وجود

... loading ...

وجود

گمشدہ مسافر

جمعه 01 مئی 2026 گمشدہ مسافر

بے لگام / ستار چوہدری

امیر شخص بھی اتنا ہی تھکا ہوا ہوتا ہے ، جتنا مزدور، فرق صرف اتنا ہے ، ایک کے پاس دکھانے کیلئے بہت کچھ ۔ اور دوسرے کے پاس چھپانے کیلئے بہت کچھ ۔ مگر درد دونوں کا اکثر ایک جیسا، بے چینی، بے سمت دوڑ، اور ایک خاموش سی کمی۔ انسان بڑھتا جا رہا ہے ، اندر سے سکڑتا جا رہا۔ اور شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں امیر اور غریب ایک جیسے نظر آتے ہیں۔آج کا انسان عجیب بوجھ اٹھائے پھرتا ہے ، اپنی زندگی کا بوجھ نہیں، اپنی ”نمائش” کا بوجھ ۔۔یہ وہ دور ہے جہاں خوشی بھی اکیلی نہیں رہتی،اس کے ساتھ تصویر لازمی ہوتی ہے ،ورنہ خوشی کو خوشی مانا ہی نہیں جاتا، غریب کی مجبوری دکھائی دیتی ہے ، مگر امیر کی بے چینی چھپ نہیں پاتی، کیونکہ اب مسئلہ یہ نہیں کہ کسی کے پاس کیا ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو کیا دکھا سکتا ہے ۔ ایک جوگر خرید کر سکون نہیں ملتا، ایک تصویر چاہیے ہوتی ہے جو یہ ثابت کرے کہ وہ جوگرواقعی پچاس ہزار کا تھا،گھر میں بیٹھ کر چائے پینا کافی نہیں رہا، اب یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ کپ کہاں رکھا ہے ، روشنی کیسی ہے ۔۔ اورتصویر میں کون کون آرہا ہے ۔۔ اور سچ یہ ہے ، یہ سب کرتے کرتے انسان تھک جاتا ہے ، مگر رک نہیں پاتا،کیونکہ رک گیا تو شاید وہ نظر ہی ختم ہو جائے جس کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے ۔
یہ دکھاوا اچانک پیدا نہیں ہوا، یہ آہستہ آہستہ ایک عادت نہیں، ایک ضرورت بن گیا ہے ، اب مسئلہ یہ نہیں کہ انسان کے پاس کیا ہے ،
مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی نے دیکھا نہیں تو گویا وہ ہوا ہی نہیں۔ گھر میں اچھا کھانا پک جائے تو دل نہیں بھرتا، جب تک تصویر نہ بن جائے ۔
کپڑے نئے ہوں یا پرانے ، اصل خوشی پہننے میں نہیں رہی،دکھانے میں ہے ۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ہم خود کو قائل بھی کر
لیتے ہیں کہ یہ نارمل ہے ۔ اصل میں یہ نارمل نہیں، یہ تھکن ہے ، ایک ایسی تھکن جو مسکراہٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے ۔ انسان اب اپنی زندگی
جیتا نہیں، اسے ڈیزائن کرتا ہے ،دوسروں کی آنکھوں کے مطابق۔۔۔۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے
، مگر اسے لگتا ہے کچھ بھی نہیں ہے ،کیونکہ اس نے چیزیں اپنے لیے نہیں، دوسروں کے ردِعمل کے لیے جمع کی ہوتی ہیں۔اور جب ردِعمل خاموش ہو جائے ، تو دولت بھی شور نہیں مچاتی۔
یہ دکھاوا اصل میں دولت کا مسئلہ نہیں، یہ اندر کی ایک پرانی کمی کا نام ہے ۔ انسان جب اپنے ہونے پر یقین کھو دیتا ہے ، تو وہ اپنی موجودگی
ثابت کرنے لگتا ہے ۔ کبھی غور کریں جو لوگ اندر سے پُرسکون ہوتے ہیں، انہیں کچھ ثابت کرنے کی جلدی نہیں ہوتی۔ مگر جو اندر سے خالی
ہونے لگیں، وہ ہر چیز کو شور بنا دیتے ہیں،لباس، گھر، سفر، کھانا۔۔ سب کچھ۔۔یہاں ایک عجیب تضاد ہے ، جتنا زیادہ انسان دکھانے لگتا ہے ، اتنا ہی زیادہ وہ خود کو محسوس نہیں کر پاتا۔ شاید بچپن میں کسی نے سنا نہ ہو کہ تم کافی ہو، شاید زندگی نے بار بار یہ سکھایا ہو کہ قدر تب ہے جب نظر آؤ۔۔۔ اور پھر انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ نظر آنا ہی اصل ہونا ہے ۔ اسی لیے آج امیری بھی بے چین ہے ، کیونکہ اسے ہر وقت اپنی موجودگی کا ثبوت دینا پڑتا ہے ۔ جب کہ سچ یہ ہے جو چیز اندر سے مکمل ہو، اسے باہر شور کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ایک سچ جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے ، غربت صرف جھونپڑیوں میں نہیں ہوتی، اور امیری صرف محلوں میں نہیں ،غربت کبھی کبھی بینک بیلنس میں نہیں، دل کے اندر ہوتی ہے ۔ اور امیری کبھی کبھی دولت میں نہیں، سکون میں ہوتی ہے ۔ اسی لیے بعض اوقات ایک امیر شخص بھی اتنا ہی تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے ، جتنا کوئی روزی کمانے والا مزدور۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کے پاس دکھانے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے ، اور دوسرے کے پاس چھپانے کے لیے ۔ مگر درد دونوں کا اکثر ایک جیسا ہوتا ہے ، بے چینی، بے سمت دوڑ، اور ایک خاموش سی کمی۔ کسی کے پاس وقت نہیں، کسی کے پاس سکون نہیں، کسی کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ مطمئن نہیں، کسی کے پاس کم ہے مگر وہ پھر بھی جینے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہاں ایک عجیب سا توازن بگڑ گیا ہے ، انسان بڑھتا جا رہا ہے ، مگر اندر سے سکڑتا جا رہا ہے ۔ اور شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں امیر اور غریب مل جاتے ہیں، ایک ہی سوال کے ساتھ، کیا یہ سب کافی ہے ؟
آخر میں بات پھر وہیں آتی ہے جہاں سے سب کچھ شروع ہوتا ہے ، انسان خود کے ساتھ کہاں کھڑا ہے ؟ نہ بینک بیلنس آخر میں ساتھ جاتا ہے ، نہ جوگر، نہ گھر کی دیواریں، نہ پردوں کی قیمتیں، ساتھ اگر کچھ رہتا ہے تو وہ سکون ہے اور سکون کسی شو کیس میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اصل امیری شاید وہ تھی جو خاموش ہوتی تھی، جہاں چیزیں کم تھیں مگر دل بھرا ہوا تھا،جہاں انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوتا تھا، نہ کہ ایک دوسرے کو دکھا کر۔ آج ہم نے زندگی کو جتنا زیادہ دکھانے کے قابل بنایا ہے ، اتنا ہی اسے جینے سے دور کر دیا ہے اورشاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے ، ہم سب کے پاس کچھ نہ کچھ ہے ، مگر ہم خود کہیں کھو گئے ہیں، یوں لگتا ہے ہم اس معاشرے میں گمشدہ مسافر ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر