وجود

... loading ...

وجود

محکمہ صحت اشرافیہ کے گلچھروں اور من مانیوں کی زد میں

منگل 06 مارچ 2018 محکمہ صحت اشرافیہ کے گلچھروں اور من مانیوں کی زد میں

سندھ کے شریف النفس وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہو چکے ہیں۔ چند روز بعد وہ اپنے نئے منصب کا باقاعدہ حلف اٹھا کر وزارت صحت کا قلمدان چھوڑ کر باعزت طریقے سے سندھ اسمبلی سے ایوان بالا اسلام اآباد منتقل ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر سکندر میندھرو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو عہد کے دھیمے لہجے کے بزرگ جیالے ہیں اور موجودہ سیاسی حالات میں ان جیسا وفادار جیالا ضلع بدین میں پارٹی کی بقاء کیلئے ناگزیر ہے۔ جب سابق صدر مملکت کے معتمد خاص ذوالفقار مرزا آصف علی زرداری کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں ۔ ڈاکٹر سکندر میندھرو کی اس سے زیادہ اور کیا وفاداری ہوگی کہ انہوں نے پنجاب کے افسر احد چیمہ طرز کے سیکریٹری صحت ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو کو بھی مزاحمت اور مفاہمت سے برداشت کیا۔ اب بظاہر سیکریٹری صحت کیلئے میدان کھلا ہوا ہے تاوقتیکہ حکومتی جماعت کی اعلیٰ قیادت مختصر مدت کیلئے کسی کو وزارت صحت کا قلمدان منتقل نہیں کر دیتی ہے جبکہ سیکریٹری صحت محکمہ صحت سے ادھر ادھر اس وقت تک نہیں ہو سکتے ہیں جب تک وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق ڈاکٹروں کی ترقیوں کا عمل مکمل کر کے ترقی پانے والے ڈاکٹروں کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع نہیں کر ا دیتے ہیں صحت ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود حکومت بدقسمتی سے کچھ ایسا نہیں کر سکی جسے وہ پانچ سالہ کارکردگی کے میزانیے میں شامل کر سکے بلکہ تین وزرائے صحت اور اس سے زیادہ موجودہ ٹارزن جیسی شہرت رکھنے والے سیکریٹری صحت شعبہ صحت کو نت نئی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث بنے ان کی چھ رکنی خصوصی ٹیم علاج معالجے کی صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے سیکریٹری صحت سمیت اپنے آپ کو توانا رکھنے میں تاحال مصروف ہے۔ کرپشن کی نہ ختم ہونے والی داستان میں اب کمیشن کی رقم کی وصولی کا مقام دبئی متعارف ہوا ہے جہاں کا دورہ سیکریٹری صحت سمیت ڈپٹی سیکریٹری نے بھی گزشتہ دنوں کیا۔ وہ کونسی ادویہ ساز کمپنی ہے جس کی فیکٹری پنجاب میں دفتر کراچی میں اور طبی آلات کا کاروبار دبئی میں ہے اور تو اور حکومتی جماعت میں صحت کے حوالے سے مستند سند کی حیثیت کے حامل ڈاکٹر عاصم حسین بھی گزشتہ روز احتساب عدالت سے نہ جانے کون سا علاج کرانے دبئی جا پہنچے ہیں جبکہ عدالت نے ریمارکس دیئے ڈاکٹر عاصم خود ایک ہسپتال کے مالک ہیںا ور یہاں بھی فزیر تھراپی کی سہولت موجود ہے عدالت نے جناح ہسپتال سے ڈاکٹر عاصم کے مرض سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزم ڈاکٹر عاصم کو3 سے9 مارچ تک دبئی جانے کی اجازت دیدی تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کو اس مرتبہ بیرون ملک علاج کیلئے جانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن آئندہ اجازت رپورٹس سے مشروط ہوگی۔عدالت نے درست ہی تو کیا ہے کہ وہ جناح ہسپتال کراچی کے اسپیشل وارڈ سے دوران اسیری ہائیڈرو تھراپی کیلئے اپنے ذاتی ضیاء الدین ہسپتال جایا کرتے تھے پھر ان کا ذاتی سیون اسٹار ہسپتال جہاں خود آصف علی زرداری اپنی اسیری کے دوران علاج کیلئے طویل عرصے تک رہے اورخود انہوں نے اپنے والد حاکم علی زرداری کا علاج ڈاکٹر عاصم کے ہسپتال میں کرایا ہو تو ڈاکٹر عاصم کو خود ایسی کون سی بیماری لاحق ہو گئی ہے جس کا علاج دبئی میں ہی ممکن ہے اور وہ بھی عدالت میں طبی رپورٹ ظاہر کیے بغیر ہی ایک ہفتے کیلئے دبئی چلے گئے ہیں جہاں پہلے سے سندھ میں تعلیم اور صحت کا بیڑہ غرق کرنے والے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد موجود ہیں اور ملک میں سینیٹ پر اپنا اقتدار قائم کرنے کا کھیل جاری ہے جبکہ سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں نجی جامعہ ضیاء الدین یونیورسٹی کا ترمیمی بل حکومتی رکن نثار احمد کھوڑو نے پیش کیا۔ جس پر اپوزیشن نے اعتراض کیا کہ یہ پرائیویٹ بل ہے حکومت اسے کیسے پیش کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود اس بل کو منظور کر لیا گیا جس کے مطابق چیف ٹرسٹی کی تعیناتی کا اختیار چانسلر یعنی ڈاکٹر عاصم حسین کو تفویض، گورننگ بورڈ سے سیکریٹری صحت، صدر پی ایم ڈی سی اور مشیر گورنر کو فارغ کر دیا گیا ہے اور اس نجی بل کو قواعد کے برعکس منظور کرنے سے قبل ہی ڈاکٹر عاصم حسین کو حکومت سندھ ہائر ایجوکیشن کا چیئر مین بنا دیا گیا ہے عوام کے ووٹوں سے منتخب اسمبلی مفاد عامہ کے بجائے جب شخصیات کے تحفظ کیلئے قانون منظور کرے گی اور عوام کو فائدہ دینے کے بجائے دوستوں پر نوازش کی بارش ہو گی تو ایسی اسمبلیوں پر عوام کیا اعتماد کریں گے کیا محکمہ صحت سندھ اشرافیہ کی کرپشن، گلچھروں اور من مانیوں کیلئے ہے؟ یہ جمہوریت نہیں بادشاہت ہے۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن وجود - پیر 19 جنوری 2026

سندھ حکومت نے فوری طور پر آگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے،وزیر اطلاعات سندھ کتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ آگ بھجانے کے بعد ہی لگایا جائے گا،نجی ٹی وی سے گفتگو وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ میں کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروا...

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا وجود - پیر 19 جنوری 2026

نفاذ یکم فروری سے کیا جائیگا،جب تک گرین لینڈ نہیں مل جاتا ٹیرف بڑھتا ہی جائیگا معاہدہ نہ ہونے پر یکم جون سے ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا،امریکی صدر گرین لینڈ ملنے میں رکاوٹ اور ساتھ نہ دینے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا باقاعد...

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

مضامین
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود پیر 19 جنوری 2026
تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود پیر 19 جنوری 2026
معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر