد علی جوہر ،محمد صلاح الدین اور عصر حاضر میں اگر محمد طاہر ، ستار چوہدری ،حافظ شفیق الرحمٰن جیسے دانشوروں کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ صحافتی بد دیانتی ہوگی جنہوں نے اپنی تخلیقی جرأت سے سب کو متاثر کیا ہے۔میرے نزدیک یہ دانشور سچ کو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں مانتے بلکہ ایک سماجی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کی سوچ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ حساس دانشور وقت کے شور میں بھی مٹتے نہیں۔ان کی دانش میں زندگی کے روزمرہ میں چھپی نرمی، سچائی اور اجتماعی احساس کی جھلک ملتی ہے۔وہ سادہ زبان میں گہرے مفہوم بُننے والے لکھاری ہیں ۔ ان کے یہاں جذبات یا خیالات کی کوئی فالتو آمیزش نہیں بلکہ ایک نفیس سادگی، ایک قابلِ لمس لے (ردھم) ہے، وہ عام واقعات کو اپنی دانش کا مرکز بناتے تھے اور اسی میں ان کی انسان دوستی چھپی ہے۔ان کی دانش تخلیقی توازن کا خوبصورت امتزاج ہے۔ وہ نہ جذباتیت میں بہتے ہیں، نہ کبھی نظریاتی بوجھ سے دبے۔ ان کے یہاں عقل اور احساس دونوں ہم آہنگ ہیں۔ ان کی دانش کو دو روایات میں رکھا جا سکتا ہے، پہلی، عام انسان کی روزمرہ زندگی کو معنویت دینا؛ دوسری، وہ روایت جس کی جڑیں ظلم، تشدد، اور سماجی منافقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ وہ ان دونوں کے سنگم پر کھڑے دانشور ہیں، جہاں انسانیت، احتجاج اور جمالیات ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ یہ پورا منظرنامہ، متوسط طبقے کی خاموشی، حقیقت کی تلاش اور درج بالا دانشوروں کی انسان دوستی، ایک ہی سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے: کیا ہم صرف زندہ ہیں، یا جیتے بھی ہیں؟ کیا ہم ظلم کے تسلسل پر تماشائی ہیں، یا سماج کے ذمہ دار شہری؟ اگر ہم اپنی چپ کو شعور کا لبادہ پہنا کر خود کو بے قصور سمجھنے لگیں، تو یہ جمہوریت نہیں، اس کا سوگ ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر